Sunday, June 2, 2019

ek larki pagal si by paraish khan episode 1


ایک لڑکی پاگل سی۔۔۔

پارٹ 1۔۔۔۔

از آرزا۔۔۔پریشے خان۔۔۔۔

Dont copy and paste without my permission....

❤❤❤❤❤❤

ممی ایمان نے پھر گلاس توڑ دیا۔۔۔یا میرے خدایہ میں کیا کروں اس لڑکی کا مجال کوئی کام صحیح کیا ہو آج تک ہر کام اُلٹا ہے اس کا پریشاں ہو گئی ہوں میں اب پتا نہیں اگلے گھر جا کے یہ کیا کریگی۔۔۔ممی میں اگلے گھر جاوگی ہی کیوں جو کچھ کرنا پڑے ایمان نے سیڑیوں پے بیٹھے بیٹھے کہا۔۔۔

شادی تو ان مہا رانی نے جسے کرنی نہیں کبھی۔۔۔

نہیں مما آپ سے کتنی بار تو کہا ہے نہیں کرنی آج بھی وہ اپنی بچپن والی ضد پے قائم تھی کے شادی نہیں کریگی اور آج بھی اسے آمینہ بیگم سے ٹھیک ٹھاک ڈانٹ کھانی پڑی تھی جس کی وجھ سے وہ اب کمرا بند کئے رو رہی تھی
۔آمینہ بیگم کی تین بیٹاں تھیں بڑی بیٹی روشنی جو ہر کام میں پرفیکٹ تھی اس کے بعد ایمان تھی جسے کبھی کوئی کام ٹھیک سےنہیں ہوتا تھا۔۔

اس کے بعد آروما تھی جو ابھی چھوٹی تھی اور چھٹی کلاس کی طالب عِلم تھی۔۔

آمینہ بیگم کو ایمان کی بہت فکر رہتی تھی کیونکہ وہ ہر بات منہ پے بول دیتی تھی بغیر کسی بات کی پرواہ کیے اور آمینہ بیگم اسی بات سے ڈرتی تھیں کیوں کے وہ جانتی تھیں ایماں بہت معصوم ہے وہ تیزیاں چلاکیاں نہیں سمجھتی تھی بس جو آتا تھا منہ میں بول دیتی تھی اُسے اپنی زندگی میں بس ایک چیز سے خوف آتا۔۔۔

اور وہ تھی شادی۔

آج بھی اسے اس بات پے دانٹ پڑی تھی اور وہ بغیر کچھ کھائے روتی روتی سو گئی تھی۔

ایمان اُٹھ گئی مما نے روشی سے پوچھا ہاں مما لیکن وہ اب بھی کچھ کھانے کو تیار نہیں۔

کیا کروں میں اس لڑکی کا اچھا اسے کہو مما بلا رہی ہیں۔۔
کچھ دیر بعد ایماں آئی جی مما۔
آو بیٹھو یہاں مما نے اسے اپنے پاس بیٹھنے کا کہا وہ بیٹھ گئی۔۔۔دیکھو بیٹا میں تمہیں کچھ غلط تو نہیں کہتی میرا ساتھ پتا نہیں کب تک ہے ایسا نا کہیں مما پلیز۔۔۔تمیہں ایک نا ایک دن شادی کرنی ہوگی بیٹا اور یہی زندگی کا دستور ہے اس میں کوئی کچھ نہیں کر سکتا۔۔۔امی نہیں ایمان تڑپ کے رونے لگی امی اسے چپ کرانے لگیں اور سوچنے لگی کے میری اس معصوم بیٹی کا کیا ہوگا۔۔۔وہ جب بچپن میں منع کرتی تھی تو آمینہ بیگم مزاق میں ٹال دیتی تھیں لیکن اب وہ ایماں کے لیے بہت پریشان رہتی تھیں کیونکہ ایمان اب 21 سال کی ہو گئی تھی اور اب تک اس کی وہی ضد تھی۔۔۔ ایمان کا ایڈمیشن ڈگری کالیج میں ہوگیا تھا وہ اب بی ایس سی کی طالب علم تھی
ایمان پڑھائی میں کافی اچھی تھی اس لیے وہ سنجیدگی سے پڑھ رہی تھی۔

روشی بیٹا میں ذرا ذرینہ کے گھر جا رہی ہوں دروازہ بند کردو۔۔جی مما کہ کے روشنی نے دروازا بند کیا اور کھانا بنانے چلی گئی ایمان آروما بھی آنے والے تھے ایک بج رہا تھا ایمان کی چھٹی سوا ایک اور آروما کی ایک بجی ہوتی تھی۔۔آروماتو آگئی تھی اور آتے ہی بھوک لگی ہے کی رٹ لگا دی روشی اسے کھانا دینے چلی گئی 1.30 بجنے لگا ایمان اب تک نہیں آئی روشی کو پریشانی ہونے لگی۔۔اور ایمان اندر آتے دکھائی دی۔۔۔ایمان اتنی دیر کہاں کردی۔
آپی چھولے کھانے گئی تھی آپ کھاوگی😋۔۔روشنی نے ایک رکھ کے لگائی ایمان کے تمہیں شرم آتی ہے یہاں میں پریشان ہو رہی ہوں اور تم چھولے کھا رہی تھیں۔۔۔اووھووو آپی اب آپ امی نا بنا کرو ایک تو ابھی ان سے بھی ڈانٹ کھانی رہتی ہے۔۔شکر کرو بچ گئی آمی نہیں ہیں گھر روشنی نے کہا۔
کہاں گئی ہیں مما؟
ذرینہ چچی کے گھر۔
کیوں؟
کامراں بھائی کا رشتہ تے پا گیا ہے😃کیا؟
کیا پتا تے پا گیا ہو۔۔
یار ملتان کون جائیگا ایمان منہ بناتے ہوے بولی۔
ہاں یار صحیح کہ رہی ہو۔
ہاں نہ تھوڑا قریب رکھ لیتے۔
ہاں کیاں نہیں جناب تم سےپوچھ کے تو تے کرنا تھا رشتہ ہے نا؟
ہاں بلکل ایماں نے کہا.
اچھا چلو چھوڑو یہ سب کھانا کھاؤ۔
نہیں آپی بھوک نہیں میں نے چھولے جو کھا لیے تھے۔
ایمان تم ایک دن مما سے پٹ جاؤگی۔
...ھاھاھا۔۔
آپی مجھے چھولے تو کھانے ملیں گے نا کوئی بات نہیں مار بھی کھالونگی😛
ایمان سدھر جاو تم۔۔۔اچھا آپی مما کب تک آئیں گی؟
پتا نہیں بتا کے نہیں گیئں.
اچھا آپی میں سو رہی ہوں مما آئیں تو مجھے اُٹھا دینا۔
اوکے مہارانی۔۔
♡♡♡

مما آپ آگئی بیٹھیں میں کھانا لگاتی ہوں۔
رُکو بیٹا میں کھا کےآئی ہوں۔
اچھا مما کیوں بلایا تھا ذرینہ چچی نے؟
ارے بیٹا وہ کامران کی شادی کی ڈیٹ رکھ رہی ہے اگلے مھینے کیا مما؟
پھر اتنی دور کسے جائیں گے؟
جسے سب جائیں گے۔
مما نے کہا۔۔
اچھا مما۔۔
ایمان اور آروما کہاں ہیں مما نے پوچھا۔
ایمان سو رہی ہے مما اور آروما کھلنے گئی ہوئی ہے۔
اچھا ایمان کو اٹھا دو مغرب ہونے والی ہے۔
جی مما روشی کہتے ایمان کو اٹھانے چلی گئی۔

مما مجھے ملتان نہیں جانا۔
ایمان نے منہ بناتے ہوے کہا۔
کیوں کیا تکلیف ہو گئی ہے اب تمہیں؟
مما بہت دور ہے میں تھک جاؤگی۔
چپ کر جایا کرو ایمان تنگ مت کیا کرو مجھے مما کا موڈ بگڑتے دیکھا تو ایمان چپ کر گئی۔
دن گذرتے گئے آج اُنہیں بارات لے کے جانا تھا ایمان کا موڈ آف تھا وہ منہ پھولائے ایک جگہ بیٹھی تھی بس میں۔
پوری رات سفر میں گذری آخر کار منزل آ گئی سب نے سکون
کا سانس لیا۔
اور اندر جانے لگے سب نے بہت اچھی طرح استقبال کیا اب بارات آرام کر رہی تھی دوسرے دن مہندی تھی اور سب بہت تھک چکے تھے۔
آج مہندی تھی کامران کی سب بہت خوش تھے سب لڑکیاں عورتیں تیاریوں میں لگے تھے۔
ایمان نے آج گرین کلر کی میکسی کے ساتھ پیلا دوپٹا لیا ہوا تھا اور وہ بے حد حسیں لگ رہی تھی۔
سب کی نظریں اس پے ٹہر رہی تھیں۔
آمینہ بیگم ایمان کی خوبصورتی سے بہت ڈرتی تھیں آج بھی وہ ایمان کو دیکھ کے روشنی سے کہ رہی تھیں ایمان کی نظر اُتار دینا بیٹا جی مماروشنی نے کہا اور گانوں میں لگ گئی

ایمان سب کے ساتھ گانے گاتے گاتے تھک گئی تو پانی پینے کے لیے جانے لگی کے اچانک اس کا ٹکراو ایک مضبوط چیز سے ہوا
آآآآ آمی۔۔۔میرا سر۔۔
امان نے ایک دم ایمان کو پکڑ لیا تاکے وہ گر نا جائے۔
ایمان نے جب آنکھیں کھولیں تو خود کو کسی کی بازؤں میں دیکھ کے غصے سے پاگل ہو گئی۔
اندھے ہو چھوڑو مجھے تمہاری ہمت کسے ہوئی مجھے ہاتھ لگانے کی۔
دیکھیں بیبی اگر میں نا پکڑتا آپ گرجاتی۔۔۔تو گر جاتی آپکو کیا مسئلہ تھا ٹھیک ہے اگلی بار پکڑوں گا نہیں دھکا دے دونگا اب ٹھیک ہے امان بھی کہاں چپ رہنے والوں میں تھا اس نے بھی چڑانے والے انداز میں کہا۔۔ جاہل کہ کے ایمان وہاں سے چلی گئی لیکن وہ اس بات سے انجان تھی اسنے کتنی بڑی غلطی کردی ہے۔۔۔امان غصے سے وہاں سے نکل گیا اور سوچنے لگا آج تک خاندان میں کبھی کسی نے اسے اُف تک نہیں کہا تھا تو یہ کون تھی۔۔۔امان ایمان کے تایا کا بیٹا تھا لیکن کبھی یہ لوگ ملے نہیں تھے کیونکہ نا کبھی ایمان ملتان آئی تھی نا کھبی وہ کراچی گیا تھا ایمان اور امان کی آپس میں لڑائی ہو چکی تھی اور ایمان کو رہ رہ کے غصہ آرہا تھا کے اسکی ہمت کسے ہوئی مجھے پکڑنے کی۔

ایمان کیا ہوا ہے تمہیں کیوں یہاں آکے بیٹھی ہو۔۔روشنی جو کمرے سے گذر رہی تھی ایمان کو دیکھ کے رُک گئی۔۔۔کچھ نہیں آپی بس تھک گئی ہوں اچھا تم ایسا کرو سو جاو صبح پھر بارات ہے تو فریش ہو جاؤگی۔ٹھیک ہے آپی لائٹ بند کرتی جانا۔۔۔ صبح ہر جگہ ہل چل مچی تھی ہر کوئی اپنے کام نبٹانے میں لگا تھا۔
اِسی افرا تفری میں رات ہو گئی اور سب تیاریوں میں لگ گئے۔
ایمان نے آج بلیک اور اسکن کنٹراس پہنا تھا اور وہ بحد خوبصورت لگ رہی تھی۔
سب نے اسکی بہت تعریف کی۔
امان کی نظریں ایمان پے ٹہر گئیں۔
وہ اُسے دیکھے جا رہا تھا ایمان کی جب نظر پڑی تو اسے بہت غصہ آیا امان پہ ابھی تک ایمان اور امان نہیں جانتے تھے کے وہ آپس میں کزن ہیں۔۔ایمان کو اب بھی غصہ آرہا تھا کیونکہ امان اب تک اس پے نظریں جمائے ہوئے تھا ایمان ایک دم اپنی آپی کے پیچھے چھپ گئی ٹھڑکی کہتے ہوئے جو امان نے سن لیا اور اُسکا اور بھی پارا چھڑگیا ایمان پہ..رحمان یہ لڑکی کون ہے؟
کون؟
رحمان نے امان سے پوچھا۔
یہ جو بلیک اور اسکن کلر کے سوٹ میں ہے۔
یہ تو ایمان ہے رشید چچا کی بیٹی۔
واٹ really is that true
.امان کو ایک جھٹکا سا لگا کے وہ اسکی کزن ہے۔
تو یہ ہماری کزن ہوتی ہیں محترمہ.
چلو آسانی ہوگی بدلا لینے میں۔۔
امان اکلوتا ہونے کی وجہ سے بہت ضدی اور گھمنڈی تھا اسے اس بات کا غصہ تھا کے ایمان نے اسے انداھ اور جاہل کہا تھا اور اب وہ چاہتا تھا کے کسی طرح ایمان سے اسکی بیعزتی کا بدلا لے۔۔۔۔ اس نے سارا وقت ایمان پہ نظر گاڑے رکھی ایمان بہت پریشان ہو رہی تھی غصہ بھی بہت آرہا تھا۔
آپی یہ مجھے بہت دیکھ رہا ہے۔
کون؟
روشنی نے امان کو دیکتے ہوئے کہا۔
وہی جسے آپ دیکھ رہی ہو۔
ایمان وہ تو ارسلان تایا کا بیٹا امان ہے۔
ہان تو کیا وہ مجھے دیکھے گا؟
آری اچھا ہے نا پورے خاندان میں امیر اور ھینڈسم لڑکا ہے۔
آپی اگر آئندہ آپنے ایسا کہا میں آپسے کبھی بات نہیں کرونگی۔۔اچھا نہیں کہتی۔
آپی مجھے گھر جانا ہے۔
چُپ چاپ کھڑی رہو یہ کراچی نہیں کے تم اکیلی کہیں بھی چلی جاؤ۔
ایمان چپ کر کے کھڑی ہو گئی

ایمان کو پیاس لگ رہی تھی پر وہ کہیں جا نہیں رہی تھی کیونکہ امان کی نظرین ایمان پہ ہر وقت گڑھی ہوئی تھیں اور ایمان اس بات سے بہت پریشان ہو رہی تھی۔۔۔عنایہ پلیز یار ایک گلاس پانی لادو ایمان میرے ہاتھ میں پھولوں کی ٹوکری ہے یار یے تھوڑا آگے ہی ہے پانی لے آؤ ۔۔اچھا ایمان بس اتنا ہی کہ سکی آخر جب پیاس بڑھ گئ تو ایمان پانی پینے چلی گئی ابھی وہ پانی پی رہی تھی کے پچھے سے امان آگیا۔
hi miss Emaan
کسی ہیں آپ؟
ایمان نے امان کو دیکھا تو اسے شدید غصہ آنے لگا.
وہ بغیر کوئی جواب دئیے وہاں سے جانے لگی تو امان نے اگے آ کے اسے روک لیا۔
اور اس کا ہاتھ ایمان کے ہاتھ سے ٹچ ہو گیا ایمان کا توغصہ آسمان چھونے لگا۔
کیا بدتمیزی ہے یہ؟
شرم نہیں آتی آپکو؟
نہیں مجھ سے شرم کی کبھی بنی نہیں.
امان نے ڈیٹھائی سے کہا۔
ہاں تو میں کیا کروں راستہ چھوڑیں میرا۔
اگر نا چھوڑون تو؟
تو میں آپکا منہ توڑ دونگی۔
ھاھاھا...
امان کو اس کی بات پے ہنسی آگئی realyتم میرا منہ توڑو گی۔۔۔iii cant believe itتم نے یہ مجھ سے کہا؟
امان ایمان کا مزاق اُڑانے لگا تو ایمان کو اور بھی غصہ آگیا اس نے امان کو تھپڑ مار دی اور بھاگ گئی۔
امان کا خون کھول اُٹھا اور آنکھیں سرخ ہو گئیں۔
وہ غصے میں گاڑی لے کے گھر چلا گیا۔
یہاں سب اسے ڈھونڈنے میں لگے تھے ایمان جا کے سکون سے فنکشن انجوائی کرنے لگی اس نے سوچا کے اب وہ سبق سیکھ جائیگا اور مجھ سے دور رہے گا لیکن یہ ایمان کی بھول تھی امان جس کو پہلے ایمان پے غصہ تھا اسکا غصہ حد سے زیادہ بڑھ گیا سمجھتی کیا ہے وہ خود کو ہے کیا میرے سامنے مسل کے رکھ دونگا آج تک میرے بابا نے مجھ پے ہاتھ نہیں اُٹھایا اس کی ہمت کیسے ہوئی نہیں چھوڑونگا تمیں ایمان کہاں جاؤگی اب تم مجھ سے بچ کے تمہیں تو اب کسی بھی واسطے سے نیہں چھوڑنگا
you will pay for that miss Emaan۔۔

یہ کہتے ہوے امان
نے اپنا موبائل دیوار میں دے مارا اور غصے سے یہان وہاں ٹہلنے لگا۔
شادی کا فنکشن ختم ہوا تو بارات کے جانے کی بھاگ دوڑ چل اُٹھی۔
آج بارات کی روانگی تھی ایمان آج بہت خوش تھی کیونکہ آج وہ گھر جا رہی تھی اور امان بھی آج نہیں دیکھا تھا۔
بارات روانا ہو گئی اور ایک دن بعد سب نے گھر پہنچ کے سکون لیا۔
ایمان اور آروما نے آج بھی چھٹی کی تھی کیونکہ وہ بہت تھک گئں تھیں اس لیے آرام کر رہیی تھیں۔

♡♡♡

کچھ دن گذر گئے امان اب تک چپ تھا اسنے اب تک کسی سے کچھ نہیں کہا تھا۔
پھر ایک دم اُٹھا اور اور عنایہ کے گھر گیا جو ایمان کی دوست بن گئی تھی شادی میں۔
عنایہ مجھے ایک فیور چاہئے تم سے۔
تمہیں مجھ سے فیور چاھے؟
عنایہ حیران ہوئی۔
ہاں مجھے ایمان کا نمبر چاھے۔
کیوں؟
عنایہ کی حیرت میں اٍضافہ ھوا.
اس میں حیران ہونے والی کیا بات ہے کزن ہے میری۔
ہان لیکن جاتے ٹائم اس نے کافی برائی کی تھی تمہاری اور اِس کا تو یھی مطلب ہے وہ تم سے بات نہیں کرنا چاہے گی۔
امان کو غصہ تو بہت آیا لیکن اس نے ٹال دیا۔
ہاں وہ کچھ مس انڈراسٹنڈنگ ہو گئی تھی وہی کلیئر کرنا چاہتا ہوں۔
اچھا چلو صحیح ہے یہ لو اس نے ایمان کا نمبر امان کو دے دیا۔
امان نمبر لیتا کچھ سوچتا ہوا چلا گیا۔

♡♡♡

ایمان تمہارا فون بج رہا ہے۔
آپی دیکھ لو کس کا ہے۔
میں نوکر نہیں ہون تمہاری یہ لو اور خد نبٹاؤ اپنے کام۔
توبہ ہے آپی۔
ایمان فون اُٹھایا تو امان نے کہا ایمان میں امان بول رہا ہوں دیکھو کال مت کاٹنا تم سے کچھ بات کرنی ہے۔
مجھ سے تمہیں کیا بات کرنی ہے؟
اور تمھاری ہمت بھی کیسے ہوئی مجھے کال کرنے کی؟
اور تمھیں میرا نمبر کس نے دیا ہے؟
ایمان نے سارے سوال ایک سانس میں پوچھ ڈالے۔
ایمان سانس تو لے لو سب بتاتا ہوں۔
ایمان جو بولے جا رہی تھی ایک منٹ کے لیے چپ ہوئی پھر کہا خبردار تم نے آئنداہ مجھے کال کی ہے مجھے تمہاری کسی بکواس میں کوئی اِنٹریسٹ نہیں ہے یہ کہ کے ایمان نے کال کاٹ دی۔
امان کا غصہ بڑھ گیا لیکن اس نے پھر کال کی ایمان کاٹتی رہی آخر پھر سُنانے کے لیے اُٹھائی تو ایک دم امان نے بولا۔

im sorry Emaan۔۔

میں بس تم سے معافی مانگنا چاہتا تھا کیونکہ مجھے لگا میری غلطی تھی۔
ایمان پہلے تو حیران ہوئی۔
پھر کہا اچھا ٹھیک ہے کہ کے کال کاٹ دی اب کے امان نے دوبارا کال نہیں کی تھی۔
بس وہ کچھ اور ہی سوچ رھا تھا جس سے ایمان بلکل انجان تھی.

♡♡♡

ایمان کالج سے واپس آئی تو امان کی کال آرہی تھی اب اس کو کیا مصیبت پڑ گئی ہے۔
ایمان نے کال کاٹ دی۔
پر پھر کال آنے لگی ایمان نے اُٹھا کے بیزاری سے کہا کیا چاہئے اب؟
بہت کچھ۔۔
آگے سے جواب آیا۔
مطلب؟
ایمان نے پوچھا۔
کچھ نہیں مجھے ایک فیور چاہئے تھا تم سے ۔
امان نے کہا۔
تمہیں مجھ سے کیا فیور چاہئے؟
اور میں کیوں کرونگی تمہارا فیور؟
پلیز ایمان امان نے کہا۔
ایمان پہلے چپ ہوئی پھر پوچھا کیا فیور؟
وہ یار مجھے سندھ کے نوٹس چاہئے کیا تم بیھج سکتی ہو؟
کونسے نوٹس؟
بایو کے یار.
امان نے کہا۔
اوکے پر آئندہ مجھے یار مت کہنا بھیج دون گی۔
اوکے تھنکس۔
اور سوچنے لگا تمہیں تو میں پتا نہیں کیا کیآ کہونگا۔
تم بس دیکھتی جاؤ اب میں کیا کیا کرتا ہون تمہارے ساتھ

ایمان بہت معصوم تھی وہ کبھی یہ اندازہ نہیں لگا پاتی تھی کے کوئی اُسے سچ بول رہا ہے یا جھوٹ اُس لیے اس نے امان کی بات کو بھی سچ مانا تھا کے اسے نوٹس چاہئے وہ نہیں جانتی تھی کے امان کا مقصد کچھ اور ہے۔۔۔اب امان بھانے بھانے سے ایمان کو کال کرنے لگا تھا لیکن ایمان اُٹھاتی نہیں تھی لیکن امان پھر بھی اسے کال کرتا تھا کیونکہ اس نے جو سوچ رکھا تھا اس کے لیے یے ضروری تھا۔

♡♡♡

کل صبح ایمان کا ٹیسٹ تھا اور وہ پڑھ رہی تھی۔
امان مسلسل اُسی کال کر رہا تھا۔
گھر پے اس وقت کوئی نہیں تھا سب ذرینہ چچی کے گھر گئے ہوے تھی ایمان ٹیسٹ کی وجہ سے نہیں جا سکی تھی۔
اب وہ موبائل بند بھی نہیں کر سکتی تھی نا ہی سائلینٹ پے لگا سکتی تھی اس لیے مجبورن اسے کال اُٹھانی پڑی۔
ہیلو۔۔
جی کیا مسلا ہے آپ کے ساتھ ٹیسٹ کیوں نہیں یاد کرنے دے رے آپ مجھے؟
ایما نے چھوٹتے ہی کہا۔
کس سبجیکٹ کا ٹیسٹ ہے؟
امان نے پوچھا۔
کیون آپنے حل کر کے دینی ہے مجھے؟
کیا پتا دے دون حل کر کے تم پوچھ سکتی ہو مجھ سے۔
ایمان نے سوچا آیا بڑا اور کال کاٹ دی۔
امان کو غصہ آنے لگا تھا ایمان کسی طرح اس کے ہاتھ نہیں آرہی تھی۔
اس نے پھر کال کی اور کہا میں تمہیں ٹیسٹ کی تیاری کرواؤں؟
ایمان کو ویسے کچھ سمجھ میں نہیں آرھا تھا تو ٹوپک اسے بتاتے بولی سمجھاؤ؟
امان نے ایمان کو سمجھانے شروع کیا اور اتنی اچھی طرح سمجھایا ایمان کو پورا ٹیسٹ یاد ہو گیا ایمان کو بہت خوشی ہوئی کے اسے ٹیسٹ یاد کرنے میں مشکل نہیں ہوئی اس نے بغیر تھینکس کہے کال کاٹ دی اور خوش ہونے لگی۔

