Thursday, May 30, 2019

sitamgar ko hum aziz by aymen nauman episode 9


#ستمگر_کو_ہم_عزیز

#ایمن_نعمان 📝

قسط 9
دیور جی نیگ تو میں نے وصول لیا ہے۔ ۔۔
مگر بس اب ایک آخری بہت خاص رسم باقی رہ گئی ہے ۔۔۔

غزل نے شرارتی انداز میں داود کو اور عائشہ کو دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔

جبکہ غزل سے چھوٹی سمیرا دلہن بنی عائشہ کا شرار ہ ٹھیک کر رہی تھی۔۔۔

 جو کچھ دیر پہلے کسی چیز میں پھنسنے کی وجہ سے موتیوں میں الجھ چکا تھا ۔۔۔۔۔

ارے بھابھی جلدی کہیں ۔۔۔
آپ کی ساری شرطیں منضور ہیں مجھے ۔۔۔

 ارے بھابھی کے دیور جی۔ ۔۔
 منضوری بعد میں دینا ۔
پہلے زرہ رسم کے بارے میں سن تو لو۔۔۔۔۔

 داؤد نے ایک بے قرار سی نظر اپنی سجی سنوری دلہن کے اوپر ڈھالی اور بے چارگی سے بھابھی کو دیکھا ۔۔۔۔
جیسے کہہ رہا ہو رحم کر دو اب تو ۔۔۔

تو آج کی رسم کے مطابق۔۔۔۔۔۔۔۔
 تم اپنی پیاری سی دلہن کو ذرا ہمارے سامنے۔۔۔۔
 یا چلوہم آنکھیں بھی بند کرسکتے ہیں ۔۔۔۔۔
غزل کے اوپر تو گویا شرارت کا بھوت سوار تھا ۔۔۔۔
وہ عائشہ کو دیکھتے ہوئے بولی ۔۔۔معنی خیز نظروں سے ۔۔۔۔

خوب اچھی طرح سے دیکھ لو اپنی دلہنیا کو۔ ۔۔
 اگر کوئی خاص بات کہنی ہےتو وہ بھی کان میں کہہ سکتے ہو ۔۔۔

غزل نے اپنی نشیلی آنکھیں پٹ پٹ گھماتے ہوئے کہا ۔۔۔

بھابھی آپ کتنی اچھی ہے۔۔۔۔
 میں تو سوچ رہا تھا یہ موقع میرے ہاتھ کمرے میں جانے کے بعد ہی مجھے ملے گا۔۔۔۔۔
 لیکن آپ نے تو مجھے کھلا میدان فراہم کر دیا ہے ۔۔
۔
وہ لبوں کو گول کرکے شوخ سی دھن بجاتے ہوئے عائشہ کو دیکھتے ہوئے بولا ۔۔۔

داود بھائی پہلے سن تولیں رسم کیا ہے ۔۔

سمیرا نے جیسے داود پہ ترس کھا کر اس کو کچھ سمجھانا چاہا ۔۔۔۔

ارے ہم کسی رسم وسم سے نہیں گھبراتے ۔۔۔
ہم تو وہ کھلاڑی ہیں !!جو ہاری ہوئی بازی بھی جیت جاتے ہیں ۔۔۔

وہ مزید پھیلا ۔۔۔

تو اس کا مطلب تمہیں ہماری رسم پہلے سے ہی منظور ہے ۔۔۔؟؟؟

اور نہیں تو کیا ۔۔۔
بالکل مجھے منظور ہے ۔۔۔۔

چلو پھر ایک کام کرو ذرا عائشہ کو اپنی گود میں اٹھاو ۔۔۔

نہیں بھابھی پلیز۔۔۔۔
 میں کچھ چلی جاؤں گی ۔۔۔

عائشہ نے جلدی سے شرما  کے داؤد کو دیکھا اور پھرغزل سے ہلکی آواز میں منمنائی ۔۔۔

نہیں بھئی رسمیں ہیں یہ تو اور رسمیں تو ہماری حویلی کی رونقیں ہیں ۔۔۔۔

داؤد نے بغیر وقت ضائع کئے عائشہ کو اپنی بانہوں میں بھر لیا اور اپنے روم کی طرف بھرنے ہی لگا تھا جب غزل کی آواز پہ اس کے قدم جم سے گئے ۔۔۔۔

ارے دیور جی یہ آپ کدھر چلتے بنے ؟؟؟؟

آپ کی دلہن رسم کے مطابق آج میرے ساتھ میرے کمرے میں سوئیں گی اور آپ کے ساتھ آپ کے بھائی اور بھتیجا سوئیں گے ۔۔۔۔
غزل نے بڑے مزے سے داود کے سر پر بم پھوڑا تھا ۔۔۔
کیا ؟؟؟؟
داود کو غزل کی کہی بات پہ جیسے یقین نہ آیا ۔۔۔۔
________
ہلکا سا کھٹکا کرکے وہ شفا کے بیڈروم میں آیا تھا۔۔
 شفاء ڈسچارج ہو کر گھر آ چکی تھی ۔۔۔۔
سمیرا  نازوں پلی بیٹی کو اپنےہاتھوں سے سو پ پلا رہی تھی ۔۔۔
آجاؤ حمزہ بیٹا وہاں کیوں کھڑے ہو؟؟؟؟

 سمیرا نے بالکل نارمل انداز میں ہمزہ کو مخاطب کیا۔۔۔
 جیسے گزرے دنوں میں کچھ ہوا ہی نہ ہو ۔۔۔۔

میں شفا سے تنہائی میں کچھ بات کرنا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔
 اسنے بغیر کسی حیل و حجت کے اپنا مدعا بیان کیا۔۔۔۔۔

 کیوں؟؟؟؟
 شفا نے ماں کے ہاتھ سے سوپ کا آخری چمچہ بھی پی کرختم کرتے ہوئے بے رخی سے پوچھا۔۔۔۔۔

 ماما آپ کہیں نہیں جائیں گی ۔۔
اگر کوئی جائے گا میرے بیڈروم سے تو وہ یہ ہے۔۔۔ آپ کا چاہیتہ۔ ۔۔۔!!

