Monday, December 10, 2018

tu kitni masoom hai episode 22 by aymen nauman

رات میں بشر سونے کے لیے لیٹا جب حجاب کمرے میں آئی اور اس کے برابر میں بیٹھتے ہوئے بولی ۔۔
بشر۔۔۔۔۔ وہ اپنی انگلیاں مروڑتی کچھ کہنا چاہ رہی تھی ۔۔۔
۔۔
"ائ ایم سوری"۔۔۔
حجاب حچکچاتے ہوئے بولی۔ ۔

فورواٹ؟؟؟؟؟
بشر کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا وہ اپنی حیرانگی چھپاتے ہوئے بولا ۔۔۔
میں آپ کو بہت تنگ کرتی ہوں؟؟؟
وہ معصومیت سے پوچھتی سیدھا اس کے دل میں اتر رہی تھی۔ ۔
ہاں تھا تومگر تمہیں کیا اس بات کا آج پتہ چلا ہے ؟؟؟؟
بشر میں اگر آج آپ سے کچھ مانگوں تو کیا مجھے دینگے ؟؟؟؟

کیا کہناچار ہی ہو تمہید مت باندھو ڈائریکٹ پوائنٹ پر او؟؟؟؟ ۔۔
میں کالج کنٹینیو نہیں کرنا چاہتی ہوں ۔۔۔
کیوں۔ ؟؟؟؟
وہ حجاب سے ایسی ہی کوئ اوٹ پٹابگ بات رک توقع ۔ کرہا تھا۔ 
وہ تھوڑا روکی اور ایک نظر دیکھنے کے بعد پھر سے وہ مزیدگویا ہوئی ۔۔
اورکیا میں کچھ دن کے لئے اپنے گھر جاکر رہ سکتی ہوں ؟؟؟
اپنے گھر سے کیا مراد ہے؟؟؟ اب یہی تمہارا گھر ہے ۔۔
میرا مطلب ہے کہ۔ ۔
اس کی بات حلق ہی میں رہ گئی۔۔
جب بشر بولا۔۔
کالج تم کنٹینیو ضرورکررہی ہو اور ایک دو دن میں میں خود جا کر تمہاری پرنسپل کو تمہاری غیر حاضری کی وجہ بتاونگا پھر تم جانا اسٹارٹ کر دو اور رہی بات گھر جانے کی تو بالکل بھی نہیں ۔۔
مگر کیوں؟؟؟؟ ۔۔
کہہ دی نہ بس اب سو جاؤ ۔۔
یہ کہہ کر وہ واپس اپنے کام میں مصروف ہو گیا اور حجاب غصے میں کمفرٹر منہ تک ڈھانپ کر سو گئی ۔۔
رات کا دوسرا پہر تھاجب بشر کی آنکھ اسی چوڑیوں کی کھنک تی ہوئی آواز سے کھلی ۔۔
اس نے اپنے برابر سوئ حجاب کی طرف دیکھا ۔۔
وہ ہنوز گہری نیند میں سو رہی تھی رات والے سٹائل میں ۔۔
اس کو باہر سے آتی ہوئی روشنی دیکھی وہ تجسس میں ٹیرس کی طرف بڑھنے لگا ۔۔۔۔

💓💓💓💓
یارمال تو بہت کنچہ ہے بس ذرا صبر کرنا ہے ۔۔
یار میرا بہنوئی نہیں مان رہا جلدی شادی کے لئے تو کسی بھی طرح سیٹھ کو بول کہ کچھ دن کی تو بات ہے ۔۔
۔۔
پھر تو چڑیا میرے ہی پنجرے میں قید ہو گی 
اور میں جہاں چاہؤں اس کو بند کرکے چھوڑ سکتا ہوں ۔۔۔
وہ کمینگی سے ہنسا۔ ۔
لیپ ٹاپ کے سامنے موجود زوار کسی سے اسکائپ پر ویڈیو کال کرنے میں مصروف تھا ۔۔
یار بات سن اگلے مہینے سارا مال جائے گا اور 20 ہیرنیاں ہوگئی ہیں 21ویں تیرے پاس ہے ۔۔
دوسری طرف بیٹھے شخص نے گویا دوبارہ یاد دلایا ۔۔۔۔
ہاں ہاں میں ہونا تجھے کس بات کی فکر ہے جگرے؟؟؟؟ ۔۔
بس ایک دفعہ میں تو پہلےجی بھر کے اپنی پیاس بجھالوں پھر شادی کے اگلے دن کی صبح ہی دوسری لڑکیوں کے ساتھ اس کو بھی روانہ کردیں گے ۔۔
وہ مکروہ لہجے میں منہ میں بھرے گٹکے کی پیک مارتے۔ ہسئے بولا۔ ۔
پورے پچیس لاکھ کی بات کی ہے کوئی معمولی بات ہے کیا ۔؟؟۔
دوسری ترف بیٹھا شخص بے ہنگم کہکہ لگا کر بولا۔ ۔۔
ڈھر سے کچھ گرنے کی آواز پہ زوار چونکا اور لیپ ٹاپ ایک دم جھٹکے سے بند کرکے کمرے سے باہر نکلا اریج کو لاؤنج کی طرف بھاگتا دیکھ تیزی سے اس کے پیچھے بھاگا ۔۔

