تحریر ایمن نعمان
قسط نمبر 2
Dont copy paste without my permission 🌱🌱🌱🌱🌱🌱🌱
🌹🌹🌹🌹
"لگتا ہے بزرگوار کو اپنی جان پیاری نہیں ہے جبھی اتنی دیدہ دلیری سے سڑک پہ مٹر گشت کر رہا ہے"
پپو کے ساتھ فٹ پاتھ پہ بیٹھے سنی نے کہا اور سگریٹ میں چرس بھر کے سٹہ لگانے کی تیاری کرنے لگا ۔
دونوں ہی تقریباً ایک جیسے ہی تھے عادات میں چرس پینا ،جوا کھیلنا، چوری چکاری میں پیش پیش رہنا دونوں کے پسندیدہ مشاغل تھے ۔۔
حال و ہولیا دونوں کا ہی ابتر چرسی اور موالیوں سے بھی بدترین تھا ۔
سڑک پہ سے گزرتی ہر ایک لڑکی کو دیکھ کے سیٹیاں مارنا، آہیں بھرنا ،جملے کسنا اور زور زور سے گانے گا گا ادھم دھاڑی کرکہ تنگ کرنا پپو کے لیے خوراک کا باعث تھا وہ بھوکا رہ سکتا تھا مگر اپنی یہ اوچھی چھچوری حرکات اور سکنات ہرگز نہیں چھوڑ سکتا تھا ۔۔۔
یہ سب کچھ ان دونوں کے لیے ایک عام سی بات تھی ۔حد یہ تھی کہ اس سڑک کو دونوں نے اپنی جاگیر بنا ڈالا تھا ۔پچھلے کچھ عرصے سے یہاں مستقل ڈیرا ڈال بہٹھے تھے۔
ابھی دونوں نے چوری چکاری کے علاوہ کوئی ایسا کارنامہ سرانجام نہ دیا تھا جس کی وجہ سے وہ اس علاقے کے حاکموں کی نظر میں آتے مگر دونوں ہی سے علاقہ کے آس پاس کے لوگ شدید پریشان تھے سنی تو پھر لحاظ کر جاتا تھا مگر پپو تو گویا آنکھوں میں ایکسرے فٹ کروا چکا تھا ہرگزرتی لڑکی کا جب تک مکمل ہر طرح سےاوپر سے نیچے تک ایکسرے نہ کر لیتا تب تک مانو اس کی آنکھوں اور کلیجے کو ٹھنڈ نہ پڑتی ۔۔۔
"ابے چھوڑ اپنی یہ اونگیاں بونگیاں مارنا جانتا ہوں تو میرے حصے کی بھی سگریٹ سٹکنا چاہتا ہے"
پپو نے چرس سے بھری بتی بنی سلگتی ہوئی سگریٹ کو جھپٹنے کے انداز میں لیاسنی سے ۔۔۔
"او تیرے دماغ پہ کیا پئے بغیر ہی چڑھ گئی ہے دیکھ تو ذرا سامنے وہ بوڑھا اندھا ہے یا پھر لنگڑا شاید تبھی تو اسکو سامنے چلتا ٹریکٹر نظر نہیں آ رہا ۔۔۔۔"
پپو نے آنکھیں مسل کر سامنے دیکھا جہاں ایک بزرگ ہاتھ میں راشن کا بڑا سارا تھیلا لیے گرتے پڑتے لنگڑاتے ہوئے کُرتےکے نیچے دھوتی پہنے جبکہ سر پہ چیک کا سفید اور گلابی رنگ کا صافہ باندھے پتھریلی سڑک پہ لنگٰڑا لنگڑا کے چلتے چلے جا رہے تھے۔ اس بات سے بے خبر کہ سامنے سے ٹریکٹر گزر رہا ہے سڑک کی دوسری طرف پڑا ملبہ اٹھانے کے لئے۔ مگر یہ کیا تھا وہ دونوں سمجھ رہےتھےکہ وہ شخص نابینا ہے جبکہ سامنے سے آتا شخص لنگڑا تھا ۔ایک ٹانگ سے چل نہیں سکتا تھا ۔دائیں ہاتھ میں چھڑی تھامےاور دوسرے ہاتھ میں راشن کا بھرا تھیلا لئے وہ خود کو بڑی مشکل سے سڑک پہ دھکیل رہا تھا شاید اسکو ٹریکٹر سے پہلے سڑک کو کراس کرنے کی جلدی تھی۔
