حجاب۔۔۔۔۔۔۔!!!
سامنے کھڑا ہیولہ حجاب کا تھا ۔۔
حجاب ۔۔۔۔۔۔
پشر پسینے سے شرابور دو قدم پیچھے ہٹا اور بیڈ پرسوئ ہوئ حجاب کی طرف پلٹا۔۔
حجاب تو یہ لیٹی ھے۔۔۔۔۔۔۔
پھروہ۔۔۔۔۔۔۔
وہ ہ ہ کون ہے۔۔
حیجاب باہر کیسے ہوسکتی ہے ؟؟؟؟؟؟
حجاب اٹھو جب اس کے وجود میں کوئی حرکت نہ ہوئی اور ٹیرس سے آتی ہوئی کھنکھن بھی تیز ہوتی گئی ۔۔
کہییں حجاب کو تو کچھ نہیں ہوگیا۔ ۔۔۔
اس سوچ کے آتے ہی۔ ۔
بشر نے بوکھلا کر حجاب کے اوپر سے کمفر ٹرکھینچا۔۔۔۔
مگر ۔۔۔۔مگر یہ کیاں۔؟؟؟
بیڈ پہ تکیے رکھے تھے کمفرٹر کے اندر۔۔۔۔
بشر جیسے ہی پلٹا پیچھے وہی چیز کھڑی تھی۔۔۔
وہ ا بھی کچھ بولنے کے لئے منہ کھولنےہی والا تھا جب۔ ۔
کیا ہوا ڈر گئے نا ۔۔۔
حجاب کہکہ لگا کر ہنس پڑی۔۔۔
وہ کوئی اور نہیں بلکہ حجاب ھی تھی سفید لباس میں چڑیل کا لبادہ اوڑھے۔۔۔
سامنے کھڑی پیٹ پکڑے ہنسی سے لوٹ پوٹ ہوتی حجاب کو دیکھ کر وہ لمحوں میں سمجھ چکا تھا کہ یہ اسی کے شیطانی دما غ کی ہی کارستانی ہے ۔
اففففف بشر آپ بھی کتنے ڈرپونک نکلے۔ ۔۔
خوف کی جگہ اب غصہ لے چکا تھا۔ ۔۔
وہ حجاب۔ کی طبعت ہرن کرنے۔ کی شوچ رہا تھا۔ ۔
مگر سامنے بچوں کی طرح حجاب کو ہنسی سے لوٹ پوٹ ہو کر دیکھ کر ۔۔
اس کا سارا غصہ جھاگ کی طرح بیٹھ چکا تھا ۔۔۔
وہ آگے بڑھا اور حجاب کو ایک جھٹکے سے اپنے بازوؤں میں بھر لیا ۔۔۔
بہت ہنسی آرہی ہے نہ ؟؟؟؟
حجاب کی اس افتاد پہ قینچی کی طرح چلتی زبان کو یکدم بریک لگا۔ ۔۔
بشر اس کو بانہوں میں اٹھائے کسی نازک مورتی کی طرح محبت پاش نظروں دیکتھے ہوئے سے بولا۔ ۔
چلو ایک دفعہ تم نے مجھے ڈرایا اب میری باری ہے۔۔۔
"اب میں تمہیں ڈراؤ نگا وہ بھی اپنے طریقے سے" ۔
مممم۔ ۔ممم ۔۔۔
مطلب میں سمجھی نہیں ۔۔۔۔
کیا تم مجھ سے شرما رہی ہو؟ ؟؟۔۔۔ ۔
بشر کو وہ آج بہت زیادہ پزل لگی۔ ۔۔
وہ محضوض ہوکر بو لا۔ ۔
نننننن۔ ۔۔نہیں تو۔ ۔۔
اس کی آواز حلق میں اٹک کر رہ گئ ۔۔۔
بشر نے اس کو لے جا کر بیڈ پر لٹایا ۔۔
وہ بشر کی بانہوں میں لرز سی گئ۔ ۔
بشر کی بڑھتی ہوئ وارفتگیوں کے آگے وہ اپنا آپ جھلستا ہوامحسوس کر رہی تھی۔۔
مطلب تو تمہیں صبح ہی پتہ چلے گا۔
وہ اس نوز رنگ کو چھیڑتے ہوئے ساتھ ایک محبت بھری شرارت کرتے ہوئے بولا۔ ۔۔