 وہ انگشت شہادت سے حمزہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے غصے اور اشتعال سے پرلہجے میں بولی ۔۔۔

میں آتی ہوں یہ رکھ کر۔۔۔۔
 سمیرا نے ہاتھ میں پکڑ اسوپ کا پیالا اور خوبصورسی سلور چھوٹی سی ٹرے  کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ۔۔۔
اور بغیر شفا کا کوئی بھی ردعمل دیکھے کمرے سے چلی گئی ۔۔۔۔

میں نے تم سے پہلے بھی کہا تھا مجھے چیلنج کرنا ہر گز کبھی بھی مت کرنا۔ ۔۔۔

وہ اس کے سرہانے کر سی کھسکا کر بیٹھ چکا تھا جبکہ سائیڈ ٹیبل پر رکھا پہن وھ اب بات کرتے کرتے مسلسل انگلیوں کے بیچ گھما رہا تھا ۔۔۔

کیوں آئے ہو میرے بیڈروم میں اب؟ ؟؟

 سکون نہیں ملا ابھی تک تمہیں؟؟؟
مزید اور کتنا برا کرو گے میرے ساتھ؟؟؟؟
 اتنا کافی نہیں ہے تمہارے لئے ؟؟
کہ ایک لڑکی کے پاک دامن پہ تم نے کیچڑ اچھال دی  میرےپاک صاف دامن کو داغدار کردیا۔ ۔۔۔

 اس کے گھر والوں کی نظروں میں اس کو سفر کر چھوڑا ؟؟؟؟

وہ بے خوفی سے کہہ رہی تھی کوئی بھی ڈر خوف اس کی آنکھوں میں موجود نہ تھا۔۔۔۔۔۔

 میرا خیال ہے کہ شاید تم میری اور اپنی عمرو ں کا درمیانی فرق بھول چکی ہو ۔۔۔

وہ ایسے بول رہا تھا جیسے شفا اتنی دیر سے بس کوئی اول جلول سی بکو اس کر رہی ہوں ۔۔

جبکہ اہم بات تو وہ تھی جو وہ کہہ رہا تھا ۔۔
شفاء اس سے پورے نو سال چھوٹی تھی ۔۔۔

بہت خیال ہے تمہیں اپنی اور میری عمر کے درمیانی فرک کا؟؟؟
 اس کے چہرے پہ سوائے نفرت کے کچھ نہ تھا!! حمزہ نے بہت غور سے اس کے تیکھے نقوش میں رقصاں اس کے لیے شدید حقارت اور نفرت پڑھیلی تھی بخوبی ۔۔۔۔

آج کے بعد مجھ سے تمیز سے مخاطب ہونا !!یہ تمہارے حال اور مستقبل دونوں کے لئے بہتر ہے۔۔۔۔۔۔

 وہ اس کے تاثرات کو دیکھتے ہوئے تمسخرانہ مسکرایا اور اس کے چہرے پر آئی آوارہ لٹ کو ایک جھٹکے سے کھینچ کر چھوڑا ۔۔۔
وہ اس عمل سے کررہ اٹھی تھی ۔۔
جبکہ کئی بال حمزہ کی انگلی میں بھی ٹوٹ کرلپٹے تھے اتنی بے دردی سے کھینچنے کی وجہ سے ۔۔۔۔

میرے حال اور میرے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لئے ابھی میرے ماں باپ سلامت ہیں۔۔۔۔
 غلط۔۔۔۔!!
 ایک دم غلط  تمام تمہارے مستقبل کا فیصلہ میں کرچکا ہوں ۔۔۔۔۔۔

کیسا فیصلہ!!وہ ٹھٹکی۔ ۔۔

  پوچھو گی نہیں میں اس وقت یہاں کیوں آیا ہوں ۔۔؟؟؟؟

میں نے نہیں بلایا تمہیں۔۔۔۔
 اس لئے میں پوچھوں گی بھی نہیں ۔۔۔

وہ تمام تر لحاظ بالائے طاق رکھ چکی تھی ۔

تم سمیت میری ماں کو بھی یہی لگ رہا ہے کہ میں تم سے معافی طلب کرنے آیا ہوں ۔۔۔۔
وہ معنی خیز سی ہنسی ہنسا۔۔

میں تم جیسے بے ہودہ شخص سے اس قسم کی کوئی امید بھی نہیں رکھ سکتی ۔۔۔

بلکہ میں تو تم سے اس سے زیادہ مزید گھٹیا پن اور نیچ ہرکتوں  کی امید رکھتی ہوں ۔۔
کیونکہ دلوں کو توڑنے والے!! دلوں کو جوڑنا کب جانتے ہیں ؟؟
طنز کا تیر چلایا گیا ۔۔۔۔
اتنی بڑی بڑی باتیں مت کرو جس دن جان جاؤ گی کہ دل ٹوٹنا اور زخم سہنا کسے کہتے ہیں؟؟
 اس دن شاید میری اور میری ماں کے روح کے ریزہ ریزی ہوئے پرخچے دیکھ کر شاید تمہاری چیخ بھی نہ نکل سکے ۔ ۔  ۔۔۔۔۔

آخر ایسا کیا ہے ؟؟؟
جس کا بدلہ تم میرے باپ سے لینے کی خاطر کسی بھی حد سے گزرنے کے لیے تیار ہو؟؟؟؟

 شفا کا لہجہ ٹوٹا ٹوٹا سا تھا ۔۔۔۔۔۔

یہ تمہارا باپ تمہیں خود بتائے گا اپنے منہ سے۔۔۔!!
 جب تک اس وقت کا انتظار کرو ۔۔۔۔

اگر آپ کی بات ختم ہو گئی ہے تو برائے مہربانی آپ میرے کمرے سے دفعان ہو سکتے ہیں ۔۔۔۔

وہ اب انتہا بدتمیزی اور بے اعتنائی پہ۔ اترآئی تھی۔ ۔۔
 اس کی نظروں میں حمزہ انتہائی گھٹیا اور گرا ہوا نیچ انسان ثابت ہو رہا تھا ۔۔۔

میرے لئے آج تمہارے پرپوزل کی بات کر چکی ہے ماما جانی۔۔۔۔۔
 تمہاری والد محترم اور والدہ ماجدہ سے ۔۔۔۔

وہ دوٹوک لہجے میں کہتا بہت دلچسپی سے اب اس کے چہرے کے بدلتے تاثرات دیکھ کر محضوض ہو رہا تھا ۔۔۔

وہ جو رخ پھیر گئی تھی ۔۔
یکدم حمزہ کی کہی بات سن کہ وہ لیٹے سے اٹھ بیٹھی اور ادھر ادھر ہاتھ مار کر اپنا دوپٹہ تلاش کرنے لگی ۔۔۔۔۔۔