وہ شخص اب ٹریکٹر سے کچھ ہی فاصلے پر تھا جبکہ ٹریکٹر چلانے والا ڈرائیور شاید نشے میں دھت ہوکر ڈرائیونگ کر رہا تھا ۔جو بزرگ کو دیکھ کر بھی ٹریکٹر روکنے کے بجائے چلائے ہی چلا جا رہا تھا اوپر کو ۔۔۔
پپو سے آخری کار رہا نہ گیا اور وہ بزرگ کی جان بچانے کی غرض سے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر اس شخص تک پہنچا تھا ۔اس دوران وہ ان صاحب کو تو بچا گیا تھا مگر خود کی جان کے ساتھ کھیل گیا ۔
پپو سڑک پہ ہوش و خرد سے بے گانا بے سدھ پڑا ہوا تھا۔ میلی کچیلی کمیز پہ اب جگہ جگہ خون کے دھبے تھے۔پیشانی سےبھی خاصہ خون رس رہا تھا اسکی۔۔۔۔۔
🌹🌹🌹🌹
"ابھی ابھی خبر ملی ہے کہ ایک مشہور مزارکے پیر کا دیا ہوا لڈو کھانے سےدلہا شادی والی رات ہی اپنی جان گنوا ۔ وجہ دولہے کی ماں نے کچھ یہ بیان کی ہے کہ"
" پیر سائیں نے کہا تھا کہ اگر دلہا کو شادی کی پہلی رات یہ دم کئے لڈو کھلاؤ نگی تو وہ جلدی صاحب اولاد ہو جائے۔۔"
"یہی نہیں بقول دلہا کی ماں کہ دلہا کی یہ دوسری شادی تھی جوکہ اولاد نہ ہونے کی وجہ سے نبھا نہ ہو سکا اور شادی 6 سال چلنے کے بعد ختم ہوگئی "
"اوئی تیرے کی مل گیا مجھے ٹاپک"
" یہی پرفیکٹ رہے گا میری تھیسز کے لئے"
"زوئی یہ تو گڈ ہوگیا یار بس میں اسی پر اپنی تھیسز تیار کرو گی"۔۔
وہ چہکتی ہوئی زہرا کے گال پر جارحانہ انداز میں بوسہ دیتی گویا ہوئی۔
" دماغ کا علاج کرواؤ اپنے پتہ بھی ہے کہ یہ کس قدر خطرناک کام ہے ڈھنگ کا ٹاپک لو تھیسز کے لئے بے وقوفی مت کرو "
زہرا اس کے بچپن کی دوست تھی دونوں ایک دوسرے کے بغیر نہ رہتیں ۔ کبھی وہ زہرا کے گھر پائی جاتی تو کبھی زہرا اس کے گھر دھاوا بول دیتی اور آج بھی یہی ہوا تھا ایک ہفتہ زہرہ کی شکل نہ دیکھی تو وفا بلبلا کر اس کے گھر دندناتی ہوئی جا پہنچی تھی اور اب دونوں زہرا کی امی کے ہاتھ کی بنی مرغ کڑاہی سے مکمل انصاف کرنے کے ساتھ ساتھ ڈسکس بھی کر رہی تھیں۔
"چپ کر جاؤ تم زہرا میری مما کافی ہے روک ٹوک کرنے کے لئے سمجھی تم اب میری دادی اماں تو مت بنو"
وفا نے منہ بسور کے زہرا کو جھنجلا ئے لہجے میں کہا اور پھر کچھ سوچتے ہوئے گویا ہوئی۔