💓💓💓💓💓
گھر میں آج کوئی نہیں تھا سوائے ملازمین کے 
ڈیڈی افس میں تھے اور دلاویز بیگم اپنے پارلر میں تھی ۔۔

اریج کا آج آخری پیپر تھا اس کے بعد اس کو ڈیڈی کے آرڈر پر بازار جاکر شاپنگ کرنا تھی ۔۔
لیکن باہر نکلتے وقت کلاس سے پیون ا سٹاف روم میں چائے لے کر جا رہا تھا وہ اس کے ہاتھ سے گری اور ایک کپ پورا اریج کے کپڑوں پر نشان چھوڑ گیا ۔۔۔
معاف کرنا بیٹی میں نے جان بوجھ کر نہیں کیا ۔۔
پیون بابا معذرت خوانہ لہجے میں بولے ۔۔

اریج خاموش رہی پھر آہستہ سے بولی ۔۔
نہیں بابا غلطی میری ہی ہے میں ہی بے دیہانی میں چلتے ہوئے ٹکرا گئی آپ سے ۔۔
یہ کہہ کر وہ بہار نکل گئی یونیورسٹی سے۔۔۔
اس خیال کے تحت کے گھر جاکر اپنے کپڑے تبدیل کرکے پھر دوبارہ نکلے گی بازار کے لئے فریش ہو کر ۔
۔
وہ کمرے کی طرف بڑے ہی رہی تھی جب اس کو زوار کی آواز سنائی دی وہ آگے بڑھنے والی تھی مگر اپنا نام سن کر ٹھٹک سی گئی اور آہستہ چلتی کوئی اس کے کمرے کے دروازے کے پاس جا کھڑی ہوئی ۔۔

جیسے جیسے وہ اندر ہونے والی گفتگو سنتیں جا رہی تھی ویسے ویسے اس کے ہاتھوں کے اندر لرزش پیدا ہو رہی تھی ۔۔
وہ خوف سے بھاگنے کے لئے دو قدم پیچھے ہوئی جب اس سے سات میں رکھا ہوا وعظ نیچے گر گیا ۔۔
اس وعظ کی آواز نے گویا اس کی موت کو دعوت دی تھی ۔۔۔

💓💓💓💓💓💓
وہ اپنا موبائل کی ٹوار چ جلا کر وہ اس روشنی کی طرف بڑھا اس کو محسوس ہوا جیسے کہ یہ وہی ہیولہ ہے جو اس کو دوپہر میں بھی دیکھا تھا خوف سے اس کی لمحے بھر کو تو سٹی ہی گم ہو گئی ۔۔
مرد بن مرد بشر اور دیکھ آخر ہے کون!!!
تیری بیوی سے بڑا بھلا کوئ جن بھوت اور کوئی ہو سکتا؟؟؟ ۔۔
وہ بڑبڑایا خوف سے اس کی اندر سے جان بھی نکلی پڑھ رہی تھی ۔
ٹیرس سےآتی چھن چھن کی آواز مزید تیز ہو رہی تھی ۔۔
ایسا کرتا ہوں حجاب کو اٹھا دیتا ہوں جو بھی ہو گا اس پچہل پیری کو دیکھ کر خود ہی بھاگ جائے گا ۔۔
وہ لرزتے قدموں سے واپس ہے حجاب کی طرف آیا وہ بے سو رہی تھی ۔۔
نہیں اگر اس کو اٹھایا تو یہ تو چیخ چیخ کر مزید طوفان برپا کردے گی ۔۔