اتنی دیر سے اس نے خود کو کمفرٹر کے اندر چھپایا ہوا تھا !! ھمزہ کی نظروں کی تپش وہ خود پہ اچھی طرح کنفرٹر ڈھانپے  کے باوجود بھی بہت اچھی طرح محسوس کر رہی تھی ۔۔۔

میرا نہیں خیال کہ آپ کا دماغ کام کرتا ہے ۔۔۔
مجھے لگتا ہے آپ کا دماغ بالکل فارغ ہو چکا ہے۔۔
 آپ جانتے ہیں کہ ابھی ابھی آپ نے کیا کہا ہے ۔۔؟؟؟؟

محترمہ میرا دماغ تو بالکل ٹھیک کام کر رہا ہے مگر اب تمہارا دماغ جگہ پر لانے کی ضرورت ہے۔۔۔۔۔

 وہ اس کی ادھر ادھر کچھ تلاش کرتی نظروں کو دیکھتے ہوئے بولا ۔۔۔

میرا دوپٹہ پلیز ۔۔
وہ نظریں جھکا کر بولی۔۔۔
 کچھ بھی تھا وہ تھی تو ایک مشرقی لڑکی ہی نہ۔۔۔۔۔۔۔
 فلحال تو میرے پاس نہیں ہے مگر آگے کا کچھ کہہ نہیں سکتا ۔۔۔۔
وہ ہاتھ میں تھامی فائل میں سے کچھ پیپرز نکالتے ہوئے بولا ۔۔۔۔۔

آپ جس چیئر پہ برجمان ہے اس کی بیک پر میرا دوپٹہ لٹکا ہوا ہے ۔۔۔۔۔

وہ تڑخ کر بولی۔۔
 حمزہ نے ایک نخوت زدہ نظر اس پر ڈالی اور پھر بہت غور سے اس کے سراپے کا جائزہ لینے لگا۔۔۔
 بلاشبہ وہ ایک مکمل اور حسین لڑکی تھی نازک سا سراپا ۔۔۔
اس پے تضاد گول گول بٹن جیسی آنکھوں پہ گھنیری پلکوں کی جھالر۔۔۔۔۔
 بیماری کی وجہ سے کملایا زرد سا چہرہ حمزہ لمحہ بھر کو تو ساکت ہی رہ گیا تھا ۔۔ ۔۔۔
اس کے دل کو اندر سے کچھ ہوا جیسے کسی نے مٹھی میں جکڑ لیا ہوا ہو۔ ۔
مگر پھر اچانک اپنی ماں کی گردن کا زخم یاد آگیا جو آج بھی نشان کی صورت آئمہ کی گردن پر موجود تھا۔۔۔
 جلتی ہوئی پھلجڑی سے لگا اپنی ماں کا وہ زخم  یکدم اس کی گردن پہ سر سر آیا تھا ۔۔

وہ اس زخم کی تکلیف اپنی گردن پر محسوس کر رہا تھا ۔۔۔
دوپٹے کی ضرورت نہیں ہے میرے سامنے ۔۔۔
مجھ سے پردہ مت کرو ۔۔۔۔۔
یہ نہیں ہے!! تمہارا وجود میری امانت ہے تمہارے پاس۔۔۔
 اور ہاں خاموشی سے پرسونکاح کا کیلئے حامی بھر دینا ۔۔۔۔
جو آپ چاہتے ہیں نہ وہہ میں وہ ہرگز نہیں کروں گی ۔۔۔۔
پھر چاہے مجھے کیوں نہ اپنی جان سے ہی ہاتھ دھونے پڑیں ۔۔۔
وہ حقارت بھرے لہجے میں گویا ہوئی تھی ۔۔۔
جب تک اپنا بنا نہیں لو نگا تب تک تمہاری موت کو بھی تمہارے نزدیک پھٹکنے نہیں دوں گا ۔۔۔
پر یہ میرا وعدہ ھے۔۔۔
 اچھی طرح جانتا تھا کہ تم ایسے نہیں مانو گی اس لئے پورا انتظام کر کے آیا ہوں ۔۔۔۔

اتنا تو میں بھی جانتا ہوں کہ لومڑی کا شکار آسان نہیں ہوتا ۔۔۔۔
وہ ہاتھ میں پکڑی فائل کے اوپر رکھے پیپرز پیش آتے رہ نظر ڈالتے ہوئے مسکرایا ۔۔۔
🍷
ناممکن میں نہیں مانتا کسی بھی اس قسم کی رسم کو۔۔۔۔
 داود نے تڑپ کر کہا اور اپنی بانہوں میں جھولتی  دلہن کو مزید سختی سے بازوؤں میں جکڑ لیا ۔۔
مبادا کہیں غزل اس سے چھین کر ہی نہ لے جاتی ۔۔۔۔
 جب کہ عائشہ حیاء سے بے ہوش ہونے کو تھی۔۔۔۔

میرے بھائی اب تم مانو یا نہ مانو رسم تو رسم ہے!! اور اگر تم یہ رسم نہیں پوری کرو گے تو بہت بڑا برا شگن ہو جائے گا ۔۔۔۔۔
غزل نے ایسے آنکھیں باہر نکالیں پریشانی سے ۔۔
جیسے پتا نہیں کیا کچھ نہیں ہو جائے گا اگر داود نے رسم پوری نہ کی تو ۔۔۔۔
رہنے دیں بھابھی کچھ نہیں ہوتا میں تو چلا اپنے بیڈ روم میں ۔
اپنی نازک سی دلہن کو لے کر ۔۔۔
جبکہ ساتھ کھڑی سمیرا کو اپنی ہنسی ضبط کرنا دنیا کا سب سے مشکل ترین کام لگ رہا تھا ۔۔۔
داود جلدی سے سیڑھیاں تہہ کرنے لگا۔۔۔۔
 سوچلو دیور جی اگر آج کی رات آپ نے ہماری بات نہ مانی تو اگلے پورے دو مہینے آپ کو اپنے بھائی کے ساتھ ہی سونا پڑے گا اور بھتیجے کو پوری پوری رات کہانیاں بھی سنانی ہو گئی اور باپ بیٹے کی بمباری الگ برداشت کرنا ہوگی ۔۔۔
غزل نے سیڑھیاں چڑھتے ہوئے داود کو ڈرایا ۔ 
اچھا بھائی اتنا تو بتا دیں اس کو کمرے میں چھوڑ آؤں یا یہیں سیڑھیوں پر بٹھا دو ؟؟؟!
وہ بے چارگی سے ہتھیار ڈالتے ہوئے کہنے لگا ۔۔
نہیں اب اتنی تو اجازت ہے میرے پیارے بھائی کو!!
 غزل نے دل بڑا کیا اور خود بھی کسی تھانے دار نے کی طرح سمیرا کا ہاتھ پکڑے اس کو بھی گھسیٹتی داود کے پیچھے پیچھے سیڑھیاں چڑھنے لگی۔۔۔
 کمرے میں قدم رکھتے ہی داود نے آؤ دیکھا نہ تاؤ ان دونوں کے پہنچنے سے پہلے ہی دھڑام سے دروازہ اندر سے لا کڈ کر دیا ۔۔،۔
جبکہ باہر کھڑی جان کر آہستہ آہستہ اوپر چڑھتی سمیرا اور غزل کی بے ساختہ ہنسی چھوٹی تھی کتنا مکمل لگ رہا تھا یہ گھرانہ خستہ بستہ سہ۔ ۔۔۔۔۔

