itni muhabbat karoo na....!
By zeenia sherjeel
Episode 4
شاہ کی پری پر نظر پڑی وہ بریک میں اپنی books کھولے مصروف تھی. شاہ اس کے قریب آیا
"کیا ہورہا ہے پری ؟؟شاہ نے پری سےپوچھا۔
"مجھ سے پروبلم solve نہیں ہو رہا" اس نے افسردگی سے کہا
"ذرا دکھاؤ مجھے" شاہ نے ہاتھ میں بک لیتے ہوئے کہا
"ارے یہ تو بہت ہی ایزی ہے ادھر دیکھو میں سمجھاتا ہوں"
"آیا نہ سمجھ میں؟شاہ نے پوچھا
"بالکل نہیں" پری نے ایک ادا سے جواب دیا!
اس کے بعد ساتویں دفعہ سمجھانے پر پری کو سمجھ میں آہی گیا
"وہ کیا ہے نا میرا math تھوڑا ویک ہے" پری نے معصومیت سے کہا
"اسے تھوڑا ویک نہیں کہتے ہیں بہت زیادہ ویک ہو تم math میں" شاہ نے سنجیدگی سے کہا
"جاؤ نہیں ہو تم میرے دوست نہیں بات کرتی میں تم سے"
پری اچھا خاصا برا مان گئ ۔۔
"ارے میں تو مذاق کر رہا تھا خفا تو نہیں ہو"
اس نےدو انگلیوں سے پری کے گال کو چھوا
آخر پری مان گئی۔ ۔
جیسے جیسے دن گزر رہے تھے ان دونوں کی دوستی اور پکی ہوتی جا رہی تھی اور انکی دوستی کی کتنی مدت ہے یہ دونوں ہی اس سے بے خبر تھے ۔۔۔۔۔!
*******
حور کچن میں کھانا بنانے میں مصروف تھی خضر وہی چلا آیا ۔۔۔۔
"اور کیا بنا رہی ہو ڈیر کزن"
"میں رات کے کھانے کے لئے قیمہ بنا رہی ہوں اور ابھی پلاؤ بنایا ہے.کیا آپ کو کچھ چاہیے؟
اس نے کام کرتے ہوئے خضر سے پوچھا
ایک وہی تو تھا جو سارے کزنز میں اسکا خیال رکھتا تھا ورنہ تو سب ضرورت کے وقت ہی اس کو پکارتے تھے"
"اگر مسئلہ نہ ہو تو ایک کپ چائے بنا دو"
وہ سامنے ہی چیئر پر بیٹھ گیا"
"مسئلہ کیسا خضر بھائی ابھی بنا دیتی ہوں"
وہ چائے کا پانی چڑھانے لگی
"تمہاری اسٹیڈیز کیسی جا رہی ہے کہیں کوئی پرابلم تو نہیں"
خضر نے سامنے ٹیبل پر دونوں ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا
"نہیں اسٹیڈیز تو اچھی چل رہی ہے ایگزیم بھی ہونے والے ہیں بس اس کی تیاریوں میں مصروف ہوں"
اس نے چائے کا کپ سامنے رکھتے ہوئے کہا
اگر کوئی بھی پرابلم ہو تو بلا جھجگ پوچھ لینا"
"جی اگر کوئی مسئلہ ہوا تو آپ کا ہی سر کھاؤ گی" حور نے مسکراتے ہوئے خضر کو جواب دیا"
خضر بھی مسکرانے لگا اتنے میں ایک فاطمہ تائ آگئ
"تم یہاں کیا کر رہے ہو خضر"
امی چائے پی رہا تھا کچھ کام ہے آپ کو
"ہاں مجھے تہمینہ(خالا) کے گھر جانا ہے اور تم یہاں کیوں کھڑی ہو؟۔انہوں نے حور سے پوچھا
"جی تائی رات کے کھانے کی تیاری کر رہی تھی"
حور نے کام ختم کرتے ہوئے جواب دیا
"ہوگی نہ تیاری؟۔۔تائی نے پوچھا
"جی"حور نے اتنا ہی کہا
"تو جاؤ اپنے کمرے میں" یہ کہتے ہیں وہ بھی چلے گئیں۔۔۔ اور پیچھے حور بھی کچن سے نکل گئی
خضر وہاں بیٹھ کر افسوس سے اپنے گھروالوں کے رویے کے بارے میں سوچ رہا تھا ۔۔۔!!!!