اب امان کو ایک ِٹرک مل گئی تھی جس ذریعے وہ ایمان سے بات کر سکتا تھا۔
اس نے روز ایمان کو پڑھائی کے بھانے کال کرنے شروع کردی تھی۔
ایمان بھی کال اُٹھا لیتی تھی کیونکہ اسے یہی لگتا تھا امان اسے پڑھا رہا ہے۔
لیکن وہ اس بات سے انجان تھی اس دنیا میں کچھ بھی بغیر مطلب کہ نہیں ہوتا۔
اس طرح یہ سلسلا چلتا رہا ایمان بہت خوش تھی کیونکہ اسے پڑھائی میں کافی مدد ملی تھی اور اب اُسے امان بُرا بھی نہیں لگتا تھا۔
وہ امان کو اچھا سمجھنے لگی تھی۔
اوراسے کہنے لگی امان بھائی آپ تو اچھے ہو بہت میں آپکو کتنا غلط سمجھتی تھی۔
یہ سن کے امان دل میں ہنسنے لگا۔
میں کتنا اچھا ہوں یے تو تمہیں پتا چل ہی جائیگا۔۔
امان بھائی کیا ہوا آپ چپ ہو گئے۔
یار مجھے بھائی مت کہا کرو اِریٹیشن ہوتی ہے۔
کیوں آپ تو بھا ئی ہے میرے۔
ایمان اگر بھائی کہو گی میں اگلی بار نہیں پڑھاؤنگا۔
اچھا نہیں کہتی پر آپ پڑھانا مجھے۔
ایمان اب امان کی ہر بات مانتی تھی۔
اسے صحیح سمجھتی تھی اور امان خوش تھا کے وہ کامیاب ہو رہا ہے۔
انہیں ایسے بات کرتے ایک سال ہو گیا ایمان کا 3 سیمسٹر شروع ہو چکا تھا وہ آج بھی امان سے پڑھتی تھی۔
آج بھی کالج سے آتے ہی ایمان نے امان کو کال لگائی اس نے ایک بار دیکھ کے کاٹ دی اور ہنسنے لگا۔
ساتھ رحمان بیٹھا تھا اسے پوچھنے لگا کیا ہوا پاگل ہو گیا ہے کیا کیوِں ہنس رہا ہے؟
بتاؤنگا تجھے بھی جلدی کیا ہے۔
پھر سے ایمان کی کال آنے لگی امان نے موبائیل رحمان کی طرف اُچھالا اور کہا بات کر میرا کہنا کے سو رہا ہوں۔
رحمان نے حیرت سے امان کو دیکھا۔۔
پہلے بات کرلے پھر مجھے دیکھ لینا۔
رحمان نے کال اُٹھائی ایمان ایک دم بولی۔
کہاں ہو کال کیوں نہیں اُٹھا رہے.
مجھے کتنا کچھ سمجھنا ہے۔
رحمان نے نا سمجھی کی کیفیت سے امان کو دیکھا۔
اور ایمان کو کہا ایمان میں رحمان بول رہا ہوں امان سو رہا ہے۔
اس کی یے بات سنتے ہی ایمان نے کال کاٹ دی اور شرمندہ ہونے لگی۔
امان یے سب کیا ہو رہا ہے؟
رحمان نے پوچھا۔
کچھ نہیں ٹائم پاس۔
ؤاٹ؟
شرم آتی ہے تجھے ٹائم پاس کے لیے تجھے اپنے خاندان کی لڑکی ملی تھی؟
اور وہ بھی اتنی معصوم کے ساتھ؟
بہت غلط کر رہا ہے تو۔۔
غلط تو تب ہوا تھا جب اس نے میری انسلٹ کی تھی۔
اس دن اس نے اپنے مقدر میں غم لکھوا لیے تھے۔
اب میں اسے بتاؤگا بدتمیزی انسلٹ کیا ہوتی ہے۔
امان بہت ذیادہ غلط کر رہا ہے تو۔
کسی معصوم کے ساتھ۔
میرے معاملے میں بولنے کا حق میں نے کسی کو نہیں دیا۔
امان نے صاف جواب دیا۔۔
پچھتائیگا ایک دن لکھ کے رکھ لے۔
ھاھاھا۔۔
پچھتانے کے دن اب مس ایمان کے ہیں۔
مجھ سے اولجھنے کا انجام بہت برا ہوتا ہے۔
ایمان ۳ دن امان کی کال کا انتظار رہی پر اس نے کال نہیں کی۔
آج جب وہ سونے لگی تھی تو امان کی کال آئی۔
ہیلو۔۔۔
ایمان نے کہا۔
امان نے گہری خاموشی کے بعد کہا۔
ایمان مجھے کچھ بات کرنی ہے تم سے پلیز منع مت کرنا میں ٹوٹ جاؤنگا۔
میں اِس لیے کچھ دن سے تم سے دور ہوں۔
کیونکہ۔۔
ایمان۔۔۔
تم مجھے اچھی لگنے لگی ہو۔۔
ایمان کا سانس رُک گیا امان کی بات پے۔۔
میں نے ایسا کبھی نہیں سوچا آپ کے لیے۔
ایمان نے کہا۔
پلیز ایمان منع مت کرنا میں ٹوٹ جاؤنگا۔
ایمان نے کال کاٹ دی اور رونے لگی کے یے سب کیا ہوگیا۔
اب کیا ہوگا میں کیا کروں۔
ایمان بہت پریشان ہو گئی اُسے سمجھ میں نہیں آرہا تھا وہ کیا کرے۔
اُسے یہی لگتا تھا امان نے اس کی بہت مدد کی ہے اور اب وہ اسے اگر صاف جواب دے دیگی تو خود غرضی ہوگی۔
وہ چپ ہو گئی۔
اور مبائل بند کردیا۔
دو دن امان نے کوئی رابطہ نہیں کیا۔
تیسری دن کال کی جو ایمان نے نہیں اُٹھائی تو امان نے اسے میسیج کیا۔
ایمان میں ایسے مر جاؤنگا پلیز مجھ سے بات کرو۔

ii reallyyy lovvveee youuu

ایمان اور بھی پریشان ہو گئی۔
کال پھر سے آنے لگی ایمان نے نہیں اُٹھائی۔
پھر میسیج آیا۔
ایمان اگر تم نے کال نہیں اُٹھائی میں یے ساری گولیاں کھا لوں گا۔
ایمان کا تو یے دیکھ کے برا حال ہو گیا۔
پھر سے کال آئی اس بار ایمان نے کال اُٹھا لی۔
ایمان پلیز ایسا مت کرو میرے ساتھ مجھے تم سے محبت ہو گئی تو اس میں میرا کیا قصور ہے۔
پلیز آپ یے سب باتیں مت کریں۔
میں نے آپ کے بارے میں ایسا کبھی نہیں سوچا۔
تو اب سوچ لو نا پلیز تمہیں کسی نا کسی کا تو ہونا ہے نا تو میری ہو جاؤ میں تم جیسا کہو گی ویسا کرونگا۔
پلیز امان آپ یے سب مت کہیں یے کہ کے ایمان نے کال رکھ دی۔
کچھ آنسو تھے جو اس وقت گِرے تھے۔
اب روز یہی ہوتا امان اسے دھمکی دیتا کے وہ گولیاں کھا رہا ہے اور اسے بات کرتا۔۔
پیار کا اظہار کرتا۔۔
ایمان بہت روتی پھر چپ ہو جاتی آخرکار اُسے اب عادت ہو گئی تھی امان کی۔
یے باتیں سُنے کی اس لیے اب وہ روتی نہیں تھی بس چپ رہتی تھی۔
امان اپنی چال میں کامیاب ہوتا جا رہا تھا وہ ایمان کو اپنا اور اپنے پیار کا عادی بناتا جا رہا تھا۔
وہ اُس کا بہت خیال کرتا اور اُسے کہتا ایمان تم میری جان ہو تمہیں کبھی کچھ نہیں ہونے دونگا۔
اور اب ایمان کو اچھا لگنے لگا تھا اس کی اتنی پرواہ کرنا۔۔

♡♡♡

ایمان میں سندھ آرہا ہوں۔
امان نے آج کال کر کے ایمان کو بتایا۔
ایمان کو اب امان کچھ کچھ اچھا لگنے لگا تھا یے بات سن کے اسکی جان نکل گئی۔
اور ایک دم بولی کیوں؟
اپنی جان سے ملنے اور کیوں۔
بہت ٹئم ہو گیا ایمان تمہیں دیکھا نہیں ہے۔
امان نے گہرائی سے کہا۔
نہیں آپ مت آئیں۔
ایمان نے کہا۔
کیوں نہ آون؟
بس نہ آئیں مجھے ڈر لگتا ہے۔
ھاھاھا۔۔
کس سے ڈر لگتا ہے مجھ سے؟
امان نے کہا۔
جی۔
ایمان بس اتنا کہ سکی۔
ایمان؟
جی؟
تم میری ہو نا امان نے جذبے سے چور لہجے میں کہا۔
پتا نہیں۔
ایمان نے جواب دیا۔
اب تک تمہیں نہیں پتا تو کیا میرے مرنے کے بعد پتا چلے گا؟
امان غصہ ہونے لگا۔
ایسے نہ کہیں آپ۔
کیا ایسے نا کہوں تم ایسا کیوں کر رہی ہو میرے ساتھ؟
کیا میں نے کبھی تمہارے ساتھ کچھ غلط کیا یا کہا؟
اگر میرا پیار جھوٹا ہوتا نا تو تم سے پاس آنے کا کہتا اور بھی بہت کچھ کرتا۔
لیکن میں نے ایسا کچھ نہیں کہا کیونکے میرا پیار سچا ہے اور مجھے تمہاری روح سے محبت ہے تمھارے جسم سے نہیں۔
نا ہی تمہاری خوبصورتی سے۔
امان کی باتیں سُن کے ایمان سوچ میں پڑ گئی۔
اسے لگنے لگا امان اسے پیار کرتا ہے اور اسکا بہت خیال رکھتا ہے۔
ایمان نے ایک بار پھر سوچنا شروع کیا اسے امان صیح لگا۔
اور وہ یے بھی جانتی تھی وہ لاکھ منع کرلے مما اسکی شادی تو کروائیں گیں۔
تو کیوں نا اُس سے کروں جو مجھے سمجھے میری بات بھی مانے۔
ایمان نے امان کو ہاں کرنے کا فیصلا کرلیا۔
وہ بہت پریشان تھی پر وہ روز روز مما کو ہرٹ کر کے تھک گئی تھی اور اُسے یہی صحیح لگا تھا۔

♡♡♡

رات کے 2 بجے ایمان کا موبائیل بجا۔
ایمان کی آنکھ کُھل گئی۔
دیکھا تو امان کی کال تھی۔
اس وقت امان کیوں کال کر رہے ہیں۔
اُس نے باہر جا کے کال اُٹھائی۔
جی؟
سب ٹھیک ہے امان اس وقت کال کی؟
ہاں سوئٹ ہارٹ سب ٹھیک ہے بس تمہاری بہت یاد آرہی ہے۔
پر مجھے کل کالج جانا ہے؟
کالج مجھ سے ذیادہ ہے تمہیں؟
اور وہ کافی دیر تک امان اسے بات کرتا رہا۔
اِسی طرح دن گذرتے گئے ایمان کو امان کی عادت پڑتی گئی۔
امان بہت خوش تھا کے اس کا مقصد پورا ہو رہا ہے۔
وہ ایمان سے ہر وقت بات کرتا تاکے اچھی طرح ایمان کو اُسکی عادت پڑ جا ئے۔
اور وہ اس میں کامیاب بھی ہو چکا تھا۔
اب ایمان کو امان کی عادت ہو گئی تھی۔
وہ ایک دن بھی اگر بات نا کرتا ایمان بے چین ہو جاتی اور امان خوش ہوتا۔
آج دو دن ہوے تھے امان اُسے جواب نہیں دے رہا تھا۔
اور وہ بہت رو رہی تھی۔
تب ہی امان کی کال آئی۔
ایمان نے ایک دم اُٹھائی اور کہا ۔
امان آپ کہاں تھے؟
میں دو دن سے آپکا ویٹ کر رہی ہوں۔
کھانا بھی نہیں کھایا میں نے۔
ایمان میری طبعت خراب تھی۔
امان نے کہا۔
کیا ہوا آپکو؟
فیور تھا یار۔
آپ اپنا خیال کیوں نہیں رکھتے؟
ایمان ناراض ہوتے ہوے بولی۔
خیال تو تم نے رکھنا ہے میری جان پر تم آتی نہیں۔
امان میں کسی آ سکتی ہوں بھلا۔۔
ایمان نے کہا۔۔
میری دلھن بن کے اور کیسے۔۔۔
امان نے کہا ایمان چپ ہو گئی۔۔
ھاھا ھا۔۔
کیا ہوا شرما رہی ہے میری جان۔
ن۔۔نہیں ایسا تو کچھ نہیں۔۔
امان پھر ہنسنے لگا ایسا ہی ہے۔۔
تو مِس ایمان کو ہم سے پیار ہو ہی گیا۔۔
امان کا اتنا کہنا تھا۔
اور ایمان کی دھڑکن تیز ھو گئی اس نے فون رکھ دیا۔
اور تکیے میں منہ چھپانے لگی۔۔۔
ایمان بہت خوش تھی اسے لگتا تھا امان اسے سمجھتا ہے اسے پیار کرتا ہے لیکن وہ یہ نہیں جانتی تھی امان کے لیے وہ کچھ بھی نہیں تھی۔۔۔۔
ایمان کو امان سے پیار ہونے لگا تھا اور وہ بہت پریشان تھی کے وہ صحیح ہے یا غلط۔۔۔
دوسری طرف امان اپنے دوستوں کے سامنے ایمان کا مذاق اڑا رہا تھا۔
ایمان اس بات سے انجان تھی کے وہ امان کے ہاتھوں مذاق بن رہی ہے۔۔۔۔

♡♡♡

وقت گذرتا گیا ایمان کی محبت بڑھتی گئی۔
لیکن آج بھی وہ شادی کے نام سے گھبراتی تھی۔
پر امان پر اُسے اتنا یقین ہو گیا تھا کے وہ اسے شادی کرنے کے لیے بھی راضی ہو گئی۔۔۔

♡♡♡

ایمان نے بی ایس سی مکمل کرلی تھی۔
اب وہ کمپیوٹر کلاسس لے رہی تھی۔
اور امان اُسے آج بھی سمجھاتا تھا جو اسے نہیں سمجھ آتا تھا۔۔۔
آج ایمان کو کلاسسس میں دیر ھو گئی وہ

Evening classes..

میں جاتی تھی اس لیے آج گھر آتے اسے رات ھو گئی تھی۔
اور جب وہ گھر آئی تو ایک دم۔۔
حیران ہو گئی۔
امان سب کے ساتھ بیٹھا باتیں کر رہا تھا۔
اور اس کی مما بھی اس کے ساتھ بیٹیھں تھیں۔۔۔۔

ایمان نے جب امان اور اُسکی امی کو دیکھا تو اس کی سانس رُک گئیں۔
وہ سوچنے لگی اگر امان نے مجھ سے شادی کرلی تو۔۔
تو کیا ہوگا ۔۔۔
میں میں اتنی دور کیسے جاؤنگی۔۔۔
ایمان کے آنسو آنے لگے یہ سوچ کے ہی۔۔۔
اور اسے پتا ہی نہیں چلا امان اس کے سر پہ کھڑا تھا۔
ایمان نے جیسے منہ دوسری سائیڈ کیا ایک دم ڈر کے کھڑی ہو گئی۔۔۔
اااآپ۔۔۔۔
ہان میں میری جان ایمان ایک دم پیچھے ہوئے۔۔۔
آپ یہاں کیسے کیوں۔۔۔؟
ایمان گھبرانے لگی۔۔
اپنی جان کودیکھنے آآیا ہوں۔۔۔
ایمان کی جان نکل رہی تھی امان کے ایک دم اتنے قریب آنے سے۔۔۔
ایمان کیا ہوا تم ڈر کیوں رہی ہو۔۔۔
ن۔۔نہیں تو میں نہیں ڈر رہی۔۔۔
امان نے ایمان کا جائزہ لیا اور کہا تم وہی ایمان ہو نا جس نے مجھے جاہل ٹھرکی کہا تھا۔
اور مجھے تھپڑ بھی مارا تھا؟
ایمان نے ایک دم امان کو دیکھا۔۔۔
آپکو وہ اب تک یاد ہے۔۔
میں اپنی انسلٹ نہیں بھولتا کبھی بھی۔۔۔۔
جی؟
ایما نے حیرت سے امان کو دیکھا امان کی آنکھں سرخ ہو رہی تھیں۔
ایمان ڈر گئی تو امان ہنسنے لگا کچھ نہیں مذاق کر رہا ہوں۔
ایمان نیچے دیکھنے لگی۔۔۔۔
وہاں کیا دیکھ رہی ہو۔
مجھے دیکھو نا۔
نہیں۔۔۔
اچھا۔۔
امان ایمان کے اور قریب آیا اور کہا نہیں دیکھوگی؟
ایمان پیچھے ہوئی۔۔۔
نہیں۔۔
امان ایمان کے اور قریب آیا اور اُس کا چہرا ہاتھ میں لیا۔۔
ایمان کو جیسے کرنٹ سا لگا۔۔
اس نے ایک دم امان کا ہاتھ جھٹکا۔۔۔
امان کو غصہ تو بہت آیا لیکن اُسنے برداشت کرلیا۔۔۔
ایمان i love u..ایمان کا سانس رُک رہا تھا۔۔
امان آپ یہ سب مت کہیں پلیز اور جائیں کوئی آجائیگا۔۔۔
تو آجائے مجھے کسی کا ڈر نہیں۔۔
امان پلیز جانے دیں مجھے۔۔۔۔
نہیں تم کہیں نہیں جاؤگی۔۔
امان پلیز۔۔
اچھا کل کوچنگ کے بعد مجھے ملنا۔۔۔
کیا۔؟
ایمان حیران ہوئی۔۔
اس میں حیرانی کی کیا بات ہے تم ملو گی بس جگہ تو تمہیں پتا ہوں گی تمہارا شہر ہے۔۔۔
امان میں ایسا نہیں کر سکتی یہ غلط ہے۔۔۔
اوووو بیبی کیا غلط ہے۔
میں نے کچھ ایسا ویسا کرنے کا نہیں کہا بس ملنے کا کہا ہے۔۔
ابھی وہ لوگ باتیں کر رہے تھے کے روشنی اندر آئی امان اور ایمان کو اتنا قریب دیکھ کے وہ حیران رہ گئی۔۔۔
کیا ہو رہا ہے یہ۔۔۔
روشنی کی آواز پر ایمان کا ڈر سے برا حال ہو گیا۔
ک۔۔کچھ نہیں آپی ایمان نے ھکلاتے بولا۔۔۔
امان وہاں سے چلا گیا۔۔۔
اور روشنی ایمان کے پاس آئی۔
ایمان نے کبھی یہ سب نہیں سوچا تھا وہ اتنی معصوم تھی۔
اُسے کچھ پتا نہیں تھا اس کے ساتھ کیا ہو رہا تھا۔۔۔
ایمان میں تم سے کچھ پوچھ رہی ہوں یہ سب کیا ہو رہا ہے۔۔۔ایمان رونے لگی۔۔
آپی مجھے امان اچھے لگتے ہیں۔۔۔
کیا؟
روشنی کو حیرت ہوئی ایمان تم ہوش میں ہو کیا کہ رہی ہو۔۔۔آپی میں سچ کہ رہی ہوں۔
اور وہ بھی بہت پیا ر کرتے ہیں مجھ سے۔۔۔
کب سے چل رہا ہے یہ سب۔۔۔
روشنی نے تشویش سے پوچھا۔۔۔
دو سال سے آپی۔۔
ایمان نے سر جُھکا لیا۔۔۔
دو سال۔۔۔
مطلب کامران بھائی کی شادی سے؟
نہیں آپی تب وہ پڑھاتے تھے صرف اب یہ سب ہو گیا۔۔۔
ایمان امان تمہیں پڑھاتا بھی تھا؟
جی آپی۔۔۔
ایمان جہاں تک مجھے یاد ہے تم دونون کے بیچ میں لڑائی ہوئی تھی؟
جی آپی پھر امان نے مجھے سوری کہ دیا تھا۔۔۔
کیا امان نے تمہں سوری کہا؟
اور پھر تب سے تمہاری بات شروع ہوئی ہے ہینا؟
روشنی نے جانچتی نظروں سے دیکھا۔۔
ایمان نے کہا جی آپی۔۔
روشنی کو کچھ غلط لگا۔۔۔
ایمان تم سچ میں امان سے پیار کرتی ہو۔۔۔؟
جی آپی۔۔۔
تم شادی کروگی امان سے۔۔۔
ایمان نے ایک دم روشنی کا ہاتھ پکڑا اور کہا آپی مجھے کچھ سمجھ میں نہیں آتا میں شادی کیسے کرونگی یہ سب میں نے کبھی سوچا ہی نہیں۔۔
ایمان تم سے امان نے کیوں کاٹکیٹ کیا۔؟
آپی سوری کہنے کے لیے۔۔۔
روشنی گہری سوچ میں دوب گئی۔۔
ایمان اب سے تم امان کی ہر بات مجھے بتاؤگی وعدہ کرو
جی آپی ایمان نے کہا۔
اور ایک اور بات کبھی اکیلے ملنے نہیں جاؤگی امان سے مجھے وعدہ کرو جی آپک نہیں جاؤنگی میں نے ابھی اُنہیں منع کردیا تھا۔۔۔تمہیں اس نے ملنے کا کہا تھا۔۔۔جی آپی ایمان نظریں نیچے کرتے ہوے بولی۔۔۔۔اچھا تم جاو مما بلا رہی ہے تمہیں۔
آپی مما کو مت بتانا۔
نہیں بتاتی جاو۔
روشنی کو یہ سب بہت عجیب لگا کیونکہ ایمان نے اسے بتایا تھا کے اس نے امان کو تھپڑ مارا تھا اور جتنا اس نے امان کے بارے میں سُن رکھا تھا وہ کسی کو اتنی آسانی سے نہیں بخشتا تھا پھر ایمان نے تو اسے تھپڑ مارا تھا اور اس کے بعد امان نے ایمان سے کانٹکیٹ کیا اور اب محبت۔
یہ سب روشنی کو ایک سازش لگی اور اس لیے اس نے ایمان کو منع کیا امان سے اکیلے ملنے سے۔
ابھی امان باہر گیا ہوا تھا اس کی مما بہت اچھی خاتون تھیں انہیں ایمان پسند تھی لیکن اُنہیں اپنے بیٹے کا پتا تھا کے اپنی مرضی کا مالک ہے خامخواہ بات کر کے فائدا نہیں تھا ایک بار انہوں نے امان سے باتوں باتوں میں ایمان کا ذکر کیا تو امان بگڑ گیا اور کہا آئندا اس کا نام بھی میرے سامنے کوئی نہ لے اور اس کے بعد انہوں نے کبھی اسی بات نہیں کی۔
اور جب امان نے کہا کہ اسے کراچی جانا ہے تو وہ حیران رہ گئیں انہوں نے کہا کیوں۔
تو امان نے کہا بزنس کہ سلسلے میں۔۔۔جانا ہے اور وہ اس کے ساتھ چل دیں۔۔

