Friday, May 31, 2019

sitamgar ko hum aziz by aymen nauman episode 19 Final Episode


پلیز اسماعیل کیجئے آپ میم۔۔۔!!!

کئی کیمرہ مین بھاگتے ہوئے اس کی طرف آئے تھے دلہن کو ہال کے اندر آتا دیکھ  ۔۔

اردگرد مہمانوں کو دیکھ کر وہ خود پہ بہت مشکل سے ضبط کر پا رہی تھی ورنہ آنسووں کو آنکھوں کی دہلیز پھلانگنے سے روکنے کے لیے خود پہ بہت جبر کر نا پڑرہاتھا۔ ۔۔
 اس نے اپنے لبوں پہ جبری مسکراہٹ چسپاں کی تھی ۔جبکہ مصطفی تو ہنوز کب سے زہریلی مسکراہٹ اس کی طرف اچھالنے سے دریغ نہیں کرہاتھا۔ ۔۔

وہ اسٹیج تک لا کے اس کو اپنی چوڑی ہتھیلی پھیلا کے خزیمہ کے اٹھ کھڑا ہونے سے پہلے تھام چکا تھا اور اسٹیج پر بٹھانے کے بعد خود اس کے برابر والے  سنگل صوفے پہ ٹک گیا۔۔۔

خزیمہ نے بہت عجیب سی نظروں سے ان دونوں کو دیکھا تھا ۔۔۔
سامنے سے حمزہ اور شفا بھی چلے آئے تھے بس اب عمر اور لائبہ کا آنا باقی تھا ۔۔۔

 سب سے پہلے رسم  مصطفی نے خود سوہا کی کرنے کے لئے ہاتھ بڑھایا تھا سب لوگوں کو جیسے سانپ سونگھ گیا یہ کیا تھا ایسا تو کبھی نہیں ہوا تھا۔۔
وہ اس طرح ہر چیز میں پیش پیش تھا جیسے سب سے زیادہ خوشی اسی کو ہی تھی سوہا کی شادی کی۔ دکھ کا شائبہ تک ڈھونڈے سے اس وقت مصطفی کے چہرے پہ نظر تک نہیں آرہا تھا ۔۔۔

لاؤ ذرا اسے مجھے دینا ۔۔۔""
اسٹیج کے تھوڑے فاصلے پر موجود سنگر گانا گا رہا تھا جب مصطفی نے اشارہ کرکے اس سے مائک مانگ لیا ۔۔۔
حمزہ شفا سمیت سمیرا اور ائمہ کو مصطفی کی بے بسی پہ شدید افسوس نےآگھیرا تھا مگر وہ سبھی بے بس تھے کچھ بھی نہیں کر سکتے تھے چاہ کر بھی ۔۔!!!

"اوہو واہ مصطفی تمہیں سنگنگ بھی آتی ہے کیا بات ہے چلو بھائی شروع ہو جاؤ "
حمزہ نے فضا میں تاری تلخی  کو دور کرنے کے لیے شور شرابہ شروع کردیا ہنسی مذاق میں وہ اس وقت ماحول کو ہلکا پھلکا کرنا چاہ رہا تھا ۔۔

مصطفی دھیمے سے مسکرایا تھا اور مائیک کو سختی سے ہاتھ میں پکڑ کر جالی کےگھونگھٹ میں سے جھانکتے سوہا کے چہرے کو دیکھا تھا ۔
وہ لا چار تھی۔۔
 بے بس تھی۔۔۔۔۔
 کچھ بھی نہیں کر سکتی تھی سوائے رونے کے اور اس وقت بھی وہ بے آواز رو رہی تھی ۔۔!!!

وہ گنگناتے ہوئے گیت گانا شروع ہوا ۔۔۔

وہ میرے آنے پہ کھل جانا تیرا
وہ میرے جانے سے چڑ جانا تیرا
وہ میرے آنے پہ کھل جانا تیرا
یاد ہے نا ۔۔۔۔؟
یاد ہے نا ۔۔۔۔؟

سوہا کی ہلکی ہلکی سسکیاں اب باقاعدہ حمزہ کو محسوس ہو رہی تھی سنائی دے رہی تھی اس کے دل کو بہت تکلیف پہنچ رہی تھی مگر اس وقت وہ بھی اپنا حال دل بیان کرنے گریز نہیں کر سکتا تھا ۔۔۔
دل کی گھٹن بڑھنے سے اسکو اپنا دل بند ہوجانے کا خدشہ تھا اس لیے آج تہیہ کر بیٹھا تھا کہ ساری بھڑاس نکال چھوڑے گا ۔۔۔
پاس آنے پہ بکھر جانا تیرا
بوند بوند مجھ پہ برس جانا تیرا
تل تل مجھ کو ترسانہ تیرا
یاد ہے نا ۔۔۔۔؟
یاد ہے نا ۔۔۔؟؟
سوہا  روتے روتے کانپ اٹھی تھی۔اب وہ بے آواز رو رہی تھی مگر اس کی گھٹی گھٹی سی سسکیاں اس کے چاہنے والوں کو اندر تک ہلا کے رکھ گئی تھی۔سوہا کے ساتھ اس وقت کئی اور دوسری آنکھیں بھی برس رہی تھی ۔۔

جو تیرے تکیہ پہ نیندیں  تھیں پڑی
 جو تیری نیندوں میں راتیں ڈھلی
 جو تیری راتوں میں سانسیں تھی چلی
یاد ہے نا ۔۔۔؟
یاد ہے نا ۔۔۔۔
آ جانا پھر سے چاند تلے
میں اور تو ایک ساتھ جلے
 میں اور تو ایک ساتھ بجھے
یاد ہے نا۔۔۔۔۔۔۔؟ ؟
یاد ہے نا۔۔۔۔۔۔ ؟؟
وہ رو رو کر ہلکان ہو رہی تھی ابھی وہ بے بس ہو کہ مصطفی کے ہاتھ سے مائیک چھین نےہی والی تھی جب ایک عجیب سا شور اٹھا تھا۔ لائبہ اور عمر اسٹیج پر آ ہی رہے تھے جب لائبہ  نے پہلا قدم رکھتے ہی عمر کے بازوکو مضبوطی سے پکڑا تھا اور بغیر کچھ بولے وہ عمر کے بازووں میں جھول گئی تھی ۔۔۔
_____
"کہاں چلا گیا صبح ھی تو استری کرکہ یہاں رکھا تھا!! سب لوگ حال پہنچ چکے ہیں ایک میں ہی ہوں جو ابھی تک گھر میں نظر آ رہی ہوں"۔۔

وہ پچھلے آدھے گھنٹے سے ادھر سے ادھر اپنا مہندی کے فنکشن میں پہننے والا ڈریس تلاش کر رہی تھی جو آج صبح  ہی تو شفاء نے استری کرکہ سوٹ ادھر ہی استری اسٹینڈ پہ رکھ دیا تھا  ۔
 ۔
"اف ایک تو ڈریسنگ روم کا دروازہ بھی لاک ہے! !حمزہ دیکھ تو لیتے جاتے وقت کے ڈریسنگ روم کا دروازہ بند کر کہ جا رہے ہو "
۔بہت ہی لا پرواہ ہو تم ۔۔۔!!
ہونہہ۔  ۔۔۔

اب میں کیا کروں اورکیا نہ کرو۔۔۔؟

 وہ اپنے دونوں ہاتھ کمر پر رکھ کہ بے بسی سے اپنے ہونٹوں کو کچل رہی تھی۔ پریشانی اس کے چہرے سے ہویدا تھی حمزہ بھی نہیں تھا جو اس کے ساتھ مل کے ڈھونڈ والیتا۔
وہ کچھ دیر پہلےہی سوہا کو لے کہ گیا تھا حال !!رحمان صاحب نے حمزہ کو فون کرکہ سوہا کے سسرالیوں کا مہندی لے کر ہال میں پہنچ جانے کا بتا کہ سوہا کو فوری حال لانے کا حکم صادر کیا تھا چونکہ شفا تیار نہ تھی اس لیے حمزہ کو سوہا کو چھوڑکہ گھر واپس آکر خود بھی تیار ہوناتا اور شفاء کو بھی لے کر جانا تھا ۔

وہ اب آنے ہی والا تھا اس کو لینے۔ ادھر وہ تیار تو تب ہوتی نہ جب ڈریس موجود ہوتا!! فی الحال تو پہننے والا ڈریس ہی ندارد تھا ۔

"کہاں چلا گیا منہوس! ! زمین نگل گئی یا آسمان ہڑپ کر گیا "۔

"کتنے چاہ سے میں نے وہ ڈریس لیا تھا اب کیا کروں؟"
 اففففف۔ ۔۔۔!
" میرے خدایا میری مدد کر۔۔۔۔۔۔"

وہ اپنا سر تھام کہ صوفے پر بیٹھ چکی تھی اسکو اپنی بے بسی پہ ٹوٹکے رونا آیا اس پل ۔

ایسا نہیں تھا کہ اور کپڑے نہیں تھے کپڑے بہت تھے ایک سے ایک بہترین لباس اس کی بورڈ گروپ میں موجود تھا مگر مہندی کے فنکشن کے لیے اس نے بہت چاہ سے بازار میں 2 گھنٹے کی خواری کے بعد ڈریس لیا تھا جو کہ اب غائب تھا بیڈروم میں سے ۔۔۔

"کیا ہوا تم ابھی تک تیار نہیں ہوئی ہو؟"
' اور یہ منہ کیوں اس قدرگول گپا بنا ہوا ہے جیسے کسی نے ٹھیک ٹھاک تواضع کر ڈالی ہو ؟؟؟''

حمزہ کمرے میں آ کے اس کےسو جھے ہوئے چہرے اور ہاتھوں میں سر تھامے دیکھ کہ اچھمبے سے بولا اس کے مطابق تو اب تک وہ تیار اس کا انتظار کرتی نظر آنی تھی مگر یہاں تو کوئی آثار ہی نہیں تھے مہندی میں جانے کے ۔

کیسے تیار ہوتی ۔۔؟؟؟
پلکیں اٹھا کر لاچار سی شکل بنا کہ کہا گیا چہرے پہ ہنوز بارہ بج رہے تھے۔

 کیا مطلب کیسے تیار ہو ں ؟؟
کپڑے تبدیل کرو ہلکا ہلکا میک اپ کرو اور تیار بس !!۔۔۔
وہ تیوری چڑھا کہ بولا جیسے اس وقت وہ شفا سے اس قسم کے بے تکے سوال کی توقع ہرگز نہ کر رہا تھا ۔اسکو جلدی تھی ابھی خود اسنے بھی تیار ہونا تھا۔ ۔
"کپڑے نہیں ہے میرے پاس"۔
 منہ بسور کہ کہا گیا ساتھ ہی دل سے منسلک کو
 انگلی میں پہنی ہوئی انگوٹھی سے چھیڑ چھاڑ جاری تھی ۔۔

"کیوں کپڑے نہیں ہیں بنایا تو تھا تم نےوہ عجیب سہ گولے گنڈے نما سوٹ آج پہننے کے لئے ۔۔"

وہ تنک کے بولا  چہرے پہ شفا کو محسوس ہوا جیسے اس کے غصہ منڈلانے لگا تھا ۔۔

"ہاں بنایا تھا مگر وہ اب کہیں بھی نہیں ہے کمرے میں پورا کمرہ چھان مارا میں نے ایک ایک کونا دیکھ لیا ۔۔۔۔"

شفاء بچوں کی طرح رو دینے کو تھی ۔۔

ڈریسنگ روم میں دیکھا ؟؟
وہاں تو نہیں ہے ؟؟

بیزاری سے کہا گیا بار بار گھڑی کو دیکھتا وہ دیر ہوجانے کی وجہ سے زچ ہو رہا تھا۔ساتھ ہی ڈریسنگ ٹیبل کے اوپر رکھا ہیئر برش اٹھا کے جلدی جلدی بالوں میں چلانے لگا ۔
شفا کو اس کے ہر انداز سے جلد بازی ظاہر ہو رہی تھی ۔وہ اب صحیح معنوں میں خود کو بے بسی کی انتہاؤں کو چھوتا محسوس کر رہی تھی ۔۔

"کہاں سے دیکھتی آپ لاک جو کر گئے تھےڈریسنگ روم کے دروازے کو  "۔
 اپنی لاچاری پہ دل خون کے آنسو رونے لگا ۔

"ہوسکتا ہے غلطی سے کردیا ہو جلدی جلدی میں چلو وہاں چلکر دیکھلیتے ہیں"  ۔
 ہونہہ۔ ۔۔۔۔

شفا کا چہرہ رونا ضبط کرنے سے سرخ پڑتا دیکھ وہ قدرے نرم پڑا اور ہنکارا بھرتا اس کی کلائی کو تھام کے اپنے ساتھ لیے ڈریسنگ روم کے دروازے کے سامنے آ روکا اور جیب میں پہلے سے موجود درواز
ے کی چابی نکال کے کھٹ سے دروازہ کھول دیا ۔

"یہ کیا بات ہوئی بھلا کیا پورے گھر کی چابیاں آپ جیب میں لئے گھومتے ہیں ہر جگہ؟؟؟"
 اس کا دماغ شدید بھنوٹ ہو رہا تھا ۔ایک تو حمزہ کا سابقہ رویہ اس کو دلبرداشتہ کر رہا تھا اوپر سے اپنا پسندیدہ ترین لباس آنکھوں  میں بار بار گھوم کر اس کا منہ چڑا رہا تھا ۔بڑی مشکل تھی وہ تو ہر طرف سے تھک چکی تھی ۔۔

"پہلے نہیں رکھتا تھا چابیاں  مگر جب سے میرے روم میں ایک عدد ڈاکو رانی کا اضافہ ہوا ہے تب سے چوکس رہنے لگا ہوں کیا پتا میرے دل پر ڈاکہ ڈالنے کے بعد تمہارا اگلا شکار میری ذاتی استعمال کی اشیاء ہو" ۔
"لاحول ولا قوۃ میں کیوں آپ کی ذاتی اشیاء کو ضبط کرنے لگی "۔۔۔۔

 وہ شرارت سے پرمعنی خیز لہجے میں بولا اور شفا کا ہاتھ چھوڑ کے چلتا ہوا اس کو دروازے کی چوکھٹ کے بیچ و بیچ پیچ و تاب کھاتا چھوڑ کہ وارڈ روب کھول کر نہ جانے کیا نکالنے لگا اور پھر جیسے کچھ ہی لمحوں میں اس کو اپنی مطلوبہ اشیاء مل ہی گئی تھی یا پھر وہ دانستہ دیر لگا رہا تھا جیسے کچھ اندر موجود ہونے کے باوجود اس کو نہیں مل کے دے رہا تھا ۔

ہٹو اب میری الماری کاکیوں بھیڑیا بنا رہے ہو ؟؟
کیا تلاش کر رہے ہو ؟
کیوں سردیئے کھڑے کو اتنی دیر سے۔۔۔؟؟؟

شفاء تنفر کرتی  آگے بڑھئی اور جیسی ہی الماری کا پہلے سے وا پٹ دھکیل کر الماری کے اندر جھانکا وہ دنگ رہے گئی۔  حیرت سے چکرا کے رہ گئی آنکھوں کے سامنے ستارے ناچ اٹھے تھے ۔۔۔

یہ۔۔۔۔۔۔ یہ کس کا ہے۔۔۔؟؟
 شفا ء دیدہ زیب سامنے جھلملاتا اورینج رنگ کا انگرکھا دیکھ چکرا گئ جو بہت نفیس مگر بھاری کندن اور نگینوں سے سجا بے حد پیارے سے کام والا تھا ۔جس کا دوپٹہ ڈارک پرپل اورماتھا پٹی اورنج اور ہلکے دھانی رنگ کی تھی۔ دوپٹہ  تاروں سے بھرا ہوا تھا جبکہ پلازو دھانی رنگ کا بنارسی فرشی اسٹائل خوبصورتی سے کلی دار  سلا ہوا تھا ۔۔۔

"میرا ہے"
یہ میں پہنونگا آج اور دیکھو اس کے ساتھ میچنگ جیولری اور سینڈل بھی لی ہے میں نے بس اب ایک مسئلہ ہے جو تم بخوبی حل کر سکتی ہو۔۔۔۔"
"بس میرا میک اپ تم کر دینا کیسا لگونگا نا پھر میں ۔۔""

وہ اس کے بے تکے سوال پہ  شدید چڑھ چکا تھا۔
" ظاہر سی بات ہے یہ میرا تو نہیں ہوسکتا تمہارا ہی ہے نا ۔۔۔۔"
جھنجھلا کہ کہتا وہ واپس پلٹنے لگا جب شفاء کسی جنگلی شیرنی کی طرح اس کے اوپرجھپٹی تھی ۔۔