یہ یہ کیوں کیا آپ نے؟؟؟؟؟؟
 عائشہ نے اس کے گریبان کو سختی سے اپنی مٹھیوں میں جکڑا ہوا تھا۔۔
 کیا کیوں کیا؟؟؟
 ان دونوں چڑیلوں سے بچنے کے لئے ہی تو یہ لاک کیا ہے۔۔۔۔
 وہ دروازے کی طرف اشارہ کرکے بولا۔۔۔۔۔
 آج پتہ چلا ۔۔۔
دروازے میں لاک ہونا کیوں ضروری ہے۔۔۔۔
 وہ اس کو بیڈ  پہ بٹھاتے ہوئے خود اپنا سانس برابر کرنے لگا ۔۔۔۔
اتنی دیر سے وہ عائشہ کو گود میں لئے ہوئے تھا اس کا سانس بری طریقے سے بھاری ہورہا تھا ۔۔۔

چاچو آپ سے میں بہت ناراض ہوں۔۔۔
 آپ نے سب کو نیک دیا۔۔۔
 اب ذرا اپنے ایکلوتی بھتیجے کو بھی دیکھ لیں۔۔۔۔۔
 ارمغان پردے کے پیچھے سے نمودار ہوا تھا ۔۔۔

بیڈ پے بیٹھا داود اس کی آواز سن کر ایسے اچھلا تھا جیسے کسی بچھو نے اپنا زہر یلہ ڈنک مار دیا ہو۔۔۔۔
 جبکہ عائشہ پہلے تو تھوڑا سا بوکھلائی پھر اپنے شوہر کی حالت دیکھتے ہوئے اس کی ہنسی چھوٹ گئی تھی ۔۔
بول جلدی کیا چاہیے تجھے ۔۔؟؟
کیا ڈیمانڈ لے کر آیا ہے؟؟
 جلدی بتا؟؟
 وہ بلینک چیک پہ سائن کرتے ہوئے ارمغان کی طرف بڑھاتے ہوئے پوچھنے لگا ۔۔۔۔
تھینکیو چاچو اس سے میرا کام ہو جائے گا ۔۔۔۔۔
 سوری آپ کو میں نے ڈسٹرب کیا ۔۔۔

وہ مزے سے کہتا عائشہ کے گال پہ کس کرتا داود کو ہاتھ ہلاتہ  کمرے سے جا چکا تھا ۔۔۔
داؤد نے ایک دفعہ پھر دروازے کو کنڈی لگائی اور پورے کمرے کی تلاشی لینے کے بعد وہ واپس اپنی محبت کی طرف لوٹا تھا ۔۔۔
پورا اطمینان کر لینے کے بعد کہ اب کمرے میں کوئی اور موجود تو نہیں ہے ۔۔
کمرہ کیسا لگا تمہیں تمہارا ۔۔؟؟؟
وہ بات کا آغاز کرتے ہوئے پوچھنے لگا۔۔۔۔۔۔
 بہت خوبصورت ۔۔۔۔۔!!!
وہ شرمگین مسکراہٹ سجائے بولی۔۔۔
 ویسے یہ میں نے خود سجایا ہے ۔۔۔۔!!
داود اس کے برابر میں دراز ہوا ۔۔
 ایک بات کہوں آج تم بہت خوبصورت لگ رہی ہو ہمیشہ کی طرح ۔۔!!!
وی سائیڈ ٹیبل کھول کر اس میں سے ایک مخملی کیس نکال کر واپس اس کی طرف پلٹا تھا۔۔۔
 میں ہمیشہ تمہاری آنکھوں میں خوشی اور مسکراہٹ دیکھنا چاہتا ہوں۔۔۔
 آپ بہت اچھے ہیں داود ۔۔۔!!!
میں کوشش کروں گی کہ آپ کی اس قدر شدید محبت کا صلہ!!!
 اپنی محبت سے آپ کی زندگی کو خوشبو سے مہکآتی رہوں۔ ۔۔۔
وہ اس کے ہاتھ پہ اپنا مہندی سے سجا  رکھتے ہوئے یقین دلا رہی تھی ۔۔۔
ایک فرمائش کروں؟؟
  وہ اس کو شراتی نظروں سے دیکھتے ہوئے خود پہ گرا کر بولا۔۔
 بالکل بھی نہیں مجھے فرمائش پوری کر نا نہی  آتی۔۔۔۔
 اچھا کہیں نہ جلدی !!مجھے چینج کرنا ہے ۔۔
وہ بوکھلا گئی تھی۔۔
 تمہیں زحمت کرنے کی ضرورت نہیں ہے میں کس لئے ہوں۔۔۔۔۔۔۔!!
 وہ محبت پاش نظروں سے دیکھتے ہوئے اسکو گویا ہوا ۔۔۔آنکھوں میں جذبوں کی لو جل تھل تھی ۔۔۔
میں ابھی آتی ہوں ۔۔۔۔
آئوگی جب نہ اگرجاؤں گئی تو ۔۔۔۔!!!
 جب میں تمہیں اپنے قرب سے آزاد کرکےجانے دوں گا ۔۔۔؟؟؟
آج میں اپنی قربت اور محبت سے تمھارا پور پور مہکا دوں گا ۔۔۔
داود نے خود پہ گری اپنی چاہت کو آنکھوں میں بھرتے ہوئے کہا ۔۔۔۔
جہاں داود کی ہمسفری کا غرور موجزن تھا آنکھوں میں ۔۔
اچھا جلدی کہیں ۔۔۔
وہ آخر کار ہتھیار ڈالتے ہوئے بولی تھی۔۔۔
 کہکر بتاؤ ؟؟؟
یا صحیح ست سمجھا دیتا ہی دیتا ہوں ۔۔۔۔!!!
وہ سنجیدگی طاری کرتے ہوئے بولا تھا
 داؤد نے  یکدم اٹھ کر اس کو محبت بھری نظروں سے دیکھا اور ہاتھ بڑا کر لیمپ کی روشنی بالکل ہلکی کر دی اور پھر گھبرائی سی لرزتی جھجکتی اس سے شرماتی اپنی شریک حیات کو دیکھتے ہوئے وہ اس پر جھکا تھا اور اس کے ریڈ لپسٹک سے سجے لبوں پر اپنے انگارے کی مانند دہکتے ہوئے لب رکھ دئے۔ ۔۔۔
کچھ دیر بعد وہ اسکے کان کہ پاس جاکر سرگوشیانہ لہجے میں کہہ رہا تھا۔ ۔۔۔
میری فرمائش ہے کہ ہر رات جب تک میری سانسیں چل رہی تب تک تم مجھے میرے اس انداز میں خود سے شب بخیر کہا کروگی۔ ۔۔!!
میں جانتا تھا کہ تم بہت ضدی ہو۔۔۔
 اس طرح نہیں مانو گی اور بھلا کبھی لاتوں کے بھوت باتوں سے بھی مانے ہیں ؟؟؟