******
رات 12 بجے کا وقت تھا یہ سڑک بہت ہی سنسان تھی جہاں وہ دونوں جھاڑیوں میں چھپے اپنے شکار کے تعقب میں تھے. تھوڑی دیر خاموشی میں ارتعاش پیدا ہوتا ہے ایک گاڑی جو دور سے آتی دکھتی ہے وہ دونوں چوکنے ہو جاتے ہیں قریب آتے ہی سڑک پر پڑے کانچ سے گاڑی کے ٹائر برسٹ ہوتے ہیں اور گاڑی جھٹکا کہا کر رکتی ہے گاڑی میں بیٹھا وہ شخص گاڑی کا دروازہ کھول کر ٹائر دیکھنے باہر نکلتا ہے اچانک ہی وہ دونوں جھاڑیوں سے نمودار ہوتے ہیں اور اس شخص پر حملہ کر دیتے ہیں. دونوں ہاتھ او پر کرلو اور "خبردار کوئی ہوشیاری دکھائی تو یہی کاٹ کر پھینک دونگا"
نقاب پوش میں سے ایک... جس کے ہاتھ میں چھوٹا سائز کاچاقو ہوتا ہے وہ اپنی طرف سے اس شخص کو دھمکانے کی پوری کوشش کرتا ہے
"اوکے اوکے میں کچھ نہیں کر رہا لیکن میرے پاس کچھ نہیں ہے پلیز مجھے جانے دو"
اس شخص نے ہاتھ اٹھاتے ہوئے کہا
دوسرا نقاب پوش اپنے ساتھی کے کان میں سرگوشی کرتا ہے
"یار یہ بچارا سچ بول رہا ہے اس کو جانے دیتے ہیں" ۔۔مگر اس کی سرگوشی اتنی آہستہ نہیں تھی جو سامنے کھڑے شخص کو سننے میں نہ آئی ہو. وہ پل میں سمجھ گیا یہ لوگ اس کام میں نئے ہیں یا بالکل اچھے کھلاڑی نہیں ہئں
"میرے پاس سے تم دونوں کو کچھ نہیں ملے گا. لیکن اگر تم لوگ مجھے نقصان نہ پہنچانے کا وعدہ کرتے ہو تو گاڑی میں موجود رقم تمھارے حوالے کر دیتا ہو. اس شخص نے بولا
"جلدی کرو بغیر کسی ہوشیاری کے رقم ہمارے حوالے کردو" ایک نقاب پوش بولا
"ٹھیک ہے"
اس شخص نے گاڑی کی طرف جا کر گاڑی کی فرنٹ سیٹ سے ہوشیاری سے پسٹل نکالا.
وہ دونوں اس کے پیچھے ہی کھڑے تھے وہ ایک دم مڑا
"اب تم دونوں جلدی سے اپنے اپنے چاقو نیچے رکھ کر ہاتھ اوپر کر لو یہ پستول لوڈڈ ہے"
ان دونوں کے پسینے چھوٹ گئے اور جلدی جلدی اپنے چاکو نیچے رکھ کر ہاتھ اوپر کر لئے
"گڈ اب اچھے بچوں کی طرح ذرا اپنے چہروں سے کپڑا ہٹاو"
ان دونوں نے فرمابرداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے نقاب ہٹایا. وہ اشعر کے ہم عمر دو لڑکے تھے
"شاباش اب جلدی سے یہ بتاؤ تم دونوں کو یہی شوٹ کر کے چلا جاؤں یا پولیس کو انفارم کر دوں؟
یہ سن کر ان دونوں کی ہوائیاں اڑ گئی ان میں سے ایک جلدی سے بولا
"دیکھو پلیز ہمیں جانے دو ہم لوگ کوئی چور نہیں اور یہ سب بہت مجبوری کی بنا پر کیا ہے. وہ بھی پیلی بار... ہم ایسے بلکل نہیں ہیں"
"وہ تو تم دونوں کے چاقو کے سائز اور ہاتھوں کی کپکپاہٹ دیکھ کر مجھے پہلے ہی اندازہ ہوگیا تھا"
"پلیز ہمیں جانے دو ہم بہت مجبور ہیں اب ایسا نہیں کریں گے"
ان میں سے ایک بولا
"چلو پھر تم دونوں اپنی اپنی مجبوریاں بتاؤ پھر کوئی فیصلہ کرتے ہیں کہ کیا کرنا چاہیے"
جاری ہےitni muhabbat karoo na....!