امان کو آئے 2 دن ہو گئے تھے۔
اس نے ایمان کو بہت بار ملنے کا کہا لیکن ہر بار ایمان نے منع کردیا اب امان کو غصہ آرہا تھا۔۔۔اُس نے ایمان کو جواب دینا بند کردیا ایمان بہت پریشان تھی کے وہ کیا کرے اس نے سب روشنی کو بتایا روشنی نے امان سے ملنے سے صاف منا کردیا۔۔لیکن امان کی ناراضگی ایمان کو پریشان کر رہی تھی۔۔۔۔۔ایمان نے امان کو کتنے مسیج اور کال کیں پر امان نے ایک کا بھی جواب نہیں دیا۔
امان گھر آتا تو سو جاتا ایمان کی طرف دیکھتا تک نہیں آج بھی وہ آیا ایمان اس کا انتظار کر رہی تھی اور وہ سیدھا اوپر چلا گیا سونے۔۔ایمان بھی اپنے کمرے میں جانے لگی تب اس کی مما نے اسے کہا امان کو چائے دے آؤ ایمان۔
اور ایمان امان کو چائے دینے چلی گئی۔
امان ابھی چینج کر کے لیٹا تھا کے ایمان نے دروازہ نوک کیا آجاؤ ایمان اندر آئی اور کہا چائے؟
امان نے ایمان کی طرف دیکھا اور کہا دروازا بند کر کہ آو۔۔ایمان نے ایک دم امان کو حیرت سے دیکھا۔
کیا۔؟
ایمان نے کہا۔
امان اُٹھا ایمان کے ہاتھ سے چائے لے کے رکھی اور اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔
ایمان ڈر گئی۔۔امان ہاتھ چھوڑیں کیا کر رہے ہیں آپ۔۔
امان نے ایمان کو خود کی طرف کھینچا اور کہا اب تک تو کچھ نہیں کیا لیکن اب کرونگا۔
یہ کہ کے امان نے ایمان کے گرد گھیرا ڈال دیا ایمان نے ایک دم امان کو جھٹکا دے کے پیچھے کیا۔۔
امان یے کیا بدتمیزی ہے ۔۔۔
امان نے پھر سے ایمان کو پکڑ لیا اور کہا بدتمیزی تو ابھی میں نے شروع بھی نہیں کی ایمان تڑپ کے رہ گئی اور خود کو امان کے گھیرے سے چُھڑانے لگی اور رونے لگی۔۔
امان پلیز مجھے چھوڑیں آپ ایسا کیوں کر رہے ہیں۔۔۔
میں ایسا کیوں کر رہا ہوں امان کی آنکھیں سرخ ہو گئیں۔۔ بھول گئں وہ تھپڑ جو تم نے مجھے مارا تھا اس دن تم نے اپنی قسمت میں غم لکھوا لیے تھے۔
امان پلیز وہ تو پہلے کی بات تھی آپ اب وہ بات کیون کر رہے ہیں۔۔
میں معافی بھی تو مانگ چکی ہوں اسکی آپ سے پلیز مجھے چھوڑ دیں۔
امان نے گرفت اور سخت کردی۔۔۔اور کہا بھول جاؤں؟
آج تک کبھی میرےبابا نے مجھ پے ہاتھ نہیں اُٹھایا اور تم؟
ہو کیا تم؟
آج تم سے ہر حساب پورا کرونگا۔
نہیں امان پلیز جانے دیں مجھے آپ تو پیار کرتے ہیں مجھ سے۔
ایمان نے لاچاری سے کہا۔
پیار۔؟
امان نے ایمان کو زور سے دھکا دیا ایمان کا سر بیڈ سے لگا ایمان پہلے رو رہی تھی اب ڈر سے کانپنے لگی۔۔
ایمان نے امان کو حیرت سے دیکھا۔۔۔امان اس کے قریب آیا اور کہا۔۔
پیار اور تم سے؟
تم نے یہ سوچا بھی کیسے تم سے میں صرف نفرت کر سکتا ہوں پیار نہیں۔۔ایمان نے اتنی دکھ سے امان کو دیکھا اور کہا۔۔۔تو وہ سب پھر۔۔۔وہ سب ڈرامہ تھا مس ایمان آج تمھارا جو میں حشر کرونگا اس کے بعد تم کسی کو منہ دیکھانے کے لائق نہیں رہوگی یہ سن کے ایمان بھاگنے لگی لیکن امان نے اسے پکڑ لیا ایما ن کے سر سے خون بہ رہا تھا چوٹ اتنی گہری نہیں تھی پر خون رس آیا تھا۔۔
امان پلیز مین معافی مانگتی ہون مجھے چھوڑ دو۔
امان اس کی بات سن ہی کب رہا تھا امان نے ایمان کے بالون کو جکڑ لیا اور خود کے بہت قریب کرلیا ایمان بہت رو رہی تھی لیکن امان اسے دبردستی کرنے لگا ایمان چیخ رہی تھی پر وہ اسے نہیں چھوڑ رہا تھا۔۔۔روشنی جو کب سے ایمان کو ڈھونڈ رہی تھی اوپر آئی ایمان کی چیخ پر کمرہ کھولا تو روشنی کے ہوش اُڑ گئے اسنے جلدی امان کو دھکا دے کےایمان کو آزاد کرایا ایمان پوری طرح کانپ رہی تھی اور روشنی سے لپٹ کے ھِچکیان لے رہی تھی روشنی غصے سے پاگل ہو گئی امان تم اتنے گھٹیا انسان ہو گے میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتی تھی میں ابھی جا کے سب کو تمہاری اصلیت بتاتی ہوں۔
بتا دو شوق سے میرے پاس بھی پھر بہت کچھ ہے دیکھانے کے لیے۔
بہت چیپ ہو تم امان روشنی نے دیکھا ایمان کی حالت بگڑ ربی تھی اس لیے مزید بحث نا کرنے کا سوچ کے وہاں سے جانے لگی۔
تب امان کی آواز پے رُک گئی۔
میں کتنا چیپ ہوں یے دیکھنے کے لیے اپنی بہن کو یہاں چھوڑ جاؤ اور آدھے گھنٹے بعد آنا پھر تمہیں ٹھیک سے پتا چل جائیگا کے میں کتنا چیپ ہوں
ایمان نے امان کی یہ بات سن کے روشنی کو اور زور سے پکڑ لیا روشنی جو کچھ کہنے کے لیے رُکی ایمان کی حالت دیکھ کے بنا کچھ کہے وہاں سے چلی آئی ایمان کو لے کے۔
ایمان اور روشنی ایک کمرے میں سوتے تھیں آروما مما کے ساتھ سوتی تھی اس لیے ایمان کی حالت کوئی دیکھ نہیں سکا۔
امان گھر سے چلا گیا تھا۔
ایمان کی طبیعت بہت خراب ہو گئی تھی وہ بری طرح کانپ رہی تھی۔
اور روشنی اُسے اپنے سے لگاے ہوئے تھی۔
ایمان میری جان کچھ نہیں ہے وہ چلا گئا ہے۔
روشنی ایمان کو تسلی دینے لگی لیکن وہ کانپے جا رہی تھی۔

روشی نے ایمان کے پانی میں نیند کی گولی ڈال کے دی تا کے وہ سو جائے اور ذیادہ طبیعت خراب نا ہو ایمان کو سُلا کے روشنی سوچنے لگی ایسا کیا ہے امان کے پاس جو وہ کہ رہا تھا اگر میں کسی کو امان کی حرکت کا بتاتی ہوں تو ایمان پھس نا جائے کہیں اور وہ بھی سو گئی۔۔
امان صبح صبح اپنی مما کو لے کے ملتان روانہ ہوگیا تھا اِسکی مما نے وجہ پوچھی تو کہا مما یہان کا کام ختم ہو گیا اب وہاں بہت ضروری کام ہے جلدی جانا ہے۔
اور پھر وہ دونوں چلے گئے۔
صبح روشنی نے ایمان کو اُٹھایا تو وہ ڈرتے ہوے نیند میں بولنے لگی امی بچالو مجھے۔
روشنی نے ایمان کو جھنجھوڑا اور ایمان اُٹھتے ہی بری طرح کانپنے لگی اور روشنی سے لپٹ کے رونے لگی روشنی نے دیکھا اسے بہت تیز بخار ہو رہا تھا روشنی نے اسے خود سے لگا کے کہا ایمان کچھ نہیں ہے میری جان سب ٹھیک ہے وہ چلا گیا ہے۔
آمینہ بیگم اندر آئیں تو ایمان کو ایسے دیکھ کے اس کی طرف لپکیں۔
روشنی کیا ہوا ہے ایمان کو یہ اس طرح کیوں رو رہی ہے۔
مما یہ ڈر گئی ہے۔
روشنی نے بھانا بنایا کس چیز سے ڈری ہے یہ اور وہ بھی اتنا ایمان مما کے گلے لگ گئی اور رونے لگی آمینہ بیگم کا دل کٹ کے رہ گیا ایمان کی ایسی حالت دیکھ کے اور وہ رونے لگیں کیا ہوا ہے ایمان میری جان اور ایمان بے ھوش ہو کے آمینہ بیگم کی باہوں میں جھول گئی۔
ایمان۔۔
ایمان۔۔
روشنی ڈاکٹر کو کال کر جلدی آمینہ بیگم کے رونے میں تیزی آگئی روشنی نے ڈاکٹر کو بلا لیا تھا ڈاکٹر نے ایک ہفتے کی دوائیں دیں ایمان دوائوں کے ذیرے اثر سو رہی تھی آمینہ بیگم اس کے پاس سے ہلی بھی نہیں تھیں روشنی نے انہیں یہی بتایا کے وہ کسی چیز سے ڈر گئی ہے اور وہ ایک منٹ بھی ایمان کو اکیلا نہیں چھوڑنا چاہتی تھیں کیونکے وہ نیند میں بھی یہی کہتی تھی امی بچائیں اور آمینہ بیگم اپنایک لڑکی پاگل سی۔۔۔

پارٹ 1۔۔۔۔

از آرزا۔۔۔پریشے خان۔۔۔۔

Dont copy and paste without my permission....

❤❤❤❤❤❤

ممی ایمان نے پھر گلاس توڑ دیا۔۔۔یا میرے خدایہ میں کیا کروں اس لڑکی کا مجال کوئی کام صحیح کیا ہو آج تک ہر کام اُلٹا ہے اس کا پریشاں ہو گئی ہوں میں اب پتا نہیں اگلے گھر جا کے یہ کیا کریگی۔۔۔ممی میں اگلے گھر جاوگی ہی کیوں جو کچھ کرنا پڑے ایمان نے سیڑیوں پے بیٹھے بیٹھے کہا۔۔۔

شادی تو ان مہا رانی نے جسے کرنی نہیں کبھی۔۔۔

نہیں مما آپ سے کتنی بار تو کہا ہے نہیں کرنی آج بھی وہ اپنی بچپن والی ضد پے قائم تھی کے شادی نہیں کریگی اور آج بھی اسے آمینہ بیگم سے ٹھیک ٹھاک ڈانٹ کھانی پڑی تھی جس کی وجھ سے وہ اب کمرا بند کئے رو رہی تھی
۔آمینہ بیگم کی تین بیٹاں تھیں بڑی بیٹی روشنی جو ہر کام میں پرفیکٹ تھی اس کے بعد ایمان تھی جسے کبھی کوئی کام ٹھیک سےنہیں ہوتا تھا۔۔

اس کے بعد آروما تھی جو ابھی چھوٹی تھی اور چھٹی کلاس کی طالب عِلم تھی۔۔

آمینہ بیگم کو ایمان کی بہت فکر رہتی تھی کیونکہ وہ ہر بات منہ پے بول دیتی تھی بغیر کسی بات کی پرواہ کیے اور آمینہ بیگم اسی بات سے ڈرتی تھیں کیوں کے وہ جانتی تھیں ایماں بہت معصوم ہے وہ تیزیاں چلاکیاں نہیں سمجھتی تھی بس جو آتا تھا منہ میں بول دیتی تھی اُسے اپنی زندگی میں بس ایک چیز سے خوف آتا۔۔۔

اور وہ تھی شادی۔

آج بھی اسے اس بات پے دانٹ پڑی تھی اور وہ بغیر کچھ کھائے روتی روتی سو گئی تھی۔

ایمان اُٹھ گئی مما نے روشی سے پوچھا ہاں مما لیکن وہ اب بھی کچھ کھانے کو تیار نہیں۔

کیا کروں میں اس لڑکی کا اچھا اسے کہو مما بلا رہی ہیں۔۔
کچھ دیر بعد ایماں آئی جی مما۔
آو بیٹھو یہاں مما نے اسے اپنے پاس بیٹھنے کا کہا وہ بیٹھ گئی۔۔۔دیکھو بیٹا میں تمہیں کچھ غلط تو نہیں کہتی میرا ساتھ پتا نہیں کب تک ہے ایسا نا کہیں مما پلیز۔۔۔تمیہں ایک نا ایک دن شادی کرنی ہوگی بیٹا اور یہی زندگی کا دستور ہے اس میں کوئی کچھ نہیں کر سکتا۔۔۔امی نہیں ایمان تڑپ کے رونے لگی امی اسے چپ کرانے لگیں اور سوچنے لگی کے میری اس معصوم بیٹی کا کیا ہوگا۔۔۔وہ جب بچپن میں منع کرتی تھی تو آمینہ بیگم مزاق میں ٹال دیتی تھیں لیکن اب وہ ایماں کے لیے بہت پریشان رہتی تھیں کیونکہ ایمان اب 21 سال کی ہو گئی تھی اور اب تک اس کی وہی ضد تھی۔۔۔ ایمان کا ایڈمیشن ڈگری کالیج میں ہوگیا تھا وہ اب بی ایس سی کی طالب علم تھی
ایمان پڑھائی میں کافی اچھی تھی اس لیے وہ سنجیدگی سے پڑھ رہی تھی۔

روشی بیٹا میں ذرا ذرینہ کے گھر جا رہی ہوں دروازہ بند کردو۔۔جی مما کہ کے روشنی نے دروازا بند کیا اور کھانا بنانے چلی گئی ایمان آروما بھی آنے والے تھے ایک بج رہا تھا ایمان کی چھٹی سوا ایک اور آروما کی ایک بجی ہوتی تھی۔۔آروماتو آگئی تھی اور آتے ہی بھوک لگی ہے کی رٹ لگا دی روشی اسے کھانا دینے چلی گئی 1.30 بجنے لگا ایمان اب تک نہیں آئی روشی کو پریشانی ہونے لگی۔۔اور ایمان اندر آتے دکھائی دی۔۔۔ایمان اتنی دیر کہاں کردی۔
آپی چھولے کھانے گئی تھی آپ کھاوگی😋۔۔روشنی نے ایک رکھ کے لگائی ایمان کے تمہیں شرم آتی ہے یہاں میں پریشان ہو رہی ہوں اور تم چھولے کھا رہی تھیں۔۔۔اووھووو آپی اب آپ امی نا بنا کرو ایک تو ابھی ان سے بھی ڈانٹ کھانی رہتی ہے۔۔شکر کرو بچ گئی آمی نہیں ہیں گھر روشنی نے کہا۔
کہاں گئی ہیں مما؟
ذرینہ چچی کے گھر۔
کیوں؟
کامراں بھائی کا رشتہ تے پا گیا ہے😃کیا؟
کیا پتا تے پا گیا ہو۔۔
یار ملتان کون جائیگا ایمان منہ بناتے ہوے بولی۔
ہاں یار صحیح کہ رہی ہو۔
ہاں نہ تھوڑا قریب رکھ لیتے۔
ہاں کیاں نہیں جناب تم سےپوچھ کے تو تے کرنا تھا رشتہ ہے نا؟
ہاں بلکل ایماں نے کہا.
اچھا چلو چھوڑو یہ سب کھانا کھاؤ۔
نہیں آپی بھوک نہیں میں نے چھولے جو کھا لیے تھے۔
ایمان تم ایک دن مما سے پٹ جاؤگی۔
...ھاھاھا۔۔
آپی مجھے چھولے تو کھانے ملیں گے نا کوئی بات نہیں مار بھی کھالونگی😛
ایمان سدھر جاو تم۔۔۔اچھا آپی مما کب تک آئیں گی؟
پتا نہیں بتا کے نہیں گیئں.
اچھا آپی میں سو رہی ہوں مما آئیں تو مجھے اُٹھا دینا۔
اوکے مہارانی۔۔
♡♡♡

مما آپ آگئی بیٹھیں میں کھانا لگاتی ہوں۔
رُکو بیٹا میں کھا کےآئی ہوں۔
اچھا مما کیوں بلایا تھا ذرینہ چچی نے؟
ارے بیٹا وہ کامران کی شادی کی ڈیٹ رکھ رہی ہے اگلے مھینے کیا مما؟
پھر اتنی دور کسے جائیں گے؟
جسے سب جائیں گے۔
مما نے کہا۔۔
اچھا مما۔۔
ایمان اور آروما کہاں ہیں مما نے پوچھا۔
ایمان سو رہی ہے مما اور آروما کھلنے گئی ہوئی ہے۔
اچھا ایمان کو اٹھا دو مغرب ہونے والی ہے۔
جی مما روشی کہتے ایمان کو اٹھانے چلی گئی۔

مما مجھے ملتان نہیں جانا۔
ایمان نے منہ بناتے ہوے کہا۔
کیوں کیا تکلیف ہو گئی ہے اب تمہیں؟
مما بہت دور ہے میں تھک جاؤگی۔
چپ کر جایا کرو ایمان تنگ مت کیا کرو مجھے مما کا موڈ بگڑتے دیکھا تو ایمان چپ کر گئی۔
دن گذرتے گئے آج اُنہیں بارات لے کے جانا تھا ایمان کا موڈ آف تھا وہ منہ پھولائے ایک جگہ بیٹھی تھی بس میں۔
پوری رات سفر میں گذری آخر کار منزل آ گئی سب نے سکون
کا سانس لیا۔
اور اندر جانے لگے سب نے بہت اچھی طرح استقبال کیا اب بارات آرام کر رہی تھی دوسرے دن مہندی تھی اور سب بہت تھک چکے تھے۔
آج مہندی تھی کامران کی سب بہت خوش تھے سب لڑکیاں عورتیں تیاریوں میں لگے تھے۔
ایمان نے آج گرین کلر کی میکسی کے ساتھ پیلا دوپٹا لیا ہوا تھا اور وہ بے حد حسیں لگ رہی تھی۔
سب کی نظریں اس پے ٹہر رہی تھیں۔
آمینہ بیگم ایمان کی خوبصورتی سے بہت ڈرتی تھیں آج بھی وہ ایمان کو دیکھ کے روشنی سے کہ رہی تھیں ایمان کی نظر اُتار دینا بیٹا جی مماروشنی نے کہا اور گانوں میں لگ گئی

ایمان سب کے ساتھ گانے گاتے گاتے تھک گئی تو پانی پینے کے لیے جانے لگی کے اچانک اس کا ٹکراو ایک مضبوط چیز سے ہوا
آآآآ آمی۔۔۔میرا سر۔۔
امان نے ایک دم ایمان کو پکڑ لیا تاکے وہ گر نا جائے۔
ایمان نے جب آنکھیں کھولیں تو خود کو کسی کی بازؤں میں دیکھ کے غصے سے پاگل ہو گئی۔
اندھے ہو چھوڑو مجھے تمہاری ہمت کسے ہوئی مجھے ہاتھ لگانے کی۔
دیکھیں بیبی اگر میں نا پکڑتا آپ گرجاتی۔۔۔تو گر جاتی آپکو کیا مسئلہ تھا ٹھیک ہے اگلی بار پکڑوں گا نہیں دھکا دے دونگا اب ٹھیک ہے امان بھی کہاں چپ رہنے والوں میں تھا اس نے بھی چڑانے والے انداز میں کہا۔۔ جاہل کہ کے ایمان وہاں سے چلی گئی لیکن وہ اس بات سے انجان تھی اسنے کتنی بڑی غلطی کردی ہے۔۔۔امان غصے سے وہاں سے نکل گیا اور سوچنے لگا آج تک خاندان میں کبھی کسی نے اسے اُف تک نہیں کہا تھا تو یہ کون تھی۔۔۔امان ایمان کے تایا کا بیٹا تھا لیکن کبھی یہ لوگ ملے نہیں تھے کیونکہ نا کبھی ایمان ملتان آئی تھی نا کھبی وہ کراچی گیا تھا ایمان اور امان کی آپس میں لڑائی ہو چکی تھی اور ایمان کو رہ رہ کے غصہ آرہا تھا کے اسکی ہمت کسے ہوئی مجھے پکڑنے کی۔

ایمان کیا ہوا ہے تمہیں کیوں یہاں آکے بیٹھی ہو۔۔روشنی جو کمرے سے گذر رہی تھی ایمان کو دیکھ کے رُک گئی۔۔۔کچھ نہیں آپی بس تھک گئی ہوں اچھا تم ایسا کرو سو جاو صبح پھر بارات ہے تو فریش ہو جاؤگی۔ٹھیک ہے آپی لائٹ بند کرتی جانا۔۔۔ صبح ہر جگہ ہل چل مچی تھی ہر کوئی اپنے کام نبٹانے میں لگا تھا۔
اِسی افرا تفری میں رات ہو گئی اور سب تیاریوں میں لگ گئے۔
ایمان نے آج بلیک اور اسکن کنٹراس پہنا تھا اور وہ بحد خوبصورت لگ رہی تھی۔
سب نے اسکی بہت تعریف کی۔
امان کی نظریں ایمان پے ٹہر گئیں۔
وہ اُسے دیکھے جا رہا تھا ایمان کی جب نظر پڑی تو اسے بہت غصہ آیا امان پہ ابھی تک ایمان اور امان نہیں جانتے تھے کے وہ آپس میں کزن ہیں۔۔ایمان کو اب بھی غصہ آرہا تھا کیونکہ امان اب تک اس پے نظریں جمائے ہوئے تھا ایمان ایک دم اپنی آپی کے پیچھے چھپ گئی ٹھڑکی کہتے ہوئے جو امان نے سن لیا اور اُسکا اور بھی پارا چھڑگیا ایمان پہ..رحمان یہ لڑکی کون ہے؟
کون؟
رحمان نے امان سے پوچھا۔
یہ جو بلیک اور اسکن کلر کے سوٹ میں ہے۔
یہ تو ایمان ہے رشید چچا کی بیٹی۔
واٹ really is that true
.امان کو ایک جھٹکا سا لگا کے وہ اسکی کزن ہے۔
تو یہ ہماری کزن ہوتی ہیں محترمہ.
چلو آسانی ہوگی بدلا لینے میں۔۔
امان اکلوتا ہونے کی وجہ سے بہت ضدی اور گھمنڈی تھا اسے اس بات کا غصہ تھا کے ایمان نے اسے انداھ اور جاہل کہا تھا اور اب وہ چاہتا تھا کے کسی طرح ایمان سے اسکی بیعزتی کا بدلا لے۔۔۔۔ اس نے سارا وقت ایمان پہ نظر گاڑے رکھی ایمان بہت پریشان ہو رہی تھی غصہ بھی بہت آرہا تھا۔
آپی یہ مجھے بہت دیکھ رہا ہے۔
کون؟
روشنی نے امان کو دیکتے ہوئے کہا۔
وہی جسے آپ دیکھ رہی ہو۔
ایمان وہ تو ارسلان تایا کا بیٹا امان ہے۔
ہان تو کیا وہ مجھے دیکھے گا؟
آری اچھا ہے نا پورے خاندان میں امیر اور ھینڈسم لڑکا ہے۔
آپی اگر آئندہ آپنے ایسا کہا میں آپسے کبھی بات نہیں کرونگی۔۔اچھا نہیں کہتی۔
آپی مجھے گھر جانا ہے۔
چُپ چاپ کھڑی رہو یہ کراچی نہیں کے تم اکیلی کہیں بھی چلی جاؤ۔
ایمان چپ کر کے کھڑی ہو گئی

ایمان کو پیاس لگ رہی تھی پر وہ کہیں جا نہیں رہی تھی کیونکہ امان کی نظرین ایمان پہ ہر وقت گڑھی ہوئی تھیں اور ایمان اس بات سے بہت پریشان ہو رہی تھی۔۔۔عنایہ پلیز یار ایک گلاس پانی لادو ایمان میرے ہاتھ میں پھولوں کی ٹوکری ہے یار یے تھوڑا آگے ہی ہے پانی لے آؤ ۔۔اچھا ایمان بس اتنا ہی کہ سکی آخر جب پیاس بڑھ گئ تو ایمان پانی پینے چلی گئی ابھی وہ پانی پی رہی تھی کے پچھے سے امان آگیا۔
hi miss Emaan
کسی ہیں آپ؟
ایمان نے امان کو دیکھا تو اسے شدید غصہ آنے لگا.
وہ بغیر کوئی جواب دئیے وہاں سے جانے لگی تو امان نے اگے آ کے اسے روک لیا۔
اور اس کا ہاتھ ایمان کے ہاتھ سے ٹچ ہو گیا ایمان کا توغصہ آسمان چھونے لگا۔
کیا بدتمیزی ہے یہ؟
شرم نہیں آتی آپکو؟
نہیں مجھ سے شرم کی کبھی بنی نہیں.
امان نے ڈیٹھائی سے کہا۔
ہاں تو میں کیا کروں راستہ چھوڑیں میرا۔
اگر نا چھوڑون تو؟
تو میں آپکا منہ توڑ دونگی۔
ھاھاھا...
امان کو اس کی بات پے ہنسی آگئی realyتم میرا منہ توڑو گی۔۔۔iii cant believe itتم نے یہ مجھ سے کہا؟
امان ایمان کا مزاق اُڑانے لگا تو ایمان کو اور بھی غصہ آگیا اس نے امان کو تھپڑ مار دی اور بھاگ گئی۔
امان کا خون کھول اُٹھا اور آنکھیں سرخ ہو گئیں۔
وہ غصے میں گاڑی لے کے گھر چلا گیا۔
یہاں سب اسے ڈھونڈنے میں لگے تھے ایمان جا کے سکون سے فنکشن انجوائی کرنے لگی اس نے سوچا کے اب وہ سبق سیکھ جائیگا اور مجھ سے دور رہے گا لیکن یہ ایمان کی بھول تھی امان جس کو پہلے ایمان پے غصہ تھا اسکا غصہ حد سے زیادہ بڑھ گیا سمجھتی کیا ہے وہ خود کو ہے کیا میرے سامنے مسل کے رکھ دونگا آج تک میرے بابا نے مجھ پے ہاتھ نہیں اُٹھایا اس کی ہمت کیسے ہوئی نہیں چھوڑونگا تمیں ایمان کہاں جاؤگی اب تم مجھ سے بچ کے تمہیں تو اب کسی بھی واسطے سے نیہں چھوڑنگا
you will pay for that miss Emaan۔۔

یہ کہتے ہوے امان
نے اپنا موبائل دیوار میں دے مارا اور غصے سے یہان وہاں ٹہلنے لگا۔
شادی کا فنکشن ختم ہوا تو بارات کے جانے کی بھاگ دوڑ چل اُٹھی۔
آج بارات کی روانگی تھی ایمان آج بہت خوش تھی کیونکہ آج وہ گھر جا رہی تھی اور امان بھی آج نہیں دیکھا تھا۔
بارات روانا ہو گئی اور ایک دن بعد سب نے گھر پہنچ کے سکون لیا۔
ایمان اور آروما نے آج بھی چھٹی کی تھی کیونکہ وہ بہت تھک گئں تھیں اس لیے آرام کر رہیی تھیں۔

♡♡♡

کچھ دن گذر گئے امان اب تک چپ تھا اسنے اب تک کسی سے کچھ نہیں کہا تھا۔
پھر ایک دم اُٹھا اور اور عنایہ کے گھر گیا جو ایمان کی دوست بن گئی تھی شادی میں۔
عنایہ مجھے ایک فیور چاہئے تم سے۔
تمہیں مجھ سے فیور چاھے؟
عنایہ حیران ہوئی۔
ہاں مجھے ایمان کا نمبر چاھے۔
کیوں؟
عنایہ کی حیرت میں اٍضافہ ھوا.
اس میں حیران ہونے والی کیا بات ہے کزن ہے میری۔
ہان لیکن جاتے ٹائم اس نے کافی برائی کی تھی تمہاری اور اِس کا تو یھی مطلب ہے وہ تم سے بات نہیں کرنا چاہے گی۔
امان کو غصہ تو بہت آیا لیکن اس نے ٹال دیا۔
ہاں وہ کچھ مس انڈراسٹنڈنگ ہو گئی تھی وہی کلیئر کرنا چاہتا ہوں۔
اچھا چلو صحیح ہے یہ لو اس نے ایمان کا نمبر امان کو دے دیا۔
امان نمبر لیتا کچھ سوچتا ہوا چلا گیا۔

♡♡♡

ایمان تمہارا فون بج رہا ہے۔
آپی دیکھ لو کس کا ہے۔
میں نوکر نہیں ہون تمہاری یہ لو اور خد نبٹاؤ اپنے کام۔
توبہ ہے آپی۔
ایمان فون اُٹھایا تو امان نے کہا ایمان میں امان بول رہا ہوں دیکھو کال مت کاٹنا تم سے کچھ بات کرنی ہے۔
مجھ سے تمہیں کیا بات کرنی ہے؟
اور تمھاری ہمت بھی کیسے ہوئی مجھے کال کرنے کی؟
اور تمھیں میرا نمبر کس نے دیا ہے؟
ایمان نے سارے سوال ایک سانس میں پوچھ ڈالے۔
ایمان سانس تو لے لو سب بتاتا ہوں۔
ایمان جو بولے جا رہی تھی ایک منٹ کے لیے چپ ہوئی پھر کہا خبردار تم نے آئنداہ مجھے کال کی ہے مجھے تمہاری کسی بکواس میں کوئی اِنٹریسٹ نہیں ہے یہ کہ کے ایمان نے کال کاٹ دی۔
امان کا غصہ بڑھ گیا لیکن اس نے پھر کال کی ایمان کاٹتی رہی آخر پھر سُنانے کے لیے اُٹھائی تو ایک دم امان نے بولا۔

im sorry Emaan۔۔

میں بس تم سے معافی مانگنا چاہتا تھا کیونکہ مجھے لگا میری غلطی تھی۔
ایمان پہلے تو حیران ہوئی۔
پھر کہا اچھا ٹھیک ہے کہ کے کال کاٹ دی اب کے امان نے دوبارا کال نہیں کی تھی۔
بس وہ کچھ اور ہی سوچ رھا تھا جس سے ایمان بلکل انجان تھی.