حمزہ کے چہرے پر عجیب سی  چمک  رقصاں  تھی!! جیسے وہ اپنی کامیابی سے بس چند قدم کے فاصلے پر ہو
۔منزل کے بہت قریب تر۔۔۔
 فتح اس کی منتظر اپنی باہیں واہ کیے کھڑی ہو جیسے ۔۔۔

کیا ہے یہ ان کاغذوں میں ؟؟؟

شفا کو اچانک اس کی چمکتی شاطرانہ آنکھوں سے شدید خوف سا محسوس ہوا ۔۔

اسکی نقاہت زدہ آواز بہت مشکل سے حلق سے نکل سکی تھی۔۔۔
 وہ اب مزید کسی بحث میں پڑنے کے بجائے جلدازجلد حمزہ کا اصل مقصد جاننا چاہ رہی تھی جس کے تحت وہ اس کے بیڈروم میں آیا تھا ۔۔۔

یہ لو اس پر سائن کرو۔۔

 حمزہ نےاسکےدونوں بازوُوں میں اپنی مضبوط انگلیاں پیوست کر کے زبردستی اس کا رخ اپنی طرف کیا تھا ۔۔

یہ دیکھے بغیر کے وہ ابھی کچھ گھنٹے پہلے ہی ہسپٹال سے ڈسچارج ہو کر آرہی ہے ۔۔۔

مجھ سے دور ہٹ کر بھی تم بات کرسکتے ہومجھے چھوئے بغیر۔۔۔۔۔

 اس کو لگا تھا جیسے اس کے پورے وجود کو کسی آکٹوپس نے جکڑ لیا ہو خود میں ۔۔۔

وہ آنکھوں میں شدید نفرت لیے اس کو دیکھتے ہوئے اور غرآئی تھی  ۔۔۔

عادت ڈال لو میرے قرب کی اور میری جسارتوں کی ۔۔۔۔

ابھی تو کئی کئی مرتبہ تمہیں میرا ظالم لمس ایسا ہی تڑپائے گا ۔۔

اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے بہت گہرے لہجے میں مخاطب تھا ۔۔۔

نظرایسی تھی کہ شفا کے پورے وجود کو جلا کر خاکستر کرنے کو تیار ۔۔۔

مجھے تکلیف ہو رہی ہے ۔۔۔۔
میرے بازوؤں کو اپنی اس جارحانہ گرفت سے آزاد کرو ۔۔۔۔
اس دفعہ میں وہ واویلا مچا ئو گی کہ تمہاری سو دو سو پشتیں بھی نہیں بھول سکیں گی ۔۔۔۔۔

میں ایک دفعہ جس چیز پر نظر ڈال دوں یا پھر اس کو چھو لوں تو وہ صرف اور صرف میری ہوجاتی ہے۔۔۔۔
 اس چیز پہ پھر اس کا دور کی بات کسی کا بھی اختیار نہیں رہتا ۔۔۔۔

اور رہی واویلا کرنے کی بات تو محترمہ یہ شوق بھی تم بخوشی پورا کر سکتی ہو !!میں تو چاہتا ہوں کہ تم ایسا کرو ۔۔۔

اور پھر تمہاری یہ سو دو سو پشتو والی خواہش بھی میں  تمہارے ہی وجود سے پوری کرونگا ۔۔۔۔
۔۔۔
میں کوئی چیز نہیں ہوں مسٹر حمزہ جلال ۔۔۔
میں ایک جیتی جاگتی انسان ہوں۔۔۔۔
وہ لفظوں کو چبا چبا کر ادا کرتے ہوئے بولی ۔۔۔۔

اسنے تیزی سےجھک کر اس کے پیچھے سے دوپٹہ اٹھا کر خود کو اچھی طرح ڈھانپاتھا ۔۔۔۔

حمزہ کی کہی آخری بات پہ مارے خفت و حیاء سے اس کا برا حال تھا ۔۔۔

تم اس قسم کی فضول اور فحش بکواس ہی کرسکتے ہو۔ ۔۔
 کوئی بھی بات مہذب انداز میں توکرنا کہا کھائی ہے کسی نے تمکو ۔۔۔۔

وہ اب باقاعدہ اس کے اوپر طنز کے تیر چلا رہی تھی ۔۔۔۔

یہ تو وقت بتائے گا کہ کون کتنا مہزب ہے اور کون کتنا بے غیرت اور بے رحم ۔۔۔۔۔؟؟؟

وہ دونوں اب ایک دوسرے کے بالکل آمنے سامنے موجود تھے۔۔۔

 میرے پاس مزید تمہاری کسی بھی قسم کی فضول بکواس سن نے کا وقت نہیں ہے۔۔

 سائین کروان پیپر ز پہ۔ ۔۔
 وہ حاکمانہ انداز میں اس کے سامنے کاغذات بڑھاتے ہوئے بولا۔۔۔۔ ۔ 