اس کو جگانے کے لیے بڑھتا ہاتھ بشرنے واپس کھینچ لیا اور پلٹ کر دوبارہ ٹیرف کی طرف بڑھا ۔۔
چوڑیوں کی چھن چھن کے ساتھ ساتھ اب پازیب کی چھنکار بھی نمایک تھی ۔۔۔
وہ آیت الکرسی کا ورد کرتا ہمت کرکے ٹیرس کا دروازہ کھول کر باہر جاتا ہے ۔۔
سفید لباس میں کوئی کھلے بال بکھرائے بشر کی طرف پشت کیے ہوئے تھا۔۔ 
چوڑیوں کی آواز مزید تیز سے تیز تر ہوتی گئی ۔۔
ککککک کون ہو تم ؟؟؟؟
بشرکی خوف سے گھگی بن گئ تھی۔ ۔ 
وہ جو بھی چیز تھی وہ یکدم مڑی اس کی طرف۔ ۔
بشر اس کو دیکھ کر زرد پڑ گیا ۔ ۔
پورا جسم ٹھنڈا پڑ چکا تھا ۔۔
اس کو اپنے پیروں کی جان نکلتی محسوس ہوئی ۔۔
۔
💓💓💓💓💓

حمداااان۔۔۔۔۔۔۔
بی اماں کی گرج دار آواز پہ اسراء۔ ۔
حمد ان کی گرفت کمزور پا کر ایک دم اس سےدور ہوئی اور بھاگ کر بی ا ماں کے گلے لگ گئی ۔ 
کیا ہو رہا تھا یہاں۔۔
بی اماں نے ایک جھٹکے سےا سرا کو خود سے دور کیا ۔۔
اسراء ان کی سردمہری پہ بے یقین سی ہوئی۔۔
بی اماں میری بات سنیں میرا تو کوئی تصور نہیں ہے ۔۔۔
جی اماں بی آسرا ٹھیک کہہ رہی ہے اس کا کوئی قصور نہیں ہے آپ ایک منٹ تحمل سے میری بات کو سن لیں ۔۔۔
وہ بی اماں کو ٹیلیفون کی طرف بڑھتا دیکھ کر خود فورا ان کی طرف لپکا ۔۔
ٹھٹک تو میں صبح ہی گئی تھی مگر میں نے اپنے شک کو وہم جان کر ٹالا ۔۔
وہ مزیدگویا ہوِیں۔ ۔۔
جب یہ لڑکی ناشتے کی ٹیبل پر آئی تھی اس کے پیروں کی لڑکھڑاہٹ ۔۔
اس کا نم نم سہ وجود اور تمہیں دیکھ کے اس کے چہرے پر بکھرے حیاء کے رنگ مجھے بہت کچھ چیخ چیخ کر بتا رہے تھے ۔۔۔
یہ جو بال ہیں نہ یہ دھم میں سفید نہیں ہوئےہیں ۔۔
ان کی آواز میں کرختگی تھی ۔۔
اسراہ کے رونے میں مزید شدت آ گئی ۔۔

بی اماں پہلے میری بات سنلیں آپ جانتی ہیں یہ ۔۔
وہ بولا۔

آسرا تم اندر جاؤ ۔۔۔۔
حمدان نے اپنی کل متاع کو اس طرح پکھرتے دیکھ کر دلبرداشتہ ہو کر کہا ۔۔

مجھے کچھ نہیں سننا مجھے تمہارے باپ نے تمہارا خیال رکھنے کے لیے بھیجا تھا مگر مجھے یہ نہیں پتا تھا کہ تم میرے ہی سر میں اس عمر میں خاک ڈالو آؤ گے وہ بھی ایک ایسی لڑکی کے لئے جس کانہ آگے کا پتہ نہ پیچھے کی کوئ خبر ہے ۔۔
اسراء بی اماں کی بات پہ پتھرا سی گئی اور ایک پر شکوہ سی نظر اپنے شوہر پر ڈال کر بولی ۔۔

