Monday, December 10, 2018

episode 3


itni muhabbat karoo na....!
By zeenia sherjeel
Episode 3
زین نادیہ بیگم کو اسپتال سے گھر لے کر جارہا تھا اچانک اس کی نظر گاڑی میں بیٹھے اس وقت پر پڑی جس سے زین کی رگیں تن گی ۔یہ وہی شخص تھا جس کی وجہ سے آج وہ زندگی میں اس مقام پر تھا .اس کے باپ کا دوست ظفر مراد۔زین نے اس گاڑی کا پیچھا کرنا چاہا مگر گاڑیوں کے سمندر میں گاڑی کہاں گئ اسے سمجھ نہیں آیا شکستہ قدم لےکر واپس آیا

"تو یہ واپس اس شہر میں آگیا ہے" اس نے نفرت سے سوچا

       ********  

 وہ کالج سے گھر پہنچی ہی تھی کہ اسے ماحول میں تلخی کا احساس ہوا

اسماء :"آگئی ہو حور چلو فریش ہو جاؤ میں کھانا لاتی ہوں تمہارے لئے"

حور: "ماما آپ کی آنکھیں اتنی لال کیوں ہو رہی ہیں؟؟؟

"کچھ نہیں ابھی پیاز کاٹی تھی شاید اس وجہ سے ہو  رہی ہوں"
انہوں نے ٹالنا چاہا ۔

حور: "مجھے لگ رہا ہے آپ روئی ہیں. ماما پلیز مجھے بتائیں کیا بات ہے اور ویسے بھی چچی اور تائی کے تیور دیکھ کر لگ رہا ہے کچھ ہوا ہے پلیز بتائے نہ کیا ہوا ہے"

"کل جو لوگ ماہم کو دیکھنے آئے تھے وہ تمہیں پسند کر گئے ہیں انہوں نے صاف کہہ دیا ہے اگر تمہارا رشتہ دینا ہے تو ٹھیک ہے"
اسماء کپڑوں کی تہ لگاتے ہوئے حور کو بتانے لگی

"تو اس لیے چچی اور تائی نے آپکو باتیں سنائی ہوگیں" وہ افسردگی سے بولی

"ظاہری سی بات ہے پہلے بھی جو رشتہ آیا تھا وہ اسی طرح سے واپس ہو گیا تھا"
 آسماء نے بولا

"خیر چھوڑو تم فریش  ہوں میں کھانا لاتی ہوں"
وہ حور کو شرمندہ دیکھ کر بولیں ویسے بھی ان کی بیٹی کا تو کوئی قصور نہیں تھا ۔۔۔!
     *******

 بلال زین  کے گھر آیا زین ابھی دوائیاں لے کر گھر آیا ہی تھا

"کیسی طبیعت ہے اب آنٹی کی"
بلال نے پوچھا

اب بہتر ہے. پراپر  ٹریٹمنٹ کروانا ہوگا
اور علاج کے لیے پیسوں کی ضرورت ہوگی. بس یار یہی سوچو تو ایسا لگتا ہے سارے دروازے بند ہو جاگئے ہیں کیا کروں کہاں سے لاؤں اتنا پیسا"
زین نے لاچاری سے کہا۔۔!

"میں نے اس دن جو تجویز دی تھی اس پر عمل کرو"
بلال نے آرام سے جواب دیا

"دماغ خراب ہے تمہارا ابھی تک دماغ سے نکالی نہیں تم نے وہ فضول بات"
زین نے ڈپٹتے ہوئے اسے کہا

"ٹھیک ہے پھر اس کا کوئی دوسرا حل ہے تو مجھے بتاو تاکہ میں بھی تمہارے ساتھ ساتھ اپنی الجھنوں کو دور کروں"
بلال نے آرام سے کہا

"یار تم سمجھ کیوں نہیں رہے ہو یہ صحیح نہیں ہوگا میرا دل نہیں مان رہا ہے"
زین نے بلال کو سمجانا چاہا

"وہی تو میں کہ رہا ہوں کوئی دوسرا راستہ ہے تمہارے پاس تو مجھے بھی بتاؤ. نہیں تو یونہی ہاتھ پر ہاتھ رکھے ہوئے آنٹی کو سسکتے ہوئے دیکھو"
 بلال ناچاہتے ہوئے بھی تلخ ہوگیا اور زین اپنا سر تھام کے بیٹھ گیا ۔۔۔۔!

     *******
 "مجھے تو نہیں لگتا بھابھی جب تک یہ لڑکی ہمارے سر پر مسلط ہماری بیٹیوں کے نصیب کھولیں گے"
سارہ چچی کو رشتہ ختم ہونے کا تو ابھی تک نہیں بھولا تھا

"مجھے تو کچھ اور ہی فکر کھائے جارہی ہے"
فاطمہ تائی نے کچھ سوچتے ہوئے بولا

"بھلا وہ کیا ؟؟؟چچی نے پوچھا

"میں نے کچھ دنوں سے نوٹ کیا ہے خضر حور کے آگے پیچھے رہتا ہے کافی ہمدردی ہو رہی ہے اسے"
فاطمہ تائی نے جیسے اپنا بوجھ ہلکہ کرنا چاہا

"یہ بات تو میں نے بھی نوٹ کی تھی مگر بولا اس لئے نہیں کہیں آپ کو برا نہ لگ جائے" سارا چاچی نے بھی  ہمدردانہ لہجہ اختیار کیا

"اور ویسے بھی یہ آسماء صرف شکل سے ہی سیدھی ہے. اس نے ہی کوئی  پٹی پڑھائی ہوگی اپنی بیٹی کو"
سارہ چچی نے مزید آگ لگانے کی کوشش کی جس میں وہ کامیاب بھی ہوگیں

"میں اپنے جیتے جی تو ایسا ہرگز بھی نہیں  ہونے  دوں گیں. اس گھر میں صرف نیہا ( بھانجی) ہی میرے بیٹے کی دلہن  بن کر آئے گی اور آب اس حور کا بھی کچھ سوچنا پڑے گا"
 انہوں نے بھڑکتے ہوئے کہا"

"جلد ہی سوچیے گا کہیں بات آگے نہ پڑجائے" سارا چچی اپنا کام دکھا کر مطمئن ہوگیں۔۔۔۔۔!

جاری ہے

0 comments:

Post a Comment