" مگر ایسے کیسے لڈو تھے کہ جس کے کھانے کی وجہ سے کوئی مر سکتا ہے ؟؟؟"
وہ ابھی تک اس خبر میں ہی الجھی ہوئی تھی ۔۔
"وفا میں اسی لیے کہہ رہی ہوں کہ تمہارے بس کا کام نہیں ہےیہ"
ذہرہ نے نرمی سے سمجھایا۔
" بہتر ہوگا زوئی کہ ہم کسی اور ٹاپک پر بات کریں"
وہ کہاں کان دھنے والی تھی۔
" تم براہ کرم اس کے بجائے کسی اور موضوع کو سلیکٹ کر کہ تھیسز پر کام شروع کرو!! دور رہو ان چکروں سے بلکہ ایک کام کرو اس خرافات کو ہی اپنے ذہن سے چھٹک کر دماغ کو اچھی طرح تیزاب سے واش کر لو خوامخواہ میں میرا بھی بھیجا خشک کروں گی اور اپنا بھی اور اب میرا سر مت دکھانا ۔۔۔"
" بالکل نہیں وفا کبھی بھی خود سے کیے عہد سے بے وفائی نہیں کرسکتی جب میرا نام وفا ہے تو میں کیسے خود سےکئے گئے وعدے سے بے وفائ کر بیٹھوں ؟؟؟"
وفا نہیں کہتے ہوئے بالکل فلاسفر والا لہجہ اختیار کیا اس کے اس اندازے گفتگو پہ زہرا بے ساختہ ہنسی تھی جبکہ وفا دوبارہ سے وہی نیو چینل جس کا نام حق انٹرٹینمنٹ تھا کو لگائے خبر کو غور سے سن اور دیکھ رہی تھی ۔۔
"وفا میں کہتی ہو بند کرو یہ مذاق کوئی معمولی فیصلہ نہیں ہے جو ایک دفعہ کرنے کے بعد اس پر نظر ثانی کرنا ضروری نہ ہو جانتی ہو کس قدر خطرہ ہے اور پھر طرح طرح کے لوگ بھی "
"تم کیسے کسی کے دل کا حال جان سکوگی اور پھرتم بھی اچھی طرح جانتی ہو کہ میری امی اس کام میں کبھی تمہارا ساتھ دینے کی اجازت نہیں دینگی اور میں اپنی امی کو اندھیرے میں رکھ کے کوئی بھی کام نہیں کرتی تمہیں پتا ہے بہت اچھی طرح ۔۔۔۔۔"
زہرانے وفا کو ہر ہر پہلو پر روشنی ڈال کے سمجھانا چاہا مگر جانتی تھی کہ وفا اپنے ارادوں کی کس قدر پکی ہے ۔
"او یار تم تو ایسی بات نہ کرو جب کہ تم یہ بہت بہتر جانتی ہوں کہ وہ وفا خطروں کی کھلاڑی ہے اور پھر جانی وہ مثال تو تم نے سنی ہی ہوگی کہ ڈر کے آگے جیت ہے "
"بند کرو یہ اپنے گھسے پٹے ڈائیلاگ میرے سامنے مارنا"
" تو تم اپنی بے جا ضد سے دستبردار نہیں ہو گی"
" نہیں ایک قدم بھی نہیں اس کے باوجود کے راستے خاردار ملینگےتمہیں وفا"
" راستوں کو گلاب کرنا بھی ایک فن ہے جو کسی کسی کو آتا ہے اور یہ فن میں ضرور سیکھنا چاہوں گی "
ترکی با ترکی جواب دیا ۔
🌹🌹🌹🌹
"کامل آغا مجھے واپس گھر جانا ہوگا ابو غصے میں ہے بہت"۔
"اور پھر وہ بھی ٹھیک کہتے ہیں بہت ہے میرے لئے اتنی تعلیم"