 یہ۔۔۔۔۔۔
یہ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟
 نکاح کے پیپر ہیں ۔۔۔۔۔۔

اس کو شدید قسم کا حیرت کا جھٹکا لگا تھا حمزہ نے اس کے آگے نکاح کے کاغذات لہرائے تھے ۔۔
۔
تم اس حد تک گر جاؤ گے ؟؟؟
شفا کے لہجے میں بے یقینی تھی ۔۔۔

میری حد کا تعین تم مت کرو ۔۔

تم سوچ بھی نہیں سکتی کہ میری حد کہاں تک ہے؟؟؟
 اگر تمہیں میرے اختیارات کا علم ہوجائے تو ۔۔۔
وہ "تو" پھر زور ڈال کے بولا ۔۔۔

خیر میں اپنی اختیارات کی تفصیل تمہیں پھر کبھی بتاؤں گا ابھی جو میں کہہ رہا ہوں وہ کرو ۔۔۔۔
اس نے گویا آرڈر جاری کیا ۔۔۔۔

"میں ان پیپرز پہ ہرگز بھی سائن نہیں کروں گی !!اس نے سامنے پڑے نکاح کے پیپرز پرزہ پرزہ کر کے حمزہ کے چہرے پہ اچھالے"۔۔۔۔

"جانتی بھی ہو کہ تم اس وقت کس کے سامنے کھڑی ہو اور تمھاری یہ حرکت تمہارے ساتھ کس قدر برا کر سکتی ہے؟؟؟؟ "۔۔۔۔
وہ برہم ہوا۔۔۔

"جانتی بھی ہوں اور بہت اچھے سے اب تمہاری ایک ایک خصلت سے واقفیت بھی رکھنے لگی ہو حمزہ جلال "۔۔۔
شفا کا لہجہ پر اعتماد تھا ۔۔۔۔

"تو پھر تمہیں یہ بھی بہت اچھی طرح پتہ ہوگا کہ میرا اگلا اسٹیپ کیا ہے ؟؟؟"
وہ فاتحانہ ہنسی ہنسنے لگا۔ ۔۔

"تم اور تمہارے مقاصد !!مگر یاد رکھنا میں بھی شفا رحمان ہوں۔ ۔۔
 رحمان چغتائی کی بیٹی !!تمہیں تمہارے کسی بھی ناپاک عزائم  کامیاب نہیں ہونے دوں گی" ۔۔۔۔۔!!

"یہ تو وقت بتائے گا کہ کون کس حد تک اپنے اپنے مشن میں کامیابی حاصل کرتا ہے ۔؟؟"
وہ چٹان سہ اسکی کمر کو جکڑ گیا۔ ۔۔۔

"میں بھی یہیں ہو!! تم بھی یہی ہو "۔۔۔۔وہ اسکے کان کےنزدیک  پگھلتا ہوا سیسہ انڈیل چکا تھا۔ ۔۔۔

 "میں لڑکی ضرور ہوں مگر ہاتھوں میں چوڑیاں نہیں پہن رکھیں!!

 اب تم بھی دیکھو گے !!کہ شفاء کس طرح تمہیں اس گھر سے نکلو آتی ہے !!اس کو چاہے تو میری دھمکی سمجھ لو یا پھر میرا چیلنج "۔۔۔۔۔

"تم اور تمہارے پانی کے بلبلے جیسے چینلجز"۔۔۔۔۔
"ہاہاہا" ۔۔۔۔!!
حمزہ کا فضا میں تمسخر اڑاتا کہکہ بلند ہوا ۔۔۔۔!!!۔۔۔


داود اٹھ جائیں  تیار بھی ہونا ہے جلدی کرو ۔۔۔

وہ شاور لیکر فریش ہو کے لائٹ پر پل اور وائٹ کلر کا سوٹ جس پر ہلکا نفیس سہ کام بھی  تھا اور چوڑی دار پاجامہ زیب تن کیے۔۔۔
 وہ داود پہ جھکی اس کو جگانے کی تگ و دو کر رہی تھی ۔۔

جب اچانک داؤد نے اپنا ہاتھ بڑھا کر اس کو کچھ بھی سوچنے سمجھنے کا موقع دیئے بغیر کلائی سے پکڑ کر بیڈ پہ گرایا تھا اور خود ایک بھی لمحہ ضائع کیے بغیر اس کے اوپر جھکا تھا ۔۔۔
گویا تمام فرار کی راہیں مسدود کردی ۔۔۔۔

اوف یہ رات ۔۔۔!!!!

کتنی بے وفا ہے کتنی جلدی تھی اس کو سورج سے اپنے ملن کی ۔۔۔۔

وہ اس کو محبت پاش نظروں سے دیکھتے ہوئے کہہ رہا تھا ۔۔۔
آنکھیں بے خوابی کی چغلی کھا رہی تھی ۔۔۔

پلیز داود اب  سب لوگ آتے ہی ہونگے ناشتہ لے کر گھر سے میرے ۔۔۔۔۔

وہ اس کے سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے خود سے دور دھکیلتے ہوئے کہہ رہی تھی ۔۔۔

اچھا صبح  ہو ئی تو کیا؟؟؟؟
 تم خود فیصلہ کروچھوٹی نہیں تھی گزری شب ؟؟؟
جیسے چند منٹوں میں ہی سرک گئی ہو؟؟؟
چلو پھر سے سو جاتے ہیں ۔۔۔

جھلستے ہوئے سورج کو مزید جھلسا دیتے ہیں ۔۔۔۔۔

وہ جذبات سے چور خمارالود لہجے میں اس پر مزید چھکتے ہوئے!! اس کے لبوں سے معصومانہ شرارت کر بیٹھا ۔۔

پلیز دیر ہو رہی ہے دو دفعہ بھابھی کی مسڈ کال آ چکی ہے ۔۔۔۔۔۔

وہ ابھی مزید کچھ کہنے کو تھی کہ۔ ۔
 ٹھک۔ ۔۔۔
ٹھک۔۔۔۔ ٹھٹھک۔۔۔۔ ٹھٹھک ۔۔!
دروازہ اب زور زور سے پیٹا جارہا تھا۔۔
 ایسا لگ رہا تھا جیسے باہر موجود شخص دروازے کو توڑ کر اندر آنے سے دریغ نہیں کرے گا ۔۔۔

