Sneak peak of basilsila e ta azal
By zeenia sharjeel
By zeenia sharjeel
"کیا بول رہی ہوں ذرا پھر سے بولو"
اس نے نازک سے بازو کو سختی سے پکڑتے ہوئے استفسار کیا جس پر سبز آنکھوں نے حیرت سے اس کو دیکھا اس کے سخت ہاتھوں کی انگلیاں،، ملائم سے بازو میں گڑ رہی تھی اب اس کو رونا آنے لگا وہ چپ کر کے گاڑی میں بیٹھ گئی
"دوپٹہ کھول کے لو بازو ڈھکو اپنے"
خود بھی گاڑی میں بیٹھتے ہوئے گلے میں پڑے دوپٹے پر تنقیدی نگاہ ڈالتا ہوا وہ گویا ہوا،، اس کی نظریں دودھیا بازو پر پڑے اپنے انگلیوں کے نشانات پر گئی،،، مگر وہ اس وقت ترس کھانے کے موڈ میں ذرا نہیں تھا۔۔۔
اس نے پورا دوپٹہ کھول کر اپنے بازوؤں کو ڈھکا اور سبز آنکھوں میں آئی نمی صاف کی
"بال باندھو اپنے اور لپ اسٹک بھی صاف کرو"
اس کی آواز پر سبز آنکھوں نے ایک بار پھر شکوہ بھری نظر اس پر ڈالی، جس سے مقابل پر کوئی فرق نہیں پڑا بلکہ اس کی طرف ٹشو بڑھایا جسے چپ کرکے تھام کر اپنے ہونٹوں پر رگڑنے لگی اور بالوں کا جوڑا بنالیا


0 comments:
Post a Comment