پپپپپ۔ ۔۔پلیزززززز۔ ۔۔
نہ بس اب کچھ نہیں کہنا اور بس میری دھڑکنوں کو سنو۔ ۔
بشر نے اسکے ہونٹوں سے ریڈ لپسٹک اپنے انگوٹھے سے مٹائ۔ ۔
(جو اسنے چڑیل بنتے وقت لگائ تھی)
میں کچھ سمجھ نہیں پارہی۔۔۔
ممم۔۔۔ مجھے آپ سے ڈر لگ رہا ہے۔ ۔
میں آج کی پوری رات اچھی طرح سمجھاؤں گا بھی اور ابھی ڈرایا ہی کہاں ہے میں نے۔ ؟؟؟؟
ارے تم تو ابھی سے ڈر گئیں۔ ۔۔۔۔۔
وہ حجاب کی خوف سے بند ہوتی آنکھیں دیکھ کر بولا۔ ۔
حجاب کو اپنے وجود میں سنسنی سی اٹھتی ہوئی محسوس ہوئی ۔۔
اچھا نہ معاف کر دیں نہ آئندہ نہیں کروں گی۔۔۔
وہ روہانسی ہو کر بولی ۔۔۔
کیا ہوا بس اتنی ہی بہادری تھی۔ ۔۔
وہ معنی خیزی سے کہتا اس کے اوپر مزید جھکا ۔۔
حجاب نے فوری اپنے دونوں ہاتھ آنکھوں پہ رکھ لئے۔۔
اس کو بشر سے ٹوٹکے شرم محسوس ہوئی۔ وہ اس نظروں تاب نہ لاسکی اور حیاء سے منہ ڈھانپ لیا
بشر نے جاندار کہکہ لگایا۔ ۔۔
بشر نےمحبت لٹاتی نظروں سےدیکھتے ہوئے حجاب کے دونوں ہاتھ چہرے سے ہٹا کر اس کی حسین آنکھوں پہ اپنےلب رکھ کر بوسہ دیا ۔۔
اور پھر آہستہ اس کے اوپر جھکتا چلا گیا ۔۔اسکا پور پور اپنی محبت سے بھگوتا رہا۔ ۔۔
حجاب کی تمام مزاہمت کی جگہ خودسپردگی نے لے لی تھی۔۔
محبت کے ملن کی ایک حسین رات دو روحوں کے ملاپ پہ مسکراتی ہوئی آہستہ آہستہ سر کتی جا رہی تھی۔۔۔
💕
میں کتنا غلط سمجھتی رہی آپکو حمدان اور آپتو ایک الگ ہی انسان نکلے ۔۔
ماما کے بعد آج مجھے صحیح معنوں میں پروٹکشن کا احساس ہوا ہے۔۔
تم نے مجھے غیرت اور عزت سہی مفہوم سے آشنا ئ عطا کر آئی ہے ۔۔
وہ شل ہوتے دماغ کے ساتھ سسکتے ہوئے خود سے مخاطب تھی ۔۔
مگر کیا تم میرے لئے اپنی دادی سے بھی میرا آپ منواہ سکوگے؟؟؟؟؟
میں کیسے اس عورت کو معاف کر دو حمدان ؟؟؟؟
جس عورت نیں میری ماں اور مجھے رات کے سیہائ میں گھر سے دھکے دے کر نکال دیا تھا ۔۔
اس عورت کو مجھسے اور میری ماں کے وجود سے اتنی نفرت تھی کہ انہوں نے اس بات کی پرواہ نہیں کی کہ رات کے اندھیرے میں اور میری ماں کہاں جائیں گے ؟؟؟؟
اس درندوں اور شکاریوں سے بھری دنیا میں ۔۔؟
سوچتے سوچتے نہ جانے کتنا ٹائم گزر گیا تھا ۔۔
سیاہ کالی رات اپنی دوسرے پہر کو پہنچ رہی تھی جب کمرے کا دروازہ چرررر ۔۔۔۔کی آواز کے ساتھ واھوا ۔