♡♡♡

ایمان کالج سے واپس آئی تو امان کی کال آرہی تھی اب اس کو کیا مصیبت پڑ گئی ہے۔
ایمان نے کال کاٹ دی۔
پر پھر کال آنے لگی ایمان نے اُٹھا کے بیزاری سے کہا کیا چاہئے اب؟
بہت کچھ۔۔
آگے سے جواب آیا۔
مطلب؟
ایمان نے پوچھا۔
کچھ نہیں مجھے ایک فیور چاہئے تھا تم سے ۔
امان نے کہا۔
تمہیں مجھ سے کیا فیور چاہئے؟
اور میں کیوں کرونگی تمہارا فیور؟
پلیز ایمان امان نے کہا۔
ایمان پہلے چپ ہوئی پھر پوچھا کیا فیور؟
وہ یار مجھے سندھ کے نوٹس چاہئے کیا تم بیھج سکتی ہو؟
کونسے نوٹس؟
بایو کے یار.
امان نے کہا۔
اوکے پر آئندہ مجھے یار مت کہنا بھیج دون گی۔
اوکے تھنکس۔
اور سوچنے لگا تمہیں تو میں پتا نہیں کیا کیآ کہونگا۔
تم بس دیکھتی جاؤ اب میں کیا کیا کرتا ہون تمہارے ساتھ

ایمان بہت معصوم تھی وہ کبھی یہ اندازہ نہیں لگا پاتی تھی کے کوئی اُسے سچ بول رہا ہے یا جھوٹ اُس لیے اس نے امان کی بات کو بھی سچ مانا تھا کے اسے نوٹس چاہئے وہ نہیں جانتی تھی کے امان کا مقصد کچھ اور ہے۔۔۔اب امان بھانے بھانے سے ایمان کو کال کرنے لگا تھا لیکن ایمان اُٹھاتی نہیں تھی لیکن امان پھر بھی اسے کال کرتا تھا کیونکہ اس نے جو سوچ رکھا تھا اس کے لیے یے ضروری تھا۔

♡♡♡

کل صبح ایمان کا ٹیسٹ تھا اور وہ پڑھ رہی تھی۔
امان مسلسل اُسی کال کر رہا تھا۔
گھر پے اس وقت کوئی نہیں تھا سب ذرینہ چچی کے گھر گئے ہوے تھی ایمان ٹیسٹ کی وجہ سے نہیں جا سکی تھی۔
اب وہ موبائل بند بھی نہیں کر سکتی تھی نا ہی سائلینٹ پے لگا سکتی تھی اس لیے مجبورن اسے کال اُٹھانی پڑی۔
ہیلو۔۔
جی کیا مسلا ہے آپ کے ساتھ ٹیسٹ کیوں نہیں یاد کرنے دے رے آپ مجھے؟
ایما نے چھوٹتے ہی کہا۔
کس سبجیکٹ کا ٹیسٹ ہے؟
امان نے پوچھا۔
کیون آپنے حل کر کے دینی ہے مجھے؟
کیا پتا دے دون حل کر کے تم پوچھ سکتی ہو مجھ سے۔
ایمان نے سوچا آیا بڑا اور کال کاٹ دی۔
امان کو غصہ آنے لگا تھا ایمان کسی طرح اس کے ہاتھ نہیں آرہی تھی۔
اس نے پھر کال کی اور کہا میں تمہیں ٹیسٹ کی تیاری کرواؤں؟
ایمان کو ویسے کچھ سمجھ میں نہیں آرھا تھا تو ٹوپک اسے بتاتے بولی سمجھاؤ؟
امان نے ایمان کو سمجھانے شروع کیا اور اتنی اچھی طرح سمجھایا ایمان کو پورا ٹیسٹ یاد ہو گیا ایمان کو بہت خوشی ہوئی کے اسے ٹیسٹ یاد کرنے میں مشکل نہیں ہوئی اس نے بغیر تھینکس کہے کال کاٹ دی اور خوش ہونے لگی۔

اب امان کو ایک ِٹرک مل گئی تھی جس ذریعے وہ ایمان سے بات کر سکتا تھا۔
اس نے روز ایمان کو پڑھائی کے بھانے کال کرنے شروع کردی تھی۔
ایمان بھی کال اُٹھا لیتی تھی کیونکہ اسے یہی لگتا تھا امان اسے پڑھا رہا ہے۔
لیکن وہ اس بات سے انجان تھی اس دنیا میں کچھ بھی بغیر مطلب کہ نہیں ہوتا۔
اس طرح یہ سلسلا چلتا رہا ایمان بہت خوش تھی کیونکہ اسے پڑھائی میں کافی مدد ملی تھی اور اب اُسے امان بُرا بھی نہیں لگتا تھا۔
وہ امان کو اچھا سمجھنے لگی تھی۔
اوراسے کہنے لگی امان بھائی آپ تو اچھے ہو بہت میں آپکو کتنا غلط سمجھتی تھی۔
یہ سن کے امان دل میں ہنسنے لگا۔
میں کتنا اچھا ہوں یے تو تمہیں پتا چل ہی جائیگا۔۔
امان بھائی کیا ہوا آپ چپ ہو گئے۔
یار مجھے بھائی مت کہا کرو اِریٹیشن ہوتی ہے۔
کیوں آپ تو بھا ئی ہے میرے۔
ایمان اگر بھائی کہو گی میں اگلی بار نہیں پڑھاؤنگا۔
اچھا نہیں کہتی پر آپ پڑھانا مجھے۔
ایمان اب امان کی ہر بات مانتی تھی۔
اسے صحیح سمجھتی تھی اور امان خوش تھا کے وہ کامیاب ہو رہا ہے۔
انہیں ایسے بات کرتے ایک سال ہو گیا ایمان کا 3 سیمسٹر شروع ہو چکا تھا وہ آج بھی امان سے پڑھتی تھی۔
آج بھی کالج سے آتے ہی ایمان نے امان کو کال لگائی اس نے ایک بار دیکھ کے کاٹ دی اور ہنسنے لگا۔
ساتھ رحمان بیٹھا تھا اسے پوچھنے لگا کیا ہوا پاگل ہو گیا ہے کیا کیوِں ہنس رہا ہے؟
بتاؤنگا تجھے بھی جلدی کیا ہے۔
پھر سے ایمان کی کال آنے لگی امان نے موبائیل رحمان کی طرف اُچھالا اور کہا بات کر میرا کہنا کے سو رہا ہوں۔
رحمان نے حیرت سے امان کو دیکھا۔۔
پہلے بات کرلے پھر مجھے دیکھ لینا۔
رحمان نے کال اُٹھائی ایمان ایک دم بولی۔
کہاں ہو کال کیوں نہیں اُٹھا رہے.
مجھے کتنا کچھ سمجھنا ہے۔
رحمان نے نا سمجھی کی کیفیت سے امان کو دیکھا۔
اور ایمان کو کہا ایمان میں رحمان بول رہا ہوں امان سو رہا ہے۔
اس کی یے بات سنتے ہی ایمان نے کال کاٹ دی اور شرمندہ ہونے لگی۔
امان یے سب کیا ہو رہا ہے؟
رحمان نے پوچھا۔
کچھ نہیں ٹائم پاس۔
ؤاٹ؟
شرم آتی ہے تجھے ٹائم پاس کے لیے تجھے اپنے خاندان کی لڑکی ملی تھی؟
اور وہ بھی اتنی معصوم کے ساتھ؟
بہت غلط کر رہا ہے تو۔۔
غلط تو تب ہوا تھا جب اس نے میری انسلٹ کی تھی۔
اس دن اس نے اپنے مقدر میں غم لکھوا لیے تھے۔
اب میں اسے بتاؤگا بدتمیزی انسلٹ کیا ہوتی ہے۔
امان بہت ذیادہ غلط کر رہا ہے تو۔
کسی معصوم کے ساتھ۔
میرے معاملے میں بولنے کا حق میں نے کسی کو نہیں دیا۔
امان نے صاف جواب دیا۔۔
پچھتائیگا ایک دن لکھ کے رکھ لے۔
ھاھاھا۔۔
پچھتانے کے دن اب مس ایمان کے ہیں۔
مجھ سے اولجھنے کا انجام بہت برا ہوتا ہے۔
ایمان ۳ دن امان کی کال کا انتظار رہی پر اس نے کال نہیں کی۔
آج جب وہ سونے لگی تھی تو امان کی کال آئی۔
ہیلو۔۔۔
ایمان نے کہا۔
امان نے گہری خاموشی کے بعد کہا۔
ایمان مجھے کچھ بات کرنی ہے تم سے پلیز منع مت کرنا میں ٹوٹ جاؤنگا۔
میں اِس لیے کچھ دن سے تم سے دور ہوں۔
کیونکہ۔۔
ایمان۔۔۔
تم مجھے اچھی لگنے لگی ہو۔۔
ایمان کا سانس رُک گیا امان کی بات پے۔۔
میں نے ایسا کبھی نہیں سوچا آپ کے لیے۔
ایمان نے کہا۔
پلیز ایمان منع مت کرنا میں ٹوٹ جاؤنگا۔
ایمان نے کال کاٹ دی اور رونے لگی کے یے سب کیا ہوگیا۔
اب کیا ہوگا میں کیا کروں۔
ایمان بہت پریشان ہو گئی اُسے سمجھ میں نہیں آرہا تھا وہ کیا کرے۔
اُسے یہی لگتا تھا امان نے اس کی بہت مدد کی ہے اور اب وہ اسے اگر صاف جواب دے دیگی تو خود غرضی ہوگی۔
وہ چپ ہو گئی۔
اور مبائل بند کردیا۔
دو دن امان نے کوئی رابطہ نہیں کیا۔
تیسری دن کال کی جو ایمان نے نہیں اُٹھائی تو امان نے اسے میسیج کیا۔
ایمان میں ایسے مر جاؤنگا پلیز مجھ سے بات کرو۔

ii reallyyy lovvveee youuu

ایمان اور بھی پریشان ہو گئی۔
کال پھر سے آنے لگی ایمان نے نہیں اُٹھائی۔
پھر میسیج آیا۔
ایمان اگر تم نے کال نہیں اُٹھائی میں یے ساری گولیاں کھا لوں گا۔
ایمان کا تو یے دیکھ کے برا حال ہو گیا۔
پھر سے کال آئی اس بار ایمان نے کال اُٹھا لی۔
ایمان پلیز ایسا مت کرو میرے ساتھ مجھے تم سے محبت ہو گئی تو اس میں میرا کیا قصور ہے۔
پلیز آپ یے سب باتیں مت کریں۔
میں نے آپ کے بارے میں ایسا کبھی نہیں سوچا۔
تو اب سوچ لو نا پلیز تمہیں کسی نا کسی کا تو ہونا ہے نا تو میری ہو جاؤ میں تم جیسا کہو گی ویسا کرونگا۔
پلیز امان آپ یے سب مت کہیں یے کہ کے ایمان نے کال رکھ دی۔
کچھ آنسو تھے جو اس وقت گِرے تھے۔
اب روز یہی ہوتا امان اسے دھمکی دیتا کے وہ گولیاں کھا رہا ہے اور اسے بات کرتا۔۔
پیار کا اظہار کرتا۔۔
ایمان بہت روتی پھر چپ ہو جاتی آخرکار اُسے اب عادت ہو گئی تھی امان کی۔
یے باتیں سُنے کی اس لیے اب وہ روتی نہیں تھی بس چپ رہتی تھی۔
امان اپنی چال میں کامیاب ہوتا جا رہا تھا وہ ایمان کو اپنا اور اپنے پیار کا عادی بناتا جا رہا تھا۔
وہ اُس کا بہت خیال کرتا اور اُسے کہتا ایمان تم میری جان ہو تمہیں کبھی کچھ نہیں ہونے دونگا۔
اور اب ایمان کو اچھا لگنے لگا تھا اس کی اتنی پرواہ کرنا۔۔

♡♡♡

ایمان میں سندھ آرہا ہوں۔
امان نے آج کال کر کے ایمان کو بتایا۔
ایمان کو اب امان کچھ کچھ اچھا لگنے لگا تھا یے بات سن کے اسکی جان نکل گئی۔
اور ایک دم بولی کیوں؟
اپنی جان سے ملنے اور کیوں۔
بہت ٹئم ہو گیا ایمان تمہیں دیکھا نہیں ہے۔
امان نے گہرائی سے کہا۔
نہیں آپ مت آئیں۔
ایمان نے کہا۔
کیوں نہ آون؟
بس نہ آئیں مجھے ڈر لگتا ہے۔
ھاھاھا۔۔
کس سے ڈر لگتا ہے مجھ سے؟
امان نے کہا۔
جی۔
ایمان بس اتنا کہ سکی۔
ایمان؟
جی؟
تم میری ہو نا امان نے جذبے سے چور لہجے میں کہا۔
پتا نہیں۔
ایمان نے جواب دیا۔
اب تک تمہیں نہیں پتا تو کیا میرے مرنے کے بعد پتا چلے گا؟
امان غصہ ہونے لگا۔
ایسے نہ کہیں آپ۔
کیا ایسے نا کہوں تم ایسا کیوں کر رہی ہو میرے ساتھ؟
کیا میں نے کبھی تمہارے ساتھ کچھ غلط کیا یا کہا؟
اگر میرا پیار جھوٹا ہوتا نا تو تم سے پاس آنے کا کہتا اور بھی بہت کچھ کرتا۔
لیکن میں نے ایسا کچھ نہیں کہا کیونکے میرا پیار سچا ہے اور مجھے تمہاری روح سے محبت ہے تمھارے جسم سے نہیں۔
نا ہی تمہاری خوبصورتی سے۔
امان کی باتیں سُن کے ایمان سوچ میں پڑ گئی۔
اسے لگنے لگا امان اسے پیار کرتا ہے اور اسکا بہت خیال رکھتا ہے۔
ایمان نے ایک بار پھر سوچنا شروع کیا اسے امان صیح لگا۔
اور وہ یے بھی جانتی تھی وہ لاکھ منع کرلے مما اسکی شادی تو کروائیں گیں۔
تو کیوں نا اُس سے کروں جو مجھے سمجھے میری بات بھی مانے۔
ایمان نے امان کو ہاں کرنے کا فیصلا کرلیا۔
وہ بہت پریشان تھی پر وہ روز روز مما کو ہرٹ کر کے تھک گئی تھی اور اُسے یہی صحیح لگا تھا۔

♡♡♡

رات کے 2 بجے ایمان کا موبائیل بجا۔
ایمان کی آنکھ کُھل گئی۔
دیکھا تو امان کی کال تھی۔
اس وقت امان کیوں کال کر رہے ہیں۔
اُس نے باہر جا کے کال اُٹھائی۔
جی؟
سب ٹھیک ہے امان اس وقت کال کی؟
ہاں سوئٹ ہارٹ سب ٹھیک ہے بس تمہاری بہت یاد آرہی ہے۔
پر مجھے کل کالج جانا ہے؟
کالج مجھ سے ذیادہ ہے تمہیں؟
اور وہ کافی دیر تک امان اسے بات کرتا رہا۔
اِسی طرح دن گذرتے گئے ایمان کو امان کی عادت پڑتی گئی۔
امان بہت خوش تھا کے اس کا مقصد پورا ہو رہا ہے۔
وہ ایمان سے ہر وقت بات کرتا تاکے اچھی طرح ایمان کو اُسکی عادت پڑ جا ئے۔
اور وہ اس میں کامیاب بھی ہو چکا تھا۔
اب ایمان کو امان کی عادت ہو گئی تھی۔
وہ ایک دن بھی اگر بات نا کرتا ایمان بے چین ہو جاتی اور امان خوش ہوتا۔
آج دو دن ہوے تھے امان اُسے جواب نہیں دے رہا تھا۔
اور وہ بہت رو رہی تھی۔
تب ہی امان کی کال آئی۔
ایمان نے ایک دم اُٹھائی اور کہا ۔
امان آپ کہاں تھے؟
میں دو دن سے آپکا ویٹ کر رہی ہوں۔
کھانا بھی نہیں کھایا میں نے۔
ایمان میری طبعت خراب تھی۔
امان نے کہا۔
کیا ہوا آپکو؟
فیور تھا یار۔
آپ اپنا خیال کیوں نہیں رکھتے؟
ایمان ناراض ہوتے ہوے بولی۔
خیال تو تم نے رکھنا ہے میری جان پر تم آتی نہیں۔
امان میں کسی آ سکتی ہوں بھلا۔۔
ایمان نے کہا۔۔
میری دلھن بن کے اور کیسے۔۔۔
امان نے کہا ایمان چپ ہو گئی۔۔
ھاھا ھا۔۔
کیا ہوا شرما رہی ہے میری جان۔
ن۔۔نہیں ایسا تو کچھ نہیں۔۔
امان پھر ہنسنے لگا ایسا ہی ہے۔۔
تو مِس ایمان کو ہم سے پیار ہو ہی گیا۔۔
امان کا اتنا کہنا تھا۔
اور ایمان کی دھڑکن تیز ھو گئی اس نے فون رکھ دیا۔
اور تکیے میں منہ چھپانے لگی۔۔۔
ایمان بہت خوش تھی اسے لگتا تھا امان اسے سمجھتا ہے اسے پیار کرتا ہے لیکن وہ یہ نہیں جانتی تھی امان کے لیے وہ کچھ بھی نہیں تھی۔۔۔۔
ایمان کو امان سے پیار ہونے لگا تھا اور وہ بہت پریشان تھی کے وہ صحیح ہے یا غلط۔۔۔
دوسری طرف امان اپنے دوستوں کے سامنے ایمان کا مذاق اڑا رہا تھا۔
ایمان اس بات سے انجان تھی کے وہ امان کے ہاتھوں مذاق بن رہی ہے۔۔۔۔

♡♡♡

وقت گذرتا گیا ایمان کی محبت بڑھتی گئی۔
لیکن آج بھی وہ شادی کے نام سے گھبراتی تھی۔
پر امان پر اُسے اتنا یقین ہو گیا تھا کے وہ اسے شادی کرنے کے لیے بھی راضی ہو گئی۔۔۔

♡♡♡

ایمان نے بی ایس سی مکمل کرلی تھی۔
اب وہ کمپیوٹر کلاسس لے رہی تھی۔
اور امان اُسے آج بھی سمجھاتا تھا جو اسے نہیں سمجھ آتا تھا۔۔۔
آج ایمان کو کلاسسس میں دیر ھو گئی وہ

Evening classes..

میں جاتی تھی اس لیے آج گھر آتے اسے رات ھو گئی تھی۔
اور جب وہ گھر آئی تو ایک دم۔۔
حیران ہو گئی۔
امان سب کے ساتھ بیٹھا باتیں کر رہا تھا۔
اور اس کی مما بھی اس کے ساتھ بیٹیھں تھیں۔۔۔۔

ایمان نے جب امان اور اُسکی امی کو دیکھا تو اس کی سانس رُک گئیں۔
وہ سوچنے لگی اگر امان نے مجھ سے شادی کرلی تو۔۔
تو کیا ہوگا ۔۔۔
میں میں اتنی دور کیسے جاؤنگی۔۔۔
ایمان کے آنسو آنے لگے یہ سوچ کے ہی۔۔۔
اور اسے پتا ہی نہیں چلا امان اس کے سر پہ کھڑا تھا۔
ایمان نے جیسے منہ دوسری سائیڈ کیا ایک دم ڈر کے کھڑی ہو گئی۔۔۔
اااآپ۔۔۔۔
ہان میں میری جان ایمان ایک دم پیچھے ہوئے۔۔۔
آپ یہاں کیسے کیوں۔۔۔؟
ایمان گھبرانے لگی۔۔
اپنی جان کودیکھنے آآیا ہوں۔۔۔
ایمان کی جان نکل رہی تھی امان کے ایک دم اتنے قریب آنے سے۔۔۔
ایمان کیا ہوا تم ڈر کیوں رہی ہو۔۔۔
ن۔۔نہیں تو میں نہیں ڈر رہی۔۔۔
امان نے ایمان کا جائزہ لیا اور کہا تم وہی ایمان ہو نا جس نے مجھے جاہل ٹھرکی کہا تھا۔
اور مجھے تھپڑ بھی مارا تھا؟
ایمان نے ایک دم امان کو دیکھا۔۔۔
آپکو وہ اب تک یاد ہے۔۔
میں اپنی انسلٹ نہیں بھولتا کبھی بھی۔۔۔۔
جی؟
ایما نے حیرت سے امان کو دیکھا امان کی آنکھں سرخ ہو رہی تھیں۔
ایمان ڈر گئی تو امان ہنسنے لگا کچھ نہیں مذاق کر رہا ہوں۔
ایمان نیچے دیکھنے لگی۔۔۔۔
وہاں کیا دیکھ رہی ہو۔
مجھے دیکھو نا۔
نہیں۔۔۔
اچھا۔۔
امان ایمان کے اور قریب آیا اور کہا نہیں دیکھوگی؟
ایمان پیچھے ہوئی۔۔۔
نہیں۔۔
امان ایمان کے اور قریب آیا اور اُس کا چہرا ہاتھ میں لیا۔۔
ایمان کو جیسے کرنٹ سا لگا۔۔
اس نے ایک دم امان کا ہاتھ جھٹکا۔۔۔
امان کو غصہ تو بہت آیا لیکن اُسنے برداشت کرلیا۔۔۔
ایمان i love u..ایمان کا سانس رُک رہا تھا۔۔
امان آپ یہ سب مت کہیں پلیز اور جائیں کوئی آجائیگا۔۔۔
تو آجائے مجھے کسی کا ڈر نہیں۔۔
امان پلیز جانے دیں مجھے۔۔۔۔
نہیں تم کہیں نہیں جاؤگی۔۔
امان پلیز۔۔
اچھا کل کوچنگ کے بعد مجھے ملنا۔۔۔
کیا۔؟
ایمان حیران ہوئی۔۔
اس میں حیرانی کی کیا بات ہے تم ملو گی بس جگہ تو تمہیں پتا ہوں گی تمہارا شہر ہے۔۔۔
امان میں ایسا نہیں کر سکتی یہ غلط ہے۔۔۔
اوووو بیبی کیا غلط ہے۔
میں نے کچھ ایسا ویسا کرنے کا نہیں کہا بس ملنے کا کہا ہے۔۔
ابھی وہ لوگ باتیں کر رہے تھے کے روشنی اندر آئی امان اور ایمان کو اتنا قریب دیکھ کے وہ حیران رہ گئی۔۔۔
کیا ہو رہا ہے یہ۔۔۔
روشنی کی آواز پر ایمان کا ڈر سے برا حال ہو گیا۔
ک۔۔کچھ نہیں آپی ایمان نے ھکلاتے بولا۔۔۔
امان وہاں سے چلا گیا۔۔۔
اور روشنی ایمان کے پاس آئی۔
ایمان نے کبھی یہ سب نہیں سوچا تھا وہ اتنی معصوم تھی۔
اُسے کچھ پتا نہیں تھا اس کے ساتھ کیا ہو رہا تھا۔۔۔
ایمان میں تم سے کچھ پوچھ رہی ہوں یہ سب کیا ہو رہا ہے۔۔۔ایمان رونے لگی۔۔
آپی مجھے امان اچھے لگتے ہیں۔۔۔
کیا؟
روشنی کو حیرت ہوئی ایمان تم ہوش میں ہو کیا کہ رہی ہو۔۔۔آپی میں سچ کہ رہی ہوں۔
اور وہ بھی بہت پیا ر کرتے ہیں مجھ سے۔۔۔
کب سے چل رہا ہے یہ سب۔۔۔
روشنی نے تشویش سے پوچھا۔۔۔
دو سال سے آپی۔۔
ایمان نے سر جُھکا لیا۔۔۔
دو سال۔۔۔
مطلب کامران بھائی کی شادی سے؟
نہیں آپی تب وہ پڑھاتے تھے صرف اب یہ سب ہو گیا۔۔۔
ایمان امان تمہیں پڑھاتا بھی تھا؟
جی آپی۔۔۔
ایمان جہاں تک مجھے یاد ہے تم دونون کے بیچ میں لڑائی ہوئی تھی؟
جی آپی پھر امان نے مجھے سوری کہ دیا تھا۔۔۔
کیا امان نے تمہں سوری کہا؟
اور پھر تب سے تمہاری بات شروع ہوئی ہے ہینا؟
روشنی نے جانچتی نظروں سے دیکھا۔۔
ایمان نے کہا جی آپی۔۔
روشنی کو کچھ غلط لگا۔۔۔
ایمان تم سچ میں امان سے پیار کرتی ہو۔۔۔؟
جی آپی۔۔۔
تم شادی کروگی امان سے۔۔۔
ایمان نے ایک دم روشنی کا ہاتھ پکڑا اور کہا آپی مجھے کچھ سمجھ میں نہیں آتا میں شادی کیسے کرونگی یہ سب میں نے کبھی سوچا ہی نہیں۔۔
ایمان تم سے امان نے کیوں کاٹکیٹ کیا۔؟
آپی سوری کہنے کے لیے۔۔۔
روشنی گہری سوچ میں دوب گئی۔۔
ایمان اب سے تم امان کی ہر بات مجھے بتاؤگی وعدہ کرو
جی آپی ایمان نے کہا۔
اور ایک اور بات کبھی اکیلے ملنے نہیں جاؤگی امان سے مجھے وعدہ کرو جی آپک نہیں جاؤنگی میں نے ابھی اُنہیں منع کردیا تھا۔۔۔تمہیں اس نے ملنے کا کہا تھا۔۔۔جی آپی ایمان نظریں نیچے کرتے ہوے بولی۔۔۔۔اچھا تم جاو مما بلا رہی ہے تمہیں۔
آپی مما کو مت بتانا۔
نہیں بتاتی جاو۔
روشنی کو یہ سب بہت عجیب لگا کیونکہ ایمان نے اسے بتایا تھا کے اس نے امان کو تھپڑ مارا تھا اور جتنا اس نے امان کے بارے میں سُن رکھا تھا وہ کسی کو اتنی آسانی سے نہیں بخشتا تھا پھر ایمان نے تو اسے تھپڑ مارا تھا اور اس کے بعد امان نے ایمان سے کانٹکیٹ کیا اور اب محبت۔
یہ سب روشنی کو ایک سازش لگی اور اس لیے اس نے ایمان کو منع کیا امان سے اکیلے ملنے سے۔
ابھی امان باہر گیا ہوا تھا اس کی مما بہت اچھی خاتون تھیں انہیں ایمان پسند تھی لیکن اُنہیں اپنے بیٹے کا پتا تھا کے اپنی مرضی کا مالک ہے خامخواہ بات کر کے فائدا نہیں تھا ایک بار انہوں نے امان سے باتوں باتوں میں ایمان کا ذکر کیا تو امان بگڑ گیا اور کہا آئندا اس کا نام بھی میرے سامنے کوئی نہ لے اور اس کے بعد انہوں نے کبھی اسی بات نہیں کی۔
اور جب امان نے کہا کہ اسے کراچی جانا ہے تو وہ حیران رہ گئیں انہوں نے کہا کیوں۔
تو امان نے کہا بزنس کہ سلسلے میں۔۔۔جانا ہے اور وہ اس کے ساتھ چل دیں۔۔