"اس کا مطلب ہے کہ میرا سوٹ کھویا نہیں تھا بلکہ اس کو تم نے غائب کر دیا ہے کہیں ۔۔۔"
تم ہضم کر گئے ہو نہ میرے ڈریس کو بغیر ڈکار مارے ۔  ۔۔۔؟؟
نہیں چھوڑوں گی میں تمہیں بچو گےنہیں  تم مجھ سے ۔۔!!!
وہ اب جا کہ اس کی شرارت کو سمجھی تھی ۔آپنے اتنی آرام سے بیوقوف بنائے جانے پہ اس کا دماغ بالکل ہی بھک سے اڑ گیا جبکہ دوسری طرف کچھ دیر پہلے طاری ہوئی مصنوعی سنجیدگی کا شائبہ اب حمزہ کے چہرے پہ ڈھونڈنے سے بھی نظر نہیں آرہا تھا ۔۔
بچے !!
کون سے بچے ؟
کس بچوں کا ذکر کر رہی ہو بھئی؟؟
 اتنی بڑی خوشی کی خبر تم نےمجھ سے چھپائی۔۔۔۔؟؟
وہ آنکھیں پھاڑے لہجے میں حیرت لیے بتیسی کی نمائش کر نے لگا ۔حمزہ کی آنکھیں اس وقت شرارتوں پہ امادہ تھیں۔ ۔
"تم بہت خراب ہو بہت پریشان کرتے ہو مجھے !!کوئی خوشخبری نہیں ہے۔۔۔"
" اب مزید مت پکاؤ میرا دماغ چلو نکلو یہاں سے "۔۔
"یار ایک تو تمہاری پرابلم حل کر دی ہے میں نے بیٹھے بیٹھائے کتنا دیدہ زیب ڈریس مل گیا تمہیں اور تم ہو ایک ناشکری ۔۔۔"
دو اسے اور شکریہ کرتی ہے میری جوتی !!!!
وہاس کے ہاتھ سے سوٹ جھپٹتے ہوئے بولی ۔
"یار وہ جو تم نے لیا تھا وہ مجھے کچھ خاص تو کیا ذرہ برابر بھی پسند نہیں آیا تھا اس لئے میں وہ واپس کر آیا اور یہ دیکھو میری زبردست قسم کی چوائس کتنا خوبصورت ڈریس میں تمہارے لئے لایا ہوں بالکل پریوں جیسا ۔۔۔
"اور پتہ ہے میں نے یہ واردات دوپہر میں کی تھی جب تم پالر میک اپ کروانے گئی ہوئی تھی ۔"
"میک اپ کروانے نہیں بدھو !! مہندی لگوانے اور فیشل وغیرہ کروا نے ۔۔"
اس کے چہرے پہ انتہائی معصومیت رقصاں تھی ۔۔
شفاء اس کے اس طرح سے  کہنے پر کھلکھلا کے ہنس پڑی تھی ۔اتنی محبت ملنے پہ وہ خدا کی بے حد مشہور تھی یہ ایک معجزہ ہی تھا کہ وہ ستمبر مہرباں بن بیٹھا تھا اس کیلئے ۔۔۔۔۔!!
 💖
مصطفیٰ تم کیوں جا رہے ہو ؟؟
تمھیں نہیں جانا چاہئے وہاں۔۔۔۔۔۔۔"
 کیوں خود کو اذیت دینے کے لیے وہاں جا رہے ہو ؟؟؟
۔سوائے تکلیف کے تمہیں کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا میری مجبوری ہے جو مجھے جانا پڑرہا ہے ورنہ تمہارے بابا کو دیکھو وہ کس قدر تمہاری وجہ سے دلبرداشتہ  ہوئےہے کہ انہوں نے صاف انکار کردیا سوہا کی شادی کو اٹینڈ کرنے کے لئے مگر میرا جانا تو ضروری ہے میرے بیٹے!! میرا ایک ہی بھائی ہے لے دے کے بڑا بھائی تو دنیا میں ہی نہیں رہا ۔۔۔۔"

میں اب ایک ماجائے سے منہ نہیں موڑ سکتی مگر میرے بچے میں تمہاری ماں ہوں تمہارا بھی مجھے اتنا ہی خیال ہے جتنا کہ اپنے بھائی کا ۔۔"

زینب اپنے بیٹے کی اجڑی حالت دیکھ کے شدید غم زدہ تھی۔کوشش کر رہی تھی اس کو سمجھانے کی مگر وہ بس ایک ہی بات پر بضد تھا کہ وہ سوہا کی شادی میں جائے گا ہر قیمت پہ اس کو اسکی شادی اٹینڈ کرنا مقصود تھا!!!

 اس وقت بھی مصطفی خاموشی سے لب بھینچے ڈرائیو کر رہا تھا مہندی میں پہنچنے کی اس کو نہ جانے کیوں اتنی جلدی تھی کہ انتہائی ریش قسم کی ڈرائیونگ کرتا جلد از جلد لان پہنچنے کی تگ و دو میں تھا ۔۔
"میں آپ کا بیٹا ہوں امی !!خود پہ اختیار ہے مجھے میں بس یہ دیکھنا چاہتا ہوں کہ وہ اس شادی کو کتنی خوشی ہے اور کتنا سکون ملا ہے اس کو مجھ سے بے وفائی کرکہ۔ ۔ ۔۔۔"
آخری جملہ وہ ماں کے سامنے نہیں بولا تھا بلکہ خود سے دل میں گویا ہوا ۔۔

خزیمہ اور اس کے گھر والے مہندی لے کے آ چکے تھے ہال میں ۔۔
خزیمہ اسٹیج پر بیٹھا ہوا سوہا کے انتظار میں تھا اور اس کے گھر والے ہال میں موجود مہمانوں سے علیک سلیک میں مصروف تھے ۔۔
سمیرا مجھے رحمان کا فیصلہ نہیں سمجھ میں آرہا ۔۔"
آئمہ سٹیج پر بیٹھے خزیمہ کو دیکھ کر بولی ۔۔۔

"کیوں آپی اتنا اچھا رشتہ ہے ہر لحاظ سے سوھا کے لیے بہترین ھے اور پھر رحمان صاحب کی پسند ہے ۔۔۔۔۔۔"
میں آج پہلی دفعہ خزیمہ کو دیکھ رہی ہوں جس روز یہ لوگ اچانک مٹھائی لے کے آئے تھے اس روز میں نہیں تھی نہ اسلئے ۔۔"
"مگر آپی آپ کی بھی تو مجبوری تھی آپ کا انایہ کے پاس جانا بھی ضروری تھا کیونکہ وہ عائشہ آپی کی بیٹی جو نکلی ہے اس لیے ۔"
ہاں مجھے بہت خوشی ہوئی ہے فجر کو آپنی بانجی انایہ کے روپ میں دیکھ کہ بے شک ۔۔"
آئمہ کو جیسے ہی پتہ چلا تھا کہ فجر ہی ان کی عنآیہ ہے اور خیر سے اب اس کی ننھی گڑیا بھی دنیا میں آنکھیں کھول چکی ہے وہ دل کے ہاتھوں مجبور ہو کہ فوری ہسپتال روانہ ہوئی تھی ۔جبکہ سمیرا نہیں جا سکی تھی اس کے ساتھ کیوں کہ خزیمہ کے گھر والے مٹھائی لے کر آ رہے تھےاس دن۔ ۔۔!!
 وہ اگلے دن گئی تھی رحمان صاحب کے ساتھ یہی وجہ تھی کہ آئمہ خزیمہ کو پہلی دفعہ دیکھ رہی تھی ۔۔
اس کی عمر کیا ہے ۔۔۔؟
آئمہ خزیمہ کو دیکھتے ہوئے سمیرا سے استفسار کر رہی تھی وہ عجیب سے شش و پنج کا شکار ہوئی خزیمہ اس کو سوہا سے کافی بڑا لگ رہا تھا ۔۔

"آپی 30 سے 35 سال کے درمیان اس کی عمر بتائی تھی مجھے رحمان نے میں نے اس آگے پھر کچھ  پوچھا نہیں آپ کو پتہ ہے ان کا پتہ ہی نہیں لگتا کب ہتھے سے اکھڑ جائیں ۔۔"
"پتہ نہیں سمیرا مجھے یہ 35 سال سے بھی بڑی عمر کا پختہ مرد لگ رہا ہے ۔ اس کو لڑکا تو کہیں سے بھی نہیں کہیں گے ۔۔"
نہیں آپی دیکھیں کتنا اسمارٹ سہ دبلا پتلا ڈیشنگ سہ توہے خزیمہ ۔۔"

"پتہ نہیں تمہیں کہاں سے ڈیشنگ لگ رہا ہے اس کی کاٹھی ایسی ہے مگر اس کے چہرے پہ موجود پختگی اور سختی گواہی دے رہی ہے کہ یہ 35 سے اوپر کا ہی ہے !!پتا نہیں رحمان کو ہماری بچی کیلئےیہی بر کیوں  ملا تھا ۔۔"

"مصطفی میں کیا برائی تھی کتنا پیارا بچہ ہے کتنی خوبصورت جوڑی لگتی دونوں کی چاند سورج کی ۔۔۔"
آئمہ کو رحمان کے اوپر اٹھ کے غصہ آیا تھا ۔۔
"چلیں آپ بھی اپنا دل نہ جلائیں چوسوہا کا "
نصیب ۔۔۔"
ارے آج غزل اور ارمغان وغیرہ کے آنے کا ہے ؟؟؟؟
ائمہ نے یاد آنے سے پوچھا ۔۔
"نہیں غزل آپیا سے میری بات ہوئی تھی انہوں نے کہا ہے وہ کل صبح عنایہ کا ڈاکٹر سے اپوائنمنٹ ہے اس کو دکھا کہ پھر سیدھا یہیں  پہنچیں گے اور پھر ولیمہ کرکے ہی جائیں گے ۔۔۔
"چلو یہ بھی ٹھیک ہے ڈاکٹرسے ہر بات کا اطمینان کر لینے کے بعد آئینگے تو دل بھی مطمئن رہے گا "
وہ دیکھیں مصطفی اور آپیا بھی آ گئی ۔۔۔
ہال کے اندر داخل ہوتے مصطفی اور زینب کو دیکھ کہ وہ دونوں خوشی سے کھل اٹھیں۔

 امید نہیں تھی کہ مصطفی آئے گا مگر اس وقت مصطفی نے آکے واقعی بہت بڑے ظرف مظاہرہ کیا تھا ۔
سمیرا کی پلکیں بےساختہ نم ہوئیں تھی مگر وہ بڑی خوبصورتی سے اپنی آنکھوں میں آئی نمی کو واپس اندر اتار دی ۔۔۔
آئمہ کو تو اس نے بہلا دیا تھا مگر اپنے دل کو کیسے بہلاتی ؟؟؟؟
وہ اندر سےاپنی بیٹی اور مصطفی کے دکھ میں گھل رہی تھی ۔
دونوں محبت میں گرفتار ہو کہ اپنی منزل کو چھو نہ سکے تھے منزل پہ پہنچ کے بھی ۔۔۔!!!
سیراب نہ ہو سکے تھے دونوں کے دلوں میں ایک تشنگی سی اپنے پنجے گاڑ کے رہ گئی تھی ۔۔۔
💔
تم لوگ کس کے انتظار میں ہو جاؤ اور سوہا کو کوئی اسٹیج پہ لے کر آؤں خزیمہ کتنی دیر سے انتظار کر رہا ہے اس کا ۔۔۔"
رحمان صاحب نے اپنا حکم جاری کیا ائمہ اور سمیرا کو دیکھ کہ۔۔
ہمیں کیا پریشانی ہوگی ہم تو بس عمر اور ہمزہ !!سوہا کے دونوں بھائیوں کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ وہ اس کو پالکی میں بٹھا کہ اس کو چلاکر لے کہ جائیں اسٹیج تک۔
"رکو میں عمر کو فون کرتا ہوں "۔۔
رحمان صاحب جھلس کے بولے ۔۔
کہاں ہو یار تم ابھی تک کیوں نہیں آئے  پتہ بھی ہے کتنا لیٹ ہو گئے ہو ۔۔؟؟
"دھت تیری ساری مصیبتیں ابھی نازل ہونی تھی ۔۔"
وہ غصے میں فون کاٹ کہ بولے۔ ۔۔
 کیا ہوا رحمان سب ٹھیک ہے نا ؟؟؟
"ہاں سب ٹھیک ہے آپ کے بیٹے کی گاڑی کا ٹائر پنکچر ہو گیا ہے ان کو مزید ایک گھنٹہ لگے گا اب دوسرے شیر دل کو فون کرتا ہوں وہ کیا کہتے ہیں ذرا ان کی بھی تو سن لو ۔۔"

رحمان صاحب چڑھ چکے تھے اور ساتھ ہی حمزہ کی موبائل پے کال کرنے لگے ۔
۔
حمزہ بیٹا تم کہاں ہو ابھی تک کیوں نہیں پہنچے ہو؟؟؟
" شا باش!! چلو تم بھی اپنا ٹائم لو جتنی دیر میں پہچنا چاہو پہنچ سکتے ہو ۔۔"
کیا ہوا حمزہ کیوں نہیں آیا سمیرہ نے اپنی ہنسی ضبط کرتے ہوئے کہا کیوں کہ دوسری طرف ہونے والی گفتگو کا اندازہ دونوں کو ہی رحمان صاحب کے آگ بگولا تاثرات سے ہو چکا تھا ۔۔
"گجر ےلینے کے چکر میں آپ کے بڑے موصوف جو ہیں وہ سگنل میں بری طرح پھنس چکے ہیں ان کو پونا گھنٹہ لگے گا پہنچنے میں تقریباً بقول انکے ۔۔۔"
رحمان صاحب ٹائم کے پابند شخص تھے گھر میں ان کو چھپکے  سوہا اور شفاف میجر صاحب کا لقب دیتی تھیں۔
 جس ٹائم کا وہ حکم جاری کرتے ٹھیک اس ٹائم پہ دنیا ادھر سے ادھر ہو جائے مگر ان کو گھر کا ایک ایک فرد بھی دیرکرتا نہیں ملنا چاہیے ۔۔
کیا میں آپ لوگوں کی مدد کر سکتا ہوں ۔۔؟؟؟
بھاری گھمبیر آواز ان تینوں کی سماعتوں میں ٹکرائی تھی ۔تینوں نے چونک کے ایک دم پیچھے پلٹ کے دیکھا تھا جہاں مصطفی بڑھی ہوئی شیو۔کالا کرتا صفید شلوار اور گلے میں لال مفلر ڈالے چہرے پہ ہزن لیے ان کے جواب کا منتظر تھا  ۔۔
 رت جگے اسکی آنکھوں میں رقم تھےاور آنکھوں کے نیچے  حلقے اس کی کئی دنوں سے بے خوابی کی چغلی کھا رہے تھے ۔۔۔
سمیرا کو اپنا دل جیسے سکڑتا ہوا محسوس ہوا ۔۔۔

"برخوردار تم کیا مدد کر سکتے ہو میری میرے بچوں نے ہی مجھے فی الحال رسوا کرنے پر کمر کسی ہوئی ہے ۔۔"۔
رحمان صاحب اس وقت سب کچھ بھلائے صرف اور صرف اس فکر میں تھے کہ سوہا کو اسٹیج تک پالکی میں کون لے کے جائے گا ۔۔۔
ظاہر سی بات تھی وہ لوگ تو لے کر جانے سے رہی یہ کام تو بھائی بھابھی یا پھر دوستیں ، کزنز  کیا کرتے ہیں مگر یہاں پر تو سرے سے ہی کوئی موجود نہیں تھا ادھر امجد گوندل صاحب شور مچا رہے تھے جلدی جلدی کا دونوں ایک جیسے ٹکرائے تھے میجر صاحب ۔۔۔!!
سوہا کو پالکی میں  اسٹیج تک لے کے جانا ہے ۔!!
سمیرا نے افسردگی سے کہا ۔۔
"میں لے کر آتا ہوں سوہا کو آپ لوگ اسٹیج پہ انتظار کریں ہمارا ۔۔۔"
وہ کہہ کے رکا نہیں تھا لمحہ زایہ کئے بغیر پلٹ گیا تھا ۔۔۔

چہرے پہ مرے زلف کو بھکر آؤ کسی دن
کیا روز گرجتے  ہو برس جاؤ کسی دن

رازوں کی طرح اُترو مرے دل میں کسی شب
دستک پہ مرے ہاتھ کی کھُل جاؤ کسی دن

پیڑوں کی طرح حسن کی بارش میں نہا لوں
بادل کی طرح جھوم کے گھر آؤ کسی دن

 خوشبو کی طرح گزرو مری دل کی گلی سے
پھولوں کی طرح مجھ پہ بکھر جاؤ کسی دن

گزرے جو میرے گھر سے تو اڑھ جائیں ستارے
اس طرح مری رات کو چمکاؤ کسی دن

میں اپنی ہر اک سانس اسی رات کو دے دو
سر رکھ کے میرے سینے پہ سو جاؤ کسی دن !!