اسراء نے اپنی پلکیں اٹھا کر دیکھا حمدان کھانے کی ٹرےلیے اندر آ رہا تھا ۔۔
چلو شاباش فریش ہو کر جلدی سے آو مجھے بہت بھوک لگی ہے۔۔۔
اسرا نے حیرانی سے حمدان کو دیکھا ۔۔
وہ اس طرح کر رہا تھاجیسے کچھ دیر پہلے کچھ ہوا ہی نہ ہو ۔۔۔
اس طرح کیا دیکھ رہی ہوں ؟؟
حمدان نے خود کو کرسی پہ گراکر استفسار کیا ۔۔۔
نہیں کچھ نہیں کچھ بھی تو نہیں بس یوں ہی ۔۔۔۔
حمدان کو دیکھ کر ایک دفعہ پھر اس پر گھبراہٹ طاری ہونا شروع ہو گئی تھی ۔۔۔
ارے یار گھبرانا شرمانہ بعد میں جلدی سے آو مجھے بہت بھوک لگی ہے ۔۔
وہ چھوٹی سی ٹیبل پہ کھانا نکالتے ہوئے بولا۔ ۔
اسراء اسکی بات سن کے سٹپٹاسی گئی اور بولی ۔۔مجھے بھوک نہیں ہے ۔۔۔
حمدان نےاک نظر اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہ ہوتی اپنی معصوم سی شریک حیات کو دیکھا اور پھر تھوڑا سخت لہجے میں گویا ہوا ۔۔۔
اگر دو منٹ میں فریش ہو کر میرے پاس آ کر کھانے کے لئے نہ بیٹھیں تو میرے پاس بہت سے اور بھی حربے ہیں ۔۔۔
جی وہ بوکھلائی ۔۔
اور اگر میں اپنے ان طریقوں پر عمل کرکے تمہیں یہاں لایا تو شاید تمہیں پسند نہ آئے میرے وہ طریقے ۔۔۔
نہیں میں آ رہی ہوں یہ۔۔۔
کہہ کر اسراء جلدی سے فریش ہوکر باہر نکلی۔۔
مبادا کہیں واقعی میں حمدان کوئی اپنا "وہ "طریقہ ہی استعمال نہ کرلیں۔۔۔
کر سی کھسکا کر اس نے ہمدان کی اس کیلئے بنائی ہوئی کھانے کی پلیٹ دیکھ کر تھوک نگلا حلق میں ۔۔۔
حمدان کا نوالا بناتا لاتھ لمحے بھر کورکا اور ایک تیز نظر اسراہ پر ڈالتے ہوئے کہا ۔۔۔
یہ مجھے پندرہ منٹ میں پورا ختم چاہیےایک نوالا بھی باقی نہ رہے۔۔۔
وہ وارننگ دینے والے انداز میں بولا ۔۔
گویا اب میں کھانا بھی ان کی مرضی سے کھاؤں؟ ؟؟
وہ سوچ کر رہے گئی مگر زبان پر نہ لا سکی۔۔
اس سے پہلے حمدان اسے دوبارہ ٹوکتا اس نے آہستہ آہستہ کھا ناشروع کیا ۔۔
اس نے محبت پاش نظروں سے اپنی خود سے کافی ڈری سہمی بیوی کو زبردستی کھانا زہر مار کرتےدیکھا وہ ہونٹوں پہ آئی مسکراہٹ چھپا گیا ۔۔۔۔
وہ کھانا کھا چکا تھا اور اب اسراءکو دیکھ رہا تھا ۔۔
پلیز ایسے نہ دیکھیں۔۔۔
وہ زبردستی حلق سے نوالہ اتارتے ہوئے حمدان کو اپنے وجودپہ نظریں جمائے بیٹھے دیکھ کر بے ساختہ بول پڑی۔۔۔