بی اماں پلیز مجھے معاف کردیں میں ایسا کچھ بھی نہیں ۔۔
وہ روتے ہوئے اپنے ہاتھ جوڑنے کو تھی جب حمدان نے تیزی سے بڑھ کر اس کے ہاتھ تھام لئے اور اس کو ایک جھٹکے سے بی اماں کے سامنے کھڑا کر کے کہا ۔۔
یہ میری بیوی ہے اور آپ کو پورا حق ہے بازپرس کرنے کا مگر مجھ سے ۔۔
اس سے میں ایک بات بھی آپ کو اس کے کردار کے متعلق نہیں کرنے دوں گا ۔۔
وہ بہت حیران تھا اس کو بی اماں سے اس طرح کے رویے کی ہرگز بھی امید نہ تھی ۔۔
او راسراء تمہیں کسی کے سامنے گڑگڑانے اور معافی مانگنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔
وہ آسرا کو اپنے بازو کے گھیرے میں لئے بی اماں کے سامنے سے جاتے ہوئے بولا ۔۔

اور بابا کو سب پتہ ہے اسرا کے بارے میں اور یہ میری وحی منکوحہ ہے جس سے میرا نکاح دادی جان کی مرضی کے خلاف بچپن میں ہی ہو گیا تھا ۔۔
بی اماں کے سر پر گویا کسی نے بھاری پتھر پھینک دیا تھا ۔۔
وہ حیران پریشان سی ان دونوں کو جاتا دیکھتی رہ گئی ۔۔

💓💓💓💓💓💓
تم ریلیکس ہو کر یہاں بیٹھو اور گھبرانا نہیں میں تمہارے ساتھ ہوں ۔،۔
تم بالکل بھی تنہا نہیں ہو۔۔
تمہارے شوہر کے زور بازو میں اتنی طاقت ضرور ہے کہ وہ اپنی بیوی کی عزت کی حفاظت کر سکے اور اس کو تحفظ فراہم کر سکے ۔۔
یہ کہہ کر اس نے آسرا کے ماتھے پہ بوسہ دیا اور اس کے آنسوؤں کو اپنی انگلی کے پوروں سے سمیٹ لئے۔ ۔
اور سسکتی ہوئ اپنی زنگی کے ہاتھ پہ اپنے بھاری ہاتھ رکھ کر دو زانو بیٹھ کر گویا ہوا ۔۔

میں اب یہ آنسو تمھاری آنکھوں میں نہ دیکھوں۔۔
میں تم سے اس وقت سے محبت کرتا تھا جب خود بھی اس لفظ سے آشنا نہ تھا۔۔
یہ کہہ کر اس نے اسراء کے دونوں ہاتھوں کو اپنی آنکھوں پر رکھ لیا گویا خود کو سکون بخشنے کی کوشش کررہا ہوں ۔۔۔

تم بس اطمینان رکھو یہ کہہ کر وہ واپس بی اماں کے پاس چلا گیا ۔۔
پیچھے گم سم سی بیٹھی آسرا کیلئے سوچ کے کئ درباواہ کر گیا تھا ۔۔۔

💓💓💓💓💓💓💓💓
وہ فرع سے ملنے اور اپنی بچی کو دیکھنے اس کی ماں کے گھر آیا تھا ۔۔
فرح کو زبردستی ہاسپٹل سے اس کی ماں اپنے گھر لے گئی تھی ۔۔
سلام کر کے سیدھا وہ فرع کے کمرے میں آیا کمرے میں آکر اس کو شدید قسم کا جھٹکا لگا ۔۔

اس کی بیٹی" عارزو"۔۔
ِیہ نام بھی اس نے خود رکھا تھا کیونکہ جب تین دن گزرنے کے باوجود بھی کیسی نے اس کے نام رکھنے کے لئے دلچسپی ظاہر نہ کی تو اس نے پھر خود ہی اپنی بیٹی کو محت سے یہ نام دے دیا ۔۔
فرع اور کاشی کمرے سے باہر گیلری میں تھے اور بچی زار و قطار اندر بھوک کی زیادتی سے رو رہی تھی ۔۔
وہ غصے میں گیلری کی طرف گیا لیکن وہاں کا منظر سمیر کے لئے بلکہ کسی بھی غیرت مند انسان کے لئے ڈوب مرنے کے لئے کافی تھا ۔۔
کاشی فرح کے شولڈر سے مساج کر رہا تھا اور فرح بڑے مزے سے بدر کسی شرم و حیا کا گاؤن پہنے اس سے مساج کے نام پر بے غیرتی کروانے میں مصروف تھی۔۔ 
وہ ہاں سے مڑا اور اپنی بچی کو اٹھا کر جیسے آیا تھا ویسے ہی خاموشی سے نکلتا چلا گیا ۔۔۔

💓💓💓💓💓
جاری ہے۔ ۔۔
💓

0 comments:

Post a Comment