#ایمن_نعمان 📝
قسط 8
آج آئشہ کی رخصتی کا دن تھا ۔۔۔۔
پورا گھر افراتفریح میں رات کی تیاری کر رہا تھا ۔۔
ننھہ حمزہ اب پونے دو سال کا ہوچکا تھا اور ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں باتیں کرنے لگا تھا ۔
عائشہ کی رخصتی جو کہ نکاح کے ڈیڑھ ماہ بعد طہہ پائی تھی وہ آئمہ کی وجہ سے کافی تاخیر کا شکار ہو کے اب ہو رہی تھی ۔۔۔
عائشہ پیلے جوڑے میں سر پر اچھی طرح دوپٹہ ڈھانپ کر کمرے سے پالر جانے کے لئے نکلی تھی ۔۔۔
حمزہ بھی اس کا دامن پکڑے ساتھ ہی اس کے کمرے سے برآمد ہوا تھا ۔۔۔
تالا دانی میں بھی آپتے چھاتھ بوٹی پالر ڈاؤندا ۔۔۔۔!!
(خالہ جانی میں بھی آپ کے ساتھ بیوٹی پارلر جاؤں گا)۔۔۔۔۔
حمزہ عائشہ کی شرٹ کو کھینچتے ہوئے ضدی انداز میں بولا۔۔۔۔
خالہ کی جان میرا بس چلے تو میں آپ کو اپنے ساتھ لے جاؤ تمہارے خالو رومیوں کے گھر بھی ۔۔۔
مگر تمہاری نانی اور نانا کو اگر اس بات کی یا میرے ان نادر خیالات کی بھنک بھی پڑ گئی نہ!! تو وہ مجھے ابھی پالر بھیجنے کے بجائے ۔۔۔۔۔
اس رانجھا کو بلا کر ابھی کے ابھی رخصتی کردیں گے میری۔ ۔ ۔۔۔۔
وہ منہ بسورتے ہوئے کہتی حمزہ کو گود میں اٹھا چکی تھی ۔۔۔
توتا لہ دانی میں دب لومیو تالو آپتو لینے آیندے تب میں گھر کا دروازہ اندر سے بند تردوندا! !!
پھل تو وہ آپ تو نہیں لیدا چھکتے نا دہی؟ ؟؟؟
(تو خالہ جانی میں جب رومیو خالو آپ کو لینے آئیں گے تب میں گھر کا دروازہ اندر سے بند کر دوں گا پھر تو وہ آپ کو لے کر نہیں جا سکتے نہ بھئ؟ ؟)۔۔۔
حمزہ نے توتلی زبان میں آنکھیں پٹ پٹا پٹ پٹا کر کہا ۔۔۔
وہ پورے گھر میں سب کا لاڈلا چاہیدا بچہ تھا خاص کر عائشہ تو اس کی ہر جائز اور ناجائز بات مانتی تھی۔۔۔۔۔
جس کی وجہ سے عائشہ کی آئمہ سے شدید جھاڑ بھی اکثر پڑھتی رہتی تھی ۔۔۔۔
مگر حمزہ کی طرف کا پلڑھا زیادہ بھاری تھا۔۔۔۔۔
نانا نانی اور پھر ایک اکلوتی خالہ اس کی ہمیشہ ڈھال بن کے کھڑے ہو جاتے آئمہ کے سامنے ۔۔۔۔
جی نہیں آپ کی خالہ کے ساتھ آپ نہیں جاسکتے پارلر۔۔۔۔
اپ جاؤ اندر نانو یا نانی کا سر کھاؤ ۔۔۔
نئی مماں مجھے نانو تا شر نہیں تھانا ۔۔
مجھے تو تالہ دانی کے شاتھ ہی دانا ہے ۔۔
میں بھی دلہابنوندا ۔۔۔۔۔۔
(نہیں ماما مجھے نانو کا سر نہیں کھانا مجھے تو خالہ جانے کے ساتھ ہی جانا ہے بیوٹی پارلر میں بھی دولہا بنوں گا )۔۔۔۔
وہ اب باقاعدہ عائشہ سے لپٹ چکا تھا ۔۔۔۔
آپی لے چلو نا ۔۔۔
پلیز چھوٹا سا بچہ ہے میرا پارہ سا ۔۔۔۔
عائشہ نے اس کے پھولے پھولے سرخ گالوں کو تھپتھپاتے ہوئے گویا اس کی طرف سے سفارش کی تھی۔۔۔۔۔۔