ارے رات کے مسافر وں اٹھ جاؤ ۔۔
دن چڑھ آیا ہے۔۔۔۔
 باہر سے غزل دروازہ پیٹنے کے ساتھ ساتھ جملے بھی کس رہی تھی ۔۔۔۔

بھابھی ابھی ہماری صبح نہیں ہوئی ہے۔۔۔
 تھوڑی دیر اور ہے ۔۔۔

وہ اس کی گھوریوں کی قطاً پروا کیے بغیر بولا۔۔۔۔

 جی جی بھابھی میں آ رہی ہوں ۔۔۔

عائشہ کے منہ سے بوکھلاہٹ میں فیصلہ تھا ارے دیور جی اب ذرا ہماری نئی نویلی دیورانی کو دروازہ کھولنے کے لئے تو بھیج دو ۔۔۔

غزل نے مسکراتے ہوئے باہر سے ہوائی فائر کیا تھا۔۔۔۔

 جبکہ عائشہ کا تومار شرم اور گھبراہٹ کے دل اچھل کر حلق میں آن پہنچا تھا ۔۔۔

ارے یار یہ میری بھابھی کو اور کوئی کام نہیں ہے جب دیکھو کبھی دروازہ کھول کر اندر گھسنے نہیں دیتیں!! تو کبھی اندر آنے کے لئے دروازے کو توڑنے کے درپے ہو جاتی ہیں ۔۔۔۔

داود چڑھ کر بیچارگی سے بولا ۔۔۔۔

پلیز داود مجھے جانے دیں بھابھی کیا سوچیں گی؟؟؟؟؟
 عشاء کا خون خشک ہوچکا تھا ۔۔۔

ہاں  تو بڑی مشکل سے تمہارے اماں ابا نے میرے ساتھ تمہیں رخصت کیا ہے اور بھابھی کی خیر ہے۔۔۔۔
 میرے بھائی مجھ سے زیادہ دس ہاتھ آگے ہیں رومینس میں۔۔۔۔۔۔
 وہ مزے سے اس کے گال کو چومتے ہوئے ٹالنے والے انداز میں بولا ۔۔۔

لیلا مجنون مجھے اندر آنے بھی دو۔۔
 رات بھر کیا سوئے نہیں ہو؟؟؟
 ٹھیک سے یا پھر مچھروں نے پوری رات جگائے رکھا؟؟؟

 باہر بھی غزل موجود تھی وہ کہاں نخشنے والوں میں سے تھی ۔۔۔

شرارت تو اس کے ساتھ ہر وقت رقص کیا کرتی تھی ۔۔
پورے گھر کی رونق تھی وہ سگے بھائیوں سے زیادہ داود کو محبت دیا کرتی تھی ۔۔۔۔

سن لیا۔۔۔۔
 شرم سے میرے ہاتھ پاؤں کی جان نکلنے کو ہے ۔۔۔

کہتے کہ ساتھ ہی اس نے داود کے کان پر اپنے دانتوں سے درد بھری " پپی" لے ڈالی تھی ۔۔۔۔۔۔
اتنی زور سے کیوں کاٹا ؟؟؟؟؟

وہ تڑپ کر دور ہٹا تھا جبکہ وہ موقع کا فائدہ اٹھا کر دروازے کی طرف دور لگا چکی تھی ۔

کیا ہوا دروازہ کھولنے میں اتنا ٹائم کیوں لگ گیا؟
خیریت تو ہے نا دروازہ کھولنے میں کافی دیر لگی ؟؟؟؟؟
غزل نے عائشہ کے دروازے کھولتے ہی چہرے پہ بلا کی معصومیت طاری کرکے پوچھا ۔۔۔

جب کہ آنکھوں میں شرارت ناچ رہی تھی ۔۔۔
وہ۔۔۔۔۔۔وہ۔ ۔۔۔ میں۔۔۔۔۔
وہ بوکھلائی۔۔۔۔

 وہ وہ میں  کیا؟؟؟؟
 لگتا ہے میرے دیور نے تمہیں دروازے تک آنے میں بہت تنگ کیا ہے ؟؟

کہیں پیروں میں بیڑیاں تو نہیں ڈالدی تھیں؟ ؟؟؟

 نہیں۔۔۔۔۔ نہیں وہ تو گہری نیند سو رہے ہیں ۔۔۔۔

اچھا اچھا سو رہا ہے ۔۔۔!!
صحیح ۔۔۔۔۔۔صحیح کہا۔ ۔۔
 وہ تو مجھے نظر آ رہا ہے کہ وہ کتنی گہری نیند سو رہا ہے۔۔۔
 تم ادھر تمہارا دوپٹہ ادھر۔۔۔۔
 وہ شریر لہجے میں عائشہ کو چھیڑنے لگی۔۔۔۔

 جبکہ عائشہ کی نظریں حیاء سے اٹھ نہ سکیں ۔  ۔۔

غزل نے دل سے ان دونوں کی خوشیوں کے لئے دعا کی تھی اپنے رب سے بہت خاموشی سے ۔۔۔

ویسے عا شی سوچنے کی بات تو یہ ہے کہ تمہارا دوپٹہ وہاں کیسے پہنچا؟؟؟

 وہ اب باقاعدہ اس کے شانے پر اپنا بازو ٹکراتے ہوئے تنگ کرتے ہوئے بولی ۔۔۔

چلو بھئی عاشی تم تو تیار ہو نیچے چلو جلد ی  امی کب سے انتظار کر رہی ہیں۔۔۔۔

 لبوں پہ انگلی رکھ کر غزل اسکو گھسیٹتی ہوئی ڈریسنگ روم میں لے جاچکی تھی ۔۔۔

داود نے دونوں کے جاتے ہی بیڈ  سے جمپ لگانے کے انداز میں اٹھ کھڑا ہوا ۔۔۔۔۔۔

کیا ہے یار بار بار میری بیوی کو میری دسترس سے دور لے جاتی ہیں ظالم سماج نہ ہو تو ۔۔۔

وہ بھنوٹ ہوا ۔۔
اس بات سے بے خبر کہ اس کے بالکل پیچھے اب وہ دونوں موجود ہیں ۔۔۔

کیا فرمارہے تھے دیور جی ؟؟؟

ابھی ابھی آپ۔۔۔

 غزل نے ہاتھ سے اس کے سر کے بال بکھیرے ۔۔۔

آ۔۔۔آ۔ ۔۔پ ۔۔۔؟؟؟
جی میں۔ ۔۔۔

اب یہ حال تھا کہ پورے کمرے میں آئشہ اورغذل کی ہنسی گونج رہی تھی۔۔۔۔
 جبکہ داود کھسیا کر واشروم میں بند ہو چکا تھا ۔۔۔۔