ابھی تو فی الحال بس دیکھ ہی رہا ہوں بے فکر ر ہو عمل آج نہیں کروں گا ۔۔۔
وہ ذومعنی لہجے میں بولا ۔۔۔
اسراء اسکی بات کی گہرائی سمجھ کر سرخ پڑ گئی حیا کے تمام رنگ اس کے چہرے پہ بکھرے پڑےچند ہی لمحوں میں ۔۔
یہ بلش بعد میں کرنا ۔۔
پہلے یہ آخری نوالہ ختم کرو اس کے بعد 10 منٹ کے وقفے سے تمہیں دوائیں بھی کھانی ہے ۔۔۔
اس نے حمدان کے آرڈر پر آخری نوالہ بھی جلدی سے حلق میں اتارا ۔۔
اسرا کوئی بات اپنے دماغ پر حاوی نہیں کرنا میں بیٹھا ہوں یہاں ہر چیز ہینڈل کرنے کے لئے ۔۔۔
وہ اس کو ریلیکس کرنے کی بھرپور کوشش کر رہا تھا ۔۔
وہ محض اثبات میں سر ہلا کر رہ گئی نہ جانے کیوں اس کا دل حمدان کی ہر ایک بات پر ایمان لانے کو چاہ رہا تھا ۔۔
وہ خیالوں میں گم تھی جب حمدان نےاس کی آنکھوں کے سامنے چٹکی بجائی ۔۔۔
جج۔۔۔۔ جی ۔۔۔
وہ ہوش کی دنیا میں واپس آئی۔۔
حمدان ہاتھ میں دودھ کا گلاس لیے اور دوائی تھامے کھڑا تھا ۔۔
کتنا الگ انداز تھا اس کا کئیر کرنے کا۔۔
وہ سوچ کر رہ گئی ۔۔
میڈم میرا معائنہ اور اپنا مراقبہ بعد میں جاری کرلیجئے گا پہلے یہ دوا کھا لیں۔۔۔
حمدان نے دودھ کا گلاس اور دوا اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔۔۔۔
میں یہ دوائیں کھا لوں گی مگر دودھ مجھ سے نہیں پیا جائے گا ۔۔۔
یہ کہہ کر اس نے ڈرتے ڈرتے حمدان کو دیکھا ۔۔۔۔
مگر اس کی سخت نظریں دیکھ کر فوری دودھ اور دوائی تھام لی اور حلق میں اتار گئی ۔
جاؤ اب جاکر سو جاؤ ۔۔۔
اسرا کی تو مانو جان میں جان آئ وہ اسکی طرف سے رہائ کا پروانا پاکے فوری اٹھی ۔۔
کہ اگر وہ ایک لمحہ بھی ضائع کردیںتی تو حمدان اس کو جانے نہ دیتا ۔۔
وہ سر پٹ تیزی سے جا کر لیٹ گئی ۔۔
حمدان نے آگے بڑھ کر لیمپ آن کیا اور لائٹ آف کر دی کمرے کی ۔۔
اس کے اوپر بلینکیٹ ڈال کر اپنی سگریٹ کا ڈبہ اٹھا کے باہر لان میں آگیا ۔۔
💕
باہر لان میں آکر بس وہ مسلسل بس سوچے ہی جارہا تھا۔ ۔
وہ ان مردوں میں سے تھا جو سب پریشانیاں خود جھیلنے کی سکت رکھتے ہیں۔ ۔۔
اپنے بیوی پچوں کو ہر پریشانی سے کسی سایہ دار درخت کی طرح محبت بھری چھاوں میں ڈھانپے کی کوشش میں ہر لمحہ ہلکان رہتے ہیں۔ ۔۔
کیا کیا ہے دادی آپنے یہ؟ ؟؟