کیا ہوا کیوں ہمارے شہنشاہ کا موڈ خراب کر رہے ہو؟؟؟؟؟؟
تم لوگ؟؟؟
بابا حمزہ کے رونے کی آواز سن کر صحن میں سے اندر لاؤنج میں آئے تھے۔۔
ہاتھوں میں حمزہ کے لیے چاکلیٹ اور بسکٹ تھے۔۔۔۔۔۔۔
کچھ نہیں بابا وہ بس یہ پارلر جانے کی ضد کر رہا ہے۔۔۔۔
ائمہ نے آہستہ سے کہا کہ بابا حمزہ کو کبھی بھی رونے نہیں دیتے تھے ۔۔۔
حمزہ کی وجہ سے ائمہ کی بہت شامت آتی تھی ۔۔۔اگر وہ ذرا سا بھی حمزہ کو روتا دیکھ تے ائمہ کے ٹوکنے یا ڈانٹ لگانے کی وجہ سے تو پھر پورے گھر کی شامت متوقع ہوتی تھی لازمی ۔۔۔۔
ہاں تولے جاؤ۔۔۔۔۔۔
کسی کونے میں ہی بیٹھا رہے گا بیچارہ بچہ ۔۔۔۔
تم لوگوں کا کیا بگاڑے گا ؟؟؟؟
بابا نے چشمے کی اوٹ سے بیٹی کو دیکھتے ہوئے حکم صادر کیا ۔۔۔۔
مگر بابا ۔۔۔۔۔
ائمہ نے عائشہ کو دیکھا جو اب بڑے مزے سے اس گول گپے کو چاکلیٹ کھول کر دے رہی تھی ۔۔۔۔۔
اچھا ٹھیک ہے !!!
بابا کے قہر کو آواز دینے کے بجائے بہتری اسی میں تھی کہ اس کو ساتھ لے کر جایا جائے۔۔۔۔
چلو تم بھی اب ہمارے ساتھ۔۔۔۔
آئمہ نے دانت پیستے ہوئے عائشہ کو دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔
ماما آپ تالہ کو دیکھ کر گتہ کوں کرلی ہے ؟؟؟؟؟
(مما آپ خالہ کو دیکھ کر غصہ کیوں کر رہی ہیں؟؟)۔۔
حمزہ نے چاکلیٹ کھاتے ہوئے بڑے مزے سے پوچھا ۔۔
اس کی آواز اتنی اونچی ضرور تھی کہ کمرے میں جاتے ہوئے بابا نے پلٹ کر عائشہ کو گھورا تھا۔۔۔۔۔
نہیں نہیں میں تو غصہ نہیں کر رہی۔۔۔۔
ائمہ نے جلدی سے اپنے لاڈلے چہیتے بیٹے سے توتلی زبان میں کہا۔۔۔
ورنہ بابا کی طرف سے لازمی عزت افزائی ہونے کے چانسز حمزہ نے پیدا کر دیے تھے ۔۔۔
______
تمہیں شرم نہیں آئی ایک معصوم لڑکی کو اپنے انتقام کی بھینٹ چڑھاتے ہوئے؟؟؟؟
وہ رات کے ساڑھے بارہ بجے کے قریب گھر واپس آیا تھا ۔۔۔
ھولیہ بالکل اجڑا اجڑا اور بکھرا سا تھا۔۔
چہرے کے تاثرات ایسے تھے جیسے گھر کے کسی فرد سے کوئی سروکار تک نہ ہو۔۔۔۔۔
واپس چلے جاؤ اور آئندہ مجھے اپنی شکل مت دکھانا کیا ۔۔۔۔۔
اور نہ ہی مجھ سے بات کرنے اور میرے کمرے میں آنے کی زحمت کرنا ۔۔۔
حمزہ کچھ بھی کہے بغیر ماں کے پاس بیٹھ گیا اور محبت بھری نظروں سے ائمہ کو دیکھنے لگا جیسے روزمرہ کے روٹین کی باتیں ہوں جو آئمہ اس سے کر رہی تھی ۔،
حمزہ میں یہ تمہیں بتا رہی ہوں جو میں نے کہا ہے اس پر عمل کرنا ۔۔۔
یہی تمہارے حق میں بہتر ہو گا۔۔
وہ سیدھا اپنے کمرے میں جانے کے بجائے ماں کے کمرے کی طرف آگیا تھا۔۔۔۔
ٹھیک ہے میں واپس چلا جاتا ہوں مگر ۔۔۔
پھر یہاں سے اپنے کمرے میں بھی ہرگز نہیں جاؤں گا ۔۔۔
