Saturday, June 1, 2019

kabhi toh pass mere ao by aymen nauman episode 3


کبھی تو پاس میرے آو 🌷
تحریر ایمن نعمان۔
قسط نمبر٣
💞💞💞💞
ساری تیاری مکمل ہے نا ؟؟
بس اس لڑکی کے ہوش میں آتے تم لوگ اپنا کام شروع کردینا آج ہر حال میں مال سیٹھ تک پہچنا ہے۔۔۔
تبریز نے مکاری سے کہا اور کمرے پہ ایک طائرانہ نظر ڈالی تیاری ساری مکمل تھی بیڈ کے قریب کیمرا مین اور دو اور آدمی اسکے موجود تھے اس کام میں ماہر۔
آہستہ آہستہ اس لڑکی کو ہوش آنا شروع ہوا تھا وہاں موجود افراد کے چہروں پہ اک شاطرانہ شیطانی چمک ابھری تبریز نے جانی کو کیمرا اسٹارٹ کرنے کا اشارہ کیا اور خود بیڈ پہ کودنے کے انداز میں بیٹھ کر اسپہ جھکا اور اپنا غلیظ کام شروع کیا۔
وہ لڑکی اپنے چہرے کے قریب تیز ترین فلیش لائٹ کو جلتا محسوس کر ہوش میں آئی۔۔۔
"ہٹو مجھےجھوڑ دو"
"کک۔۔۔کون ہو تم لوگ ؟؟؟ اور ۔۔۔اور امی کہاں ہیں میں توانکے ساتھ تھی ۔۔۔"
"ہاہاہا مگر اب تو تو ہمارے ساتھ ہے اور آجکے بعد ساری دنیا تجھے چاہے گی"
ان میں سے وہاں موجود ایک آدمی خباثت سے بولا۔۔۔۔۔
"ؓمم۔۔مم۔۔ مجھے جانے دیں رحم کریں"۔۔۔
وہ اپنا آپ بری طرح سے اس سے چھڑانے کی کوشش کررہی تھی آنکھوں سے خوف کے مارے بھل بھل عشک رواں تھے۔۔
اگر تجھ پہ رحم کھایا تو میری اندھیری رات کو چاندی کون کرے گا؟؟؟؟
وہ اسکے لبوں پہ انگشت شہادت پھیررہاتھا۔
"میں بھی کسی بیٹی کسی کی بہن ہوں خدارا یہ غضب نہ کریں"۔۔
"بہن، بیٹی ہا  ہاہا سب معلوم ہے مجھے چل اب وقت برباد مت کر مجھے خوش کرنے کی تیاری پکڑ شاباش "۔۔
"یہاں آئی توتم اپنی مرضی سے ہو مگر اب جاوگی میری مرضی سے"۔۔
وہ اپنی آنکھیں اس کے مرمری سراپہ پہ جمائےایک ہاتھ اسکی کمر کے گرد لپیٹے جبکہ دوسرے ہاتھ سے اسکےبالوں کو بےرحمی سے جکڑے تمام حدود اور قیود پھلانگنے کو تھا۔۔

"تیری اس خوبصورتی کو خراج بخشنا میرا فرض بھی ہے اور حق بھی۔۔۔۔"
یکایک نہ جانے کیسے امید کے جسم میں پھرتی سی سماگئ اسنے پوری قوت سے تبریز کو پرے دھکیلا تھا مگر دوسرے پل ہی دو آدمی استک پہچے تھے اور اسکو بری طرح جکڑا تھا۔۔
زبردست اب تو دیکھ ہم کیسے کیسے سارے ملکر تیری بلیو فلم بنائینگے !!!
 اور پھر وہ ہوا جو امید کی سوچ میں بھی نہی تھا وہ تو ماں کے ساتھ ڈیرے پہ خود پہ ہوئےکالے جادو کا اتار کروانےآئ تھی۔
اور ادھر تو اسکی دھجیاادھیر دی گئی تھیں۔۔