امان کو آئے 2 دن ہو گئے تھے۔
اس نے ایمان کو بہت بار ملنے کا کہا لیکن ہر بار ایمان نے منع کردیا اب امان کو غصہ آرہا تھا۔۔۔اُس نے ایمان کو جواب دینا بند کردیا ایمان بہت پریشان تھی کے وہ کیا کرے اس نے سب روشنی کو بتایا روشنی نے امان سے ملنے سے صاف منا کردیا۔۔لیکن امان کی ناراضگی ایمان کو پریشان کر رہی تھی۔۔۔۔۔ایمان نے امان کو کتنے مسیج اور کال کیں پر امان نے ایک کا بھی جواب نہیں دیا۔
امان گھر آتا تو سو جاتا ایمان کی طرف دیکھتا تک نہیں آج بھی وہ آیا ایمان اس کا انتظار کر رہی تھی اور وہ سیدھا اوپر چلا گیا سونے۔۔ایمان بھی اپنے کمرے میں جانے لگی تب اس کی مما نے اسے کہا امان کو چائے دے آؤ ایمان۔
اور ایمان امان کو چائے دینے چلی گئی۔
امان ابھی چینج کر کے لیٹا تھا کے ایمان نے دروازہ نوک کیا آجاؤ ایمان اندر آئی اور کہا چائے؟
امان نے ایمان کی طرف دیکھا اور کہا دروازا بند کر کہ آو۔۔ایمان نے ایک دم امان کو حیرت سے دیکھا۔
کیا۔؟
ایمان نے کہا۔
امان اُٹھا ایمان کے ہاتھ سے چائے لے کے رکھی اور اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔
ایمان ڈر گئی۔۔امان ہاتھ چھوڑیں کیا کر رہے ہیں آپ۔۔
امان نے ایمان کو خود کی طرف کھینچا اور کہا اب تک تو کچھ نہیں کیا لیکن اب کرونگا۔
یہ کہ کے امان نے ایمان کے گرد گھیرا ڈال دیا ایمان نے ایک دم امان کو جھٹکا دے کے پیچھے کیا۔۔
امان یے کیا بدتمیزی ہے ۔۔۔
امان نے پھر سے ایمان کو پکڑ لیا اور کہا بدتمیزی تو ابھی میں نے شروع بھی نہیں کی ایمان تڑپ کے رہ گئی اور خود کو امان کے گھیرے سے چُھڑانے لگی اور رونے لگی۔۔
امان پلیز مجھے چھوڑیں آپ ایسا کیوں کر رہے ہیں۔۔۔
میں ایسا کیوں کر رہا ہوں امان کی آنکھیں سرخ ہو گئیں۔۔ بھول گئں وہ تھپڑ جو تم نے مجھے مارا تھا اس دن تم نے اپنی قسمت میں غم لکھوا لیے تھے۔
امان پلیز وہ تو پہلے کی بات تھی آپ اب وہ بات کیون کر رہے ہیں۔۔
میں معافی بھی تو مانگ چکی ہوں اسکی آپ سے پلیز مجھے چھوڑ دیں۔
امان نے گرفت اور سخت کردی۔۔۔اور کہا بھول جاؤں؟
آج تک کبھی میرےبابا نے مجھ پے ہاتھ نہیں اُٹھایا اور تم؟
ہو کیا تم؟
آج تم سے ہر حساب پورا کرونگا۔
نہیں امان پلیز جانے دیں مجھے آپ تو پیار کرتے ہیں مجھ سے۔
ایمان نے لاچاری سے کہا۔
پیار۔؟
امان نے ایمان کو زور سے دھکا دیا ایمان کا سر بیڈ سے لگا ایمان پہلے رو رہی تھی اب ڈر سے کانپنے لگی۔۔
ایمان نے امان کو حیرت سے دیکھا۔۔۔امان اس کے قریب آیا اور کہا۔۔
پیار اور تم سے؟
تم نے یہ سوچا بھی کیسے تم سے میں صرف نفرت کر سکتا ہوں پیار نہیں۔۔ایمان نے اتنی دکھ سے امان کو دیکھا اور کہا۔۔۔تو وہ سب پھر۔۔۔وہ سب ڈرامہ تھا مس ایمان آج تمھارا جو میں حشر کرونگا اس کے بعد تم کسی کو منہ دیکھانے کے لائق نہیں رہوگی یہ سن کے ایمان بھاگنے لگی لیکن امان نے اسے پکڑ لیا ایما ن کے سر سے خون بہ رہا تھا چوٹ اتنی گہری نہیں تھی پر خون رس آیا تھا۔۔
امان پلیز مین معافی مانگتی ہون مجھے چھوڑ دو۔
امان اس کی بات سن ہی کب رہا تھا امان نے ایمان کے بالون کو جکڑ لیا اور خود کے بہت قریب کرلیا ایمان بہت رو رہی تھی لیکن امان اسے دبردستی کرنے لگا ایمان چیخ رہی تھی پر وہ اسے نہیں چھوڑ رہا تھا۔۔۔روشنی جو کب سے ایمان کو ڈھونڈ رہی تھی اوپر آئی ایمان کی چیخ پر کمرہ کھولا تو روشنی کے ہوش اُڑ گئے اسنے جلدی امان کو دھکا دے کےایمان کو آزاد کرایا ایمان پوری طرح کانپ رہی تھی اور روشنی سے لپٹ کے ھِچکیان لے رہی تھی روشنی غصے سے پاگل ہو گئی امان تم اتنے گھٹیا انسان ہو گے میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتی تھی میں ابھی جا کے سب کو تمہاری اصلیت بتاتی ہوں۔
بتا دو شوق سے میرے پاس بھی پھر بہت کچھ ہے دیکھانے کے لیے۔
بہت چیپ ہو تم امان روشنی نے دیکھا ایمان کی حالت بگڑ ربی تھی اس لیے مزید بحث نا کرنے کا سوچ کے وہاں سے جانے لگی۔
تب امان کی آواز پے رُک گئی۔
میں کتنا چیپ ہوں یے دیکھنے کے لیے اپنی بہن کو یہاں چھوڑ جاؤ اور آدھے گھنٹے بعد آنا پھر تمہیں ٹھیک سے پتا چل جائیگا کے میں کتنا چیپ ہوں
ایمان نے امان کی یہ بات سن کے روشنی کو اور زور سے پکڑ لیا روشنی جو کچھ کہنے کے لیے رُکی ایمان کی حالت دیکھ کے بنا کچھ کہے وہاں سے چلی آئی ایمان کو لے کے۔
ایمان اور روشنی ایک کمرے میں سوتے تھیں آروما مما کے ساتھ سوتی تھی اس لیے ایمان کی حالت کوئی دیکھ نہیں سکا۔
امان گھر سے چلا گیا تھا۔
ایمان کی طبیعت بہت خراب ہو گئی تھی وہ بری طرح کانپ رہی تھی۔
اور روشنی اُسے اپنے سے لگاے ہوئے تھی۔
ایمان میری جان کچھ نہیں ہے وہ چلا گئا ہے۔
روشنی ایمان کو تسلی دینے لگی لیکن وہ کانپے جا رہی تھی۔

روشی نے ایمان کے پانی میں نیند کی گولی ڈال کے دی تا کے وہ سو جائے اور ذیادہ طبیعت خراب نا ہو ایمان کو سُلا کے روشنی سوچنے لگی ایسا کیا ہے امان کے پاس جو وہ کہ رہا تھا اگر میں کسی کو امان کی حرکت کا بتاتی ہوں تو ایمان پھس نا جائے کہیں اور وہ بھی سو گئی۔۔
امان صبح صبح اپنی مما کو لے کے ملتان روانہ ہوگیا تھا اِسکی مما نے وجہ پوچھی تو کہا مما یہان کا کام ختم ہو گیا اب وہاں بہت ضروری کام ہے جلدی جانا ہے۔
اور پھر وہ دونوں چلے گئے۔
صبح روشنی نے ایمان کو اُٹھایا تو وہ ڈرتے ہوے نیند میں بولنے لگی امی بچالو مجھے۔
روشنی نے ایمان کو جھنجھوڑا اور ایمان اُٹھتے ہی بری طرح کانپنے لگی اور روشنی سے لپٹ کے رونے لگی روشنی نے دیکھا اسے بہت تیز بخار ہو رہا تھا روشنی نے اسے خود سے لگا کے کہا ایمان کچھ نہیں ہے میری جان سب ٹھیک ہے وہ چلا گیا ہے۔
آمینہ بیگم اندر آئیں تو ایمان کو ایسے دیکھ کے اس کی طرف لپکیں۔
روشنی کیا ہوا ہے ایمان کو یہ اس طرح کیوں رو رہی ہے۔
مما یہ ڈر گئی ہے۔
روشنی نے بھانا بنایا کس چیز سے ڈری ہے یہ اور وہ بھی اتنا ایمان مما کے گلے لگ گئی اور رونے لگی آمینہ بیگم کا دل کٹ کے رہ گیا ایمان کی ایسی حالت دیکھ کے اور وہ رونے لگیں کیا ہوا ہے ایمان میری جان اور ایمان بے ھوش ہو کے آمینہ بیگم کی باہوں میں جھول گئی۔
ایمان۔۔
ایمان۔۔
روشنی ڈاکٹر کو کال کر جلدی آمینہ بیگم کے رونے میں تیزی آگئی روشنی نے ڈاکٹر کو بلا
لیا تھا ڈاکٹر نے ایک ہفتے کی دوائیں دیں ایمان دوائوں کے ذیرے اثر سو رہی تھی آمینہ بیگم اس کے پاس سے ہلی بھی نہیں تھیں روشنی نے انہیں یہی بتایا کے وہ کسی چیز سے ڈر گئی ہے اور وہ ایک منٹ بھی ایمان کو اکیلا نہیں چھوڑنا چاہتی تھیں کیونکے وہ نیند میں بھی یہی کہتی تھی امی بچائیں اور آمینہ بیگم اپنے شوخ اور چنچل بیٹی کو اس حال میں دیکھ کے کٹ کے رہ گیں تھیں۔۔۔ے شوخ اور چنچل بیٹی کو اس حال میں دیکھ کے کٹ کے رہ گیں تھیں۔۔۔

tum se he meri zindagi by sumi fatima episode 2


tujh se he meri zindagi
by summi fatima ..
2nd epiiii........
ﺷﺎﻡ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﺣﺎﺷﺮ ﺍﭘﻨﺎ ﺗﻤﺎﻡ ﺗﺮ ﺳﺎﻣﺎﻥ ﭘﮭﯿﻼﺋﮯ ﺻﺤﻦ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺲ ﺳﭩﮉﯼ ﮐﺮ ﺭﮬﺎ ﺗﮭﺎ ۔۔۔ﮐﮧ ﺷﺰﺍﺀ ﺁﺉ۔۔۔۔
ﺑﮭﺎﺉ ﺁﭘﮑﻮ ﺍﺑﻮ ﺑﻼ ﺭﮬﮯ ﮬﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ۔۔۔۔۔۔۔
ﺍﭼﮭﺎ ﺁﺗﺎ ﮬﻮﮞ ۔۔۔۔۔۔۔
ﻓﺎﺋﻠﺰ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﺣﺎﺷﺮ ﭘﺎﭘﺎ ﮐﮯ ﮐﻤﺮﮮ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺟﺎﺗﺎ ﮬﮯ۔۔۔۔۔۔۔
ﻣﺎﮬﻢ ﮐﺎﻓﯽ ﻟﺌﮯ ﺻﺤﻦ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺁﺗﯽ ﮬﮯ۔۔۔۔۔
ﭨﮭﻨﮉﯼ ﺗﺎﺯﮦ ﺗﺮ ﮬﻮﺍ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﭘﺮ ﺳﮑﻮﻥ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﺮﺗﯽ ﮬﮯ
ﺗﺒﮭﯽ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻧﻈﺮ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﭨﯿﺒﻞ ﭘﺮ ﭘﮍﺗﯽ ﮬﮯ۔۔۔۔
ﮐﺮﺳﯽ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﮐﺮ ﺯﻭﺭ ﺳﮯ ﭨﯿﺒﻞ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﮐﺮ ﮐﺎﻓﯽ ﺭﮐﮭﺘﯽ ﮬﮯ ﮐﮯ ﮐﺎﻓﯽ ﭼﮭﻠﮏ ﺟﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﻓﺎﺋﻠﺰ ﭘﺮ ﭘﮍﺗﯽ ﮬﮯ۔۔۔۔۔۔۔۔
ﺍﺳﮑﯽ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﻣﺰﯾﺪ ﮐﮭﻞ ﺟﺎﺗﯽ ﮬﯿﮟ ﯾﮯ ﺳﻮﭺ ﮐﺮ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺣﺎﺷﺮ ﮐﯽ ﻓﺎﺋﻠﺰ ﮬﯿﮟ۔۔۔۔۔
ﺩﻭ ﺩﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﻨﺎ ﺗﻮ ﺳﻤﺠﮫ ﮔﺊ ﮐﮧ ﻏﻠﻄﯽ ﭘﺮ ﺍﺳﮑﺎ ﻏﺼﮧ ﮐﺘﻨﺎ ﺗﯿﺰ ﮬﻮﺗﺎ۔۔۔۔۔۔
ﺗﺒﮭﯽ ﺟﺐ ﻭﻭ ﮐﻮﺉ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﻮ ﺷﺰﺍﺀ ﺑﮭﯽ ﺁﺱ ﭘﺎﺱ ﻧﮧ ﺑﯿﭩﮭﺘﯽ ﮐﮧ ﮐﻮﺉ ﻏﻠﻄﯽ ﻧﮧ ﮬﻮﺟﺎﺋﮯ۔۔۔۔
ﭼﻠﻮ ﮐﭽﮫ ﻧﮭﯽ ﮬﻮﺗﺎ ﮐﺰﻥ ﮬﻮﮞ۔۔ ﻣﮭﻤﺎﻥ ﺑﮭﯽ ﺳﻮﺭﯼ ﺑﻮﻝ ﺩﻭﻧﮕﯽ ۔۔۔۔
ﯾﮧ ﺳﻮﭺ ﮐﺮ ﺍﭨﮭﺘﯽ ﮬﮯ ﮐﮯ ﺳﺮ ﭘﺮ ﮐﮭﮍﮮ ﺣﺎﺷﺮ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﮔﮭﺒﺮﺍ ﺟﺎﺗﯽ ﮬﮯ۔۔۔۔
ﮐﯿﺎ ﮬﮯ ﯾﮧ۔۔۔؟؟؟؟؟
ﺳﻮﺭﯼ۔۔۔ﺭﯼ۔۔۔
ﻣﯿﻨﮯ ﺟﺎﻥ ﺑﻮﺟﮫ ﮐﮧ ﻧﮭﯽ ﮐﯿﺎ ﭘﺘﺎ ﻧﺎﮬﯽ ﮐﯿﯿﺴﮯ ﮐﺎﻓﯽ ﮔﺮ ﮔﺊ۔۔۔
ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ ۔۔۔۔۔
ﺩﮐﮭﺎ ﻧﮭﯽ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﯾﮩﺎﮞ ﮐﺎﻡ ﮐﺮ ﺭﮬﺎ ﮬﻮﮞ ۔۔
ﮐﯿﺎ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﺗﮭﯽ ﯾﮭﺎﮞ ﺁﮐﺮ ﮐﺎﻓﯽ ﭘﯿﻨﮯ ﮐﯽ۔۔۔۔۔۔
ﯾﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﮩﺖ ﺍﻣﭙﻮﺭﭨﯿﻨﭧ ﻓﺎﺋﻞ ﺗﮭﯽ۔۔۔
ﻏﺼﮯ ﺳﮯ ﮔﮭﻮﺭﺗﮯ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮕﺎﺭﮮ ﻟﺌﮯ ﻣﺎﮨﻢ ﺳﮯ ﻣﺨﺎﻃﺐ ﺗﮭﺎ۔۔۔۔۔
ﻣﺎﮨﻢ ﺍﭘﻨﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻧﻤﯽ ﺁﺉ ﮐﻮ ﭼﮭﭙﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻣﻨﻈﺮ ﺳﮯ ﻏﺎﺋﺐ ﮬﻮﺟﺎﺗﯽ ﮬﮯ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﺍﺗﻨﯽ ﺳﯽ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﺭﻭ ﭘﮍﯼ ﺟﺐ ﮐﮧ ﻏﻠﻄﯽ ﺑﮭﯽ ﮐﯽ۔۔۔۔۔۔
ﮐﭽﮫ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺑﻮﻝ ﺩﯾﺎ ﺷﺎﯾﺪ۔۔۔۔
ﺍﺳﮯ ﺍﻓﺴﻮﺱ ﮬﻮﻧﮯ ﻟﮕﺎ ۔۔۔۔
ﺍﭘﻨﮯ ﮬﺎﺗﮫ ﺑﺎﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﯿﺮ ﮐﮧ ﺍﭘﻨﺎ ﺳﻤﺎﻥ ﺍﭨﮭﺎﺋﮯ ﮐﻤﺮﮮ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺑﮍﮪ ﮔﯿﺎ ۔۔۔۔۔۔
ﻧﻢ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ۔۔۔۔ ﺍﺳﮯ ﺳﻮﭺ ﮐﺮ ﮐﺎﮨﺎﮞ ﮐﺎﻡ ﮬﻮﻧﺎ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﺳﺐ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮭﺎ ﺭﮬﮯ ﮬﻮﺗﮯ ﮬﯿﮟ۔۔۔
ﺍﭼﮭﺎ ﺧﺎﻟﺪ ﺻﺒﺢ ﭘﮭﺮ ﮬﻢ ﻧﮑﻠﯿﻨﮕﮯ۔۔۔۔
ﮔﮭﺮ ﮐﯽ ﺑﮭﯽ ﻣﮑﻤﻞ ﺳﯿﭩﻨﮓ ﮬﻮﮔﺊ ﮬﮯ۔۔۔۔
ﺍﺭﮮ ﺍﺗﻨﯽ ﺟﻠﺪﯼ ﺑﮭﯽ ﮐﯿﺎ ﮐﻮﭼﮫ ﺩﻥ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﺭﮦ ﻟﯿﺘﮯ ﺧﺎﻟﺪ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ۔۔۔۔۔
ﺍﺭﮮ ﻧﮭﯽ ﺑﺲ ﺍﺏ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﺩﯾﮟ ۔۔۔۔ﺍﺏ ﺁﭖ ﺳﺐ ﻭﮨﺎﮞ ﺁﺋﯿﮟ ﮔﮯ۔۔۔۔۔
ﮨﺎﮞ ﮨﺎﮞ ۔۔ﺿﺮﻭﺭ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮭﯿﮟ۔۔۔
ﺍﺭﯼ ﻣﺎﮨﻢ ﺑﯿﭩﺎ ﮐﯿﺎ ﮬﻮﺍ ﮐﺐ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮬﯽ ﺗﻢ ﮐﮭﺎ ﻧﮭﯽ ﺭﮬﯽ ﺑﺲ ﭼﻤﭻ ﮨﻼ ﺭﮬﯽ
ﺷﺎﺯﯾﺎ ﺑﯿﮕﻢ ﻧﮯ ﻣﺎﮬﻢ ﮐﻮ ﻣﺨﺎﻃﺐ ﮐﯿﺎ۔۔۔۔۔
ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﺣﺎﺷﺮ ﮐﯽ ﻧﻈﺮ ﻣﺎﮨﻢ ﭘﺮ ﭘﮍﯼ۔۔۔
ﺍﺭﮮ ﻧﮭﯽ ﭘﮭﭙﻮ ﮐﮭﺎ ﺗﻮ ﺭﮬﯽ ﮬﻮﮞ۔۔۔۔
ﺍﻣﯽ ﻣﯿﻨﮯ ﺑﮭﯽ ﻧﻮﭦ ﮐﯿﺎ ﺁﺝ ﻣﺎﮨﻢ ﮐﺎﻓﯽ ﭼﭗ ﺍﻭﺭ ﮔﻢ ﺳﻢ ﺳﯽ ﻟﮓ ﺭﮬﯽ ﮬﮯ ۔۔۔۔۔ ﻋﺎﻗﺐ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ۔۔۔۔
ﺗﺒﮭﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﻮﮞ ﺁﺝ ﺍﺗﻨﯽ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﮐﯿﻮﮞ ﮬﮯ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ۔۔۔۔
ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﺷﺮﺍﺭﺕ ﺳﺠﺎﺋﮯ ﻋﺎﺭﺵ ﻧﮯ ﭼﮭﯿﮍﺍ۔۔۔۔
ﺍﭼﮭﺎ ﺑﺲ ﺗﻨﮓ ﻣﺖ ﮐﺮﻭ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﯿﭩﯽ ﮐﻮ ۔۔۔
ﺍﺳﯽ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺭﻭﻧﻖ ﻟﮓ ﺭﮬﯽ۔۔۔۔۔۔
ﺷﺎﺯﯾﺎ ﺑﯿﮕﻢ ﻧﮯ ﻋﺎﺭﺵ ﮐﻮ ﮔﮭﻮﺭﮦ ۔۔۔۔۔۔ﺍﻭﺭ ﻣﺰﯾﺪ ﺗﻨﮓ ﮐﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﻣﻨﻊ ﮐﯿﺎ۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﺍﭼﮭﺎ ﭼﻠﻮ ﻣﺎﮨﻢ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮭﯿﮟ ﺁﺋﺴﮑﺮﯾﻢ ﮐﮭﻼﻧﮯ ﭼﻠﺘﺎ ﮬﻮﮞ۔۔۔۔۔۔ﻋﺎﻗﺐ ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﺳﻦ ﮐﺮ ﻣﺎﮨﻢ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭧ ﺁﺟﺎﺗﯽ ﮬﮯ۔۔۔۔۔۔۔۔
ﻣﺎﮨﻢ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﺍﺩﺍﺱ ﮬﻮﺗﯽ ﻋﺎﻗﺐ ﺍﺳﮯ ﺁﺋﺴﮑﺮﯾﻢ ﮐﮭﻼﻧﮯ ﻟﮯ ﺟﺎﺗﺎ ﮬﮯ۔۔۔۔۔
ﺟﺲ ﭘﺮ ﮐﻮﭼﮫ ﺩﯾﺮ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﮬﮯ ﺳﮩﯽ
ﻣﺎﮨﻢ ﮐﺎ ﻣﻮﮈ ﺧﻮﺵ ﮔﻮﺍﺭ ﮬﻮﺟﺎﺗﺎ ﮬﮯ۔۔۔۔۔
ﺍﭼﮭﺎ ﺑﮭﺎﺉ ﺑﺲ ﮨﻢ ﺩﻭﻧﻮﮞ؟؟؟
ﺗﻤﮭﯿﮟ ﺟﺴﮯ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺟﺎﻧﺎ ﮬﮯ ﻟﮯ ﺳﮑﺘﯽ ﮬﻮ۔۔۔۔
ﺍﭼﮭﺎ ﭘﮭﺮ ﺭﮐﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﻋﺸﺎﺀ ﺁﭘﯽ ﺍﻭﺭ ﺷﺰﺍﺀ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﻟﮯ ﺁﺗﯽ ﮬﻮﮞ۔۔۔۔۔۔
ﭨﮭﯿﮏ ﮬﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﮨﺮ ﮔﺎﮌﯼ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﮐﺮ ﺭﮬﺎ ﮬﻮﮞ ۔۔۔ﺟﻠﺪﯼ ﺁﺟﺎﻧﺎ ۔۔۔۔ﺍﻭﮐﮯ ﺑﮭﺎﺉ۔۔۔۔۔
ﺷﺰﺍﺀ ﺷﺰﺍ ﮐﮩﺎﮞ ﮬﻮ۔۔۔۔۔
ﻣﺎﮨﻢ ﺩﮬﮍﺍﻡ ﺳﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﮐﮭﻮﻝ ﮐﺮ ﺍﻧﺪﺭ ﺩﺍﺧﻞ ﮬﻮﺗﯽ ﮬﮯ۔۔۔۔۔۔
ﺟﺲ ﭘﺮ ﺷﺰﺍﺀ ﮈﺭ ﺟﺎﺗﯽ ﮬﮯ۔۔۔۔۔
ﮐﯿﺎ ﮬﻮﺍ ﻣﺎﮬﻢ ۔۔۔۔۔۔
ﺟﻠﺪﯼ ﺳﮯ ﺭﯾﮉﯼ ﮬﻮﺟﺎﺅ ﮨﻢ ﺳﺐ ﻋﺎﻗﺐ ﺑﮭﺎﺉ ﮐﮯ ﺁﺋﺴﮑﺮﯾﻢ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﭼﻞ ﺭﮬﮯ۔۔۔۔۔۔۔
ﻣﺎﮨﻢ ﻧﮯ ﺷﺰﺍ ﺍﻭﺭ ﻋﺸﺎﺀ ﮐﻮ ﺁﮔﺎﮪ ﮐﯿﺎ
ﺍﭼﮭﺎ ﭘﺮ ﻣﯿﺮﺍ ﮐﻞ ﭨﯿﺴﭧ ﮬﮯ۔۔۔
ﺳﻮﺭﯼ ﺗﻢ ﻟﻮﮒ ﺟﺎﺅ ﻣﯿﮟ ﻧﮭﯽ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﯽ۔۔۔۔
ﺍﺭﮮ ﯾﮧ ﮐﯿﺎ ﺑﮭﺎﺉ ﺑﺎﮨﺮ ﮬﻤﺎﺭﺍ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﮐﺮ ﺭﮬﮯ ﭘﻠﯿﺰ ﺷﺰﺍ ﺑﮩﺖ ﻣﺰﺍ ﺁﺋﮕﺎ
ﺁﭘﯽ ﺟﻠﺪﯼ ﮐﺮﯾﮟ۔۔۔۔۔۔
ﻣﺎﮨﻢ ﻧﮯ ﻧﺎﻭﻝ ﭘﮍﮬﺘﯽ ﻋﺸﺎﺀ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ۔۔۔۔۔
ﺍﭼﮭﺎ ﭼﻠﻮ ﺷﺰﺍ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﮐﻮﭼﮫ ﻧﮭﯽ ﮬﻮﺗﺎ۔۔ ﭘﺮ ﺁﭘﯽ۔۔۔۔۔۔ ﺍﭼﮭﺎ ﭼﻠﻮ ﻭﺍﭘﺲ ﺁﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﺟﻠﺪﯼ
ﻭﯾﺴﮯ ﺑﮭﯽ ﭘﻮﺭﮦ ﺩﻥ ﺗﻮ ﭘﮍﮬﺘﯽ ﺭﮬﺘﯽ ﮬﻮ۔۔۔۔۔۔
ﺍﭼﮭﺎ ﺁﭖ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻝ ﻟﯿﮑﺮ ﺁﺗﯽ۔۔۔۔۔
ﮐﮩﺎﮞ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺗﯿﺎﺭﯼ ﮬﮯ ۔۔۔۔۔
ﻋﺎﺭﺵ ﺑﮭﺎﺉ ﮬﻢ ﺑﮭﺎﺉ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺋﺴﮑﺮﯾﻢ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﺟﺎﺭﮬﮯ ﺁﭖ ﭼﻠﯿﮟ ﮔﮯ۔۔۔۔۔۔
ﺍﭼﮭﺎ ﻧﺎﺭﺍﺿﮕﯽ ﺧﺘﻢ ﮐﺮﻧﻮﺍﻧﮯ ﭘﺮ ﺁﺋﺴﮑﺮﯾﻢ ﻟﯽ ﺟﺎﺭﮬﯽ۔۔۔۔
ﺑﮭﻨﻮﯾﮟ ﺍﭼﮑﺎ ﮐﺮ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﯿﺎ۔۔۔۔۔
ﺟﯽ ﻧﮭﯽ ﻣﯿﻨﮯ ﻧﮭﯽ ﮐﮩﺎ ﺑﮭﺎﺉ ﻧﮯ ﺍﺗﻨﮯ ﭘﯿﺎﺭ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﺗﻮ ﻣﻨﻊ ﻧﮭﯽ ﮐﺮ ﭘﺎﺉ۔۔۔۔۔
ﺍﻭﺭ ﺁﭘﮑﻮ ﮐﯿﺎ ﺗﮑﻠﯿﻒ۔۔۔۔ﺁﭖ ﻧﮧ ﮬﯽ ﭼﻠﯿﮟ
ﻋﺸﺎﺀ ﺍﻥ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﻧﻮﮎ ﺟﮭﻮﮎ ﭘﺮ ﮬﺴﮯ ﺟﺎﺭﮬﯽ
ﺍﭼﮭﺎ ﺑﺲ ﺍﺏ ﺩﯾﺮ ﮬﻮﺭﮬﯽ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺷﺰﺍﺀ ﮐﮩﺎﮞ ﺭﮦ ﮔﺊ۔۔۔۔ ﺁﮔﺊ ﭼﻠﻮ۔۔۔۔۔۔
ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺷﺰﺍﺀ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﭘﻠﭧ ﺟﺎﺗﺎ ﮬﮯ ۔۔۔۔
ﺍﭼﮭﺎ ﻣﺎﮨﻢ ﺗﻢ ﮐﮩﺘﯽ ﮬﻮ ﺩﻝ ﺗﻮ ﻧﮭﯽ ﭘﺮ ﭼﻞ ﻟﯿﺘﺎ ﮬﻮﮞ۔۔۔۔
ﺗﻢ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﺎﺕ ﮐﺐ ﺳﮯ ﻣﺎﻧﻨﮯ ﻟﮕﮯ۔۔۔۔
ﺗﻤﮭﯿﮟ ﺗﻮ ﺁﺭﺍﻡ ﮐﺮﻧﺎ ﺗﮭﺎ۔۔۔۔
ﻣﺎﮨﻢ ﻧﮯ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﯿﺎ۔۔۔۔۔
ﺍﭼﮭﺎ ﻧﺎ ﭼﻠﻮ ﺍﺏ ﻣﺬﺍﻕ ﮐﺮ ﺭﮬﺎ ﺗﮭﺎ۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔
ﺍﭼﮭﺎ ﮐﻨﺴﺎ ﻓﻠﯿﻮﺭ ﻟﻮﮔﮯ ﺳﺐ ﺟﻠﺪﯼ ﺑﺘﺎﺅ۔۔۔
ﺑﮭﺎﺉ ﭼﻮﮐﻠﯿﭩﯽ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﺌﮯ ۔۔۔ﻣﺎﮨﻢ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ۔۔۔
ﺍﻭﺭ ﻋﺸﺎﺀ ﺁﭖ۔۔۔
ﺁﭖ ﻭﮨﯽ ﻟﮯ ﺁﺋﯿﮟ ﺟﻮ ﻣﺎﮨﻢ ﻟﮯ ﺭﮬﯽ
ﺁﭖ ﺍﭘﻨﯽ ﭘﺴﻨﺪ ﺑﺘﺎ ﺩﯾﮟ ۔۔۔۔۔ﻋﺎﻗﺐ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ۔۔۔
ﭼﻮﮐﻠﯿﭩﯽ ۔۔۔
ﺟﺒﮑﮧ ﺷﺰﺍ ﻧﮯ ﻭﻧﯿﻼ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺎ ۔۔۔
ﭼﻠﻮ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﮭﯽ ﺍﮎ ﻭﻧﯿﻼ ﻓﻠﯿﻮﺭ۔۔۔۔
ﻋﺎﺭﺵ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﻭﻧﯿﻼ ﮐﮩﺎ۔۔۔۔۔
ﮬﯿﮟ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﮐﺲ ﻟﺌﮯ۔۔۔۔۔ﻋﺎﺭﺵ ﺑﮭﺎﺉ۔۔۔
ﻇﺎﮨﺮ ﮬﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﺌﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﻭﻭ ﺑﮭﯽ ﺗﻢ ﻧﮯ ﮨﮍﭖ ﮐﺮﻧﯽ۔۔۔۔۔
ﭘﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﺗﻮ ﯾﺎﺩ ﮬﮯ ﺁﭘﮑﻮ ﭘﺴﻨﺪ ﻧﮭﯿﮟ۔۔۔۔
ﺑﮭﺎﺉ ﺁﭘﮑﯽ ﻃﺒﯿﻌﺖ ﺗﻮ ﺧﺮﺍﺏ ﻧﮭﯿﮟ۔۔۔۔۔
ﺍﺭﮮ ﭘﮕﻠﯽ ﻭﻗﺖ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﭘﺴﻨﺪ ﺑﮭﯽ ﺑﺪﻝ ﺟﺎﺗﯽ ﮬﮯ ﺍﮎ ﻧﻈﺮ ﺷﺰﺍﺀ ﭘﺮ ﮈﺍﻟﮯ ﻣﺎﮨﻢ ﮐﻮ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ۔۔۔۔
ﺍﭼﮭﺎ ﭘﺮ ﺁﭖ ﺗﻮ ﺑﻠﮑﻞ ﻧﮭﯽ ﺑﺪﻟﮯ۔۔۔۔۔
ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﺳﺐ ﮨﺴﻨﮯ ﻟﮕﮯ ۔۔۔۔
ﺍﭼﮭﺎ ﻣﻮﭨﯽ ﺑﮩﺖ ﺑﻮﻟﻨﮯ ﻟﮕﯽ ﮬﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺁﺋﺴﮑﺮﯾﻢ ﮐﮭﺎﺅ۔۔۔۔۔
cotinue.....