وہ آخری دفعہ مصطفی کا بھیجا ہوا  خوبصورت میسج پڑھ کے ڈیلیٹ کرنا چاہ رہی تھی مگر کئی دفعہ ڈریسنگ روم میں پڑھ لینے کے بعد بھی اس کا دل ہی نہیں کر رہا تھا سوہا اس کو ڈلیٹ کرنے کا۔
چاہت بھری نظم اس کے دل میں جیسے مصطفی کو بسآ گئی تھی ۔

وہ خوابوں خیالوں میں کھوئی ہوئی ماضی کی حسین یادوں میں قید مصطفی کے ساتھ گزارے گئے خوبصورت لمحات کو یاد کر کے مسکرا رہی تھی ۔بہت پیاری سے مسکان اس پل اس کے لبوں پے رقصاں تھی ۔۔۔

اس کو پتہ ہی نہ چلا جب کوئی بغیر دستک دیئے  دروازہ کھول کے ڈریسنگ روم کے اندر داخل ہوا تھا ۔۔۔۔
اس کے لبوں ہنوز ماضی کی حسین یادوں پہ مسکرا رہے تھے ۔۔۔۔۔

"مبارک ہو تمہیں سوہامیری طرف سے "۔۔۔۔۔
مصطفی مغرورانہ چل چلتا ہوا اس کے بالکل مقابل آن کھڑا ہوا ۔۔۔

"میری زندگی کو برباد کرکہ تم کتنی خوشی خوشی کسی اور کی سیج سجانے کے لیے تیار ہوں ۔۔۔"

"خزیمہ کی حسین سوچوں میں گم مسکرایا جا رہا ہے ۔۔"
آمیزینگ! !!

"کیا بات ہے مان گیا تمیں آج مجھے یقین ہو گیا سوہا کہ تم نے مجھ سے کبھی محبت کی ہی نہیں تھی ۔۔۔"

وہ حیران پریشان سی ڈریسنگ روم کے اندر موجود مصطفی کو دیکھ رہی تھی پوری آنکھیں اور منہ اس کا کھلے کاکھلا رہ گیا۔
 وہ یقین ہی نہیں کر پا رہی تھی کہ سامنے کھڑا شخص مصطفی ہے۔ وہ اس کی سن ہی کہاں رہی تھی اس کو بس ایسا لگ رہا تھا کہ  وہ بہت پیارا خواب دیکھ رہی ہے سوتے میں ۔وہ تو جیسے کھو چکی تھی مصطفی کے سحر میں گم ہو چکی تھی ۔۔۔۔

میں تمہیں لینے آیا ہوں چلو میرے ساتھ ۔۔۔
کک کہاں۔ ۔۔؟؟؟
مصطفی نے اچٹتی سی نظر سے کچھ دیر قبل مسکراتے چہرے پر ڈالی تھی جہاں اب ہوائیاں اڑ رہی تھیں ۔۔۔
جہاں تم کو ہونا چاہیے ۔۔۔۔!!

مصطفی نے اس کی کلائی کو بے دردی سے اپنی مضبوط ہتھیلی میں جکڑا تھا ۔۔۔
کئی چوڑیاں ٹوٹکے سوہا کی کلائی میں کھب چکی تھی مگر وہ مصطفی کے آتش فشاں جلوے سے بھرےروپ کو دیکھ کہ اتنی تکلیف میں بھی کراہ  نہ  سکی اور خاموشی سے کھینچی چلی اس کے ساتھ ڈریسنگ روم کے باہر چلی آئی ۔۔۔۔

 ڈریسنگ روم ہال کی پچھلی طرف تھا جہاں پر لوگوں کی موجودگی نہ ہونے کے برابر تھی ۔مصطفی نے ادھر ادھر دیکھنے کے بعد سوہا کو اپنے بازوؤں میں بھر کے پالکی میں بٹھایا اور تیزی سے پالکی کو دھکیلتا ہوا حال کے اندرونی حصے میں بڑھنے لگا جہاں پہ مہمان موجود تھے
_____
آدھے گھر والے لائبہ اور عمر کے ساتھ ہسپتال روانہ ہوئے تھے جبکہ رحمان صاحب سمیرا اور حمزہ حال میں ہی رہےگئے تھے۔ اس طرح سے مہمانوں کو چھوڑ چھاڑ کے چلے جانا بھی مناسب نہ تھا ۔

صاحب جی۔۔۔۔ صاحب جی باہر پولیس آئ ہیں۔ ۔"
رحمان صاحب کا ملازم حق بھاگتا ہوا رحمان صاحب کی طرف آیا ۔۔۔

کیا رہے ہو حق پولیس یہاں کیوں آئیگی۔ ۔۔۔؟؟؟
رحمان صاحب ابھی دریافت ہی کر رہے تھے  جب ہال کے باہرسے عجیب و غریب شور اٹھا اور چند ہی لمحوں میں پولیس کی بھاری نفری ہال کے اندر داخل ہوئی ۔۔۔۔

یہ آپ لوگ اس طرح اندر کیوں چلے آرہے ہیں ہال خالی کرنے میں تو ابھی ڈیڑھ گھنٹہ باقی ہے  ۔۔؟؟؟

رحمان صاحب نے پہلے گھڑی کو دیکھا جو ساڑھے دس بجے کا پتہ دے رہی تھی اور پھر حیران پریشان سہ ہوکر اےایس پی معاویہ سے پوچھا ۔۔۔

جی جناب آپ نے بالکل ٹھیک کہا ہال بند ہونے میں تو واقعی ڈیڑھ گھنٹہ باقی ہے مگر کسی اور کے بند ہونے میں زیادہ ٹائم نہیں بچا بلکہ ٹائم ختم ہی سمجھو اب تو ۔۔!!

اے ایس پی معاویہ خزیمہ کی طرف معنی خیز نظر ڈالتے ہوئے تمسخرانہ ہنسی ہنسا۔ ۔۔

یہ کیا طریقہ ہے منہ اٹھا کے چلے آرہے ہیں آپ۔۔۔۔؟؟؟لگتا ہے آپ کو پتا نہیں ہے یہ بات کہ کس کے بیٹے کا فنکشن ہے آج مہندی کا ورنہ آپ اس طرح کبھی بھی یوں بن بلائے مہمان کی طرح دندناتے ہوئے نہ آتے۔ ۔"

پولیس کو آتے دیکھ امجد گوندل بھی ان دونوں کی طرف آن پہنچے اور لہجے میں حد درجہ سخت مہری سموکہ اے ایس پی معاویہ سے گویا ہوئے  ۔

یہ خزیمہ گوندل ہی کی مہندی کا فنکشن ہے غالبا اگر میں غلط نہیں ہوں تو اور آپ اس کے باپ کے رتبے پر فائز مسٹر امجد گوندل ہیں یا پھر اپنے بیٹے کی طرح آپ کو بھی لوگوں سے منہ چھپاکہ پھرنا پڑتا ہے  ؟؟؟

"برخودار ہمیں اکسائو نہیں کہ ہم تمہارے ساتھ کچھ غلط کریں جس کرسی پہ تم اتنا اکڑ رہے ہو اس عہدے سے تمہیں ہٹانے میں مجھے سیکنڈ بھی نہیں لگیں گے چٹکیوں کاکام ہے یہ میرے یعنی امجد کو دل کے لیے ۔۔۔۔"

اچھا واقعی۔۔؟؟
 آپ نے تو مجھے ڈرا دیا۔۔۔!!
 ویسے ایک بات بتاؤں اگر آپ چٹکیوں میں مجھے میرے عہدے سے ہٹا سکتے ہیں تو میں آپ کا بھی باپ ہوں گوندل جی۔ ۔ "
 میں لمحہ نہیں لگاؤں گا آپ کو ہتھکڑیاں پہنا کر عمر قید کروانے میں ۔۔۔۔۔"

بیٹا تم مجھے بتاؤ کیا کیا ہے خزیمہ نے؟ ؟؟
رحمان صاحب خود کو بڑی مشکل سے سنبھال کر معاویہ سے گویا ہوئے نہ جانے کیوں ان کو کسی بہت بڑے طوفان کے آنے کا اندازہ ہو چلا تھا ۔۔۔

" آپ کے پیارے دوست کے بیٹے نے جس لڑکی کو حبس بے جا میں رکھا وہ بھی کوئی عام لڑکی نہیں تھی اسی کا باپ آپ کے ہونے والے داماد جو کہ اب مجھے پکا یقین ہے نہیں ہوگا  کے خلاف ایف آئی آر کٹوا کر گیا ہے۔۔۔۔"

 یہ کیا بکواس کر رہے ہو۔۔۔۔؟؟؟
 بکواس کر رہا ہے ڈیڈ یہ ۔۔۔۔۔"
جھوٹ بول رہا ہے۔۔!!
یہ بہت بڑی سازش ہے اس کی میرے خلاف ۔۔۔"

خزیمہ اسٹیج پہ کھڑا ہو کہ زور دار لہجے میں چنگھاڑا ۔ہال میں موجود سبھی افراد کو جیسے سانپ سونگھ گیا کئی رشتے دار اور مدوع ہوئے مہمان آپس میں چیمہ گوئیاں کرتے معاملے کو اپنے اپنے مطابق نام دینے میں مصروف تھے  ۔۔

سچ اور جھوٹ کا فیصلہ تم نہیں عدالت کرے گی۔۔۔۔۔۔"
ہمیں اپنا کام کرنے دیں آپ کے ہر سوال کا جواب کچھ ہی دیر میں مل جائے گا ۔۔۔۔۔!!

ایس پی معاویہ کہتا ہوا لمبے لمبے ڈگ بھرتا  اسٹیج کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔

سعد دلہا میاں کے ہاتھوں میں چوڑیاں تو پہنا دو ۔۔۔"
اے ایس پی معاویہ نے سب انسپیکٹر سعد کو حکم صادر کیا ۔۔
جی سر جی .....!!

میں تمہیں چھوڑوں گا نہیں میرے قریب مت آنا ۔.  ۔۔۔۔۔"
خزیمہ آتش فشاں ہوا ۔
چلو شاباش تمہاری سیج تیار ہے سہاگ رات کے لیے تھانے میں کئ اہلکار تمہارا بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں۔۔۔۔"''
زبان سامان کے بعد کرو تم لڑکے ۔۔۔
ڈیڈ یہ جو بھی کہہ رہا ہے ایک دم غلط جھوٹا آدمی ہے یہ ۔۔۔۔"

"یہ ڈنڈا دیکھ رہے ہو یہ جو میرے ہاتھ میں ہے یہ جب جدھر میں چاہوں گھسا کہ  ایسے معجزے دکھاتا ہوں کہ سچ خود بہ خود جسم کے کسی بھی حصے میں سے گیس کی طرح باہر نکل پڑتا ہے۔۔۔۔۔"

سعد چلو گرفتار کروا سکو۔۔۔"
"خوب اچھی طرح اس کی جیل میں خاطر مدارت کرنی ہے۔ ۔۔۔"
"بڑا شوق ہے نہ تجھے کمسن لڑکیوں اور عورتوں کی عزت سےکھیلنے کا اب تو دیکھ تیرے ساتھ ہم کھیلیں گے آج صحیح کی سہاگ رات منائی جائے گی  تیری وہ بھی مکمل بینڈ باجے کے ساتھ بہت دھوم دھام سے  ۔۔۔۔"

معاویہ اس کو گدی سے پکڑ کے ساتھ کی طرف دھکیلتے ہوئے اپنے جلا دی موڈ میں آ چکا تھا ۔۔۔۔۔

خزیمہ کو پولیس اہلکار ہتکڑی لگاکہ لیجا چکے تھے تب بڑی دیر سے خود پہ جبر کئے ہوئے وہاں موجود حیاء اٹھ کے واپس پلٹتے معاویہ کے راستیں میں حائل ہوئی۔ ۔۔۔۔

"بےبی تم یہاں کیا کر رہی ہو؟؟؟"

معاویہ جب وہاں سے جانے لگا تو اپنی بےبی کو دیکھ کر اس کی آنکھیں چار ہوئی 

"ارے کل رات کو بتایا تو تھا اپنی فرینڈ کی شادی میں جانا ہے"
۔ ۔۔۔ میری باتوں پر تو تم دھیان ہی نہیں دیتے"
حیا نے اس سے شکوہ کیا۔

"تمہیں پتہ ہے نہ رات کو میرا دھیان صرف ایک ہی طرف ہوتا ہے"
معاویہ نے حیا کو دیکھ کر معنی خیزی سے کہا

"تم ابھی آن ڈیوٹی ہو معاویہ اپنا یہ دو ٹکہ پن مجھے بیڈ روم میں آکر دکھانا"
سہی کی خبر لونگی پھر۔ ۔۔۔!!!
ہونہہ۔ ۔۔۔

حیا نے اس کو آنکھیں دکھائیں۔ 

"پھر تیار رہنا میری شیرنی آج رات۔ ۔۔"
" یہ بتاؤ میرے دونوں لاج دلارے کہاں پر ہیں؟؟؟"
معاویہ نے ہال میں چاروں طرف نظر دوڑا کر حنان اور منان کو ڈھونڈنا چاہا  ۔۔

"وہ مشعل اور اریش کے بیٹے ہانی کے ساتھ کھیل رہے ہیں"
حیا نے معاویہ کو کہتے ہوئے اک ادا سے اپنے بالوں کو اک طرف کرکہ بائیں شانے پہ ڈالا۔ ۔

"اچھا وہ دونوں بھی انوائٹڈ ہیں یہاں پر"
معاویہ نے حیرت کا اظہار کرنا ضروری گردانا۔

"معاویہ میں نے کل رات کو تمہیں پوری بات بتائی تھی۔۔۔ کہ مجھے شفا کی بہن کی شادی میں جانا ہے۔۔۔ اور وہاں پر اریش اور مشعل بھی ہوں گے۔۔۔۔
وہ خفگی سے گویا ہوئی۔۔
"بے بی جب جب تم میری پسند کے "لباس" کو پہن کر میرے پاس آتی ہو۔۔۔ قسم سے اس دو ٹکے کے پولیس والے کی سوچنے سمجھنے کی ساری صلاحیتیں گم ہو جاتی ہیں"
معاویہ  نے شوخی بھری نظروں سے حیا کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔
"معاویہ یہ بہت زیادہ ہوگیا ہے میرے خیال میں اب تمہیں جانا چاہیے"
حیا نے اس کو پٹڑی سے اترتا دیکھ کر کہا تو معاویہ ہنستا ہوا وہاں سے چلا گیا حیا دوبارہ مشعل کے پاس آکر بیٹھ گئی ۔
🌹🌹🌹
مہندی کا فنکشن دھرے کا دھرا رہ گیا لائبہ کو لے کے آدھے گھر والے ہسپتال پہنچے تھے عمر کا تو مانو جیسے پورے جسم کا خون ہی خشک ہو گیا تھا ۔۔۔
سب خیریت تو ہے نا میری بہن کیسی ہے ؟؟؟؟

مصطفی نےڈاکٹر کو باہر آتے دیکھ کر بے قرار ی  سے ڈاکٹر سے  لائبہ کی بابت استفسارکرنے لگا ۔۔۔

"جی ہاں سب ٹھیک ہے"۔۔۔
" بس ویکنیس زیادہ ہوجانےکی وجہ سے چکر آنے کے باعث وہ بے ہوش ہو گئی تھیں مگر اب وہ ٹھیک ہیں ۔۔۔۔۔
کیا میں مل سکتا ہوں اپنی بہن سے ۔۔؟؟؟
جی ضرور مگر پہلے وہ اپنے ہسبنڈ سے ملنا چاہ رہی ہیں۔۔۔۔۔
" جی بہتر ۔۔۔"
"عمر جاؤ تم دیکھو لائبہ کو پھر ہم ملیں گے ۔۔۔۔
 مصطفی موقعے کی مناسبت کو سمجھتے ہوئے عمر کو کہتا  کسی کو فون ملانے میں مصروف ہوگیا۔  ۔۔