💞💞💞💞💞💞

کوئی جانتا ہے یہ کون ہے؟؟
"  یہ بدقسمت میری جگہ خود آج اس حال میں پہنچ گیا ۔۔"
"کوئی تو مدد کرو اس بیچارے کی مرجائیگا یہ"
 بزرگ نے تماشہ دیکھتے ارد گرد کھڑے لوگوں سے دریافت کیا ۔یہ سوچ کر  کہ شاید کوئی اس کے گھر کا پتا جانتا ہو۔۔۔

" نہیں ہم نہیں جانتے شکل سے تو بھکاری لگ رہا ہے پکا "
"اچھا ہوا ایسوں کے ساتھ یہی انجام ہوتا ہے اور ہونا بھی کیا تھااس جیسے سڑک چھاپ غنڈا گردی کرنے والوں کا ۔"
ایک درمیانی عمر کے آدمی نے نخوت سے کہا۔۔

" ارے میرے پپو تو کہاں چلا گیا مجھے اس بھری جوانی میں اکیلا چھوڑ کر؟؟"
"بتا اب کون بجائے گا میرے ساتھ بانسریا ؟؟؟"
" بول میرے جگرے!  بتا نہ کچھ تو بول میرے گھی کے پکوڑے"
سنی البتہ پپو پہ جھکا گلا پھاڑ پھاڑ کر بین کر رہا تھا ۔۔
"اے بیٹا اس لڑکےکو کیا تم جانتے ہو؟"
" یہ کون ہے اور کہاں سے آیا ہے یا اس کا گھر باہر کہاں ہے؟؟"۔
 بزرگ کو لگا شاید اب کوئی حل نکل آئے اس مسئلے کا۔
" یہ میرا پپو ہے اور ہم دونوں کا گھر یہی تو ہے یہ سڑک"
" ہم یہیں تو سوتے ہیں اور ادھر ہی رہتے ہیں کھاتے پیتے ہیں عیش کرتے اور ساتھ میں لڑکیاں بھی۔ ۔۔۔۔۔"
 سنی اپنے بہکے بہکے انداز میں گویا ہوا نشے کی وجہ سے وہ اپنے آپ میں ہی نہیں رہا تھاجو سمجھ آرہاتھا وہی ہانکے چلا جارہاتھا ۔
یہ سب باتیں سنی سےسننے کے بعد وہ بہت کچھ اندازہ لگا چکے تھے اور کچھ سوچتے ہوئے انہونے وہاں سے گزرتے ایک رکشے کو ہاتھ دیکر روکا۔
 اب مزید ان سے لمحہ بہ لمحہ پپو کی ابتر ہوتی حالت دیکھی نہ گئی اور وہ رکشے میں اس کو لوگوں کی مدد سے بٹھا کر مرہم پٹی  کروانے کی غرض سے اپنے محلے کے قریبی ڈاکٹرکے کلینک کی طرف روانہ ہوگئے ۔۔۔۔
💞💞💞💞💞💞

"ارے میری بچی تم پریشان کیوں ہوتی ہو میں تمہیں بھائی صاحب کے پاس کوئٹہ ہمارے آبائی علاقہ بھیج دیتا ہوں وہاں پہ کئی مزارات اور ڈیرے وغیرہ ہیں اور پھر سنا ہے کہ ایک بہت مشہور کراماتی بابا کا مزار بھی ہےوہاں جن کے دم درود سے لوگوں کا عقیدہ ہے کہ سب اچھا ہو جاتا ہے "

منصور صاحب نے بیٹی کے گرد بازو حمائل کرکہ گویا اسکی حمایت میں بولنا شروع کیا جبکہ وفابڑے مزے سے باپ سے لاڈ اٹھوانے میں مصروف تھی۔