Saturday, June 1, 2019

kabhi toh pass mere ao by aymen nauman episode 3


کبھی تو پاس میرے آو 🌷
تحریر ایمن نعمان۔
قسط نمبر٣
💞💞💞💞
ساری تیاری مکمل ہے نا ؟؟
بس اس لڑکی کے ہوش میں آتے تم لوگ اپنا کام شروع کردینا آج ہر حال میں مال سیٹھ تک پہچنا ہے۔۔۔
تبریز نے مکاری سے کہا اور کمرے پہ ایک طائرانہ نظر ڈالی تیاری ساری مکمل تھی بیڈ کے قریب کیمرا مین اور دو اور آدمی اسکے موجود تھے اس کام میں ماہر۔
آہستہ آہستہ اس لڑکی کو ہوش آنا شروع ہوا تھا وہاں موجود افراد کے چہروں پہ اک شاطرانہ شیطانی چمک ابھری تبریز نے جانی کو کیمرا اسٹارٹ کرنے کا اشارہ کیا اور خود بیڈ پہ کودنے کے انداز میں بیٹھ کر اسپہ جھکا اور اپنا غلیظ کام شروع کیا۔
وہ لڑکی اپنے چہرے کے قریب تیز ترین فلیش لائٹ کو جلتا محسوس کر ہوش میں آئی۔۔۔
"ہٹو مجھےجھوڑ دو"
"کک۔۔۔کون ہو تم لوگ ؟؟؟ اور ۔۔۔اور امی کہاں ہیں میں توانکے ساتھ تھی ۔۔۔"
"ہاہاہا مگر اب تو تو ہمارے ساتھ ہے اور آجکے بعد ساری دنیا تجھے چاہے گی"
ان میں سے وہاں موجود ایک آدمی خباثت سے بولا۔۔۔۔۔
"ؓمم۔۔مم۔۔ مجھے جانے دیں رحم کریں"۔۔۔
وہ اپنا آپ بری طرح سے اس سے چھڑانے کی کوشش کررہی تھی آنکھوں سے خوف کے مارے بھل بھل عشک رواں تھے۔۔
اگر تجھ پہ رحم کھایا تو میری اندھیری رات کو چاندی کون کرے گا؟؟؟؟
وہ اسکے لبوں پہ انگشت شہادت پھیررہاتھا۔
"میں بھی کسی بیٹی کسی کی بہن ہوں خدارا یہ غضب نہ کریں"۔۔
"بہن، بیٹی ہا  ہاہا سب معلوم ہے مجھے چل اب وقت برباد مت کر مجھے خوش کرنے کی تیاری پکڑ شاباش "۔۔
"یہاں آئی توتم اپنی مرضی سے ہو مگر اب جاوگی میری مرضی سے"۔۔
وہ اپنی آنکھیں اس کے مرمری سراپہ پہ جمائےایک ہاتھ اسکی کمر کے گرد لپیٹے جبکہ دوسرے ہاتھ سے اسکےبالوں کو بےرحمی سے جکڑے تمام حدود اور قیود پھلانگنے کو تھا۔۔

"تیری اس خوبصورتی کو خراج بخشنا میرا فرض بھی ہے اور حق بھی۔۔۔۔"
یکایک نہ جانے کیسے امید کے جسم میں پھرتی سی سماگئ اسنے پوری قوت سے تبریز کو پرے دھکیلا تھا مگر دوسرے پل ہی دو آدمی استک پہچے تھے اور اسکو بری طرح جکڑا تھا۔۔
زبردست اب تو دیکھ ہم کیسے کیسے سارے ملکر تیری بلیو فلم بنائینگے !!!
 اور پھر وہ ہوا جو امید کی سوچ میں بھی نہی تھا وہ تو ماں کے ساتھ ڈیرے پہ خود پہ ہوئےکالے جادو کا اتار کروانےآئ تھی۔
اور ادھر تو اسکی دھجیاادھیر دی گئی تھیں۔۔


💞💞💞💞💞💞

کوئی جانتا ہے یہ کون ہے؟؟
"  یہ بدقسمت میری جگہ خود آج اس حال میں پہنچ گیا ۔۔"
"کوئی تو مدد کرو اس بیچارے کی مرجائیگا یہ"
 بزرگ نے تماشہ دیکھتے ارد گرد کھڑے لوگوں سے دریافت کیا ۔یہ سوچ کر  کہ شاید کوئی اس کے گھر کا پتا جانتا ہو۔۔۔

" نہیں ہم نہیں جانتے شکل سے تو بھکاری لگ رہا ہے پکا "
"اچھا ہوا ایسوں کے ساتھ یہی انجام ہوتا ہے اور ہونا بھی کیا تھااس جیسے سڑک چھاپ غنڈا گردی کرنے والوں کا ۔"
ایک درمیانی عمر کے آدمی نے نخوت سے کہا۔۔

" ارے میرے پپو تو کہاں چلا گیا مجھے اس بھری جوانی میں اکیلا چھوڑ کر؟؟"
"بتا اب کون بجائے گا میرے ساتھ بانسریا ؟؟؟"
" بول میرے جگرے!  بتا نہ کچھ تو بول میرے گھی کے پکوڑے"
سنی البتہ پپو پہ جھکا گلا پھاڑ پھاڑ کر بین کر رہا تھا ۔۔
"اے بیٹا اس لڑکےکو کیا تم جانتے ہو؟"
" یہ کون ہے اور کہاں سے آیا ہے یا اس کا گھر باہر کہاں ہے؟؟"۔
 بزرگ کو لگا شاید اب کوئی حل نکل آئے اس مسئلے کا۔
" یہ میرا پپو ہے اور ہم دونوں کا گھر یہی تو ہے یہ سڑک"
" ہم یہیں تو سوتے ہیں اور ادھر ہی رہتے ہیں کھاتے پیتے ہیں عیش کرتے اور ساتھ میں لڑکیاں بھی۔ ۔۔۔۔۔"
 سنی اپنے بہکے بہکے انداز میں گویا ہوا نشے کی وجہ سے وہ اپنے آپ میں ہی نہیں رہا تھاجو سمجھ آرہاتھا وہی ہانکے چلا جارہاتھا ۔
یہ سب باتیں سنی سےسننے کے بعد وہ بہت کچھ اندازہ لگا چکے تھے اور کچھ سوچتے ہوئے انہونے وہاں سے گزرتے ایک رکشے کو ہاتھ دیکر روکا۔
 اب مزید ان سے لمحہ بہ لمحہ پپو کی ابتر ہوتی حالت دیکھی نہ گئی اور وہ رکشے میں اس کو لوگوں کی مدد سے بٹھا کر مرہم پٹی  کروانے کی غرض سے اپنے محلے کے قریبی ڈاکٹرکے کلینک کی طرف روانہ ہوگئے ۔۔۔۔
💞💞💞💞💞💞

"ارے میری بچی تم پریشان کیوں ہوتی ہو میں تمہیں بھائی صاحب کے پاس کوئٹہ ہمارے آبائی علاقہ بھیج دیتا ہوں وہاں پہ کئی مزارات اور ڈیرے وغیرہ ہیں اور پھر سنا ہے کہ ایک بہت مشہور کراماتی بابا کا مزار بھی ہےوہاں جن کے دم درود سے لوگوں کا عقیدہ ہے کہ سب اچھا ہو جاتا ہے "

منصور صاحب نے بیٹی کے گرد بازو حمائل کرکہ گویا اسکی حمایت میں بولنا شروع کیا جبکہ وفابڑے مزے سے باپ سے لاڈ اٹھوانے میں مصروف تھی۔

"اب بتاؤ بھلا خدا کے حکم کے بغیر کبھی پتہ بھی ہلا ہے کیا؟؟یہ سب لوگوں کے کچے ایمان اور عقیدے ہیں استغفراللہ "
"اب تو ہر گلی نکڑ پہ کوئی نہ کوئی پیر فقیر بابا نظر آ جاتا ہے اپنےڈراموں کا پوٹلا کھولے "
محوش بیگم بھڑک اٹھیں شوہر کے بیٹی کو اسقدر شہہ دینے پہ۔
"اور نہیں تو کیایہ صرف اور صرف ہم جیسے لوگوں کی وجہ سے ہی تو اپنےاس فریب کے  کام میں پروان چڑھ رہے ہیں ۔۔۔"
"مما آپ بلکل ٹھیک کہہ رہی ہیں آپی کا تو اوپر کا حصہ بلکل ہی خالی ہے !!اچھا مما میں ابھی معاز کی طرف جارہاہوں کم بائن اسٹڈیز کیلئے"
وہاں سے گزرتے بابر نے ہانک لگائی مانو جلتی پہ تیل کا کام کرڈالا اور زبان چڑھاتا یہ جا وہ جا ۔۔۔

"دیکھ لیں میرے بیٹے کو مجال ہے کبھی میری بات سے انکار کرےکسی اور اک یہ ہے آپکی چہیتی"
بابر کی لگائی آگ اب مکمل طرح بھڑک اٹھی تھی وفا دانت پیس کے رہے گئی چھوڑنا تو اسنے بھی نہیں تھا اسکو۔۔۔

"ارے  بیگم میں یہ کب کہہ رہا ہوں کہ پیروں کی پھونکوں سے سب ٹھیک ہو جاتا ہے مگر کچھ اللہ کے نیکوکار بندے بھی تو ہوتے ہیں جن کی دعاؤں سے ہمارے بگڑے کاموں میں بہتری آتی ہے وہ بھی صرف  خدا تعالیٰ کے حکم سے "
"اور پھر کیا آپ نہیں جانتی کہ میرے خود کے دادا بھی تو لوگوں کو پڑھا ہوا پانی دم کرکے دیا کرتے تھے ؟؟؟
"جی جانتی ہوں مگر آپ کے دادا کا ایمان خدا پہ تھا وہ اللہ کا کلام لوگوں کو ان کے مسائل کے لئے پڑھنے کی تاکید کرتے تھے خدا کے کلام کو پڑھ کے بیماروں کو دم کیا کرتے اور اللہ کے فضل  سے وہ دیندار تھے تب ھی ان کی دعاؤں میں بھی برکت اور تاثیر تھی آج کل کے جعلی پیر کیا آپ نہیں جانتے ان کو ؟؟"

"ٹھیک کہہ رہی ہیں آپ بجا فرمایا بالکل محوش بیگم !! میں آپ کی بات سے سو فیصد اتفاق کرتا ہوں چلئے آپ کی پریشانی بھی ا بھی دور کیے دیتے ہیں "
وہ اطمینان سے گویا ہوئے۔

"کیا مطلب وفاکہیں  آپ کو جانے کی اجازت تو نہیں دے رہے نا" ۔
وہ مشکوک ہوئیں ۔

"پریشان مت ہو ہماری بیٹی بھائی صاحب کے گھر جائے گی وہیں قیام پذیر رہے گی جب تک اسکا کام مکمل نہیں ہو جاتا "

"بھائی صاحب رہنے دیں بس "
 مجھے ایک نظر نہیں بھاتے آپ کے وہ مغرور چچا زاد بھائی اور ان کی بیگم صاحبہ مجال ہے جو دونوں میاں بیوی اپنے آگے کسی کو خاطر میں لائے ہوں کبھی "
 ارے بیگم آپ تو خاصی ہلکان ہو رہی ہو خوامخواں میں ۔سوچئے ذرا ایک دفعہ پھر سے وہ اس علاقہ میں رہائش پذیر ہے اور سب سے فائدہ مند بات یہ ہے کہ وہ ہمارے علاقے کے حاکم میں ہیں۔ دور دور تک ان کے فیصلوں کی بجا آوری کی جاتی ہے ۔تو اب  یہ غرور اور تکبر تو ان پر اور ان کی زوجہ محترمہ پہ ججتا ہی ہے ۔۔"
منصور صاحب ڈٹ گئے وہ مطمعین تھے کیونکہ انکے چچا زاد بھائی خاصے اسر و رسوق والے تھے اور وفا کو وہ کبھی بھی تھیسس کیلئے مزاروں کی خاک نہ چھان دیتے اور یوں وفا کا دل اچاٹ ہوجانا تھا اور انکے رہن سے گھبراکر اسنے واپس آجانا تھا ۔

"تو ہم کون سے کوئی کمایا ہے ان کے مقابلے میں؟؟ خیر سے اچھا کھاتے کماتے ہیں حلال رزق خدا کے فضل و کرم سے میسر ہے ہمیں اور خیر سے الحمدللہ
ہزار گز کا ہمارا گھر ہے ۔اسپئر پارٹس کی کئی فیکٹریاں ہیں ہماری تو پھر ہم اور ہماری سر پھری صاحبزادی میں تو نخرے نام کو نہیں بلکہ بٹیا رانی تو ہماری خیر سے انسانیت کی علمبردار شدید محبت کرنے والوں میں سے ہے"

محوش بیگم نے شوہر منصور احمد کو اچھی طرح سے لیکچر دے ڈالا۔

" ارے بھئی آپ یہ کیوں بھول جاتی ہیں کہ ہمارا تعلق پڑھے لکھے معاشرے سے ہے اور وہ ٹھہرے غیر تعلیم یافتہ لوگ مگر یقین مانو ہماری اکلوتی بیٹی کا بخوبی خیال رکھیں گے"