بلکہ اس گھر سے ہی چلا جاؤں گا۔۔۔۔۔
کبھی نہ واپس آنے کے لئے ۔۔۔۔۔
حمزہ کا لہجہ کچھ بکھرا بکھرا سا تھا آئمہ کا دل اندر سے کٹ کر رہ گیا ۔ ۔۔۔
کھانا کھاؤ گے ؟؟؟؟
ائمہ نے لہجے میں حد درجہ سختی سمو کر پوچھا۔۔۔۔۔
نہیں کھا چکا ہوں ۔۔۔۔۔
وہ بس اتنا کہہ کر لب بھینچ گیا ۔۔۔
آنکھیں بے خوابی کی چغلی کھا رہی تھی ۔
جیسے وہ کل کی پوری رات اور آج کا پورا دن جاگتا رہا ہوں ۔۔۔
کیوں کیا تم نے شفا کے ساتھ ایسا ؟؟؟؟
کیا قصور تھا اس معصوم لڑکی کا ؟؟؟؟
محض وہ بیس سال کی عمر میں تمہاری وجہ سے اپنی عزت کو سوالیہ نشان بنا بیٹھی۔۔۔
اس قدر تم میں نفرت بھری ہوئی ہے؟؟؟؟
ائمہ کی آنکھوں میں شدید دکھ حچکولے لے رہا تھا۔۔۔۔۔۔
اور آپ کی ذات جب سوال یہ نشانہ بنی تھی تب؟؟؟
تب کسی کو اس بات کا خیال نہیں آیا تھا؟؟؟؟
تم مجھے بار بار مت گھسیٹو۔۔
میری زندگی میں جو جو دکھ کاتب تقدیر نے لکھے تھے وہ مجھے مل گئے ۔۔۔
مگر میرا سوال یہ ہے کہ۔ ۔۔
اس سب میں اس معصوم بچی کو کیوں تم نے اپنے سوکالڈ انتقام کا نشانہ بنایا ؟؟؟؟
آئمہ کی آواز میں رنج بول رہا تھا۔۔۔
امی جو لوگ کسی کے بھی ساتھ غلط کرتے ہیں وہ کبھی بھی خوش نہیں رہتے۔ ۔۔
وقت ایسا مرہم ہے جو کسی نہ کسی دن کبھی نہ کبھی مظلوم پر اپنا مرہم ضرور رکھتا ہے ۔۔۔
اس کے لہجے میں بلا کا اعتماد بول رہا تھا ۔۔۔۔
مجھے نہیں پتہ کہ تم اس حد تک ضدی اور خود سر نکلو گے۔۔۔۔۔
امی بس یہ سمجھئے کہ میں آپ سے اتنی محبت کرتا ہوں کہ۔۔۔
اب آپ پہ بیتے ایک ایک مظالم کا حساب سود سمیت لونگا ۔۔۔۔۔
وہ ماں کے قدموں میں بیٹھے ہوئے بولا تھا ۔۔۔۔
محبت سے زیادہ عظیم عزت ہوتی ہے۔۔۔
جو کہ تم نے میری دو کوڑی کی کر چھوڑی ہے ۔۔۔۔
اگر آپ کو ایسا لگتا ہے ۔۔
تو پھر ٹھیک ہے میں کل ہی شفا سے نکاح کرکے رخصت کروانے کے لئے تیار ہوں ۔۔۔۔۔
ماں کی کہی آخری بات پہ وہ اندر سے بری طرح ٹوٹ سا گیا تھا ۔۔۔۔۔
فلحال ایسا کچھ بھی نہیں ہو سکتا ہے۔۔۔
کیونکہ شفا کا نروس بریک ڈاؤن ہوا ہے تمہاری وجہ سے۔۔۔
وہ اسپتال میں ہے دوپہر سے ۔۔۔۔
اور پھر تمہاری کیا گارنٹی ہے کہ تم اسے نکاح کرکے اس کو اپنے نکاح میں بھی رکھو گے ؟؟؟؟؟
یا پھر اپنے دل کو پرسکون کرنے کے لئے اس کو ایک دفعہ پھر تپتی ہوئی دھوپ میں بے یارومددگار چھوڑ بیٹھو گے ۔۔۔۔۔؟؟؟؟
ائمہ نے بہت گہری بات کہی تھی وہ حقدق سا رہ گیا تھا ۔۔۔۔
امی کیا آپ مجھے ایسا سمجھتی ہیں ؟؟؟
وہ دکھ سے ماں کو دیکھتے ہوئے بس اتنا ہی کہہ سکا ۔۔۔
نہیں میں تمہیں اس سے بھی زیادہ گری ہوئی حرکت سرانجام دیتس دیکھ چکی ہوں۔۔۔