"اب بتاؤ بھلا خدا کے حکم کے بغیر کبھی پتہ بھی ہلا ہے کیا؟؟یہ سب لوگوں کے کچے ایمان اور عقیدے ہیں استغفراللہ "
"اب تو ہر گلی نکڑ پہ کوئی نہ کوئی پیر فقیر بابا نظر آ جاتا ہے اپنےڈراموں کا پوٹلا کھولے "
محوش بیگم بھڑک اٹھیں شوہر کے بیٹی کو اسقدر شہہ دینے پہ۔
"اور نہیں تو کیایہ صرف اور صرف ہم جیسے لوگوں کی وجہ سے ہی تو اپنےاس فریب کے  کام میں پروان چڑھ رہے ہیں ۔۔۔"
"مما آپ بلکل ٹھیک کہہ رہی ہیں آپی کا تو اوپر کا حصہ بلکل ہی خالی ہے !!اچھا مما میں ابھی معاز کی طرف جارہاہوں کم بائن اسٹڈیز کیلئے"
وہاں سے گزرتے بابر نے ہانک لگائی مانو جلتی پہ تیل کا کام کرڈالا اور زبان چڑھاتا یہ جا وہ جا ۔۔۔

"دیکھ لیں میرے بیٹے کو مجال ہے کبھی میری بات سے انکار کرےکسی اور اک یہ ہے آپکی چہیتی"
بابر کی لگائی آگ اب مکمل طرح بھڑک اٹھی تھی وفا دانت پیس کے رہے گئی چھوڑنا تو اسنے بھی نہیں تھا اسکو۔۔۔

"ارے  بیگم میں یہ کب کہہ رہا ہوں کہ پیروں کی پھونکوں سے سب ٹھیک ہو جاتا ہے مگر کچھ اللہ کے نیکوکار بندے بھی تو ہوتے ہیں جن کی دعاؤں سے ہمارے بگڑے کاموں میں بہتری آتی ہے وہ بھی صرف  خدا تعالیٰ کے حکم سے "
"اور پھر کیا آپ نہیں جانتی کہ میرے خود کے دادا بھی تو لوگوں کو پڑھا ہوا پانی دم کرکے دیا کرتے تھے ؟؟؟
"جی جانتی ہوں مگر آپ کے دادا کا ایمان خدا پہ تھا وہ اللہ کا کلام لوگوں کو ان کے مسائل کے لئے پڑھنے کی تاکید کرتے تھے خدا کے کلام کو پڑھ کے بیماروں کو دم کیا کرتے اور اللہ کے فضل  سے وہ دیندار تھے تب ھی ان کی دعاؤں میں بھی برکت اور تاثیر تھی آج کل کے جعلی پیر کیا آپ نہیں جانتے ان کو ؟؟"

"ٹھیک کہہ رہی ہیں آپ بجا فرمایا بالکل محوش بیگم !! میں آپ کی بات سے سو فیصد اتفاق کرتا ہوں چلئے آپ کی پریشانی بھی ا بھی دور کیے دیتے ہیں "
وہ اطمینان سے گویا ہوئے۔

"کیا مطلب وفاکہیں  آپ کو جانے کی اجازت تو نہیں دے رہے نا" ۔
وہ مشکوک ہوئیں ۔

"پریشان مت ہو ہماری بیٹی بھائی صاحب کے گھر جائے گی وہیں قیام پذیر رہے گی جب تک اسکا کام مکمل نہیں ہو جاتا "

"بھائی صاحب رہنے دیں بس "
 مجھے ایک نظر نہیں بھاتے آپ کے وہ مغرور چچا زاد بھائی اور ان کی بیگم صاحبہ مجال ہے جو دونوں میاں بیوی اپنے آگے کسی کو خاطر میں لائے ہوں کبھی "
 ارے بیگم آپ تو خاصی ہلکان ہو رہی ہو خوامخواں میں ۔سوچئے ذرا ایک دفعہ پھر سے وہ اس علاقہ میں رہائش پذیر ہے اور سب سے فائدہ مند بات یہ ہے کہ وہ ہمارے علاقے کے حاکم میں ہیں۔ دور دور تک ان کے فیصلوں کی بجا آوری کی جاتی ہے ۔تو اب  یہ غرور اور تکبر تو ان پر اور ان کی زوجہ محترمہ پہ ججتا ہی ہے ۔۔"
منصور صاحب ڈٹ گئے وہ مطمعین تھے کیونکہ انکے چچا زاد بھائی خاصے اسر و رسوق والے تھے اور وفا کو وہ کبھی بھی تھیسس کیلئے مزاروں کی خاک نہ چھان دیتے اور یوں وفا کا دل اچاٹ ہوجانا تھا اور انکے رہن سے گھبراکر اسنے واپس آجانا تھا ۔