اآپ کیسے ایک عورت ہوکر دوسری عورت میں پر اتنا بڑا ظلم کر گئیں۔۔
اسرا کا پورا اعتماد آپنے کرچی کرچی کر بکھیرکے رکھ دیا تھا۔۔۔
مجھ پر سے اس کا اعتماد بالکل نہ ہونے کے برابر ہے
چھوٹی سی لڑکی مجھ سے خفاء خفاء سی رہتی ہے۔۔
مجھے دیکھ کر تھرتھر کانپنے لگتی ہے ۔۔
مجھے شدید افسوس ہوتا ہے مگر میں شروع سے ہی ایسا ہو ۔۔
اپنےمیں سمٹ کے رہنے والا سنجیدہ ۔
میری پرسنالٹی کا حصہ ہے میرا یہ مزاج ۔۔۔
پوری حویلی کا اکلوتا وارث بیجہ محبت لاڈ پیار نے اس کی شخصیت میں غرور اور ایک روب دار قسم کی پرسنیلیٹی کو جنم دیا تھا۔۔
اور یہی روب اور ہر وقت سختی۔۔
چہرے پر تاری دب دبا اور سنجیدگی ۔۔۔
ہی اسراء کو حمدان سے خائف رکتی تھی ۔۔
صبح فجر تک وہ سوچتا رہا سگریٹ کے بے تحاشہ ٹوٹے ایش ٹرے میں بکھرے پڑے تھے ۔۔
اور وہ ایک فیصلے پر پہنچ کر اٹھ کھڑا ہوا ۔۔۔
ایک اٹل اور ہتمی فیصلہ۔ ۔
💕
اریج اندھا دھن بھاگ رہی تھی۔۔نن
اور زوار پاگلوں کی طرح اس کو پکڑنے کے لئے اس کے پیچھے پیچھے درندوں کی طرح بھاگ رہا تھا ۔۔
اریج کے پیروں سے خون رسنا شروع ہو گیا تھا۔۔
بھاگ بھاگ کر وہ آدھ موئ ہو رہی تھی پھر بھی اپنی عزت اور عصمت کو بچانے کے لیے وہ بری طرح تکلیف کے باوجود بھی زوار سے بچنے کی پوری پوری کوشش کر رہی تھی ۔۔
اس کی ہمت بالکل جواب دے چکی تھی جب سامنے سے آتی گاڑی کو دیکھ کر وہ خود کو اپنے رب کے عمان میں دیتی بے ہوش ہو چکی تھی
گاڑی ایک جھٹکے سے روکی۔۔۔۔۔
اور وہ نہیں جانتی تھی کہ۔ ۔۔۔
💕
سمیر کو آرزو کو اپنے پاس لائے ہوئے دو ہفتے سے زیادہ کا ٹائم گزر چکا تھا۔۔
وہ ھلکان سا سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اپنی بچی کو سمبھالنے کی بھرپور کوشش کر رہا تھا ۔۔
اس دوران فراح نے دو دافع فون کیے جس میں صرف اور صرف ڈائیورس کے لئے ہی مطالبہ کیا
گیا تھا ۔۔
وہ تو یہاں تک کہہ گئی تھی کہ میں خوشی خوشی پیپر بنوا کر دے رہی ہوں کے بچی کی کسٹڈی میں نے تمہارے حوالے کی ۔۔۔
مو شاطر دماغ تھی ۔۔
جانتی تھی بچی کی وجہ سے وہ اس کو کبھی آزاد نہیں کرے گا۔۔
اس لئے ننھی سی بچی کو بھی اپنی مکروہ خواہشات کے آگے قربان کرنے کے درپے ہو گئی تھی ۔۔
💕
جاری ہے۔ ۔۔💕

0 comments:
Post a Comment