By zeenia sherjeel
Episode 4
شاہ کی پری پر نظر پڑی وہ بریک میں اپنی books کھولے مصروف تھی. شاہ اس کے قریب آیا
"کیا ہورہا ہے پری ؟؟شاہ نے پری سےپوچھا۔
"مجھ سے پروبلم solve نہیں ہو رہا" اس نے افسردگی سے کہا
"ذرا دکھاؤ مجھے" شاہ نے ہاتھ میں بک لیتے ہوئے کہا
"ارے یہ تو بہت ہی ایزی ہے ادھر دیکھو میں سمجھاتا ہوں"
"آیا نہ سمجھ میں؟شاہ نے پوچھا
"بالکل نہیں" پری نے ایک ادا سے جواب دیا!
اس کے بعد ساتویں دفعہ سمجھانے پر پری کو سمجھ میں آہی گیا
"وہ کیا ہے نا میرا math تھوڑا ویک ہے" پری نے معصومیت سے کہا
"اسے تھوڑا ویک نہیں کہتے ہیں بہت زیادہ ویک ہو تم math میں" شاہ نے سنجیدگی سے کہا
"جاؤ نہیں ہو تم میرے دوست نہیں بات کرتی میں تم سے"
پری اچھا خاصا برا مان گئ ۔۔
"ارے میں تو مذاق کر رہا تھا خفا تو نہیں ہو"
اس نےدو انگلیوں سے پری کے گال کو چھوا
آخر پری مان گئی۔ ۔
جیسے جیسے دن گزر رہے تھے ان دونوں کی دوستی اور پکی ہوتی جا رہی تھی اور انکی دوستی کی کتنی مدت ہے یہ دونوں ہی اس سے بے خبر تھے ۔۔۔۔۔!
*******
حور کچن میں کھانا بنانے میں مصروف تھی خضر وہی چلا آیا ۔۔۔۔
"اور کیا بنا رہی ہو ڈیر کزن"
"میں رات کے کھانے کے لئے قیمہ بنا رہی ہوں اور ابھی پلاؤ بنایا ہے.کیا آپ کو کچھ چاہیے؟
اس نے کام کرتے ہوئے خضر سے پوچھا
ایک وہی تو تھا جو سارے کزنز میں اسکا خیال رکھتا تھا ورنہ تو سب ضرورت کے وقت ہی اس کو پکارتے تھے"
"اگر مسئلہ نہ ہو تو ایک کپ چائے بنا دو"
وہ سامنے ہی چیئر پر بیٹھ گیا"
"مسئلہ کیسا خضر بھائی ابھی بنا دیتی ہوں"
وہ چائے کا پانی چڑھانے لگی
"تمہاری اسٹیڈیز کیسی جا رہی ہے کہیں کوئی پرابلم تو نہیں"
خضر نے سامنے ٹیبل پر دونوں ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا
"نہیں اسٹیڈیز تو اچھی چل رہی ہے ایگزیم بھی ہونے والے ہیں بس اس کی تیاریوں میں مصروف ہوں"
اس نے چائے کا کپ سامنے رکھتے ہوئے کہا
اگر کوئی بھی پرابلم ہو تو بلا جھجگ پوچھ لینا"
"جی اگر کوئی مسئلہ ہوا تو آپ کا ہی سر کھاؤ گی" حور نے مسکراتے ہوئے خضر کو جواب دیا"
خضر بھی مسکرانے لگا اتنے میں ایک فاطمہ تائ آگئ
"تم یہاں کیا کر رہے ہو خضر"
امی چائے پی رہا تھا کچھ کام ہے آپ کو
"ہاں مجھے تہمینہ(خالا) کے گھر جانا ہے اور تم یہاں کیوں کھڑی ہو؟۔انہوں نے حور سے پوچھا
"جی تائی رات کے کھانے کی تیاری کر رہی تھی"
حور نے کام ختم کرتے ہوئے جواب دیا
"ہوگی نہ تیاری؟۔۔تائی نے پوچھا
"جی"حور نے اتنا ہی کہا
"تو جاؤ اپنے کمرے میں" یہ کہتے ہیں وہ بھی چلے گئیں۔۔۔ اور پیچھے حور بھی کچن سے نکل گئی
خضر وہاں بیٹھ کر افسوس سے اپنے گھروالوں کے رویے کے بارے میں سوچ رہا تھا ۔۔۔!!!!