"تو ہم کون سے کوئی کمایا ہے ان کے مقابلے میں؟؟ خیر سے اچھا کھاتے کماتے ہیں حلال رزق خدا کے فضل و کرم سے میسر ہے ہمیں اور خیر سے الحمدللہ
ہزار گز کا ہمارا گھر ہے ۔اسپئر پارٹس کی کئی فیکٹریاں ہیں ہماری تو پھر ہم اور ہماری سر پھری صاحبزادی میں تو نخرے نام کو نہیں بلکہ بٹیا رانی تو ہماری خیر سے انسانیت کی علمبردار شدید محبت کرنے والوں میں سے ہے"

محوش بیگم نے شوہر منصور احمد کو اچھی طرح سے لیکچر دے ڈالا۔

" ارے بھئی آپ یہ کیوں بھول جاتی ہیں کہ ہمارا تعلق پڑھے لکھے معاشرے سے ہے اور وہ ٹھہرے غیر تعلیم یافتہ لوگ مگر یقین مانو ہماری اکلوتی بیٹی کا بخوبی خیال رکھیں گے"

وفا اپنے اماں اور ابا کو الجھتا دیکھ وہاں سے خاموشی سے رخصت ہو چکی تھی جانتی تھی اب مقدمہ اس کے بابا لڑ رہے تھے اس کے لئے ۔بس پھر کامیابی تو پکی تھی۔
 وہ مسرور سی ہوئی زہرا کو بریکنگ نیوز دینے چل پڑی ۔۔۔
💞💞💞💞💞
"واہ یہاں تو عشق معاشقے چل رہے ہیں۔"
جابر آنکھوں میں عجیب سی چبھن لئے گویا ہوا لہجہ آگ برسارہا تھا۔
کیا ہورہا ہے یہ سب؟؟؟؟وہ مہمل کو تمسخر اڑاتی نظروں سے گھور رہا  تھا
جابر اپنی حدود مت پھلانگو
نن ۔۔۔۔ نہیں جابر آغا ایسا کچھ نہی ہے۔۔۔
مہمل سراسیما سی اٹھ کھڑی ہوئ بوکھلاہٹ میں سر پہ اوڑھا دوپٹہ فرش پہ ہی گر گیا۔۔
آئندہ یہ مجھے تمہارے سر سے ڈھلکا ہوا نہ دکھے مہمل یاد رکھنا اور ا ب جائو تم جاناں کے پاس میں آرہا ہوں وہاں۔
آخری جملہ کامل نے جابر کو شعلے برساتی نظروں سے دیکھتے ہوئے چبا چبا کر کہا جبکہ مہمل منہ پہ ہاتھ رکھے روتی ہوئی حویلی کی داخلی روش پہ بھاگی تھی۔
"کیا بات ہے اتنی جی حضوری مجھے بھی سکھادو یہ ہنر "
"ویسے بری نہیں ہے میں سوچ سکتا ہو کچھ کیو سہی کہہ رہا ہوں کہو گے تو پریکٹیکل کر کے دکھا سکتا ہوں"
وہ گھنی مونچھوں کو تائودینے لگا
"اپنی اوقات میں رہو جابر اور مہمل سے جتناہوسکے دور رہو"
کامل کا خون کھول اٹھا ۔
"کام ڈاون تم تو شادی شدا ہو میرے پاس خیر سے آپشن باقی ہے"
جابر نے کامل کی آنکھوں میں دیکھ کہ جتایا۔
اور اسکا شانا تھپتپا کہ آگے بڑھ گیا۔۔۔
💞💞💞💞💞💞
جاری ہے۔
میرے پیارے پیارے ریڈرز ناول پڑھنے کے بعد زرا لائک کرکے اپنی موجودگی کا احساس دلائیں۔😷

0 comments:

Post a Comment