 اس کے لئے اتنا ہی کافی تھا کہ اس کی نازو پلی بہن خدا کے کرم سےاب بہتر تھی۔ ۔۔۔۔
وہ اس کی بہن  تھی لیکن اس کے لیے وہ بچوں کی طرح تھی ۔جان چھڑکنے والے بھائیوں میں سے تھاوہ اپنی بہن پہ ۔۔۔
🌹🌹🌹
لائبہ تم ٹھیک تو ہو نا....؟؟؟
 کہ اتنا کہتا ہوں ٹھیک سے کھاؤ پیو مگر تم ہو کہ میری سنو تب نہ ۔۔۔۔۔۔"

وہ نون سٹاپ اس کو دیکھ کے بولتا چلا گیا مگر یک لخت اس کو رکنا پڑا لائبہ کے چہرے پر موجود کرب کے منڈلاتے سائے  اس کو ٹھٹک کہ رکنے پر مجبور کر گئے تھے۔۔۔۔

 کیا ہوا ہے تم ٹھیک نہیں ہو؟؟؟؟

 مجھے تمہاری بے ہوشی کی وجہ وہ نہیں لگرہی جو ڈاکٹر ابھی باہر ہم سب کو بتا کر گئی تھی۔ ۔۔"

عمر نے بےحد نرمی سے اس سے دریافت کیا اور ساتھ بہت محبت سے اسکو دیکھتے ہوئے اسکا سر سہلانے لگا کتنی خوش خوش وہ اسکے ساتھ گھر سے نکلی تھی کہیں بھی کسی قسم کے دکھ تک کا شائبہ تک نہ تھا۔ ہلکا سہ بخار ضرور تھا اسکو جسکی دوا اسنے لائبہ کو گھر سے نکلنے سے پہلےدیدی تھی۔

عمر تم بالکل ٹھیک کہہ رہے ہو..."
وہ اٹک اٹک کے بولی نقاہت کی وجہ سے آواز بہت دھیمی تھی۔۔

 لائبہ کیا کہنا چاہ رہی ہو؟؟؟
نجانے کیوں ایک دفعہ پھر سے تمہاری آنکھوں کی چمک کیوں ماند پڑ کے رہ گئی ہے ۔۔۔۔۔؟؟

"سو ہا کو بچالو عمر نہیں تو وہ بے موت ماری جائے گی "۔۔۔
 بہت مشکل سے بولی  آنکھوں سے اشک رواں تھے ۔۔

وہ دل سے خوش بھی بہت ہوئی تھی کہ اس کا مجرم آخر کو اس کے سامنے آ ہی گیا مگر دل میں سوہا کی وجہ سے دکھ بھی اپنی جگہ گھر کر گیا تھا لیکن پھر یہ سوچ کر مطمئن اور کافی حد تک پرسکون ہوئی تھی کہ کچھ بھی غلط ہونے سے پہلے وہ سوہا کو بربادی سے بچاہی لے گی۔۔
 نہیں ہونے دی گی وہ اس کی زندگی برباد۔۔۔۔۔
سیاہ اندھیروں کو وہ سوہا کی قسمت میں ہرگز بھی نہیں اپنے پنجے گاڑنے دے گی ۔۔۔۔۔

"کیا ہوا سوہا کو وہ بالکل ٹھیک  ہال میں ہی تو ہے "

"نہیں عمر سوہا کی زندگی کو اگر تم آباد کرنا چاہتے ہو تو پلیز اس غلیظ شخص سے بچالو وہ سوہا کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"

لائبہ اب باقائدہ  چکیوں سے رو دی تھی بولنا بہت مشکل ہو رہا تھا اس کے لیے ۔۔

"کیا کہنا چاہ رہی ہو لائبہ کھل کے کہو ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
مجھے تکلیف ہورہی ہے تمہیں اسطرح سے بکھرا دیکھ کر۔۔۔۔"

"خزیمہ وہی ہے جس نے مجھے بے آبرو کیا تھا"۔۔۔۔۔
کک۔۔۔۔۔کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟!!!
عمر بھونچکا رہے گیا۔۔۔
💗
وہ ہسپتال کے گارڈن میں بیٹھا بے دردی سے گھانس کو نوچ رہا تھا رات کے 3 بجنے کو تھے مگر عمر کو وقت کاجیسے کچھ ہوش ہی نہ رہا تھا۔

 صطفی اندر لائبہ کے پاس تھا جبکہ باقی سب لوگوں کو ان دونوں نے ہی زبردستی  گھر روانہ کر دیا تھا ۔
کئی دفعہ اس نے رحمان صاحب کے نمبر پہ کال بھی کی مگر ہسپتال میں سگنل نہ آنے کے باعث رابطہ نہ ہو سکا ۔۔۔

"میں اپنی بیوی کا لباس ہوں پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ میں نے جس راز کی اب تک اپنی جان سے بھی زیادہ حفاظت کی ہے اس کو اتنی آسانی سے ساری دنیا کے سامنے عیاں کر دو ۔۔۔؟؟؟"

"میرے خدا لائبہ میری شریک حیات ہے اس کو تو نے میرے لیے ہمسفر منتخب کیا ہے ۔۔۔۔"

"میرے اللہ تعالی !! میاں بیوی کو تو نے ایک دوسرے کا لباس قرار دیا ہے پھر میں کیسے سب کو بتا دوں کہ خزیمہ لائبہ کا مجرم اور ایک کرپٹ آدمی ہے ۔۔۔"
مگر سوہا ۔۔۔۔۔!!
"سوہا کو بھی میں جانتے بوجھتے اندھی کھائی میں نہیں دکھیل سکتا۔۔۔۔
ناممکن!!
 کبھی بھی نہیں ۔۔۔
میں اپنی بہن کی شادی ہر گز کسی قیمت پہ بھی ایک ایسے شخص سے نہیں ہونے دوں گا جو بد نیت اور عزتوں کو پامال کرنے والا غلیظ تریں انسان کے بھیس میں بھیڑیا  ہے" ۔۔۔

مگر میرے مالک مجھے آج تیری مصالحتوں کا بخوبی اندازہ ہوگیا ہے ۔۔۔۔"
"بے شک اللہ تعالی !! تیرے کام تو ہی بہتر جانتا ہے ہمیں تو وقت کے ساتھ ساتھ ہمارے حق میں بہتر ثابت ہوئے تیرے فیصلوں کا اندازہ ہوتا چلا جاتا ہے ۔۔۔۔"
مجھے آج معلوم ہوا کیوں تونے لائبہ کو اس کرب سے گزارا یہ وجہ آج مجھے بہت اچھی طرح معلوم ہوگی کیونکہ میری  بہن کی زندگی برباد نہیں ہونی تھی ۔ اگر جولائیبہ خزیمہ کو نہ پہچانتی تو  میری معصوم بہن اج شادی کے نام پہ بربادی کی متمحل ہوتی۔ ۔۔۔"
 کس طرح سے گھر والوں کو اس بات کے لئے تیار کرو کہ وہ خزیمہ سے سوہا کی شادی کرنے سے انکاری ہو جائیں ۔۔۔۔؟؟؟
"یا اللہ پاک میری مدد فرما ۔۔۔میں بے بس ہو چکا ہوں۔۔۔۔"
 وہ خود کو بالکل لاچار و بے بس صبر کر رہا تھا ایک طرف بیوی تھی جس کا ہر صورت پردہ رکھنا عمر کی کیلئے زندگی اور موت کا مسئلہ تھا دوسری طرف چھوٹی بہن ۔۔۔۔۔!!!
عزت و غیرت کا سوال تھا اس کے لیے ۔۔
"یا اللہ میری مدد فرما مجھے اس امتحان کی گھڑی میں سرخرو کر میرے مالک ۔۔۔۔"
"میں بے بس ہوں تو روشنی کی کرن دکھا دے میرے پروردگار !! غیب سے مدد فرما میری۔۔۔ بند دروازے کھول دے میرے مالک ۔۔"
میں دو کشتیوں میں سوار ہو ایک کو بھی نہیں ڈوبنے دے سکتا لائبہ کا بھرم تیری امانت ہے اور سوہا کی زندگی برباد ہونے سے بچانا بھی کا بھی اختیار بس تجھے ہی ہے ۔۔۔۔"
""کر دے کرم خدا میرے۔ ۔۔
وہ نہیں جانتا تھا کہ خدا نے پہلے ہی اپنا کرم ان تینوں پے ک
ر دیا ہے ۔۔



مصطفی ابھی ابھی ہسپتال سے آنے کے بعد شاور لے کر بستر پر دراز ہی ہوا تھا جب زینب ہلکا سہ کھٹکا کر کے کمرے میں آئیں۔ ۔

امی  آپ کوئی کام تھا تو مجھے بتا دیا ہوتا میں آ جاتا نیچے  آپ کیوں پر چڑھ کہ آئیں ؟؟؟
وہ فکرمند ہوں ماں کے جوڑوں کے درد کو لے کہ۔

"بیٹا میں جانتی ہوں رحمان بھائی نے تمہارے ساتھ بہت غلط کیا ہے مگر خدا کے فیصلے کے آگے کسی کی نہیں چلتی۔۔۔۔۔"

مصطفی کا سر زینب نے اپنی گود میں رکھ کہ انگلیوں کی پوروں  سے سکون پہچانے لگیں۔ ۔

" آپ تمہید نہ باندیں جو کہنا چاہتی ہیں کھل کر کہیں۔ ۔۔۔۔"
وہ چونکا تھا کیونکہ اس وقت کم از کم اپنی ماں سے رحمان ماموں یا اس  گھر کے کسی بھی افراد کے ذکر کی توقع نہیں کر رہا تھا ۔۔۔

 "سوہا کی شادی خزیمہ سے نہیں ہو رہی ہے بلکہ تم سے ہو رہی ہے ۔۔۔۔۔۔"

"امی آپ میرا مذاق تو مت اڑائیں ۔۔۔۔"
 وہ لیٹے سے اٹھ بیٹھا اور حیران ہو کہ ماں کو دیکھا ۔۔۔
"میں جانتا ہوں وہ آج کسی اور کے نام لکھ دی جائے گی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے وہ میری اب کبھی نہیں ہو سکتی ۔۔۔۔۔!!"

"نہیں مصطفی!! میرے بچے میں کیوں تمہارا مذاق اڑانے لگی  سچ تو یہ کہ سوہا کی شادی آج شام تم سے ہی طے پائی ہے ۔۔۔"

ایسا کس طرح ممکن ہے ؟؟؟
امی آپ کیا کہنا چاہ رہی ہیں آخر ؟؟؟
'کھل کے بات کریں پلیز میرا مزید اور امتحان مت لیجئے میں ویسے ہی بہت بکھر چکا ہوں ۔ اندر سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو۔۔۔ آپ کی باتیں مجھے مزید اذیت سے دوچار کر رہے ہیں ۔۔۔"

سرد مہری کا عنصر زینب   بیٹے کے لہجےمیں بخوبی محسوس کر رہی تھی ۔۔

"نہیں مصطفی بیٹا میں جو کہہ رہی ہوں وہ ایک ایک حرف سچ ہے  ۔۔۔۔"

"خزیمہ بہت بڑا فراڈیا نکلا اور وہ مشکوک سرگرمیوں میں بھی ملوث ہے کل رات اس کو مہندی کے فنکشن میں سے ہی پولیس اپنے ساتھ حوالات میں لے گئی تھی اور رحمان بھائی نے تو اسی وقت گوندل صاحب کو صاف صاف لفظوں میں شادی سے انکار کردیا تھا اور وہ لوگ اپنا سا منہ لے کر شور شرابہ کرتے ہوئے واپس چلے گئے ۔۔"

زینب نے سارا قصہ کہہ سنایا
تو اب مجھ میں کونسے ماموں کو جواہر نظر آ گئے جو شادی کے لیے مان گئے ؟؟؟

نہ چاہتے ہوئے بھی مصطفی کا لہجہ طنز میں ڈوبا ۔۔
مجھ سے کیا آپ چاہتی ہیں ۔۔۔۔؟

"تم بہتر جانتے ہو کہ میں کیا کہنا چاہ رہی ہو مصطفی اور پھر تمہاری بھی تو یہی خواہش تھی اللہ کا شکر ادا کرو کہ اس نے تمہاری دعا قبول کرلی ہے  ۔۔۔۔"
وہ مصطفی کا روکھا پھیکا سا رویہ دیکھ کہ اپنے لہجے میں موجود ناراضگی نہ چھپا سکیں۔ ۔۔

ٹھیک ہے  ۔۔۔۔!!!

یہ دو ہی لفظ اس نے اپنے لبوں سے محض ادا کیے تھے اور کہتا اٹھ کے اپنے کمرے میں سے باہر  لمبے ڈگ بھرتا ہوا چلا گیا مگر زینب بہت اچھی طرح اس وقت سمجھ رہی تھی کہ وہ اپنے غصے کو قابو کرنے کے لیے زینب کے سامنے سے ہٹ گیا رتھا۔ ۔
💗
سوہا نے زینب کا دوپہر میں ہی ایمرجنسی میں خریدا ہوا اس کے لیےعروسی جوڑا سے تن کیا ۔۔۔

سب سے پہلے  سپاٹ لائٹ کی روشنی میں   حمزہ اور شفاء ہنستے مسکراتے کیمرہ مین کی ہدایت کے مطابق چلتے ہوئے اسٹیج تک پہنچے   ۔۔

پھر عمر اور لائیبہ آنکھوں میں ایک دوسرے کے لیے حسین خواب سجائے لبوں پہ مسکراہٹ لیے سرشار سے پہلے سے موجود اسٹیج پہ شفا اور حمزہ کے برابر میں تھک گئے ۔۔۔

پھر باری آئی مان اور انایا کی ان کو آتا دیکھ سب نے خوب شور ڈالا وجہ اور مان کی گود میں موجود ننی پڑی تھی ۔۔۔

آخر میں آیا موسٹ آویٹڈ جوڑا مصطفی اور سوہا کا
سوہا  کے چہرے پر گھبراہٹ تھی جبکہ مصطفی کا چہرہ سرد مہری لیے ہوئے تھا ۔۔۔
ہنسی خوشی سب لوگوں نے اسٹیج پہ دھاوا بولا 2 اسٹیج بنائے گئے تھے ایک آمر کے لیے ایک مصطفی کے لیے ۔
💖
 ارے مشعل اریش بھائی کیسے ہیں آپ دونوں
جیسے ہی اریش ہانی کا ہاتھ تھامتا ہوا مشعل کے ہمراہ بینکوئٹ میں داخل ہوا حیا مسکراتی ہوئی ان دونوں کے پاس آئی

الحمدللہ ہم دونوں تو ٹھیک ہیں آپ سنائے معاویہ آج آیا ہے یا آج بھی وہ آن ڈیوٹی ہے
حیا اور مشعل ایک دوسرے سے گلے ملی تو اریش نے حیا سے پوچھا

وہ اکثر اور بیشتر آن ڈیوٹی ہی پائے جاتے ہیں پولیس اسٹیشن میں۔۔۔ ۔ مگر آپ کو بور ہونے کی ضرورت نہیں ہے بشر بھائی اور آدم بھائی وہاں موجود ہیں۔۔۔ آپ ان دونوں کی کمپنی انجوائے کریں میں مشعل کو حجاب اور حورم سے ملواتی ہوں او مشعل
حیا اریش سے کہتی ہوئی مشعل کا ہاتھ تھام کر حجاب اور حورم کے پاس لے گئی
حورم، حجاب ان سے ملو یہ ہیں مشعل اریش بھائی کی مسسز
حیا نے مشعل کا حورم اور اور حجاب سے تعارف کروایا
 بہت خوشی ہوئی آپ سے مل کر حیا سے پہلے آپ کا ذکر سنا تھا
حورم نے خوش دلی سے مشعل کو کہا۔  تھوڑی دیر میں مشعل کی حجاب اور حورم سے بھی اچھی بات چیت ہوگئی

"ارے حیا تم نے تو اپنا کافی ویٹ لوز کیا ہے۔۔۔۔ مجھے بھی ایڈوائس کرو کیا کروں دن بدن ویٹ بڑھتا جا رہا ہے
حجاب نے اپنی پریشانی کا ذکر حیا کو دیکھ کر کیا

ہاہاہا بہت مشکلوں سے کم کیا ہے میں نے اپنا ویٹ،، میں تمہیں دیکھ کر سوچ ہی رہی تھی کہ تم سے پوچھو کیا بشر بھائی کا خون پیتی رہتی ہوں دن رات۔۔۔
حیا نے ہنستے ہوئے حجاب کو دیکھ کر کہا