وفا اپنے اماں اور ابا کو الجھتا دیکھ وہاں سے خاموشی سے رخصت ہو چکی تھی جانتی تھی اب مقدمہ اس کے بابا لڑ رہے تھے اس کے لئے ۔بس پھر کامیابی تو پکی تھی۔
 وہ مسرور سی ہوئی زہرا کو بریکنگ نیوز دینے چل پڑی ۔۔۔
💞💞💞💞💞
"واہ یہاں تو عشق معاشقے چل رہے ہیں۔"
جابر آنکھوں میں عجیب سی چبھن لئے گویا ہوا لہجہ آگ برسارہا تھا۔
کیا ہورہا ہے یہ سب؟؟؟؟وہ مہمل کو تمسخر اڑاتی نظروں سے گھور رہا  تھا
جابر اپنی حدود مت پھلانگو
نن ۔۔۔۔ نہیں جابر آغا ایسا کچھ نہی ہے۔۔۔
مہمل سراسیما سی اٹھ کھڑی ہوئ بوکھلاہٹ میں سر پہ اوڑھا دوپٹہ فرش پہ ہی گر گیا۔۔
آئندہ یہ مجھے تمہارے سر سے ڈھلکا ہوا نہ دکھے مہمل یاد رکھنا اور ا ب جائو تم جاناں کے پاس میں آرہا ہوں وہاں۔
آخری جملہ کامل نے جابر کو شعلے برساتی نظروں سے دیکھتے ہوئے چبا چبا کر کہا جبکہ مہمل منہ پہ ہاتھ رکھے روتی ہوئی حویلی کی داخلی روش پہ بھاگی تھی۔
"کیا بات ہے اتنی جی حضوری مجھے بھی سکھادو یہ ہنر "
"ویسے بری نہیں ہے میں سوچ سکتا ہو کچھ کیو سہی کہہ رہا ہوں کہو گے تو پریکٹیکل کر کے دکھا سکتا ہوں"
وہ گھنی مونچھوں کو تائودینے لگا
"اپنی اوقات میں رہو جابر اور مہمل سے جتناہوسکے دور رہو"
کامل کا خون کھول اٹھا ۔
"کام ڈاون تم تو شادی شدا ہو میرے پاس خیر سے آپشن باقی ہے"
جابر نے کامل کی آنکھوں میں دیکھ کہ جتایا۔
اور اسکا شانا تھپتپا کہ آگے بڑھ گیا۔۔۔
💞💞💞💞💞💞
جاری ہے۔
میرے پیارے پیارے ریڈرز ناول پڑھنے کے بعد زرا لائک کرکے اپنی موجودگی کا احساس دلائیں۔😷

tum se he meri zindagi by sumi fatima episode 1


ﺗﻢ۔ﺳﮯ۔ﮬﯽ۔۔ﻣﯿﺮﯼ۔ﺯﻧﺪﮔﯽ #
# ﺍﺯ ۔ﻗﻠﻢ۔ﺳﻤﯽ۔ﻓﺎﻃﻤﮫ
ﻗﺴﻂ۔ﻧﻤﺒﺮ۔ﺍ #
......... .........
ﺍﺏ ﺍﭨﮫ ﺑﮭﯽ ﺟﺎﺅ ﺷﯿﺰﺍ ﻭﻗﺖ ﺩﯾﮑﮭﻮ ﮐﯿﺎ ﮬﻮﺭﮬﺎ ﮬﮯ ..........
ﺗﻤﮭﺎﺭﮮ ﻣﺎﻣﻮﮞ ﺑﮭﯽ ﺑﺲ ﭘﮭﻨﭽﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮬﻮﻧﮕﮯ ﮐﻮﭼﮫ ﻣﺪﺩ ﮐﺮﻭﺍﺅ ﺁﮐﺮﻋﺸﺎ ﺍﮐﯿﻠﯽ ﮐﭽﻦ ﺳﻨﺒﮭﺎﻝ ﺭﮬﯽ ﺻﺒﺢ ﮨﮯ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﺍﻣﯽ ﮐﯽ ﺗﯿﺴﺮﯼ ﺁﺁﻭﺍﺯ ﭘﺮﻧﺎﭼﺎﺭ ﺁﮐﮭﺮ ﺁﺍﭨﮭﻨﺎ ﭘﮍﺍ ...........
ﮐﯿﺎ ﺍﻣﯽ ﺍﺗﻮﺍﺭ ﺗﻮ ﮬﮯ ﺳﻮﻧﮯ ﺩﯾﺘﯽ ﺍﮎ ﮬﯽ ﺗﻮ ﺩﻥ ﻣﻠﺘﺎ ﮬﮯ ﺳﻮﻧﮯ ﮐﺎ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﻣﺎﻣﻮﮞ ﺗﻮ ﺷﺎﻡ ﮐﻮ ﺁﺋﯿﮟ ﮔﮯ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﮨﺎﮞ ﭘﺮ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﺘﻨﺎ ﮐﺎﻡ ﮬﮯ ﻋﺸﺎﺀ ﺑﭽﺎﺭﯼ ﺍﮐﯿﻠﯽ ﺳﺐ ﮐﯿﺴﮯ ﮐﺮﯾﮕﯽ ﺍﺏ ﺗﻢ ﺑﮭﯽ ﺍﭨﮫ ﺟﺎﺅ ﺟﻠﺪﯼ ﺳﮯ ﺑﺲ۔۔۔۔۔۔۔
ﺟﺐ ﺗﮏ ﻣﮯ ﺗﻤﮭﺎﺭﺍ ﻧﺎﺷﺘﮧ ﻧﮑﺎﻟﺘﯽ ﮬﻮﮞ ﺟﻠﺪﯼ ﺁﺟﺎﻧﺎ۔۔
۔۔ ﻣﻨﺪﯼ ﻣﻨﺪﯼ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﻮ ﻣﻠﺘﯽ ﻓﺮﯾﺶ ﮬﻮﻧﮯ ﭼﻞ ﭘﮍﯼ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﺷﺰﺍ ﮐﮯ ﻣﺎﻣﻮﮞ ﺟﻮ ﭼﻨﺪ ﺳﺎﻝ ﭘﮭﻠﮯ ﺍﻣﯿﺮﮐﮧ ﮔﺌﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﯽ ﭘﮍﮬﺎﺉ ﮐﮯﻟﮯ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﻣﺴﺘﻘﻞ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺭﮬﺎﺀﺵ ﮐﮯ ﺍﺭﺍﺩﮮ ﺳﮯ ﺁﺭﮬﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﻥ ﮐﮧ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﺑﮭﯽ ﻣﮑﻤﻞ ﮬﻮ ﭼﮑﯽ ﺗﮭﯽ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﺍﺏ ﻭﮦ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺩﯾﺮ ﻭﻃﻦ ﺳﮯ ﺩﻭﺭ ﻧﮭﯿﮟ ﺭﮬﻨﺎ ﭼﺎﮬﺘﮯ ﺗﮭﮯ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﯽ ﭘﮍﮬﺎﺉ ﻣﮑﻤﻞ ﮬﻮﺗﮯ ﮬﯽ ﺟﻠﺪ ﻭﺍﭘﺲ ﺁﺭﮬﮯ ﺗﮭﮯ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﺷﺎﺯﯾﺎ ﺑﯿﮕﻢ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﮭﺎﺉ ﮐﮯ ﺁﻧﮯ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﯽ ﻣﮯ ﺗﯿﺎﺭﻭﮞ ﻣﮯ ﻣﮕﻦ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
..............********..........
ﺧﺎﻟﺪ ﺻﺎﺣﺐ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﮕﻢ ﺷﺎﺯﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺗﯿﻦ ﺑﭽﻮﮞ ﺣﺎﺷﺮ ﺷﺰﺍ ﺍﻭﺭ ﻋﺸﺎ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮬﺴﯽ ﺧﻮﺷﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺑﺴﺮ ﮐﺮ ﺭﮬﮯ ﺗﮭﮯ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﺣﺎﺷﺮ ﺟﻮ ﻭﮐﺎﻟﺖ ﮐﺮ ﺭﮬﺎ ﺗﮭﺎ ۔۔۔۔
ﺍﺱ ﺳﮯ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﻋﺸﺎ ﺟﻮ ﺑﯽ ﺍﮮ ﮐﮯ ﺁﺧﺮﯼ ﺳﺎﻝ ﻣﮯ ﺗﮭﯽ ۔۔۔۔۔ﺳﺐ ﺳﮯ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﺷﺰﺍ ﺟﻮ ﺑﯽ ﮐﺎﻡ ﮐﺮ ﺭﮬﯽ ﺍﻭﺭ ﺳﺒﮑﯽ ﺑﯿﺤﺪ ﻻﮈﻟﯽ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﺧﺎﻟﺪ ﺻﺎﺣﺐ ﺑﮭﯽ ﻣﺒﯿﺠﺮ ﮐﯽ ﭘﻮﺳﭧ ﭘﺮ ﻓﺎﺀﺯ ﺗﮭﮯ ﺳﺐ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﺳﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﻣﮯ ﺧﻮﺵ ﻭ ﻣﮕﻦ ﺗﮭﮯ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
.........**********.......
ﺷﺰﺍ ﺟﻠﺪﯼ ﺳﮯ ﺗﻢ ﮔﯿﺴﭧ ﺭﻭﻡ ﺻﺎﻑ ﮐﺮﻭﺍﻟﻮ ﺳﮑﯿﻨﮧ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﻞ ﮐﺮ۔۔۔۔۔ﮐﭽﻦ ﮐﺎﻡ ﺗﮑﺮﯾﺒﻦ ﮬﻮﮔﯿﺎ ﮬﮯ۔۔۔۔۔۔۔۔ﺑﺲ ﮐﺒﺎﺏ ﻓﺮﯾﺰ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﻭ ﻣﯿﮟ ﮐﺮﻟﻮﮞ ﮔﯽ۔۔۔۔۔۔
ﺷﺰﺍ ﻧﺎﺷﺘﮯ ﮐﮧ ﺑﻌﺪ ﻋﺸﺎ ﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﮐﺮﻭﺍﻧﮯ ﺁﺗﯽ ﮬﮯ۔
ﺟﻮ ﮐﮧ ﻋﺸﺎﺀ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﺳﻦ ﮐﮯ ﺍﺛﺒﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﺳﺮ ﮬﻼﺗﯽ ﮬﮯ۔۔۔۔۔
ﺍﻭﺭ ﺟﺎﮐﺮ ﺻﻔﺎﺉ ﮐﺮﻭﺍﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺟﺖ ﺟﺎﺗﯽ ﮬﮯ۔۔۔۔
ﭨﻒ ﭘﮍﮬﺎﺉ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻋﺸﺎ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺗﺮ ﮐﺎﻡ ﺍﻣﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﻞ ﮐﺮ ﺧﺪ ﮬﯽ ﮐﺮ ﻟﯿﺘﯽ ﺗﮭﯽ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﺷﺰﺍ ﭘﺮ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺑﻮﺟﮫ ﻧﺎ ﮈﺍﻟﺘﯽ ﺗﺎﮐﮯ ﭘﮍﮬﺎﺉ ﭘﺮ ﮐﻮﯼ ﺧﻠﻞ ﻧﮧ ﭘﮍﮮ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﺟﺒﮑﮯ ﻋﺸﺎ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺗﺮ ﺍﻣﯽ ﮐﺎ ﮬﺎﺗﮫ ﺑﭩﺎﺗﯽ ﺗﮭﯽ۔۔
ﮐﯿﻮﻧﮑﯽ ﻭﮦ ﭘﺮﺍﺋﻮﭦ ﺑﯽ ﺍﮮ ﮐﺮ ﺭﮬﯽ ﺗﮭﯽ ﮔﮭﺮ ﻭﺍﻟﻮ ﮐﮯ ﺑﯿﮭﺪ ﺍﺳﺮﺍﺭ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﻧﺎ ﻣﺎﻧﯽ ﺍﻭﺭ ﭘﺮﺍﺋﻮﭦ ﮐﻮ ﺗﺮﺟﯿﮧ ﺩﯾﮑﺮ ﮔﮭﺮﺩﺍﺭﯼ ﻣﯿﮟ ﺣﺼﺎ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﮐﻨﮓ ﮐﻼﺳﺲ ﺟﻮﺁﺋﻦ ﮐﺮﻟﯽ ﮐﯿﻮﻧﮑﯽ ﺍﺳﮯ ﻧﺖ ﻧﺌﮯ ﭘﮑﻮﺍﻥ ﺑﻨﻮﺍﻧﮯ ﮐﺎ ﺑﻮﮬﺖ ﺷﻮﻕ ﺗﮭﺎ۔۔۔۔۔۔۔۔
ﺷﺰﺍ ﮐﻮ ﺻﺒﺢ ﮐﺎﻟﺞ ﭘﮭﺮ ﮐﻮﭼﻨﮓ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺑﮭﯽ ﺁﮐﺮ ﭘﮍﮬﻨﺎ ﺗﻮ ﮔﮭﺮﺩﺍﺭﯼ ﻣﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻧﺎ ﺩﮬﮑﯿﻼ ﺟﺎﺗﺎ ﮐﻮﯼ ﺁﺟﺎﺉ ﺗﻮ ﻣﺪﺩ ﮐﺮﻭﺍﻧﯽ ﭘﺮ ﺟﺎﺗﯽ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ******** ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﺁﺧﺮ ﮐﺎﺭ ﺍﺗﻨﮯ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﺎﻣﻮ ﮐﯽ ﺁﻣﺪ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻭﻧﻮ ﺑﯿﭩﻮ ﻋﺎﺭﺵ ﺍﻭﺭ ﻋﺎﻗﺐ ﺍﻭﺭ ﺍﮎ ﺑﯿﭩﯽ ﻣﺎﮬﻢ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮬﻮﺉ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﻋﺎﻗﺐ ﺗﮭﺎ ﺳﻨﺠﯿﺪﮦ ﺍﻭﺭ ﺳﻠﺠﮭﯽ ﮬﺊ ﺷﺨﺼﯿﺖ ﮐﺎ ﻣﺎﻟﮏ۔۔۔۔
ﺟﺒﮑﮧ ﻋﺎﺭﺵ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﻮﮌﺍ ﺿﺪﯼ ﭘﻦ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻏﺼﯿﻠﮧ ﭘﻦ۔ ﺟﺒﮑﮧ ﺯﻣﮧ ﺩﺍﺭ ﺑﮭﺖ ﺗﮭﮯ
ﺳﺐ ﺳﮯ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﻣﺎﮨﻢ ﺷﺮﺍﺭﺗﯽ ﭘﻦ ﮐﯽ ﺣﺪﻭﺩ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﺗﯽ ﮨﻮﺉ۔۔۔۔۔۔
ﺳﺐ ﻻﺅﻧﺞ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﻋﺸﺎﺀ ﮐﯽ ﺑﻨﺎﺉ ﺭﯾﺴﯿﭙﯽ ﮐﯽ ﺗﻌﺮﯾﻒ ﮐﺮ ﺭﮬﮯ ﺗﮭﮯ ﺟﻮ ﺍﺳﮯ ﺣﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﮬﯽ ﺑﻨﺎﻧﺎ ﺳﯿﮑﮭﯿﮟ ﺗﮭﯽ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﺍﻭﺭ ﺁﺝ ﻋﺸﺎﺀ ﮐﻮ ﻣﻮﻗﻊ ﻣﻼ ﺍﭘﻨﯽ ﺭﯾﺴﯿﭙﯽ ﭨﺮﺍﮮ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻣﺎﻣﻮﮞ ﺳﮯ ﺗﻌﺮﯾﻔﯿﮟ ﻭﺻﻮﻝ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﺍﺗﻨﯽ ﺩﯾﺮ ﻣﯿﮟ ﺷﺰﺍ ﺑﮭﯽ ﻣﺎﻣﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﻠﻨﮯ ﺁﮬﯽ ﺭﮬﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮯ ﻋﺎﺭﺵ ﺳﮯ ﭨﮑﺮﺍﺅ ﮬﻮﮔﯿﺎ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﺟﻮ ﻻﺅﻧﺞ ﺳﮯ ﺑﺎﮬﺮ ﻣﻮﺑﺎﺀﻝ ﺳﻨﻨﮯ ﺁﯾﺎ ﺗﮭﺎ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﺍﻭﻭﻭ ﻋﺎﺭﺵ ﺑﮭﺎﺉ ﺁﭖ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔
ﺍﺳﻼﻡ ﻭ ﻋﻠﯿﮑﻢ ﺑﮭﺎﺉ ﮐﯿﺴﮯ ﮬﯿﮟ ﺁﭖ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ﺍﻭﺭ ﺳﻮﺭﯼ ﻣﯿﻨﮯ ﺟﻠﺪ ﺑﺎﺯﯼ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﻧﮭﯿﮟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﻭﺍﻋﻠﯿﮑﻢ ﺍﺳﻼﻡ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ﻡﯾﮟ ﭨﮭﯿﮏ ﺗﻢ ﺑﺘﺎﺅ ﮐﯿﺴﯽ ﮬﻮ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺉ ﺑﺎﺕ ﻧﮭﯿﮟ ﮬﻮﺟﺎﺗﺎ ﮬﮯ ﺟﻠﺪﯼ ﻣﯿﮟ۔۔۔ﺧﯿﺮ ﺍﺏ ﺗﻮ ﺗﻢ ﺑﮩﺖ ﺑﺪﻝ ﺑﮭﯽ ﮔﺊ ﮬﻮ ۔۔۔۔۔۔۔
ﻋﺎﺭﺵ ﺟﻮ ﺍﺳﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﮐﮭﯿﮟ ﮐﮭﻮ ﺳﺎ ﮔﯿﺎ ﮔﻼﺑﯽ ﺭﻧﮓ ﮐﮯ ﮐﺮﺗﯽ ﻣﯿﮟ ﭨﯿﻞ ﭘﻮﻧﯽ ﺑﻨﺎﺉ ﺟﺴﮑﯽ ﮐﻮﭼﮫ ﻟﭩﯿﮟ ﭼﮭﺮﯾﮟ ﮐﻮ ﭼﮭﻮ ﺭﮬﯿﮟ ﺗﮭﯽ ﻣﯿﮏ ﺍﭖ ﺳﮯ ﭘﺎﮎ ﻣﻌﺼﻮﻣﺎﻧﮧ ﭼﮭﺮﮦ ﺳﺠﺎﺋﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺣﺎﻝ ﺩﺭﯾﺎﻓﺖ ﮐﺮ ﺭﮬﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﺳﮯ ﯾﻘﯿﻦ ﻧﮧ ﺁﯾﺎ ﯾﮯ ﻭﮨﯽ ﺷﺰﺍﺀ ﮬﮯ۔۔۔۔۔
ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﭨﮭﯿﮏ ﮬﻮﮞ ﺑﮭﺎﺉ
ﭘﺮ ﺑﮭﺎﺉ ﺁﭖ ﺗﻮ ﺑﻠﮑﻞ ﻧﮭﯽ ﺑﺪﻟﮯ ﺍﺏ ﺗﮏ ﻭﯾﺴﮯ ﮬﯽ ﮬﯿﮟ۔۔۔۔
ﺟﺒﮑﮧ ﻧﮯ ﻣﺴﮑﺮﺍﻧﮯ ﭘﺮ ﺍﮐﺘﻔﺎﺀ ﮐﯿﺎ ۔۔۔۔۔۔
ﺍﭼﮭﺎ ﺑﮭﺎﺉ ﻣﯿﮟ ﻣﺎﻣﻮﮞ ﻣﻤﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﻣﻞ ﮐﺮ ﺁﺗﯽ ﮬﻮﮞ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﯾﯿﮧ ﮐﮧ ﮐﺮ ﻭﻭ ﻣﺎﻣﻮ ﺳﮯ ﻣﻠﻨﮯ ﮔﺊ ﺟﺐ ﮐﮧ ﻋﺎﺭﺵ ﺑﮭﯽ ﺷﺰﺍ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﻻﺅﻧﺞ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮬﻮﺍ۔۔۔۔۔۔۔۔
ﺍﺳﻼﻡ ﻭ ﻋﻠﯿﮑﻢ ﻣﺎﻣﻮﮞ ﮐﯿﺴﮯ ﮬﮟ ﺁﭖ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﺷﺰﺍﺀ ﺟﻠﺪﯼ ﺳﮯ ﻣﺎﻣﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻣﻤﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﺳﮯ ﻟﭙﭧ ﮔﺊ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﺍﺗﻨﮯ ﭨﺎﺀﻡ ﺑﻌﺪ ﺁﮮ ﮬﯿﮟ ﺁﭖ ﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺁﭘﮑﻮ ﮐﮭﯿﮟ ﺟﺎﻧﮯ ﻧﮭﯿﮟ ﺩﻭﻧﮕﯽ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﺍﺳﮑﯽ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﺳﺐ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﺍﭨﮭﮯ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﺍﺭﮮ ﺑﯿﭩﺎ ﺍﺏ ﮬﻢ ﮐﮭﯿﮟ ﻧﮭﯿﮟ ﺟﺎﺀﯾﻨﮕﮯ ﯾﮭﯿﮟ ﺭﮬﯿﻨﮕﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺷﺰﺍ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﺟﺐ ﮐﮧ ﺳﺒﮑﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﻧﻈﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﺣﺼﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﭺ ﮐﺮ ﺟﮭﻨﭗ ﺳﯽ ﮔﺊ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﺍﺳﯽ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﻣﺎﻣﻮ ﺍﻥ ﺳﮯ ﭘﮍﮬﺎﺉ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﭘﻮﭼﮭﺘﮯ ﺭﮬﮯ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ﺟﺐ ﮐﮯ ﻋﺸﺎﺀ
ﻣﺎﮬﻢ ﺳﮯ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻟﮕﯽ ﺭﮬﯽ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﻣﺎﮬﻢ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﮏ ﮬﻨﺲ ﻣﮑﮫ ﺟﻠﺪ ﮬﯽ ﮔﮭﻠﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﻟﮍﮐﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﺳﯽ ﺳﺒﺐ ﺍﻥ ﺗﯿﻨﻮ ﮐﯽ ﺑﮭﺖ ﺟﻠﺪ ﺑﻦ ﮔﺊ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﺟﺐ ﮐﯽ ﺣﺎﺷﺮ ﻋﺎﻗﺐ ﺍﻭﺭ ﻋﺎﺭﺵ ﮐﻮ ﮐﻤﭙﻨﯽ ﺩﯾﻨﮯ ﻟﮕﺎ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﺭﻓﺎﻗﺖ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﻮ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﺩﻭ ﺑﯿﭩﻮﮞ ﺷﺎﮬﺰﯾﺐ ﺍﻭﺭ ﻋﺎﺭﺵ ﺳﮯ ﻧﻮﺍﺯﮦ ﺗﮭﺎ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﺟﺐ ﮐﻮ ﺍﻧﮑﻮ ﺑﯿﭩﯽ ﮐﯽ ﮐﻤﯽ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮬﻮﺗﯽ ﺗﮭﯽ ﺟﻮ ﺷﺰﺍ ﮐﮯ ﮬﻮﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﻮﺭﯼ ﮬﻮﮔﺊ ﺗﮭﯽ۔۔۔۔۔۔
ﺷﺰﺍ ﮐﺎ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺗﺮ ﻭﻗﺖ ﺑﭽﭙﻦ ﻣﯿﮟ ﻣﺎﻣﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮬﯽ ﮔﺰﺭﺗﺎ ﺗﮭﺎ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻣﯿﺎﮞ ﺑﯿﻮﯼ ﺷﺰﺍﺀ ﺳﮯ ﺑﻮﮬﺖ ﭘﯿﺎﺭ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﺘﺎ ﮐﮧ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﻣﺎﮬﻢ ﮐﯽ ﭘﯿﺪﺍﺋﺶ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺑﮭﯽ ﺍﻧﮑﮯ ﭘﯿﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﮐﻤﯽ ﻧﺎ ﺁﺉ ﺍﺳﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻭﻭ ﺍﺏ ﺗﮏ ﺍﻧﮑﮯ ﺑﮭﺖ ﻗﺮﯾﺐ ﺗﮭﯽ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ************* ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﺩﻥ ﺑﮭﺮ ﮐﯽ ﻣﺼﺮﻭﻓﯿﺎﺕ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺷﺰﺍ ﮐﻞ ﮐﮯ ﭨﯿﺴﭧ ﮐﯽ ﺗﯿﺎﺭﯼ ﮐﺮﻧﮯ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﺊ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﺍﺳﯽ ﺳﺒﺐ ﺭﺍﺕ ﺩﯾﺮ ﺳﮯ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﺳﺒﺐ ﺻﺒﺢ ﺩﯾﺮ ﺳﮯ ﺁﻧﮑﮫ ﮐﮭﻠﯽ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﺟﻠﺪﯼ ﺳﮯ ﻓﺮﯾﺶ ﮬﻮﮐﺮﻧﺎﺷﺘﮯ ﮐﯽ ﭨﯿﺒﻞ ﭘﺮ ﭘﻮﮬﻨﭽﯽ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﺟﮭﺎﻥ ﺳﻮﺍﺋﮯ ﻣﺎﮬﻢ ﮐﮯ ﺟﻮ ﺁﺟﮑﻞ ﺯﺭﺍ ﺩﯾﺮ ﺳﮯ ﺍﭨﮭﺘﯽ ﺳﺐ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻋﺸﺎﺀ ﺳﺒﮑﻮ ﻧﺎﺷﺘﮧ ﻓﺮﺍﮨﻢ ﮐﺮ ﺭﮬﯽ ﺗﮭﯽ۔۔۔۔۔۔۔۔
ﭘﺎﭘﺎ ﭼﻠﯿﮟ ﺑﮭﺖ ﺩﯾﺮ ﮬﻮﮔﺊ ﮬﮯ ﺁﺝ ﺗﻮ ﺑﮭﺎﺉ ﺑﮭﯽ ﻧﮭﯽ ﺍﭨﮭﮯ ﺷﺎﯾﺪ ﺁﭖ ﺟﺎﺭﮬﮯ ﺗﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮭﯽ ﻟﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﺳﻔﯿﺪ ﯾﻮﻧﯿﻔﺎﺭﻡ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﺟﻞ ﻟﮕﺎﺋﮯ ﺍﻭﻧﭽﯽ ﭘﻮﻧﯽ ﺑﻨﺎﺉ ﮐﻮﺉ ﮔﮍﯾﺎ ﮬﯽ ﻟﮓ ﺭﮬﯽ ﺗﮭﯽ۔۔۔۔۔۔
ﺍﺭﮮ ﺑﯿﭩﺎ ﻧﺎﺷﺘﺎ ﺗﻮ ﮐﺮﺗﯽ ﺟﺎﺅ ﺍﺗﻨﯽ ﺑﮭﯽ ﮐﯿﺎ ﺟﻠﺪﯼ ﮐﮯ ﺑﮭﻮﮐﮯ ﭘﯿﭧ ﺟﺎﻧﺎ ﭘﮍﮮ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﻣﻤﺎﻧﯽ ﻧﮯ ﯾﮯ ﮐﮧ ﮐﺮ ﺍﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﭩﮭﺎ ﻟﯿﺎ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﺍﺭﮮ ﻣﻤﺎﻧﯽ ﻟﯿﭧ ﮬﻮﮔﺊ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﻣﺲ ﭘﮭﺮ ﮈﺍﻧﭧ ﺩﯾﻨﺎ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﺍﭼﮭﺎ ﮐﻮﭼﮫ ﻧﮭﯽ ﮬﻮﺗﺎ ﺳﮯ ﮐﺮﻟﻮ ﭼﻠﯽ ﺟﺎﻧﺎ ﭘﮭﺮ۔۔۔
ﮐﺊ ﺑﺎﺭ ﮐﮩﺎ ﮬﮯ ﺟﻠﺪﯼ ﺳﻮﺟﺎﺅ ﺻﺒﺤﮧ ﻧﮭﯽ ﺍﭨﮭﺘﯽ ﭘﺮ ﻣﺠﺎﻝ ﮬﮯ ﮐﮧ ﮐﻮﺉ ﺑﺎﺕ ﻣﺎﻧﯽ ﮬﻮ۔۔۔۔۔۔
ﺍﻭﺭ ﺻﺒﺤﮧ ﭘﮭﺮ ﺑﻐﯿﺮ ﻧﺎﺷﺘﮯ ﮐﮯ ﭼﻠﯽ ﺟﺎﺗﯽ۔۔۔۔۔
ﺷﺎﺯﯾﺎ ﺑﯿﮕﻢ ﻧﮯ ﺷﺰﺍ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﻋﺎﺑﺪﮦ ﺳﮯ ‏( ﻣﻤﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﺷﮑﻮﮦ ﮐﯿﺎ ۔۔۔۔۔۔۔
ﺷﺰﺍ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻟﯿﭧ ﻧﮧ ﮬﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﭼﮑﺮ ﻣﯿﮟ ﺟﻠﺪ ﻧﺎﺷﺘﺎ ﺧﺘﻢ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﯽ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﺟﺒﮑﮧ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﻧﮧ ﭼﺎﮪ ﮐﺮﺑﮭﯽ ﺩﻭ ﻧﻈﺮﻭﮞ ﮐﺎ ﺍﺭﺗﮑﺎﺯ ﺍﺱ ﭘﮯ ﺭﮬﺎ ﺟﺲ ﺳﮯ ﻭﻭ ﺑﻠﮑﻞ ﺍﻧﺠﺎﻥ ﺗﮭﯽ۔۔۔
ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﺍﺱ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﺎﺗﮯ ﺩﯾﮫ ﮐﺮ ﻣﺴﮑﺮﺍﻧﮯ ﻟﮕﺎ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﻧﺎﺷﺘﮯ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺧﺎﻟﺪ ﺻﺎﺣﺐ ﺍﻭﺭ ﺭﻓﺎﻗﺖ ﺻﺎﺣﺐ ﺍﻭﺭ ﻋﺎﺭﺵ ﻋﺎﻗﺐ ﺳﮯ ﺑﺰﻧﺲ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﭘﻮﭼﮫ ﺗﺎﭼﮫ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﮯ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ﺍﺳﯽ ﺍﺛﻨﺎ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﺷﺮ ﺑﮭﯽ ﺗﯿﺎﺭ ﮬﻮﺍ ﺑﻠﯿﮏ ﮐﻮﭦ ﭘﮩﻨﮯﮔﻼﺳﺲ ﻟﮕﺎﺋﮯ ﻧﺎﺷﺘﮧ ﮐﺮﻧﮯ ﺁﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺳﺒﮑﻮ ﺳﻼﻡ ﮐﯿﺎ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﺑﺲ ﺍﻧﮑﻞ ﺁﻓﺲ ﮐﺎ ﮐﺎﻡ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﺩﻭ ﺩﻥ ﻣﯿﮟ ﺷﺮﻭﻉ ﮬﻮﺭﮬﺎ ﮬﮯ ﺍﺑﻮ ﮐﮯ ﺩﻭﺳﺖ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ۶۰ % ﺷﺌﯿﺮ ﭘﺮ ﮐﺮ ﺭﮬﮯ ﮬﯿﮟ۔۔۔۔۔۔۔۔ﻋﺎﻗﺐ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ۔۔۔۔
ﮔﮭﺮ ﮐﯽ ﺳﯿﭩﻨﮓ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﮏ ﺩﻭ ﺩﻥ ﺗﮏ ﺍﻧﺸﺎﺀﺍﻟﻠﮧ ﻣﮑﻤﻞ ﮬﻮﺟﺎﺋﯿﮕﯽ۔۔۔۔
ﻋﺎﺭﺵ ﻧﮯ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺟﻮﺱ ﭘﯿﺘﮯ ﮬﻮﮮ ﺁﮔﺎﮦ ﮐﯿﺎ۔۔
ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﺯﻣﮧ ﺩﺍﺭﯼ ﺳﮯ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﺗﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺧﺎﻟﺪ ﺻﺎﺣﺐ ﺑﮭﯽ ﻣﺘﺎﺛﺮ ﮬﻮﺋﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﻧﮧ ﺭﮬﮯ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﺍﻣﯿﺮﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺭﮬﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﺧﺎﻟﺪ ﺻﺎﺣﺐ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮑﯽ ﺑﯿﮕﻢ ﻧﮯﺍﭘﻨﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﯽ ﺍﭼﮭﯽ ﺗﺮﺑﯿﺖ ﻭ ﭘﺮﻭﺭﺵ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺉ ﮐﻤﯽ ﻧﺎ ﺁﻧﮯ ﺩﯼ ............
ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﺱ ﻗﺎﺑﻞ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﯿﺮﻭﮞ ﭘﺮ ﮐﮭﮍﮮ ﮨﻮﺳﮑﯿﮟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﺍﺱ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺍﻥ ﭘﺮ ﺍﻥ ﭘﺮ ﻣﻐﺮﺑﯽ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﮐﻢ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﻃﻦ ﺁﻧﮯ ﮐﯽ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺧﻮﺷﯽ ﺗﮭﯽ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﺍﭼﮭﺎ ﭘﮭﺮ ﺷﺎﻡ ﮐﻮ ﻣﻼﻗﺎﺕ ﮬﻮﺗﯽ ﮬﮯ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﯾﮯ ﮐﮧ ﮐﺮ ﺧﺎﻟﺪ ﺻﺎﺣﺐ ﺑﮭﯽ ﻧﺂﻓﺲ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺍﭨﮫ ﮐﮭﮍﮮ ﮬﻮﮮ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﻧﮭﯿﮟ ﺷﺰﺍ ﮐﻮ ﮐﺎﻟﺞ ﭼﮭﻮﮌﻧﺎ ﺗﮭﺎ ﺟﻮ ﮐﮯ ﺍﻧﮑﮧ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﭘﮍﺗﺎ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﺍﺭﮮ ﺍﺑﻮ ﺁﭖ ﺭﮬﻨﮯ ﺩﯾﮟ ﻣﯿﺮﺍ ﻧﺎﺷﺘﮧ ﮬﻮﮔﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﺟﺎﺗﺎ ﮬﻮﮞ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﺍﭼﮭﺎ ﭘﮩﺮ ﻋﺎﻗﺐ ﺍﻭﺭ ﻋﺎﺭﺵ ﺷﺎﻡ ﮐﻮ ﻣﻼﻗﺎﺕ ﮬﻮﺗﯽ۔۔۔۔۔ﯾﮧ ﮐﮧ ﮐﺮ ﺣﺎﺷﺮ ﺑﮭﯽ ﺷﺰﺍﺀ ﮐﻮ ﻟﺌﮯ ﭼﻞ ﭘﮍﺍ ۔۔۔۔۔۔
ﺟﺐ ﮐﮧ ﻋﺎﺭﺵ ﺍﻭﺭ ﺷﺎﮬﺰﯾﺐ ﺑﮭﯽ ﺁﻓﺲ ﺭﻭﺍﻧﮧ ﮬﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﮯ ﺍﭨﮫ ﮐﮭﮍﮮ ﮬﻮﺋﮯ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﺍﻭﺭ ﻋﺸﺎﺀ ﻧﺎﺷﺘﮯ ﮐﯽ ﭨﯿﺒﻞ ﺳﮯ ﺑﺮﺗﻦ ﺍﭨﮭﺎﺋﮯ ﮐﭽﻦ ﮐﺎ ﺭﺥ ﮐﯿﺎ۔
۔۔۔ ﺟﺒﮑﮧ ﻋﺎﻗﺐ ﮐﯽ ﻧﮕﺎﮬﯿﮟ ﺍﺳﮯ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﮐﻮ ﺑﯿﺘﺎﺏ ﺗﮭﯿﮟ۔۔
ﭼﻠﯿﮟ ﺑﮭﺎﺉ۔۔ﻋﺎﺭﺵ ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﭘﺮ ﭼﻮﻧﮏ ﮔﯿﺎ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ﮬﺎﮞ ﭼﻠﻮ۔۔۔۔۔۔۔
cntinue
dear readers week mai 2 bar he epi aaigy agr like cmnts zyada huy to surpeise dngiiii .....
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ************* ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