مہمل کی مرمری کلائی اب بھی کامل کے مضبوط ہاتھ کی گرفت میں تھی جب بنی۔ وہ تیزی سے اسکولئے حویلی کی داخلی سمت بڑھ رہا تھا۔چہرے پہ حد درجہ سنجیدگی رقم تھی جیسے خود کے غصے پہ قابو پانے کی ناکام کوشش کر رہا ہو۔
مہمل کے ہاتھ میں پہنی کالی چوڑیاں کامل کے مضبوط ہاتھ کی قید میں ٹوٹ چکی تھی۔ ۔
جب اچانک مہمل کی پرنم آواز سن کروہ تھما تھا اور ادھر قریب ہی نیم کے درخت کے نیچے ٹھنڈی چھاؤں میں رک گیا ۔وہ اب بہت غور سے محمل کو دیکھ رہاتھا۔ نہ جانےاسکے صبیح چہرے پہ کیا تلاش کر رہا تھا ۔۔
"کامیاب لوگ اپنے فیصلوں سے دنیا بدل دیتے ہیں اور کمزور لوگ دنیا کے خوف سے اپنے فیصلے بدل دیتے ہیں مہمل"
"میں کمزور نہیں ہوں آغامگر وقت شاید میرا سارھ دینے سے انکاری ہے"
وہ نڈھال سی ہوکہ فرش پہ بیٹھتی چلی گئی اور نیم کے پیڑھ سے افسردگی سے اپنے سر کیپشت ٹکادی آنکھوں کئے موتی ٹوٹ کے بکھرے تھے۔
"وقت کا کام ہے چلتے رہنا اچھا یا برا گزر ہی جاتا ہے اور پھر وقت تمہارے ساتھ نہیں مگر میں تمہارے ساتھ ہوں "
وہ اس نازک سی لڑکی کو بکھرنے نہیں دینا چاہتا۔
"آپکا شکریہ مگر ابو" ۔۔۔۔
"تم بس اپنی اسٹڈیز پہ دیہان دو بلکہ تمہاری ٹیوشن میں خود دونگا تمہیں"
وہ اسکے سر پہ ہلکی سی چپت رسید کرتے ہوئے گویآ ہوا۔
"سچ کامل آغا؟ ؟؟"
وہ ہاتھ بڑھاکہ اپنی ہتھیلی پھیلائے کامل سے وعدہ لینا چاہتی تھی۔ ۔
ایکدم پکا وعدہ اور جس مہمل کو میں جانتا ہوں وہ بزدل ہرگز نہیں ہوسکتی"۔۔
" میں بزدل نہیں ہوں بس مجھ سے منسلک رشتوں کی ناراضگی مجھے اور میرے فیصلوں کوکمزور کر رہی ہے "۔
وہ چہرا ہاتھوں میں چھپائےپھوٹ پھوٹ کے رودی۔ ۔
"مہمل ان آنسوئوں کو میری قبر پہ بہالینا مجھے عورت مضبوط اچھی لگتی ہیں۔ "
"خبردار جو آئندہ یہ بن موسم برسات کی تو ۔۔"
وہ کچھ اس انداز سے بولا تھا کہ مہمل یکدم ہنسی تھی جبکہ کامل نے اس کے سرخ گلابی گالوں پہ بہتے موتیوں کو اپنے ہاتھ کی پشت سے صاف کیا ابھی وہ پیچھے ہٹ ابھی نہیں تھا کہ جب یکدم گرجدار آواز گونجی تھی ۔
"یہ کیا ہورہاہے ادھر؟ ؟؟؟"
🌷🌷🌷🌷
جاری ہے ۔
تبصرا ضرور کریں😷کیسی لگی پہلی قسط؟؟؟
اگلی قسط کا دارومدار آپکے لائکس پہ ہے۔
اک گزارش/فرمائش جو بھی پڑھتا جائے لائک ضرور کرے میری حوصلہ افزائی کیلئے😍😘
خوش رہیں مجھے دعائوں میں یاد رکھیں
شکریا😇


0 comments:
Post a Comment