ہاہاہا میں بشر کا خون کیا پیو گی یہاں تو پانی پیو وہ بھی لگ جاتا ہے۔۔۔ ویسے حورم تم ابھی تک ویسے کی ویسی اسمارٹ ہو
حجاب نے حورم کو دیکھ کر کہا

وہ اس لیے کہ آدم بھائی اس کا خون پیتے ہو نگے دن رات
حیا کی بات پر وہ چاروں ہنس دی

نہیں یار بیٹی ہونے کے بعد تو کافی کم ہو گیا ہے غصہ ایسی بھی بات نہیں ہے بہت پیارے ہیں میرے میاں
حورم نے فورا آدم کی سائیڈ لیتے ہوئے کہا

اور مشعل تم کیوں چپ ہو تم بھی بتاؤ اریش بھائی کیسے ہسبنڈ ہیں
حجاب نے مشعل کو دیکھ کر پوچھا تھا تاکہ وہ بھی باتوں میں حصہ لےے

مجھے تو ایسا لگتا ہے دنیا کے سب سے اچھے ہسبینڈ اریش ہیں بہت لوینگ کیئرنگ احساس کرنے والے
مشعل نے مسکراتے ہوئے ان تینوں کو بتایا

یار قسم سے ہے تو معاویہ بھی بہت اچھا مگر جب اسے غصہ آجائے دفعہ تو بس اپنا دو ٹکہ پن دکھاہی دیتا ہے
حیا نے معاویہ کی تعریف کرتے ہوئے کہا اور ایسے کم ہی لمحات ہوتے تھے جب وہ ایسے کم ہی لمحات ہوتے تھے جب وہ اس کی دل سے تعریف کرتی تھی

ویسے یار بشر بھی بہت اچھا ہے اللہ کا شکر ہے میں دن رات اس کا اتنا بینڈ بجاکہ رکھتی ہو مگر مجال ہے جو وہ اف تک کر جائے۔

 ایک مزے کی بات یہ ہے جہاں چار عورتیں جمع ہوتی ہیں وہاں وہ اپنے شوہروں کی برائیاں کرتی ہیں اور ہم چار اس وقت اپنے شوہروں کی تعریف کر رہے ہیں
______
حورم کی بات پر وہ تینوں ہنس دی۔۔
ہلکا  سہ کھٹکا کرکے مصطفیٰ کمرے میں داخل ہوا تھا سو ہا مصطفی کی آہٹ محسوس کرکے مزید خود میں سمٹ سی گئی۔۔

 جانتی تھی کہ صنم روٹھا ہوا ہے بہت سارے پاپڑ بیلنے ہونگے منانے کے لیے مگر اس پل سوہا پر فطری شرم و حیا اور پھر کمرے میں تاری فسوں خیزی اسکو بے طرح سے بوکھلائی دے رہی تھی ۔۔

پورا کمرہ گلاب اور موتیے کے پھولوں سے سجا کمرے میں ایک عجیب سا سحر طاری کر رہا تھا ۔
بھینی بھینی مسحور کن خوشبو کمرے میں چارسو مہک رہی تھی ۔

سوہا اپنے خیالوں میں کھوئی ہوئی یہ دیکھ ہی نہ سکی کہ مصطفی واشروم سے فریش ہونے کے بعد ہلکے پھلکے لباس کو زیب تن کیے اپنی نئی نویلی دلہن  سے ہمکلام ہوئے بغیر قدرے فاصلہ قائم کر کہ بیڈ کی بائیں جانب لیٹ چکا  ۔ 

اگر جو میرا مکمل ایکسرے ہوگیا ہو تو بہتر ہے کہ تم بھی لائٹ بند کر کے لیٹ جاؤ۔۔۔۔"

 خود بھی سکون سے سوجائو اور مجھے بھی سو لینے دو ۔۔۔۔۔
آپ ۔۔۔۔۔!!!
آپ اس طرح سے نہیں کر سکتے میرے ساتھ ۔۔۔"

سوہاصحیح معنوں میں تنک اٹھی تھی اپنی تزلیل بے طرح کھلی تھی اس کو۔۔
 وہ کم ازکم مصطفی سے اس قدر تلخ رویہ کی امید ہرگز نہ کر رہی تھی ۔۔

میں نے تمہارے ساتھ کمرے میں آنے کے بعد ایسا کچھ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے  ابھی تک تو نہیں کیا ۔۔۔۔"
 تو پھر  تم یہ سوگ کس کامنا رہی ہو؟؟؟
 اورنہ ایسا کچھ کرنے کا میرا کوئی ارادہ ہے منہ سر لپیٹو اور سوجائو مہربانی کرو۔۔۔۔۔۔"

وہ سرد مہری سے کہتا  آنکھوں پہ بازو رکھ کے اس کی طرف سے کروٹ بدلنے کو تھا جب سوہا نے جل بھن کر آو دیکھا نہ تاؤ اور اس کا بازو اپنے نازک ہاتھ میں سختی سے جکڑلیا ۔۔

 یہ ہار سنگھار میں نے خود کے لئے نہیں کیا ہے آپ کے لئے اتنا سجایا ہے جود کو اور آپ ہیں کہ تعریف کے دو بول تک بولنے کے روادار نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔  "

وہ بھپر ہی تو گئی تھی اتنے دنوں سے جس زہنی کوفت اور اذیت سے گزر رہی تھی۔ وہی جانتی تھی یا پھر اس کا خدا اور اب مصطفی کا رویہ اس کو مزید تکلیف پہنچا رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔

بہت خوبصورت ۔۔۔۔"
بہت حسین بلکل اپسرا لگ رہی ہو۔۔۔۔۔"
 جنت سے اتاری گئی ہور ہو کوئی ۔۔۔۔۔۔"
بلکے نہیں تمہیں زمین پہ اتارا گیا ہے اس خزیمہ کے لیے ۔۔۔"
اب ٹھیک ہے یا پھر مزید میں آسمان کے قلابے ملاوں  تمہاری تعریف میں ۔۔؟؟؟

وہ چڑھ کےبولا تھا جبکہ اس سجی سنوری پھلجڑی کو دیکھنے سے مکمل طور پر گریزاں تھا جیسے اگر یک بارگی اس کو دیکھلیتا تو ساری خفگی دھری کی دھری رہ جانے کا خدشہ تھا۔۔۔

صحیح ایک دم درست کہہ رہے ہیں آپ ۔۔۔۔!!
سارا قصور میرا ہی ہے ۔۔۔"
میں تو قصور وار ہو ہر ایک چیز کی!!!
ہونہہ۔ ۔۔۔۔۔
 خزیمہ سے میں نے ہی تو محبت کے عہد و پیمان باندھے تھے نہ۔ ۔۔۔۔"
 پیار کی پینگیں بڑھائی تھیں بلکہ نہیں یہ کہنا بہتر ہوگا کہ میں نے تو خود ہی سے اس کی محبت میں گوڈے گوڈے گرفتار ہونے کے بعد اس کو رشتہ بھیجنے کو کہا تھا ہاتھ پیر جوڑے تھے کہ بھائی صاحب مجھ سے شادی کرلو میرے گھرمٹھا ئیوں کے ٹوکرے لے کر آئو اور رشتہ پکا کرواکہ ہی اٹھنا۔۔۔۔۔""

اب ٹھیک۔۔۔۔؟؟؟؟
  یہی سننا چاہتے تھے نہ آپ اپنے ان بڑے بڑے کانوں سے؟ ؟
 اب خوش ہو جائے جو آپ کی دلی خواہش تھی وہ پوری کر دی میں نے ۔۔۔۔۔۔۔۔!!!

وہ کہتے کہتے بیڈ سے جمپ لگانے کے انداز میں اس کے اوپر سے کو دی تھی ۔
اس طرح کے عین اس کے سامنے کھڑی ہلکے ٹی پنک کلر کے عروسی لباس میں میک اپ سے سجے چہرے اور نفیس ہلکے سونے کے زیورات پہنے وہ مصطفی کو بہت اپنی اپنی اور صرف اسکی لگی تھی مگر پھر یکایک گزرے دنوں کی چپقلش  مصطفی کے جذبات کو بھانپ کی طرح بٹھا گئی تھی  تمام نرم گرم جذبات اک دفع پھر سے گہری نیند جاسوئے تھے ۔۔۔
وہ واپس اجنبیت کے خول  میں لپٹا تھا۔

کیا چاہتی ہو مجھ سے اب ۔۔ ؟؟
تم مسئلہ بتاؤ اپنا جلدازجلد اور میری جان چھوڑو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔"

شدید بے زاری سے کہتا وہ سگریٹ اور لائٹر اٹھانے کے لئے سائڈ ٹیبل کی طرف جھکا ۔۔۔۔

 اس کمرے میں آپ چمپینزی کے علاوہ اور  بھی کوئی موجود ہے اور میں یہ بتادوں کہ سگریٹ اور اس کلموہی کو لبوں سے لگانے والے دونوں ہی مجھے شدید ترین ناپسند ہیں اعلی درجے کی پرخاش ہے مجھے ۔۔۔۔۔۔۔""

ہاں تو کیا کروں تمہارے لبوں کو چوموں؟؟؟
وہ اسکو اک ہاتھ سے پرے کرنے لگا۔۔

ہاں تو روکا کس نے ہے ۔۔۔۔۔۔؟؟
بے شک عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی۔ ۔۔۔۔۔۔"
دوبدو بولی۔ ۔۔

سوہا میری برداشت کا تم پہلے ہی بہت امتحان لے چکی ہو مزید میرا میٹر ہائی مت کرو ۔۔۔۔"
 میرا بھیجہ خشک ہو چکا ہے بلکل جلدی اب اپنا مسئلہ بکو اور چلتی پھرتی نظر آئو شاباش۔۔۔!!!

میں آپکی دلہن ہوں مصطفی! !
 شادی ہوئی ہے ہماری۔۔۔۔۔؟؟
سوہا نے اپنے تعین جتایا۔ ۔۔

 ہاں تو؟ ؟؟
شادی ہی ہوئی ہے کوئی بہت بڑا کارنامہ سرانجام نہیں ہوا ہے اور نہ ہی بہت بڑا معرکہ سر ہوا ہے ۔۔۔۔۔۔۔"

ایک دن میں ہزاروں شادیاں ہوتی ہیں تم اور میں کوئی انوکھے دلہادلہن نہیں بنے ہیں دنیا کے ۔۔۔۔"

آپکو نہیں پتا کہ نئی نویلی دلہن سے کس طرح پیش آتے ہیں؟ ؟

 پھر کہوں اور کیا کروں؟ ؟ تمہارے حسن کی تعریف کرتو دی ہے اب کیا ڈیمانڈ ہے نیکسٹ وہ بھی پوری کر دوں گا ۔۔۔۔۔"۔

بیزاریت سے چور لہجے میں کہا گیا ۔۔

خالی خولی تعریف نہیں سن نی مجھے ۔۔۔!!
نہیں چاہیے مجھے آپکی عنایتیں بہت کیا ۔۔۔۔۔

میں بتاتی ہوں آپ کو کہ دلہن کے  ساتھ کس طرح پیش آتے ہیں اب۔۔۔۔۔!!

سوہا شرم و حیا کو بالائے طاق رکھ کہ اپنے جلالی موڈ میں آ چکی تھی۔۔۔

" ایک وہ نہ ہونے والا دلہا تھا جو شرابی کبابی نکلا دوسرا جس کے بیڈ روم میں اس وقت مجھے پہنچا دیا گیا ہے وہ بالکل ہی عقل سے پیدل ہے ۔۔"

دماغ ہی نہیں مل رہے جناب کے اٹھو فور ی یہاں سے۔۔۔۔۔۔"
وہ چیخی۔

 کیوں اٹھو میں یہاں سے یہ میرا روم ہے۔۔۔؟؟؟
وہ گڑبڑایا

میں کہتی ہو کھڑے ہو فوری بہت کر لی تم نے اپنی من مانی اور میری تذلیل اب نہیں بخشوں گی میں تمہیں۔۔۔۔۔۔"
کوئی جن بھوت تو نہی چمٹ گیا ہے جو اول کہے جارہی ہو؟ ؟؟
 میرا بیڈروم ہے میرا کمرہ ہے میں نہیں اٹھ رہا تم کون ۔۔؟؟

تمہارا بیڈ روم اور تمہارا کمرہ تھا اب یہ میرا بھی اتنا ہی ہے برابر کی شریک ہوں میں اس کمرے کی اور میں کون !!
ابھی بتاتی ہوں آخری دفعہ بول رہی ہو تم اٹھو گے یا میں لیٹ جاؤ ۔۔۔۔؟؟

ہاں تو لیٹ جاؤ میں نے تو نہیں روکا  اتنا بڑا بیڈ ہے جہاں دل چاہے لیٹو اس میں اتنا واویلا مچانے کی کیا تک ہے۔۔۔؟؟؟

 میں پھوپھو کے پاس جا کر انکے بیڈروم میں پھوپھو اور پھوپھا کے درمیان  لیٹ کر سونے جا رہی ہوں ۔۔
وہ آپنا غرارہ سنبھالتی ہوئی دروازہ کھولنے کو بڑی بھاگ جانے کے لئے ۔
کیا۔۔۔۔؟؟؟؟
 تمھارا دماغ ٹھیک ہے ۔۔۔؟؟
______
"ایسے تو ہم آپ کو قطعی بیڈروم میں جانے نہیں دیں گے پہلے ہماری جیب گرم کریں اس کے بعد آپ کو ہماری پیاری سی بھابی بیگم کے دیدار کا شرف حاصل ہوسکے گا ۔۔۔۔"

کیوں فجر ٹھیک کہا نہ ۔۔؟؟
شفا نے آنکھ دبا کے فجر سے تائید چاہی لبوں پہ شوخ و شنگ مسکراہٹ تیر رہی تھی دونوں کے۔ ۔۔

ایک دم درست فرمایا!!
" ہم دونوں عمربھائی تھانے دار نیاں ہیں اس وقت آپ کے بیڈ روم کے باہر دلہن کی حفاظت کرنے کے لئے مامور ۔۔۔۔۔۔"

شفا اور فجر عمر کے بیڈروم کے دروازہ کے باہراسکا راستہ روکے کھڑی تھیں۔

"ارے بھئی میرے بچے کو تنگ مت کرو اور اس کو جانے دو تھک گیا ہے وہ بہت بچارا اسٹیج پر بیٹھنا کوئی معمولی بات ہے چلو نکلو تم نگوڑیوں یہاں سے۔۔۔۔۔"

"یہ چیز میری اچھی بڑی امی" ۔۔
عمر چوڑا ہوا ہمدردی پاکہ۔ ۔۔۔۔

جبکہ ائمہ نے شفا اور فجر دونوں کی بڑی فراخدلی سے  ڈانٹ لگائی۔۔

"ایسے کیسے یہی تو وقت ہے اس کنجوس سے رقم نکلوانے کا  ۔۔۔۔"
"ہاں تو اور نہیں تو کیا یہی تو وقت ہے اس سے اپنی تمام باتیں منوانے کا"۔۔۔

"خالا جانی آپ بھی۔ ۔۔"
عمر نے معصوم سی شکل بناکہ کہا۔ ۔۔

" ہاں تو میں تو تھالی بینگن ہوں "۔۔۔۔
غزل تفریوں میں اپنے نام کی ایک تھی۔۔

 دلہا جی ذرا ایک بات طے ہو جائے آج کہ آپ ہمیشہ ہماری بات مانیں گے دلہن کی بعد میں سنیں گے کہو منظور ہےیق نہیں؟ ؟؟
 غزل نے بھی مزید لقمہ دیا ہنستے ہوئے جبکہ سمیرا نے دونوں لڑکیوں کے گرد شانوں پہ ہاتھ رکھ کے  سائیڈ لی انکی ۔۔۔

" میرا بچہ تو بالکل تنہا ہے میں ہوں تیرے ساتھ ساری رات بھی اگر یہاں گزارنی پڑی تو  گزادونگی۔ ۔۔۔"
ائمہ نے کچھ اس ادا سے لاڈ کا مزاہرہ کیا کہ وہاں موجود سبھی افراد ھنس دئئے جبکہ عمر کھسینا بلا  بنا دروازہ نوچنے نہی بلکہ توڑنے کو تھا۔ ۔

"میں کیا کروں میں تو خود مضلوم ہوں تمہاری بھابھی صاحبہ نے اسٹیج پر بیٹھتے ہی میری جیب خالی کر ڈالی تھی والٹ ہتھیا کہ اور کہا تھا کہ خبردار جو  میری نکمی نندوں کو ایک دھیلا بھی دیا ہو تو"  ۔

حیرت انگیز طور پر اس وقت ارمغان اور حمزہ غائب تھے ورنہ وہ دونوں تو اس کے بچاؤ کے لیے ضرور حاضر ہوتے ۔۔

"دیکھیں عمر بھائی ہمیں اس سے سروکار نہیں ہے کہ بھابھی ہماری میسنی نکلی ہے" ۔۔۔

" ہمیں تو بس اپنے نیک سے مطلب ہے اگر بھابھی کا دیدار کرنا ہے تو جلدی سے نیگ نکالیں اور ہمیں چلتا کریں ورنہ ہم یہاں دھرنا دے دیں گے ایک نہ دو دن بلکہ پورے ہفتے کا اب فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے ۔۔"

شفانے کہتے ہوئے  فجر کو دیکھا جیسے کہہ رہی ہو بیٹا عمراندر تو جائو ابھی امتحان اور بھی ہیں۔

" اچھا یہ لو میرا وولٹ اور اب میرا پیچھا چھوڑو میری بہنوں وہاں اندر میری دلہن میری منتظر ہے میں مزید انتظار کی کوفت میں دبلا ہونے نہیں دے سکتااسکو۔ "
عمر نے دونوں کو والٹ تھما کہ باقی سب کے ساتھ چلتا کیا  اور خود جلدی سے  اندر کمرے میں گھس گیا ۔۔۔
۔۔۔
💞

"انتحا ہوگئی انتظار کی آئی نہ ایک جھلک میرے یار کی۔۔۔۔۔۔"

 عمر نے گانے کولنگڑا لولا کرڈالا اور جلدی سے گاتا ہوا کمرے کا دروازہ اچھی طرح سے لاک کر کے مکمل اطمینان کر لینے کے بعد وہ بیڈ کی طرف آیا جہاں لائبہ مکمل گھونگھٹ کئے ایسے بیٹھی تھی جیسے چہرہ نہ دیکھ لینے کا عہد کر رکھا ہو۔ پورا سراپا دوپٹے میں چھپا ہوا تھا سر سے پیر تک !!