اس لئے مجھے اب تم سے !! اس سے بھی بڑے بڑے تازیانوں کی امید ہے۔۔۔۔
جو کہ تم اپنے انتقام کی خاطر کچھ بھی کر گزرنے کے لیے خود سے عہد کر بیٹھے ہو ۔۔۔
تم اگر مجھ سے ذرا سی بھی محبت کرتے ہو تو ابھی اور اسی وقت جاؤ اور شفا سے معافی مانگو۔۔۔۔۔۔
میں صبح ہی تمہارے اور شفا کے رشتے کی بات کرتی ہوں ۔۔۔۔۔
معافی ؟؟؟؟؟؟؟
اس کے لبوں سے بہت آہستہ سے یہ چھوٹا سا لفظ پھڑپھڑایا تھا ۔۔۔۔
💕
اسلام وعلیکم انکل۔۔
دوسری بیل پہ دروازہ کھلا تھا اور اندر سے فجر کے بابا دروازہ کھول کر باہر آئے تھے۔۔۔۔
وعلیکم سلام۔۔۔۔۔!!
یہ کیا ہوا میری بچی کو ؟؟؟؟؟
انہوں نے ارمغان کے سلام کا جواب دیا اور پریشانی سے ارمغان کے بازو میں جھولتی فجر کو دیکھا۔۔۔۔۔
ان کے تو گویا ہاتھ پاؤں ہی پھول کر رہ گئے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔
انکل پلیز مجھے راستہ دیں تاکہ میں ان کو اندر لے جا سکوں۔۔۔۔۔۔
۔وہ گمبھیرلہجے میں بولا۔ ۔
معاف کرنا بیٹا میں پریشانی میں تھا ۔۔۔۔
انہوں نے جلدی سے معذرت خوانہ لہجے میں کہا اور اس کو اندر آنے کا راستہ چھوڑا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بابا کے ساتھ وہ فجر کو اندر اس کے کمرے میں لیٹا کر باہر آگیا تھا۔۔۔۔۔۔
بیٹا کیا ہوا ہے اس کو ؟؟؟؟
بابا نے اس کو پانی کا گلاس دیتے ہوئے پوچھا وہ ارمغان کو ڈرڈائننگ روم میں لے آئے تھے اور اب دونوں ایک دوسرے کے مدمقابل برجمان تھے ۔۔
پتا نہیں انکل۔۔۔۔!!
میں تو بس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کے بعد ان کو ارمغان نے صرف چند ہی لمحوں میں حرف بہ حرف تمام واقعہ کہہ سنایا ۔۔۔۔۔۔
وہ خود بھی یہ گتھی سلجھانا چاہ رہا تھا ۔۔
اس نے کہیں آگ تو نہیں دیکھی تھی؟؟؟
بابا نے سنجیدگی سے پوچھآ ۔۔
آگ؟ ؟؟؟
وہ ٹھٹک سا گیا ۔۔۔۔
ہاں بیٹا ۔۔۔۔۔۔
وہ اب بہت بے قراری سے ارمان کو دیکھتے اس کے جواب کے منتظر تھے۔۔۔۔
ہاں میں لائٹر جلا رہا تھا سگریٹ سلگانے کے لئے۔۔۔
مگر اس سب سے اس واقعے کا کیا تعلق؟؟؟؟؟
وہ الجھن آمیز لہجے میں استفسار کر رہا تھا ۔۔۔۔۔۔
بیٹا میری بیٹی فجر آگ سے بہت زیادہ خوفزدہ رہتی ہے ۔۔۔
وہ آگ کو جلتا ہوا دیکھ لے تو پھر اپنے حواسوں میں نہیں رہتی۔۔۔۔۔
میرے گھر میں کہنے کو تو ملازمہ کھانا بناتی ہیں مگر ۔۔
فجر سب کام اس کو کر کے دیتی ہے ۔۔
ملازمہ بس چولہے میں چمچا چلاتی ہے کیونکہ میری بیٹی کے دل میں ایک انجانا سا خوف ہے۔۔۔۔
جو وقت کے ساتھ ساتھ مزید بڑھتا چلا جا رہا ہے ۔۔۔۔۔
انکل اگر آپ برا نہ منائیں تو مجھے بتائیں گے کہ یہ سب کس خوف کی وجہ سے ہے ۔۔۔؟؟؟