******
رات 12 بجے کا وقت تھا یہ سڑک بہت ہی سنسان تھی جہاں وہ دونوں جھاڑیوں میں چھپے اپنے شکار کے تعقب میں تھے. تھوڑی دیر خاموشی میں ارتعاش پیدا ہوتا ہے ایک گاڑی جو دور سے آتی دکھتی ہے وہ دونوں چوکنے ہو جاتے ہیں قریب آتے ہی سڑک پر پڑے کانچ سے گاڑی کے ٹائر برسٹ ہوتے ہیں اور گاڑی جھٹکا کہا کر رکتی ہے گاڑی میں بیٹھا وہ شخص گاڑی کا دروازہ کھول کر ٹائر دیکھنے باہر نکلتا ہے اچانک ہی وہ دونوں جھاڑیوں سے نمودار ہوتے ہیں اور اس شخص پر حملہ کر دیتے ہیں. دونوں ہاتھ او پر کرلو اور "خبردار کوئی ہوشیاری دکھائی تو یہی کاٹ کر پھینک دونگا"
نقاب پوش میں سے ایک... جس کے ہاتھ میں چھوٹا سائز کاچاقو ہوتا ہے وہ اپنی طرف سے اس شخص کو دھمکانے کی پوری کوشش کرتا ہے
"اوکے اوکے میں کچھ نہیں کر رہا لیکن میرے پاس کچھ نہیں ہے پلیز مجھے جانے دو"
اس شخص نے ہاتھ اٹھاتے ہوئے کہا
دوسرا نقاب پوش اپنے ساتھی کے کان میں سرگوشی کرتا ہے
"یار یہ بچارا سچ بول رہا ہے اس کو جانے دیتے ہیں" ۔۔مگر اس کی سرگوشی اتنی آہستہ نہیں تھی جو سامنے کھڑے شخص کو سننے میں نہ آئی ہو. وہ پل میں سمجھ گیا یہ لوگ اس کام میں نئے ہیں یا بالکل اچھے کھلاڑی نہیں ہئں
"میرے پاس سے تم دونوں کو کچھ نہیں ملے گا. لیکن اگر تم لوگ مجھے نقصان نہ پہنچانے کا وعدہ کرتے ہو تو گاڑی میں موجود رقم تمھارے حوالے کر دیتا ہو. اس شخص نے بولا
"جلدی کرو بغیر کسی ہوشیاری کے رقم ہمارے حوالے کردو" ایک نقاب پوش بولا
"ٹھیک ہے"
اس شخص نے گاڑی کی طرف جا کر گاڑی کی فرنٹ سیٹ سے ہوشیاری سے پسٹل نکالا.
وہ دونوں اس کے پیچھے ہی کھڑے تھے وہ ایک دم مڑا
"اب تم دونوں جلدی سے اپنے اپنے چاقو نیچے رکھ کر ہاتھ اوپر کر لو یہ پستول لوڈڈ ہے"
ان دونوں کے پسینے چھوٹ گئے اور جلدی جلدی اپنے چاکو نیچے رکھ کر ہاتھ اوپر کر لئے
"گڈ اب اچھے بچوں کی طرح ذرا اپنے چہروں سے کپڑا ہٹاو"
ان دونوں نے فرمابرداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے نقاب ہٹایا. وہ اشعر کے ہم عمر دو لڑکے تھے
"شاباش اب جلدی سے یہ بتاؤ تم دونوں کو یہی شوٹ کر کے چلا جاؤں یا پولیس کو انفارم کر دوں؟
یہ سن کر ان دونوں کی ہوائیاں اڑ گئی ان میں سے ایک جلدی سے بولا
"دیکھو پلیز ہمیں جانے دو ہم لوگ کوئی چور نہیں اور یہ سب بہت مجبوری کی بنا پر کیا ہے. وہ بھی پیلی بار... ہم ایسے بلکل نہیں ہیں"
"وہ تو تم دونوں کے چاقو کے سائز اور ہاتھوں کی کپکپاہٹ دیکھ کر مجھے پہلے ہی اندازہ ہوگیا تھا"
"پلیز ہمیں جانے دو ہم بہت مجبور ہیں اب ایسا نہیں کریں گے"
ان میں سے ایک بولا
"چلو پھر تم دونوں اپنی اپنی مجبوریاں بتاؤ پھر کوئی فیصلہ کرتے ہیں کہ کیا کرنا چاہیے"
جاری ہے

0 comments:
Post a Comment