چند لمحوں کیلئے تو عمر کو لگا جیسے وہ کوئی انیس سو نا معلوم کی دلہن ہو اور وہ ففٹیس کے زمانے کا دولہا ۔۔۔

"آج نہ چھوڑوں گا تجھے دن دنادن" ۔۔

 عمر فل چھچور پن پہ آمادہ دھپ سے بیڈ پہ کودنے کے انداز میں گرکہ  کونہی نیم دراز ہوا ۔۔۔

پیڈ پر بیٹھا ہوا جود عمر کی بے ہودہ گوئی اور چھچھورپن کی کنگنآہٹیں سن کر شاید حیرت و بے یقینی کی۔ آخری حودود کو چھوتا بے ہوش ہونے کے قریب تھا ۔

"دیتی انویٹیشن یہ تیری جوانی
 دل کرے کروں تجھ سے چھیڑخانی
 مانتا نہیں ہے یہ دل بڑا اناڑی ۔۔۔"

عمر نان سٹاپ ایسے گانا شروع ہوا جیسے دنیا کا سب سے مشہور سنگر ہو۔

"یار کچھ تو کہو دیکھو آج میں کتنے منفرد انداز میں تم سے سے مخاطب ہوں "۔۔

"ذرا پردہ اٹھا دوں
زرا مکھڑا دکھادو
 میں تیرا گھر والا ہوں
کوئی اور نہیں
ارے میں تجھ پہ مرنے والا ہوں ۔"

آج نہ جانے اس کو یہ سارے گانے کہاں سے دماغ سے ہوتے ہوئے زبان پہ آ رہے تھے اور وہ بڑے مزے کے موڈ میں گنگنائے چلا جا رہا تھا اور پھر تھوڑا سا جھک کہ عمر نے لائبہ کے گھونگھٹ میں سے ہاتھ ٹتولنا چاہا مگر لائبہ اسکے گھونگھٹ الٹنے کیلئے ہاتھوں کو بڑھتا دیکھ مزید اپنا عروسی دوپٹہ پیروں کے نیچے دبا گئی ۔۔۔

آج عمر اپنی عادت کے برخلاف جان کے اس طرح تفریح کے موڈ میں کمرے میں آیا تھا وہ نہیں چاہتا تھا کہ اب دوبارہ سے کوئی بھی چپکلش یا پھر لائبہ کے دل میں کوئی برائی پیدا ہو۔

وہ اب اس کو ایک نئی اور مکمل زندگی دینے کا خواہا تھا جس میں تلخ یادیں اور تکلیف دا باتیں استک چاہ کر بھی بھٹک  نہ سکے ۔

 اس لئے وہ آج کی رات کو ایک مکمل اور بہترین یاد بنا کے نئی شروعات کرنے کا متمنی تھا ۔۔۔۔

"ارے بس بھی کرو  اتنا شرمانہ "۔
تمہارا شوہر ہوں کیا خیال ہے اب دیدار ہوجائے ؟؟

وہ کہتے ہوئے گھونگھٹ کے اندر موجود ہنستی یا پھر کا نپتے وجود کا مکھڑا دیکھنے کی غرض گھونگھٹ الٹنے کو تھا ۔


ارمغان نے ہاتھ ہلا ہلا کے گانا شروع کیا بلکہ یہ زیادہ بہتر ہوگا کہ ناکے ڈانس کرنا شروع کیا تھا ۔۔

کھودا پہاڑ نکلا چوہا گھونگھٹ کے اندر سے بجائے لائبہ کے برآمد ہونے کہ ارمغان نے یکدم اپنا دیدار کا شرف بخشا تھا۔
 عمر اچھل کے بیڈ سے نیچے گرا وہ دم بخود ہی تو رہ گیا تھا بھلا دلہن کے بجائے یہ دلہن نما مرد کہاں سےنمودار ہوگیا تھا اس کی سیج سجانے کو ۔۔
عمر جیسے کچھ بولنے کی حالت میں ہی نہ تھا اس کی تو سدھ بدھ ہی کھو چکی تھی وہ خاموش ہیران پریشان سرمغان کو دیکھتا صورت حال کو سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا ۔

" ایسے نہ مجھے تم دیکھو سینے سے لگا لونگا ۔۔۔"

"ابے تجھے سینے سے لگانے سے پہلےبہتر ہےکہ میں اس گاؤتکیے کوگلےسے نہ لگا لو "۔۔

آورتوکیا کر رہا ہے یہاں پہ ؟؟؟
عمر اپنی شرمندگی چھپاتا جھینپ مٹانے کی کوشش کرتے ہوئے خشمگیں نظروں سے ارمغان کوگھورتے ہوئے پوچھنے لگا ۔۔

""دل کے ارماں آنسوؤں میں بہہ گئے ۔۔ """
ارمغان نے مزید اس کو چھڑانے کے لیے ہانک لگائی ۔۔

میں نے ماری اینٹریاںں
 تو دل میں بجی گھنٹیاں
رے ٹن ٹن ٹن ٹن ۔۔۔

حمزہ بیڈ کے نیچے سے برآمد ہوا بالکل عمر کے انداز میں گاتا ہوا وہ عمرکے  سینے سے جا لگا ۔۔

اور اب حمزہ اور مان ملکر دونوں کمرے میں بھنگڑا ڈالنے میں مصروف تھے ۔۔

بغیرتوں  تم لوگ یہاں کیا کر رہے ہو؟؟
 میں نےکیا تھا تم دونوں کی شادیوں کے وقت  ایسا گندا مذاق؟؟؟

ابھی عمر کا ایک غم غلط نہیں ہوا تھا جب بیڈ کے نیچے سے حمزہ گاتا ہوا پھڑکتے انداز میں نکلا ۔۔
بغیرتوں  تم لوگ یہاں کیا کر رہے ہو؟؟

 میں نےکیا تھا تم دونوں کی شادیوں کے وقت  ایسا گندا مذاق؟؟؟

جلدی سے میرے کمرے سے تم دونوں نودوگیارہ ہو جاؤ اور بتاؤ میری امانت کہاں ہے؟؟؟

 "اتنی دیر میں مجھے ہاٹ اٹیک ہو جانا ہے  اس منہوس دلہن  کو دیکھ دیکھ کے۔۔۔۔"
عمر نے حمزہ کو کہا ارمغان کو خون آشام نظروں سے گھورتے ہوئے بس نہیں چل رہا تھا کہ دونوں کا سر ہی پھاڑ دے۔ ۔۔

"آجا پیا تجھے پیار دوں پیاسی بہاہیں تجھ پہ واردوں۔ ۔۔"
حمزہ نے اپنی ہنسی ضبط کرتے ہوئے عمر کے غصے کا جواب کوئی بہت ھی پھڑکتے ہوئے گانے کو گا کہ دیا  ۔۔۔۔

"بھائی تم بھی اس چور پن میں شامل ہوں خدارا تم لوگ بیوی تک پہنچا دو مجھے میری"۔۔۔

" ابے او انسان بن پہلے ہم تو اپنے ارمان پورے کرلیں" 
مان نے کہا آج وہ بالکل بھی عمر کو بخشنے کے موڈ میں نہیں تھا ۔۔۔

آرزو پوری کرو اپنی والیوں سے لنگوروں  میرے ارمانوں کا کیوں گلا گھوٹنے کوآندھمکے ہو؟؟؟؟

عمراب مزید لڑائی جھگڑے کرنے کے بجائے معاملے کو نرمی سے لے دے کر حل کرنے کی کوشش کرنے لگا ۔

" ہمارے ارمان آنسوؤں میں بہ گٙئے تیری والی جانے کے بعد ہم ادھر ٹرانسفر ہوگئے۔ ۔۔
 تو کیسے خوش رہے گا اکیلےچل اب ہم تینوں کبڈی کھیلتے ہیں ۔۔۔۔"
مان نے اس کا ہاتھ پکڑ کے دوبارہ سے بھنگڑا ڈالنا شروع کیا ۔۔

"مت سوگ منا میرے بھائی  میری بیوی اور اسکی بیوی اور تیری بیوی !!تینو  خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہی ہیں ۔۔۔۔"
کک۔ ۔۔۔کیا واقعی؟ ؟؟
عمر رونی صورت بنا کر بولا اسکور ہے رہے کہ اپنے ارمانوں کا اس طرح سے ناس ہوجانا غمگین بنا گیا تھا ۔
ہاں جی سچی پاجی! !!
حمزہ اور ماننے ایک ساتھ زور سے کہا ۔۔
💞
یہ لے بھائی اب آپ کی دلہن آپ کے حوالے خوش ہو جائیں۔۔۔۔"

 شفا اور فجر لائبہ کو کمرے میں چھوڑ کے یہ جا وہ جا ۔۔

جناب اب کیا میں خود چل کے آؤں؟ ؟؟
 وہ شوخ لہجے میں بولی۔۔۔

 نہیں تو کیا پوری بارات دوبارہ کمرے میں لے کر آؤ کہو تو؟؟؟

 اچھا نہ چلو اب موڈ کرو اپنا سب کی طرف سے میں سوری کرتی ہوں۔۔۔"

 لائبہ نے حناء آلود ہاتھ جوکہ چوڑیوں  سے سجے تھے کانو تک  لیجاکہ سوری کری۔۔

چہرے پہ بلا کی معصومیت تھی  جبکہ آنکھوں میں شریر ترین مسکراہٹ ہچکولے لے رہی تھی۔۔

 نہیں اسے تو میں نہیں مانوں گا یار شوہر ہوں تمہارا اور پیا کو منانے کا ہنر بھی سیکھ لیتی  اتنی دیر میں ان دونوں چڑیلوں سے ۔۔"

بیویاں تو نہ جانے کیا کیا پاپڑ بیلتی ہیں اپنے روٹھے پیا کو منانے کے لئے اور ایک تم ہو۔ ۔۔!!
!روٹھے روٹھے لہجے میں  کہا گیا ۔۔۔
"عمر پلیز مجھے وہ خاص ٹرکس فلحال ازبر نہیں ہے اس لیے مجھے تو معاف ہی رکھیں اور ویسے بھی رات بہت ہوگئی ہے اور تھکن بھی بہت زیادہ ہو رہی ہے میں تو چلی چینج کرکے سونے کے لئے ۔"

کک۔ ۔۔۔کیا کہا پھر سے کہنا ذرا ۔۔؟؟؟
وہ خشمگین لہجے میں کہتا چٹخ اٹھا چہرے کے تیور بگڑے ۔۔۔
یہی کے مجھے آپ نیند آرہی ہے۔۔۔"
 وہ اباسی لیتی آنکھوں میں نیند کا خمار لیے واقعی نیند میں جھوم رہی تھی ۔۔

آؤ تو پھرمیں تمہیں لوری دے کے سلاتا ہوں بہت اچھی والی۔۔۔"
 وہ کہتا ہوا اس کی طرف بڑھا تھا اور ایک جھٹکے سے اس کو بازو میں بھر کر پھولوں سے سجی سیج تک لے آیا ۔۔

عع۔ ۔۔۔عمر پلیز میں تھک گئی ہو ۔۔۔۔"

شششش۔ ۔۔!!!
فکر نہیں کرو تمہاری تھکن خود میں سمیٹ لونگا۔۔۔۔۔۔۔"
 عمر نے اس کے کپکپاتےلبوں پر اپنی انگشت شہادت رکھ کے گویا چاموش کروایا ۔

کچھ مت بولو بس ان لمحوں کو محسوس کرو بہک نہ جائو توکہنا ۔۔۔"
سکا ۔
بوجھل لہجے میں کہتا آہستہ سے اپنی انگشت شہادت سے لائبہ کے سرخ رخصار کو چھوا تھا ۔۔۔۔

میں تم سے آج خدا کو حاضر ناظر جان کر اپنی پاکیزہ محبت کا اقرار کرتا ہوں لائبہ۔ ۔۔۔"

 میں تم سے محبت کرنے لگا ہوں بہت بڑے بڑے دعوے ہرگز نہیں کروں گا بس یہ جانتا ہوں جب سے میرا اور تمہارا یہ پاکیزہ رشتہ وجود میں آیا ہے میں اپنے ایمان سے کہتا ہوصرف تمہارا ہوا ہوں تمہی کو سوچا ہے اور تمہی سے دلی وابستگی پیدا ہوئی ہے اور تمہی میرے دل کی ملکہ ہوبس۔ ۔۔"

 تم نے میری زندگی میں آکر میری زندگی کو بہت خوبصورت بنا دیا ہے مجھے مکمل کر دیا ہے تمہارے وجود نے لائبہ ۔۔۔"
آنکھوں میں خمار تھا لب و لہجے میں اس کو پالینے کا غرور نشہ بن کر گنگناہ رہا تھاچارسو اپنی موجودگی کا اس احساس دلانے پہ بضد تھا۔

چہرہ خوشی سے کھلا پڑا تھا آنکھوں میں آلوھی سی چمک لیے وہ لائبہ پہ چھکا۔۔۔۔

 میرا دل تمہارا طلبگار بن بیٹھا ہے لائبہ کیا آج مجھے اجازت ہے تمہاری روح سمیت تمہارے وجود کو تصخیر کرنے کی؟؟؟

 لائبہ اتنے پیارے اقرار محبت پہ دنگ سی رہ گئی تھی تمام تر حقوق کا مالک ہونے کے باوجود وہ آج بھی اس کو اس کی اجازت کے بغیر اپنا جائز حق وصولنے سے گریزاں تھا۔
 کتنا پیارا تھا وہ؟؟
 کیسی پاکیزہ اور مقدس محبت کی تھی اس نے کہ اسکے جسم کے بجائے روح کو چاہتا تھا۔۔!!