میں ایک سائکیٹرسٹ تو نہیں ۔۔۔۔
ہاں مگر ایک ڈاکٹر ضرور ہو اور کئی ڈاکٹرز کے ساتھ میری سلام دعا بھی ہے ۔۔۔۔
بابا نے خاموش نظروں سے سامنے بیٹھے خوبرو جوان کو دیکھا۔۔۔ن۔ ۔
مگر اس کا چہرہ ان کو چاہ کر بھی کچھ بھی نہ بتانے سے بعض رکھ رہا تھا ۔۔۔
بابا۔۔۔۔
بابا ۔۔۔۔۔۔۔
بچاو مجھے ۔۔۔۔۔
بچاو مجھے ۔۔۔
ابھی وہ دونوں مزید کوئی بات کرتے کہ۔ ۔۔۔
فجر کے کمرے سے اس کی خوفزدہ چیخنے چلانے کی آوازیں آنا شروع ہوگئیں تھیں ۔۔۔۔۔۔
💕
بھائی کیا آپ کو بھی میری بات پر یقین نہیں ہے؟؟؟؟
شفا کو ہوش آ چکا تھا ۔۔
اس کی حالت اب خطرے سے باہر تھی ۔۔اس کو روم میں شفٹ کر دیا گیا تھا ۔۔۔۔
عمر فرش پہ جائے نماز بچھائے فجرکی نماز ادا کررہا تھا ۔۔۔۔۔۔
جیسے ہی سلام پھیرا شفا نے تڑپ کر بھائی سے بغیر کچھ بھی بولے صرف جھٹ سے ایک ہی سوال کیا۔۔۔
بچہ تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔۔۔
تم آرام کرو ۔۔۔
عمر نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا تھا ۔۔۔۔
نہیں بھائی آپ بتائیں نا پلیز ۔۔۔۔نن
ان دونوں کی باتوں پر سوہا بھی کرسی پر بیٹھی اونگھ رہی تھی ۔۔۔آواز سن کر بیدار ہو بیٹھی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔
بجو مجھے اور بھائی کو تمہاری باتوں پہ پورا یقین ہے ۔۔۔۔
بلکہ ہم سب کو پورا یقین ہے ۔۔۔۔
ہمیں پتا ہے یہ صرف ایک انسیڈنٹ تھا ۔۔۔
جو ہم لوگوں کو غلط سوچنے پر مجبور کر گیا ۔۔۔
سوہا نے بہن کا ہاتھ ہلاتے ہوئے دلاسہ دیا ۔۔
جبکہ عمر خاموش تھا بس بہن کو پرسکون کرنے کے لئے اس کا سر سہلا رہا تھا ۔۔۔۔
کئی سوچیں اس کے ذہن میں گردش کر رہے تھے ۔۔۔۔
💕
وہ دونوں بہنیں ننھے حمزہ سمیت پالر پہنچ چکی تھی۔۔۔۔
عائشہ تو برائیڈل سیکشن میں جا چکی تھی۔۔
جبکہ ائمہ بیٹھی ہوئی تھی سیٹنگ ایریا میں ۔۔۔۔
وہحمزہ کی مزے مزے کی باتوں پر مسکرا رہی تھی۔۔۔۔
کیسی ہو؟؟؟؟؟
اس کے برابر میں ایک عورت آکر بیٹھیں اور بغیر کسی بھی قسم کی تمہید باندھے وہ ائمہ سے مخاطب ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔۔
ائمہ نے چو نک کر اس کو دیکھا تھا۔۔۔۔۔
وہ پتھرا سی گئی۔۔۔۔
بھابھی پلیز ایک منٹ ۔۔۔۔
بس ایک منٹ ۔۔۔۔۔
وہ اپنی سابقہ نند کو اپنے روبرو دیکھ کر کچھ پریشان سی ہو گئی تھی ۔۔۔۔
اسنے کسی خوف کے زیر اثر معصوم حمزہ کو سختی سے خود سے قریب کیا اور سحر سے کچھ بھی کہے بغیر فاصلہ قائم کرکے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔۔۔۔
نہیں ہوں میں تمھاری بھابھی۔۔۔۔۔۔
تم کون ہو؟؟؟۔
میں یہ بھی نہیں جانتی ۔۔۔۔


0 comments:
Post a Comment