kabhi toh pass mere ao by aymen nauman episode 2


کبھی تو پاس میرے آو💕
تحریر ایمن نعمان
قسط نمبر 2
Dont copy paste without my permission 🌱🌱🌱🌱🌱🌱🌱

🌹🌹🌹🌹

"لگتا ہے  بزرگوار کو اپنی جان پیاری نہیں ہے جبھی اتنی دیدہ دلیری سے سڑک پہ مٹر گشت کر رہا ہے"

 پپو کے ساتھ فٹ پاتھ پہ بیٹھے سنی نے کہا اور سگریٹ میں چرس بھر کے سٹہ لگانے کی تیاری کرنے لگا ۔
دونوں ہی تقریباً ایک جیسے ہی تھے عادات میں چرس پینا ،جوا کھیلنا، چوری چکاری میں پیش پیش رہنا دونوں کے پسندیدہ مشاغل تھے ۔۔
حال و ہولیا دونوں کا ہی ابتر چرسی اور موالیوں سے بھی بدترین تھا ۔
  سڑک پہ سے گزرتی ہر ایک لڑکی کو دیکھ کے سیٹیاں مارنا، آہیں بھرنا ،جملے کسنا اور زور زور سے گانے گا گا ادھم دھاڑی کرکہ تنگ کرنا  پپو کے لیے خوراک کا باعث تھا وہ بھوکا رہ سکتا تھا مگر اپنی یہ اوچھی چھچوری حرکات اور سکنات ہرگز نہیں چھوڑ سکتا تھا ۔۔۔

یہ سب کچھ ان دونوں کے لیے ایک عام سی بات تھی ۔حد یہ تھی کہ اس سڑک کو دونوں نے  اپنی جاگیر بنا ڈالا تھا ۔پچھلے کچھ عرصے سے یہاں مستقل ڈیرا ڈال بہٹھے تھے۔
 ابھی دونوں نے چوری چکاری کے علاوہ کوئی ایسا کارنامہ سرانجام نہ دیا تھا جس کی وجہ سے وہ اس علاقے کے حاکموں کی نظر میں آتے مگر دونوں ہی سے علاقہ کے آس پاس کے لوگ شدید پریشان تھے سنی تو پھر لحاظ کر جاتا تھا مگر پپو تو گویا آنکھوں میں ایکسرے فٹ کروا چکا تھا ہرگزرتی لڑکی کا جب تک مکمل ہر طرح سےاوپر سے نیچے تک ایکسرے نہ کر لیتا تب تک مانو اس کی آنکھوں اور کلیجے کو ٹھنڈ نہ پڑتی ۔۔۔

"ابے چھوڑ اپنی یہ اونگیاں بونگیاں مارنا جانتا ہوں تو میرے حصے کی بھی سگریٹ سٹکنا چاہتا ہے"
 پپو نے چرس سے بھری بتی بنی سلگتی ہوئی سگریٹ کو جھپٹنے کے انداز میں لیاسنی سے ۔۔۔

"او تیرے دماغ پہ کیا پئے بغیر ہی چڑھ گئی ہے دیکھ تو ذرا سامنے وہ بوڑھا اندھا ہے یا پھر لنگڑا شاید تبھی تو اسکو سامنے چلتا ٹریکٹر نظر نہیں آ رہا ۔۔۔۔"
پپو نے آنکھیں مسل کر سامنے دیکھا جہاں ایک بزرگ ہاتھ میں راشن کا بڑا سارا تھیلا لیے گرتے پڑتے لنگڑاتے ہوئے  کُرتےکے نیچے دھوتی پہنے جبکہ سر پہ چیک کا سفید اور گلابی رنگ کا صافہ باندھے  پتھریلی سڑک پہ لنگٰڑا لنگڑا کے چلتے چلے جا رہے تھے۔ اس بات سے بے خبر کہ سامنے سے ٹریکٹر گزر رہا ہے سڑک کی دوسری طرف پڑا ملبہ اٹھانے کے لئے۔ مگر یہ کیا تھا وہ دونوں سمجھ رہےتھےکہ وہ شخص نابینا ہے جبکہ سامنے سے آتا  شخص لنگڑا تھا ۔ایک ٹانگ سے چل نہیں سکتا تھا ۔دائیں ہاتھ میں چھڑی تھامےاور دوسرے ہاتھ میں راشن کا بھرا تھیلا  لئے وہ خود کو بڑی مشکل سے سڑک پہ دھکیل رہا تھا شاید اسکو ٹریکٹر سے پہلے سڑک کو کراس کرنے کی جلدی تھی۔

وہ شخص اب ٹریکٹر سے کچھ ہی فاصلے پر تھا جبکہ ٹریکٹر چلانے والا ڈرائیور شاید نشے میں دھت ہوکر ڈرائیونگ کر رہا تھا ۔جو بزرگ کو دیکھ کر بھی ٹریکٹر روکنے کے بجائے چلائے ہی چلا جا رہا تھا اوپر کو ۔۔۔
پپو سے آخری کار رہا نہ گیا اور وہ بزرگ کی جان بچانے کی غرض سے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر اس شخص تک پہنچا تھا ۔اس دوران وہ ان صاحب کو تو  بچا گیا تھا مگر خود کی جان کے ساتھ کھیل گیا ۔
پپو سڑک پہ ہوش و خرد سے بے گانا بے سدھ پڑا ہوا تھا۔ میلی کچیلی کمیز پہ اب جگہ جگہ خون کے دھبے تھے۔پیشانی سےبھی خاصہ خون رس رہا تھا اسکی۔۔۔۔۔
🌹🌹🌹🌹

"ابھی ابھی خبر ملی ہے کہ ایک مشہور مزارکے پیر کا دیا ہوا لڈو کھانے سےدلہا شادی والی رات ہی اپنی جان گنوا ۔ وجہ دولہے کی ماں نے کچھ یہ بیان کی ہے کہ"
" پیر سائیں نے کہا تھا کہ اگر دلہا کو شادی کی پہلی رات یہ دم کئے  لڈو کھلاؤ نگی تو وہ جلدی صاحب اولاد ہو جائے۔۔"
"یہی نہیں  بقول دلہا کی ماں کہ دلہا کی یہ دوسری شادی تھی جوکہ اولاد نہ ہونے کی وجہ سے نبھا نہ ہو سکا اور شادی 6 سال چلنے کے بعد ختم ہوگئی "

"اوئی تیرے کی مل گیا مجھے ٹاپک"
" یہی پرفیکٹ رہے گا میری تھیسز کے لئے"
"زوئی یہ تو گڈ ہوگیا یار  بس میں اسی پر اپنی تھیسز تیار کرو گی"۔۔
 وہ چہکتی ہوئی زہرا کے گال پر جارحانہ انداز میں بوسہ دیتی گویا ہوئی۔

" دماغ کا علاج کرواؤ اپنے پتہ بھی ہے کہ یہ کس قدر خطرناک  کام ہے ڈھنگ کا ٹاپک لو تھیسز کے لئے بے وقوفی مت کرو "

زہرا اس کے بچپن کی دوست تھی دونوں ایک دوسرے کے بغیر  نہ رہتیں ۔ کبھی وہ زہرا کے گھر پائی جاتی تو کبھی زہرا اس کے گھر دھاوا بول دیتی اور آج بھی یہی ہوا تھا ایک ہفتہ زہرہ کی شکل نہ دیکھی تو وفا بلبلا کر اس کے گھر دندناتی ہوئی جا پہنچی تھی اور اب دونوں زہرا کی امی کے ہاتھ کی بنی مرغ کڑاہی سے مکمل انصاف کرنے کے ساتھ ساتھ  ڈسکس بھی کر رہی تھیں۔

"چپ کر جاؤ تم زہرا میری مما کافی ہے روک ٹوک کرنے کے لئے سمجھی تم اب میری دادی اماں تو مت بنو"
وفا نے منہ بسور کے زہرا کو جھنجلا ئے لہجے میں کہا اور  پھر کچھ سوچتے ہوئے گویا ہوئی۔

" مگر ایسے کیسے لڈو تھے کہ جس کے کھانے کی وجہ سے کوئی مر سکتا ہے ؟؟؟"

وہ ابھی تک اس خبر میں ہی الجھی ہوئی تھی ۔۔

"وفا میں اسی لیے کہہ رہی ہوں کہ تمہارے بس کا کام نہیں ہےیہ"
ذہرہ نے نرمی سے سمجھایا۔
" بہتر ہوگا زوئی کہ ہم کسی اور ٹاپک پر بات کریں"
وہ کہاں کان دھنے والی تھی۔
"  تم براہ کرم اس کے بجائے کسی اور موضوع کو سلیکٹ  کر کہ تھیسز پر کام شروع کرو!! دور رہو ان چکروں سے بلکہ ایک کام کرو اس خرافات کو ہی اپنے ذہن سے چھٹک کر دماغ کو اچھی طرح تیزاب سے واش کر لو خوامخواہ میں میرا بھی بھیجا خشک کروں گی اور اپنا بھی اور اب میرا سر مت دکھانا ۔۔۔"

" بالکل نہیں وفا کبھی بھی خود سے کیے عہد سے بے وفائی نہیں کرسکتی جب میرا نام وفا ہے تو میں کیسے خود سےکئے گئے وعدے سے بے وفائ کر بیٹھوں  ؟؟؟"
وفا نہیں کہتے ہوئے بالکل فلاسفر والا لہجہ اختیار کیا اس کے اس اندازے گفتگو پہ زہرا بے ساختہ ہنسی تھی جبکہ وفا دوبارہ سے وہی نیو چینل جس کا نام حق انٹرٹینمنٹ تھا کو لگائے خبر کو غور سے سن اور دیکھ رہی تھی ۔۔

"وفا میں کہتی ہو بند کرو یہ مذاق کوئی معمولی فیصلہ نہیں ہے جو ایک دفعہ کرنے کے بعد اس پر نظر ثانی کرنا ضروری نہ ہو جانتی ہو کس قدر خطرہ ہے اور پھر طرح طرح کے لوگ بھی "
"تم کیسے کسی کے دل کا حال جان سکوگی اور پھرتم بھی اچھی طرح جانتی ہو کہ میری امی اس کام میں کبھی تمہارا ساتھ دینے کی اجازت نہیں دینگی اور میں اپنی امی کو اندھیرے میں رکھ کے کوئی بھی کام نہیں کرتی تمہیں پتا ہے بہت اچھی طرح ۔۔۔۔۔"
زہرانے وفا کو ہر ہر پہلو پر روشنی ڈال کے سمجھانا چاہا مگر جانتی تھی کہ وفا اپنے ارادوں کی کس قدر پکی ہے ۔

"او یار تم تو ایسی بات نہ کرو جب کہ تم یہ بہت بہتر جانتی ہوں کہ وہ وفا خطروں کی کھلاڑی ہے اور پھر جانی وہ مثال تو تم نے سنی ہی ہوگی کہ ڈر کے آگے جیت ہے "

"بند کرو یہ اپنے گھسے پٹے ڈائیلاگ میرے سامنے مارنا"
" تو تم اپنی بے جا ضد سے دستبردار نہیں ہو گی"

" نہیں ایک قدم بھی نہیں اس کے باوجود کے راستے خاردار ملینگےتمہیں وفا"
" راستوں کو گلاب کرنا بھی  ایک فن ہے جو کسی کسی کو آتا ہے اور یہ فن میں ضرور سیکھنا چاہوں گی "
ترکی با ترکی جواب دیا ۔

🌹🌹🌹🌹

"کامل آغا مجھے واپس گھر جانا ہوگا ابو غصے میں ہے بہت"۔
"اور پھر وہ بھی ٹھیک کہتے ہیں بہت ہے میرے لئے اتنی تعلیم"
  مہمل  کی مرمری کلائی اب بھی  کامل کے مضبوط ہاتھ کی گرفت میں تھی جب بنی۔ وہ تیزی سے اسکولئے حویلی کی  داخلی سمت بڑھ رہا تھا۔چہرے پہ حد درجہ سنجیدگی رقم تھی جیسے خود کے غصے پہ قابو پانے کی ناکام کوشش کر رہا ہو۔
مہمل کے ہاتھ میں پہنی کالی چوڑیاں کامل کے مضبوط ہاتھ کی قید میں ٹوٹ چکی تھی۔ ۔

  جب اچانک مہمل کی پرنم آواز سن کروہ تھما تھا اور ادھر قریب ہی نیم کے درخت کے نیچے ٹھنڈی چھاؤں میں رک گیا ۔وہ اب بہت غور سے محمل کو دیکھ رہاتھا۔ نہ جانےاسکے صبیح چہرے پہ کیا تلاش کر رہا تھا ۔۔

"کامیاب لوگ اپنے فیصلوں سے دنیا بدل دیتے ہیں اور کمزور لوگ دنیا کے خوف سے اپنے فیصلے بدل دیتے ہیں مہمل"
"میں کمزور نہیں ہوں آغامگر وقت شاید میرا سارھ دینے سے انکاری ہے"
وہ نڈھال سی ہوکہ فرش پہ بیٹھتی چلی گئی اور نیم کے پیڑھ  سے افسردگی سے اپنے سر کیپشت ٹکادی آنکھوں کئے موتی ٹوٹ کے بکھرے تھے۔

"وقت کا کام ہے چلتے رہنا اچھا یا برا گزر ہی جاتا ہے اور پھر وقت تمہارے ساتھ نہیں مگر میں تمہارے ساتھ ہوں "
وہ اس نازک سی لڑکی کو بکھرنے نہیں دینا چاہتا۔
"آپکا شکریہ مگر ابو" ۔۔۔۔
"تم بس اپنی اسٹڈیز پہ دیہان دو بلکہ تمہاری ٹیوشن میں خود دونگا تمہیں"
وہ اسکے سر پہ ہلکی سی چپت رسید کرتے ہوئے گویآ ہوا۔
"سچ کامل آغا؟ ؟؟"
وہ ہاتھ بڑھاکہ اپنی ہتھیلی پھیلائے کامل سے وعدہ لینا چاہتی تھی۔ ۔

ایکدم پکا وعدہ اور جس مہمل کو میں جانتا ہوں وہ بزدل ہرگز نہیں ہوسکتی"۔۔

" میں بزدل نہیں ہوں بس مجھ سے منسلک رشتوں کی ناراضگی مجھے اور میرے فیصلوں کوکمزور کر رہی ہے "۔
وہ چہرا ہاتھوں میں چھپائےپھوٹ پھوٹ کے رودی۔ ۔
"مہمل ان آنسوئوں کو میری قبر پہ بہالینا مجھے عورت مضبوط اچھی لگتی ہیں۔ "
"خبردار جو آئندہ یہ بن موسم برسات کی تو ۔۔"
وہ کچھ اس انداز سے بولا تھا کہ مہمل یکدم ہنسی تھی جبکہ کامل نے اس کے سرخ گلابی گالوں پہ بہتے موتیوں کو اپنے ہاتھ کی پشت سے صاف کیا ابھی وہ پیچھے ہٹ ابھی نہیں تھا کہ جب یکدم گرجدار آواز گونجی تھی ۔

"یہ کیا ہورہاہے ادھر؟ ؟؟؟"
🌷🌷🌷🌷
جاری ہے ۔

تبصرا ضرور کریں😷کیسی لگی پہلی قسط؟؟؟
اگلی قسط کا دارومدار آپکے لائکس پہ ہے۔
اک گزارش/فرمائش جو بھی پڑھتا جائے لائک ضرور کرے میری حوصلہ افزائی کیلئے😍😘
خوش رہیں مجھے دعائوں میں یاد رکھیں
شکریا😇