میں بھی آج آپ سے اقرار کرتی ہوں کہ  مجھے صرف آپ سے محبت ہے۔۔۔"
 میں آپ کی ہو اور ساری زندگی آپ کی محبتوں پر صرف میں ہی قابض رہوں گی"

 وہ کھلے دل سے اقرار کر بیٹھی تھی کیونکہ وقت پہ ہی محبت کا جواب پورے خلوص اور اپنائیت سے دے دینے میں عقلمندی اور دلی اطمینان کے ساتھ روح کا سکون بھی وابستہ ہے۔۔

 تو پھر اجازت ہے ؟؟؟
وہ اس کی تھوڑی اونچی کرکے مخمور لہجے میں استفسار کر رہا تھا۔۔
  لائبہ نے شرماکہ حیاء سے اپنے حنا آلود  ہاتھوں سے چہرے کو ڈھانپ لیا ۔

عمر اس کو خود میں سمیٹتا چلا گیا ۔۔
کانچ کی گڑیا کی طرح وہ اس کو نرمی سے صندل کرتا ا سکے پور پور کو اپنی بے لوث محبتوں کی پھوار سے بھیگوتا چلا گیا ۔۔۔
💞💞
بیٹا اگر پانچ منٹ اور وہاں رکتے تو شامت پکی تھی عمر ہم دونوں کا بھیڑیا بنا دیتا اور ہماری بیویاں ہماری حالتوں پہ افسوس کرنے کے بجائے زندگی بھر تاک تاک کے ظنزوں کے تیر چلاتی پھرتی ۔۔
نہیں تیری بھابھی بہت معصوم ہے وہ تو بے چاری۔۔۔"
 ارے فجر بھابھی یہ دیکھیں مانی بھائی کیا کہہ رہے ہیں آپکےبارے میں  ذرا۔۔۔۔
 حمزہ نے کچن سے چائے کا کپ لئے فجر کو نکلتے دیکھ کے ہانک لگائی۔۔۔
 یقین ہے کچھ بہت ہی اچھا کہہ رہے ہونگے ۔۔"

فجر ہمزہ کی شرارت بھانپ کر آنکھوں میں مسکراہٹ لیے مان کو دیکھ کے بولی۔۔۔

 نہیں بھابھی مانی کہہ رہا تھا کہ آپ کو کہ۔۔۔۔۔
حمزہ کی بات لبوں میں ہی رہ گئی جو فجر نے جلدی سے اس کا جملہ اچک لیا۔

 میں بہت معصوم اور سادہ ہو کبھی ان کو غلط کہیں نہیں سکتی ہیں نہ ۔۔۔؟

ہیں آپ کو کیسے پتا ؟؟
حمزہ کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا ۔۔۔
فجر کے اس قدر درست اندازے پہ ۔
مجھے تو اور بھی بہت کچھ پتہ ہے دیور جی ذرا اپنے بیڈ روم میں تو جائیں شفا کافی دیر سے وومیٹنگ کر رہی ہے ۔
اوئے ہوئے تو کیا جو میں سمجھ رہا ہوں وہی ہے نہ فجر؟؟؟
 ارمغان نے خوشی کا نعرہ بلند کیا ۔
جی ہاں بالکل خیر سے آپ ہی کی لائن میں آنے والے ہیں جناب۔۔۔"
 فجرکھلکھلا کے ہنستی ہوئی مان کا ہاتھ پکڑ کے لان کی طرف نکل آئی اس کا ارادہ تازہ ہوا لینے کا تھا ۔۔
یار یہ کیا بات ہوئی ہے ایک کپ چائے کا لیے تم

مجھے لان میں لے آئی ہوں میں کیا خالی پیلی تمہیں چائے پیتے دیکھوں گا ۔۔؟؟
جناب یہ چائے میں نے آپ کے لئے ہی بنائی ہے نہ کہ اپنے لیے ۔۔"
فجر نے تیوری چڑھا کے جواب دیا۔۔
 تمہارا بہت شکریہ ۔۔۔"
وہ تاروں بھرے آسمان کو دیکھ رہی تھی اور مان اپنے برابر میں بیٹھے چاند کو۔۔
 چائے کے لئے شکریہ کرہے ہیں؟ ؟؟
 استفسار ہو ا۔۔
نہیں کائنات کے لئے ۔۔"
بہت خوبصورت تحفہ تم نے مجھے دیا تم نہیں جانتی ہو فجر جب سے کائنات میری زندگی میں آئ میری زندگی مکمل ہوگئی ہے مجھے لگتا ہے ہم اور تم اب کبھی علیحدہ نہیں ہونگے اب۔۔۔
تاروں بھری رات ٹھنڈی ہوا اعصاب کو پرسکون کر رہی تھی۔
 مان کے پیار سے اظہار محبت کرنے پہ فجر مسکرا دی۔۔۔
 مجھے آپ سے کچھ کہنا ہے ۔۔"
کہو پوچھ کیوں رہی ہو ؟؟؟
مجھے ہماری آبائی حویلی میں اپنی باقی کی زندگی بسر کرنا ہے جہاں میرے بھائیوں اور والدین کی خوشبو بستی ہے ۔"
مگر۔۔۔۔۔۔فجر۔ ۔"
 پلیز ۔۔!!!مان اس کو میری خواہش سمجھیں ۔۔"
دادی جان تائی اور ہم پلیز واپس حویلی میں جاکے رہیں گے کائنات کے ساتھ وہ ادھر ہی پلی پڑھے گی جہاں ہم دونوں کا بچپن گزرا ہے۔۔۔"
 ٹھیک ہے۔۔۔"
 جیسی تمہاری خواہش ۔"
مگرمان پلیز مجھے آئندہ زندگی میں کوشش کیجئے گا حماد صاحب نا می بھیڑیے کا دیدار کرنا نصیب نہ ہو اور میری بچی پر اس شخص کا کبھی پرچھاواں بھی مت پڑھنے دیجئے گا میں بہت مشکل سے خود کو اس درد ناک کیفیت سے نکالنے کی کوشش کررہی ہوں دوبارہ سے اس شخص کو اپنی زندگی میں دخل اندازی کرتے دیکھ میں برداشت نہیں کر سکوں گی کوشش کیجئے گا وہ شخص دوبارہ میری آنکھوں کے سامنے نہ آئے ۔۔۔"

فجر ان کو ان کے کیے کی سزا قدرت نے دے دی ہے اور آئندہ بھی ملتی رہےگی تم اب بس اپنے اور ہمارے بارے میں سوچو ۔۔۔"
بس مان میں نے بہت سوچا کہ میں اپنا دل اتنا بڑا کرسکوکہ حماد صاحب کو معاف کرنے کی گنجائش نکل آئے مگر میں خود کو اس معاملے میں بے بس تصور کر رہی ہو ۔۔۔"
انہوں نے غلط کیا اور غلط کا انجام ہی عبرت پہ ہوتا ہے ۔۔"
فجر نے کہتے کے ساتھ ہی مان کے شانے پر اپنا سر ٹکا دیا ۔۔۔"
بس اب پرسکون ہونا چاہتی ہو جیسے ۔۔۔

خدا تیرا شکر ہے جو حماد نامی درندے کو دنیا کے سامنے عبرت کا نشانہ بنا دیا ۔۔۔"

دو موتی فجر کی آنکھوں سے گر کر مان کے شانے میں جذب ہوئے تھے مگر وہ بہت پرسکون تھی ۔۔۔۔
💞💞💞
کوئی آدھے گھنٹے سے وہ واشروم میں واش بیسن میں منہ دیے  کھڑی۔۔
بدحال سی الٹیاں کئے جا رہی تھی کافی دیر تک فجر اس کی پشت سہلاتی رہی اور جب کچھ دیر کے لئے اسکی طبیعت سنبھلی  الٹی تو وہ اس کو سہارا دے کے بیڈروم میں لے آئی ۔

فجر کے جانے کے کچھ ہی دیر بعد ایک دفعہ پھر شفا کا دل متلایا تھا اور وہ دوبارہ واش روم میں بھاگی تھی منہ پہ ہاتھ رکھ کہ   ۔۔

حمزہ خوشی سے جھومتا ایک لمحہ بھی ضائع کئے بغیر کمرے میں آیا تھا مگر کمرے میں شفا کو نہ پا کر پریشان سہ ہو اٹھا اور ادھر ادھر نظر دوڑائی تو ڈریسنگ روم کے برابر میں تھوڑے فاصلے پر موجود واش روم کا دروازہ ہلکا سا کھلا ہوا تھا اور نلکے سے پانی بہنے کی آواز آرہی تھی ساتھ ہی شفاکی کے کرنے کی بھی  وہ دوڑا دوڈا ادھر ہی چلاآیا۔۔۔

 شفا کی طبیعت مزید خراب ہونے کے ڈر سے وہ کمرے میں ٹھہرا نہیں تھا اسی لیے سیدھا واش روم میں ہی آ گیا تھا ۔۔

کیا ہوا شفا تم ٹھیک تو ہو ۔۔۔۔؟؟؟

وہ واش بیسن کے اوپر جھکی الٹیاں کرتی شفا کی پشت کو پریشانی سے سہلانے لگا ۔

حمزہ کے ہر ہر انداز سے شفاء کو اپنی زات کیلئےفکرمندی ٹپکتی محسوس ہورہی تھی۔ ۔۔

اور پھر کچھ ہی دیر بعد اس کو سہارا دے کے وہ بیڈ تک لاکر بٹھا دینے کے بعد اے سی کا ٹیمپریچر مزید کم کر  کے اس کے پاس ہی بیڈ پہ ٹک گیا۔

اب کیسا فیل کر رہی ہو؟ ؟؟
ٹھنڈے ٹھار پانی کا گلاس اس کے سامنے بڑھاتے ہوئے پریشان کن لہجے میں دریافت کیا گیا ۔۔۔۔

"میں ٹھیک ہوں بس میرے خیال سے کچھ غلط کھا لیا ہے جس کی وجہ سے طبعیت آپسیٹ ہوگئی ہے ۔"

وہ گڑبڑائی تھی مگر پھر خود کو بمشکل سنبھال کے آہستہ آواز میں گویا ہوئی ۔۔

"اووووو۔ ۔۔آئیییییی ۔۔۔۔سی ۔۔۔"
پکّانا؟؟؟
 ایسی ہی بات ہے نہ؟ ؟؟
کوئی اور مسئلہ تو نہیں ہے؟؟؟
 اگر کہو تو ابھی ڈاکٹر کے لےچلوں میں تمہیں یا پھر "کسی لیڈی ڈاکٹر کو گھر پہ بلا لوں ۔۔۔"
کہو تم ۔۔۔۔۔بس حکم کرو ۔۔۔۔"

ھمزہ بڑی مشکل سے چہرے پہ مصنوعی سنجیدگی طاری کرکے بولا تھا ساتھ ہی ریسٹ واچ اتار کے سائیڈ ٹیبل پر رکھی اور شیروانی کے بٹن وا کرنے لگا انداز سرسری ہی رکھا تھا ۔۔۔

"نن۔ ۔۔۔۔نہیں نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے میں نے کہا نہ کچھ غلط کھا لیا ہے ۔۔۔۔۔"
 " ڈاکٹر واکٹر کو فون کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور لیڈی ڈاکٹر کو تو بالکل بھی نہیں "۔۔۔

وہ بڑی مشکل سے تھوک نگل کے گویا ہوئی چہرے پہ  ننھے ننھے پسینے کے قطرے پھوٹ پڑے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔
نظریں تھیں کہ حیاءاور جھجک کے مارے حمزہ سے ٹاکرا کرنے سے انکاری ہوئی ۔۔۔

شفا آر یو شور نہ۔۔۔۔؟؟
 تم ٹھیک ہو ؟؟؟؟؟؟
آنکھوں میں شرارت کے بہت ہی پیارے رنگ لیے وہ مزید اس کو تنگ کرنے کے لیے گویا ہوا ۔۔۔

"ہاں۔۔۔ ہاں۔۔۔۔  میں ٹھیک ہوں تم بلا وجہ پریشان ہو رہے ہوں اور مجھے میں کر رہے ہو۔۔۔۔"

شفاء بے دردی سے اپنی مخروطی انگلیوں کو مروڑتے ہوئے اپنے تئیں حمزہ کو مطمئن کرنے کی بھرپور کوشش کررہی تھی اس بات سے بے خبر کہ وہ اس کے چہرے اور باڈی لینگویج کو بہت اچھی طرح پڑھنا جانتا ہے اور پھر یہ اتنی پیاری اور اہم خبر تو وہ باہر سے ہی سن کر آ چکا تھا ۔۔

"ہونھہ۔ ۔۔۔۔"
معنی خیز ہنکارہ بھرا گیا ۔

"چلو پھرٹھیک ہے۔ ۔  ۔۔۔۔"
حمزہ کو جیسے اب شفا پہ تھوڑا ترس آیا اور اپنی حالت پہ بھی وہ اب تک شیروانی ہی پہنا ہوا تھا ۔۔۔
" میں ذرا چینج کرکے آتا ہوں جب تک تم بھی ریلیکس ہو جاؤ ۔۔۔۔"



میرے خیال سے اب تم بھی کپڑے چینج کرلو پریشان ہو رہی ہوگی ساڑھی کو سنبھالنا اففففف۔ ۔۔۔۔"
 پتا نہیں تم لڑکیاں کیسے اتنے ہیوی ڈریسز کو کیر ی کر لیتی ہوں ؟؟؟

وہ  اس کو محبت پاش نظروں سے دیکھتا  اٹھ کھڑا ہوا ۔۔
شیروانی میں مزید اب اس کا دم گھٹنے کو گھا اسلئے پہلے وہ جلد سے جلد  آرامدہ کپڑوں میں آنا چاہ رہا تھا ۔۔۔
جب وہ فریش ہونے کے بعد واش روم سے نکلا تو شفا ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی جیولری اتار رہی تھی ۔
ومنٹنگ کر لینے سے اس کا دل ہلکا پھلکا ہو گیا تھا اب وہ خود کو قدرے بہتر محسوس کر رہی تھی ۔۔۔

بالوں میں سے کیچر نکال کر ڈریسنگ ٹیبل پر رکھ دیا گیا تھا ۔اسٹیپ میں کٹے کھلے ریشمی بال پشت پر بکھرے ہوئے تھے ۔

 سامنے کا منظر دیکھ کے وہ جیسے  مبہوت سہ رہ گیا ۔۔

بلڈ ریڈ ساڑھی کا پلو سیفٹی پنز سے آزاد ہونے کے باعث بازو پہ ڈھلکا ہوا تھا ۔۔

وہ مکمل حسن کا شاہکار تھی۔ دیکھنے والے کو لگتا ہے جیسے قدرت نے اس کو بہت ہی فرصت سے بنایا ہوگا ۔۔
بڑی بڑی سیاہ نشیلی آنکھیں جن میں سے کاجل وامٹ کرنے سے آنسو آنے کی وجہ سے آنکھوں کے گرد پھیل کر شفا کے حسن کو دوآتشہ کر گیا تھا ۔۔

حمزہ کا دل چاہا اس کو باہوں میں بھر لے آخر کو آج اتنی بڑی خوشی کا دن تھا اس کے لیے بھی اور شفا کے لیے بھی وہ دونوں مکمل ہونے والے تھے ان کے آنگن میں بھی ایک ننھہ منا فرشتہ اللہ کے رحم وکرم سے ان کی جھولی میں آنے والا تھا ۔۔۔

باپ بننے کا احساس اتنا خوبصورت تھا اسکے لئے کہ وہ خوشی سے پھولے نہیں سما رہا تھا ۔۔
بہت خوش تھا آج وہ۔ ۔۔۔

شفاء اس کا عشق ،جنوں اور دیوانگی ہی تو بن بن گئی تھی یہ کہنا غلط نہیں تھا وہ حقیقتاً حمزہ کے لئے اس کی زندگی کا مرکز اس کی زیست کا حاصل بن بیٹھی تھی ۔۔

حمزہ کون لگا جیسے  اس پل تو لمحات ٹھہر سے گئے تھے۔۔۔
 وقت رک سا گیا ۔۔
ہر شے اپنی جگہ ساقط اور صامت  ہو کر رہ گئی تھی ۔وہ خوشبو کی طرح اس کے آس پاس مہکتی اس کو شفا یاب کر رہی تھی۔مہکارہی تھی۔ ۔
اپنی زلف کا اسیر کرنے کی  ہر ممکن کوشش کرنے کے لئے کمرکس چکی تھی ۔۔

حمزہ نے بھرپور نظروں سے اس کے سراپہ کا جائزہ لیا۔ شفا نے چونک کے اس کو دیکھا اور نظروں سے استفسار کیا کہ ۔۔۔
کیا ؟؟؟
ایسا کیوں دیکھ رہے ہو ؟؟؟
آنکھوں ہی آنکھوں میں مسکرا کے پوچھا گیا ۔۔۔

حمزہ آہستہ آہستہ چلتا ہوا آنکھوں میں مسکراہٹ لیے بغیر کوئی لبوں سے جواب دیے اس تک پہنچا تھا اور اپنی ہتھیلوں ںسے اس کے شانوں کو مضبوطی سے تھام کر گویا ہوا ۔۔۔

"جانتی ہوں شفا تمہیں جب جب میں دیکھتا ہوں تمہارے نقوش میں کھو سہ جاتا ہوں !!تمہارے چہرے کے تیکھے نقوش اور خاص کر یہ ستواں ناک مجھے اپنی نظروں کا زاویہ بدلنے ہی نہیں دیتی اور یہ جو دل ہے نہ۔۔۔۔۔۔"