عمر کہاں جا رہے ہو ؟؟سمیرا نے عمر کو گاڑی کی چابی اٹھا کر باہر جاتے دیکھ کر جلدی سے ٹوکا ۔۔۔۔۔۔

امی میں کچھ کام سے باہر جا رہا ہوں ۔۔۔

وہ جلدی سے بول کر آگے بڑھنے لگا ۔۔۔

بیٹا  شام کو لائبہ کو لینے چلے جانا تمہارے بابا نے اسلام آباد کے لیے تمہاری سیٹ کنفرم کرادی ہے رات 8 بجے کی ۔۔۔
کیوں سب خیریت تو ہے نا ؟؟؟

وہ یکدم پریشان ہوا ۔۔۔
ہاں ہاں بیٹا ۔۔۔۔
سب خیریت ہے تمہاری پھپا پھپو حج پر جا رہے ہیں چالیس دن بعد واپسی ہوگی اس لیے آپی نے لائبہ کی ذمہ داری ہم پہ سونپ دی ہے ۔۔۔

سمیرا نے تفصیل سےبتایا۔۔۔۔

 لائبہ کو لانے کی ذمہ داری  آپ اس کے بھائی کی بھی تو لگا سکتی تھی ۔۔۔۔
اس کو یہاں چھوڑ نے کے لئے ۔۔۔

عمر نے چڑ کر کہا کیونکہ لائبہ سے اس کی ایک نہیں بنتی تھی۔
 دونوں میں ڈھائی اکڑے کا بیر رہا کرتا تھا ایک مشرک ہے تو دوسرا مغرب ۔۔۔

کہنے کو تو وہ اس سے 8 سال چھوٹی تھی مگر مجال ہے جو کبھی اس ڈرامہ کوئن بقول عمر کے ۔۔۔
اس نے کبھی اس کے نام کے ساتھ بھائی کا دم چھلا استعمال بھی کرنا پسند کیا ہو ۔۔۔

بیٹا وہ آجکل بہت زیادہ مصروف ہے اس کا شیڈیول بہت ٹف ہے پورے پندرہ دن کا ۔۔۔

مسلسل پندرہ دن اس کی فلائٹس ہیں۔ ۔

عمر پھر خاموش ہو گیا تھا کیونکہ مصطفی کا واقعی شیڈیول بہت مصروف ہوا کرتا تھا ۔۔۔
وہ پاکستان کی مشہور ایئرلائن کا پائلٹ تھا ۔۔۔
اور پھر عمر کو اچھا بھی نہیں لگا مزید کچھ کہنہ۔۔۔۔

اور پھر بیٹا تمہاری پھپو نے سوہا کیلئے ڈھکے چھپے لفظوں میں مصطفی کے لیے سوہا کا ذکر چہڑاہے۔ ۔۔

مگر امی وہ تو سوہاسے بہت بڑے ہیں ۔۔۔

اور پھر ان کا مزاج بھی کافی حد تک سخت ہے سوہا ان کے ساتھ ایڈجسٹ نہیں کر پائے گی ۔۔۔

عمر سب چیزیں بھول کر یک دم سوہا کے دفاع میں پریشان سہ گویا ہوا ۔۔۔

زینب پھوپھو کی دو اولادیں تھیں پہلی مصطفی اور دوسری لائبہ جبکہ زینب چھوٹی ہونے کے باوجود اچھا رشتہ آنے کی وجہ سے جلدی پیا دیس سدھار گئیں تھیں اور شادی کے پہلے سال ہی اس کے آنگن میں مصطفی کے نام کا پھول کھلا تھا ۔۔۔۔
پھر اس کے بعد باری آئی جلال کی زینب کی شادی کے تین سال بعد جلال کی شادی ہوئی جبکہ سب سے چھوٹے رحمان کی جلال کی شادی کے ڈھائی سال کے بعد ۔۔۔۔۔۔۔!!!!!!

ایسا کیا ہے جو وہ آگ سے ڈرتی ہے ؟؟؟؟

کس بات کا اس قدر اس کو خوف تھا کہ میرے ایک معمولی سہ لائٹر جلانے کی وجہ سے وہ اس حد تک خوفزدہ ہو گئی تھی ؟؟؟

ارمغان  لان میں بیٹھا رات کے ڈھائی بجے ٹھٹرتی ہوئی ٹھنڈ میں سگریٹ پر سگریٹ سلگا رہا تھا اور مسلسل صرف اور صرف فجر کے متعلق ہی سوچے چلا جا رہا تھا ۔۔۔۔۔

کتنی حسین اور خوبصورت تھی وہ بالکل اس کی گڑیا جیسی ،،

گڑیا کی سوچ آتے ہیں وہ ایکدم ٹھٹک سا گیا اور کِی لمحے سوچنے کے بعد وہ ایک فیصلے پر پہنچ چکا تھا ۔۔۔۔
فجر اس کے لئے ایک مسٹری بن چکی تھی ۔۔۔۔
وہ چھوٹی سی نازک سی لڑکی کہیں نہ کہیں اس کے دل کو اندر سے نرم کرنے میں کامیاب ہو چکی تھی ۔۔۔۔۔


نہیں نہیں بابا ۔۔۔۔ما ما ما ۔۔۔۔۔ما بھائی آپ مجھے چھوڑ کر نہیں جاسکتے ۔۔۔

بابا انکل بچائیں نہ میرے مما بابا کو میرے بھائی کو بچائیں نہ ۔۔۔۔۔

وہ چیختے ہوئے نیند سے اٹھ بیٹھی تھی ۔۔۔۔

کیا حقیقت تھی کیا حادسہ؟ ؟؟
 وہ ایک حادثہ تھا یا پھر سوچا سمجھا پلان ۔۔۔۔۔؟؟

یا پھر تیسرا رخ جو اس نے سنا تھا وہ سچ تھا ؟؟؟

پسینے میں شرابور وہ اپنا سر ہاتھوں میں تھام کر بری طرح سے سسکنے لگی تھی ۔۔۔۔

اور جو سچ اس کے سامنے آیا تھا کیا واقعی وہ سچ تھا ؟؟؟؟
یا وہ بھی ایک سوچی سمجھی سازش ؟؟؟

0 comments:

Post a Comment