Sneak peak of Basilsila e ta azal
By zeenia sharjeel
"وہی رکو، دروازہ بند کرو اور واپس روم میں آؤ"
اس نے کمرے سے جانے کے لئے پر تولے، تو اپنے عقب سے آنے والی آواز پر اسے روکنا پڑا۔۔۔ وہ بیڈروم کا دروازہ بند کر کے اس کے پاس آئی۔ ۔۔۔
"اب بولو کیا کہنے آئی تھی"
اس کا بازو تھام کر اسے صوفے پر بیٹھا کر، خود کونے میں رکھی چیئر کو اسکے سامنے رکھ کر،، اس پر بیٹھتا ہوا وہ اس سے پوچھنے لگا
"آج آپ کا ہاتھ زخمی ہوگیا تھا تو یہ آئینٹمینٹ دینے آئی مگر آپی مجھ سے پہلے ہی آپ کے زخموں پر مرہم رکھ چکی ہے اس لیے واپس جا رہی تھی"
وہ نظریں جھکائے اسے اپنے آنے کی وضاحت دے رہی تھی اور وہ اس کی ناک میں سجے چاندی کا تار غور سے دیکھ رہا تھا جس کا آج ہی اضافہ ہوا تھا اور یہ چینج سامنے چیئر پر بیٹھے اس شخص کو کافی اچھا لگ رہا تھا
"اتنی بے اعتباری آخر کیو ہے تمہیں،، اس دن ہوٹل میں مایا کو دیکھ کر بھی تم نے اوور ری ایکٹ کیا تھا۔۔۔ آج سیرت کو دیکھ کر بھی تم شک و شبہات میں گِھر رہی ہو۔۔۔ لگتا ہے اب تمہیں اعتبار دلانا ہی پڑے گا" بولنے کے ساتھ ہی اس کی ناک میں ڈلا تار آئستہ سے کھینچا۔۔۔ جس پر اس کی ہلکی سی چیخ کے ساتھ ننھی سی خون کی اک بوند بھی ناک سے نکل آئی
"یہ کون سا طریقہ ہے اعتبار دلانے کا"
اپنی ناک پر ہاتھ رکھ کر وہ ایک دم کھڑی ہوئی۔۔۔ اس کو اٹھتا دیکھ کر وہ بھی اٹھا اور اس کا ہاتھ ناک سے ہٹایا
"یہ اعتبار دلانے کی کوشش نہیں بلکہ تمہارے فضول سے شک کرنے کی سزا ہے اعتبار تو میں اب دلانے لگا ہو"
اسکا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھامے وہ اس کے گلابی ہونٹوں کو دیکھ کر بولا
By zeenia sharjeel
"وہی رکو، دروازہ بند کرو اور واپس روم میں آؤ"
اس نے کمرے سے جانے کے لئے پر تولے، تو اپنے عقب سے آنے والی آواز پر اسے روکنا پڑا۔۔۔ وہ بیڈروم کا دروازہ بند کر کے اس کے پاس آئی۔ ۔۔۔
"اب بولو کیا کہنے آئی تھی"
اس کا بازو تھام کر اسے صوفے پر بیٹھا کر، خود کونے میں رکھی چیئر کو اسکے سامنے رکھ کر،، اس پر بیٹھتا ہوا وہ اس سے پوچھنے لگا
"آج آپ کا ہاتھ زخمی ہوگیا تھا تو یہ آئینٹمینٹ دینے آئی مگر آپی مجھ سے پہلے ہی آپ کے زخموں پر مرہم رکھ چکی ہے اس لیے واپس جا رہی تھی"
وہ نظریں جھکائے اسے اپنے آنے کی وضاحت دے رہی تھی اور وہ اس کی ناک میں سجے چاندی کا تار غور سے دیکھ رہا تھا جس کا آج ہی اضافہ ہوا تھا اور یہ چینج سامنے چیئر پر بیٹھے اس شخص کو کافی اچھا لگ رہا تھا
"اتنی بے اعتباری آخر کیو ہے تمہیں،، اس دن ہوٹل میں مایا کو دیکھ کر بھی تم نے اوور ری ایکٹ کیا تھا۔۔۔ آج سیرت کو دیکھ کر بھی تم شک و شبہات میں گِھر رہی ہو۔۔۔ لگتا ہے اب تمہیں اعتبار دلانا ہی پڑے گا" بولنے کے ساتھ ہی اس کی ناک میں ڈلا تار آئستہ سے کھینچا۔۔۔ جس پر اس کی ہلکی سی چیخ کے ساتھ ننھی سی خون کی اک بوند بھی ناک سے نکل آئی
"یہ کون سا طریقہ ہے اعتبار دلانے کا"
اپنی ناک پر ہاتھ رکھ کر وہ ایک دم کھڑی ہوئی۔۔۔ اس کو اٹھتا دیکھ کر وہ بھی اٹھا اور اس کا ہاتھ ناک سے ہٹایا
"یہ اعتبار دلانے کی کوشش نہیں بلکہ تمہارے فضول سے شک کرنے کی سزا ہے اعتبار تو میں اب دلانے لگا ہو"
اسکا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھامے وہ اس کے گلابی ہونٹوں کو دیکھ کر بولا


0 comments:
Post a Comment