وہ اس کا رخ اپنی طرف پھیر کے اپنے ہاتھ میں اس کا مرمریں ہاتھ تھام کر اپنے دل کے مقام پر رکھ کے مزیدگویا ہوا ۔

"یہ میرے سینے میں کہلاتا تو میرا ہے مگر بہت ہی بغاوت پر آمادہ ہے ظالم!! یہ بڑا ہی بے ایمان ہے تمہیں دیکھ کہ ہر دفع چھونے کی خواہش کر بیٹھتا ہے  ۔۔۔۔"
"اور دماغ کی تو بات ہی نہ کروں یہ بھٹک جاتا ہے اور کہتا ہے چھو لو نا ۔۔۔۔چھو لو نا"

"حمزہ مجھے آپ کو کچھ بتانا ہے ۔۔۔"

وہ کترا رہی تھی ۔۔
جھجک اس کے لہجے سے عیاں تھی لبوں کی لرزش اور وجود کا سرد پڑنا اس کے اندر کی بوکھلاہٹ اور سراسیمگی کا بولتا ثبوت تھا حمزہ کو اس پل شفاء پہ ٹوٹکے کر پیار آیا مگر پھر اس کو تھوڑا اور تنگ کرنے کی غرض سے شریر لہجے میں بولا تھا کہ ۔۔

کہو جان حمزہ ؟؟؟
 سن رہا ہوں کچھ کہنا چاہتی ہوں؟؟
مگر ایک منٹ یار یہ تمہارے چہرے پہ اسقدر پسینہ کیوں آ رہا ہے۔؟؟؟

 اے سی تو میں نے اٹھارہ ٹیمپریچر پہ ہی چلایا ہوا ہے پھر بھی تم اتنی پسینے میں شرابور کیوں ہو رہی ہو  بھلا؟؟
 اےسی کے ریموٹ سے چھیڑ چھاڑ کرتا اس کو بغور دیکھنے میں مصروف وہ شرارت پہ آمادہ تھا ۔۔

نن۔ ۔۔۔۔۔نہیں۔۔۔مم۔ ۔۔ میں تو نہیں۔۔۔۔۔ بب۔ ۔ بالکل ٹھیک ہو ۔۔۔۔۔!!
یہ تو بس ایسے ہی ۔۔۔۔۔"

وہ اٹک اٹک کے کہہ رہی تھی سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کس طرح سے اتنی بڑی خوشخبری حمزہ کے گوش گزار کرے۔ ۔۔

"چلو چھوڑو میرے پاس ایک گڈ نیوز ہے تمہارے لیے ۔۔۔"

کیا ۔۔شفا نہ کچھ دیر کیلئے سکون کا سانس لیا اب یہ بات اس نے کل پہ لےجا چھوڑی تھی ۔۔

میں بابا بننے والا ہوں عنقریب ۔۔۔!!!
وہ معنی خیزی سے کہتا اس کو کمر سے تھام کر خود سے قریب کر گیا ۔۔۔

ہیں؟ ؟؟؟؟؟؟؟؟
وہ شدید حیران ہوئی ۔
منہ کھلا کا کھلا رہ گیا آنکھیں جو کچھ دیر پہلے جھکی ہوئی تھیں وہ اب ٹکٹکی باندھے حمزہ کے چہرے پہ نجانے کیا کھوج رہی تھی ۔۔

اوئے تیری آپ کو کیسے پتا ؟؟؟
شفاء کے لبوں سے خوشی میں بے ساختہ پھسلا تھا پھر یکدم اپنی حد درجہ بے ساختگی کا اندازہ ہوا دانتوں تلے لب داب گئی ۔۔۔

"ہاں تو جب تم نہیں بتاؤ گی تو مجھے تو پتا چل ہی جانا اب کہاں کیسے کب اس سب کو چھوڑ دو ۔۔۔"

"بس یہ یاد رکھو کہ میری بیٹی جب تک تمہارے وجود میں سانس لے رہی ہو اس کا بہت خیال رکھنا میری بیٹی کو ذرا سی بھی تکلیف  نہیں آنی چاہیے شفا میں تمہیں بتا رہا ہوں ۔۔۔۔۔"

لہجے کو روب دار بنانے کی بھرپور کوشش کی گئی ۔۔۔

اچھاااااااا !!!
"ہونھہ بڑے آئے میری بیٹی کا خیال رکھنا کہنے والے۔ ۔۔۔۔۔۔"
میرا بیٹا ہوگا میں اس کا خیال رکھوں گی دیکھ لینا تم بھی ۔۔۔۔۔۔!!

شفا ہنکارہ بھر  کے بولی تھی اور چہرے پہ آئی شریر سی لٹ کو لبوں سے پھونک مارکر سیٹی بجا نے کے انداز میں ایک ادا  سے اڑا ۔۔۔۔۔۔

اچھا ایسی بات ہے !!!
چلو دیکھتے ہیں ۔۔۔۔۔"
حمزہ نے کشن  اٹھایا اور اب دونوں گتھم گتھا پلو فائٹ میں مصروف تھے۔۔۔
💞
یہ کیا بچوں جیسی حرکت ہے سوہا ۔۔؟!!
شادی ہوچکی ہے تمہاری اب تم بڑی ہوجائو ۔۔۔۔۔"

وہ برہم ہوا ۔۔

"تو بڑوں کے جیسی باتیں آپ کر لیں نہ اگر شرما شرما کے میرا دوپٹہ چبانے سے دل بھر گیا ہو تو ؟؟"

سوہانے خونخوار لہجے میں کہتے ہوئے مصطفی کا ہاتھ جھٹکا تھا صحیح معنوں اسنے اپنے تئیں روٹھے صنم  کا دماغ درست کرنے کی بھرپور کوشش کی تھی اور غصے میں جلدی سےدروازے کا ہینڈل گھمانے لگی کمرے سے جانے کی غرض سے اس وقت وہ صرف اور صرف بپھری ہوئی شیرنی بنی ہوئی تھی۔۔

" تم نے پہلے ہی مجھے بہت ستایا ہے سوہا !!بہت زیادہ میرے ضبط کو آزما چکی ہو اب تک۔۔۔"
" بہت بڑے بڑے کئی امتحان لے لئے ہے تم نے میرے صبر کے سمجھیں!! مزید مجھ سے کسی بھی مفاہمت یا نرمی کی امید مت رکھنا ۔۔۔۔۔"

مصطفی نے بھی اب کی بار حساب برابر کیا ۔آخر کو اتنے دنوں سے ایک کرب میں گرفتار تھا اور سوہا کی باتوں نے کہیں نہ کہیں اس کے دل کو گہری ٹھیس پہنچائی تھی تو وہ کیوں نہ اپنا دل ہلکا کرتا؟؟

 دل کا غبار نکلنا بھی بہت ضروری ہوتا ہے کبھی کبھی!!
"ورنہ رشتوں میں ڈراڑ بڑھتی چلی جاتی ہے ۔۔"

"میرا راستہ چھوڑیں!! مجھے ابھی اور اسی وقت پھوپھو اور پھوپھا کے بیچ میں جا کے سونا ہے"۔۔۔

"نہیں جھوڑونگا میرے بیڈروم میں آئی تو تم اپنی مرضی سے تھیں نگر جاوگی صرف میری مرضی سے۔ ۔۔۔۔۔"
"ایسی کی تیسی آپکی مرضی کی یہ مت بھولیں آپ نے مجھے پھلجڑی کا کقب دیا تھا ماضی میں۔ ۔۔۔"
تو تم ایسے نہیں مانوگی؟ ؟؟
"آیسے کیسے ویسے مجھے اب کچھ نہیں سن نا بس باہر جانا ہے۔ ۔۔۔۔"

مصطفی نےبھرپور نظروں سے فل لڑاکہ تیارا بنی اپنی چھوٹی سی پرکالا کو دیکھا تھا اور بغیر اسکو لمحے بھر کی بھی مہلت دئیے!!مصطفی نے یکدم سوہا کی کلائی کو اپنی مٹھی میں قید کیا تھا اور ایک جھٹکے سے اسکی کلائی مروڑ کہ خود سے بے حد نزدیق کرڈالا ۔سوہا شاید اس حد تک فلحال مصطفی سے ایسے کسی ریکشن کی امید نہ کر رہی تھی اسلئے بغیر سنبھلے لڑکھڑاتی ہوئی مصطفی کے چوڑے سینے سے آلگی ۔۔۔

"ھٹیں میرے راستے سے نہیں تو آپکی ایسی پھینٹی لگوائونگی پھپو سے کہ زندگی بھر آپکو اپنی گولڈن نائٹ کسی ڈراونے خواب کی طرح یاد رہے گی ہمیشہ ہمیشہ کیلئے۔ ۔۔"

"پہلے گولڈن نائٹ سلیبرٹ تو کرلوں اچھی طرح سےپھر میں خود یادگار بنائونگا اوراب مزید مجھے رسوا مت کرو کم از کم میرے گھر والوں کے سامنے ہی میرا بھرم رکھ لو شرافت سے چلو اور بیڈ پہ نہیں سونا تو نہ لیٹو میں کونسامرا جارہا ہوں صوفے پر سو جاؤ بے شکیری بلا سے" ۔۔۔

نرم مگر دھونس بھرے لہجے میں کہتا وہ سوہا کو بازووں میں بھر کر  صوفے تک لے گیا   اس طرح وہ اب بس اسکے رحم و کرم پہ ہوکر رہ گئی تھی ۔۔

تو ٹھیک ہے۔۔۔!!
 آپ میرے اک سوال کاجواب دیں زرا؟؟
   مجھے آپ اتنا بتائیں کیا کرتی میں آخرکو؟ ؟
" ماں باپ کی عزت کو پامال کر دیتی محبت حاصل کرنے کے لیے۔۔۔۔"

"اس عمر میں ان کے سروں میں خاک بھر دیتی؟؟
جبکہ بڑھاپیں میں ماں باپ کو اولاد کے نیک کرم سے ہی پہچانہ جاتا ہے ۔۔"

"محبت ہے مجھے آپ سے بے شک ہے آج بھی ہے کل بھی تھی اور ہمیشہ رہے گی مگرآپ مجھے تو کیا میری  دلی کیفیات کو سمجھے ہی کہاں آج تک؟ ؟؟"

 "میں اپنی محبت کو گالی نہیں بننے دیں دینا چاہتی تھی معاشرے کی نظر میں!! میری مقدس محبت ہے۔۔۔"

 پاکیزہ محبت کرتی ہوں میں آپ سے!!
"ہر ایک کی زبان پر مجھے اپنی اور آپ کی محبت نیلام کرنا ہرگز بھی منظور نہیں تھا ۔۔"
سمجھے آپ۔ ۔۔۔۔۔۔!!!

وہ اس کے چوڑے سینے پر مکوں کی برسات کرتے ہوئے بری طرح سے بھپر کے رودی ۔ایک گلیشیئر تھا جو پگھلا تھاشاید سوہا کے اندر سے!!

مصطفی اس کو اپنا ضبط کھوتا دیکھ  مزید ناراضگی برقرار نہ رکھ سکا ۔خود سے کئے گیا سوہا سے خفا رہنے کا فیصلہ دھرا کا دھرا گیا ۔سوہا کو سسکتا دیکھ وہ بھی پیچین تھا نہیں دیکھ سکتا تھا اسکے آنسووں شاید نہیں یقینن!! ۔۔

وہ اب بھی مسلسل مصطفی کے چوڑے سینے پر مکوں کی برسات کرنے میں مصروف تھی۔۔۔

" آئی نو بہت گھٹن  بھر چکی ہےتمہارے اندرگزرے شب و روز کی وجہ سے  "۔۔

"رولو آخری دفعہ جتنا رونا چاہتی ہو دل ہلکا کرلو اپنا پوری طرح۔  ۔۔۔۔"

"آج کے بعد تمہارے میرے درمیان کوئی نہیں آئے گا یہ میرا وعدہ ہے۔۔۔۔۔"

 "یعنی کہ تمہارے مسٹر پائلٹ کا وعدہ!! تمہاری آنکھوں میں کبھی آنسو نہیں آنے دوں گا ۔۔"

وہ سرگوشیانہ انداز میں کہتا ہوا اس کی پشت کو تھپکی دینے لگا ۔جیسے اپنے ساتھ کا مکمل اعتماد اور یقین بخشنا چاہ رہا تھا۔

" آپ بہت خراب ہیں میں آپ سے کبھی بات نہیں کروں گی"۔

نروٹھے پن سے سڑ سڑ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ۔رونے کی وجہ سے چھوٹی سی ستواں ناک سرخ ہوگئ تھی جو اسکے دلہناپہ کو مزید دوآتشہ کر گئی تھی۔ ۔۔۔۔۔

" یار ابھی تو میں بالکل بھی خراب نہیں ہوا ہوں سوچ رہا ہو ذرا اپنی پرکالہ کو تھوڑا سا خراب ہو کر دکھا ہی دوں۔۔۔"

 وہ اس کے کانوں میں موجود نورتن جھمکوں  سے چھیڑ چھاڑ کرتا لو دیتے لہجے میں گویا ہوا تھا ۔۔

"کوئی ضرورت نہیں ہے خبردار جو میرے ساتھ کوئی ایسی ویسی حرکت کی ہو تو "۔۔
  جوڈو کراٹے جانتی ہوں۔ ۔۔۔!!
ہونھہ۔ ۔۔۔۔"

وہ مصطفی کے ارادے بھانپ کے سٹپٹائی اور پوکھلا کر جو لبوں پہ آیا کہہ گئ کسی کراٹے ماسٹر کی طرح باقائدہ ایکٹ بھی کیا گیا ساتھ ہی۔  جس کو سن اور دیکھ نے کے بعد مصطفی کا جاندار کہکہ پورے کمرے میں گونجھ اٹھا تھا۔ ۔۔۔۔

"میرے ساتھ زیادہ فری ہونے کی بالکل ضرورت نہیں ہے اور اوور اسمارٹ تو بلکل بھی نہیں۔ ۔۔۔۔"

"ارےارے یہ کیا بات ہوئی میں تو اپنہی دلہن سے رومانس فرمارہا ہوں !!محترمہ اگر آپکی یاد داشت برقرار ہے تو آپ نے ہی تو مجھے دلہن وہ بھی اپنی اور پھر نئی نویلی کے ساتھ احسن سلوک کے کافی سارے اہم نکات سمجھائے تھے"

سوہا اسکو پٹھری سے اترتا دیکھ اپنی کھساہٹ کوچھپانے کی بھرپور کوشش کرتی  تھوڑا پرے کھسکی کیونکہ فرار تو مصطفی کی قید سے ناممکنات میں سے تھی۔ ۔۔

ابھی وہ اپنی سی فاصلے پہ ہونے کی کوشش کر ہی رہی تھی جب مصطفی نے اسکو موقع دیئے بغیر ہاتھ بڑھا کہ اپنے چوڑے سینے پہ ایک جھٹکے لا گرایا۔ ۔

قطعی نہیں!!
" اب نہیں برداشت کرونگا تمہاری دوری سوہا!" 
اگر اب میں نےتمہیں چھوڑا تو تم سے ہاتھ دھو  بیٹھوں گا۔۔"

وہ اسکی ہرنی جیسے خوف اور حیاء کے ملے جھلے تاثرات لئے گہری نشیلی آنکھوں میں بغور دیکھتا شریر لہجے میں گویا تھا۔

"مم۔ ۔۔مجھے ش۔ ۔شاید پھپو پلارہی ہیں" ۔۔۔

شش۔ ۔۔۔!
اب اگر تمہیں اپنی بانہوں کے گھیرے میں سے آزاد کیا تو پھر تمہیں اماں اور ابا کے بیڈروم میں سوتا دیکھنے کا ھوسلہ نہیں کرسکتا پیدا خود میں" ۔۔۔۔۔

خمار آلود مخمور لہجے میں کہتا وہ سوہا پہ کچھ اور بھی جھکا تھا اور اسکےکان کے قریب جاکہ بہت دھیمے سے اس نے سرگوشی میں کہتے ہوئے سوہا کے یخ بستہ رخسار پہ اپنے دہکتے ہوئےلب رکھ کے محبت کی پہلی مہر صبط کر ڈالی تھی۔

"مم۔ ۔۔مصطفی۔ ۔۔۔مم۔ ۔مجھے جانا ہے"

وہ تھمتی سانسیں اور شور مچاتی دھڑکنوں سے بوکھلا ہی تو گئ تھی ۔کہاں عادت تھی مصطفی کی قرب بھری جسارتوں کی ،وارفتگیوں اور الفتوں کی۔ ۔۔۔۔

 " ایسے تو نہیں رہائی ملے گی بھاری جرمانہ لازمی بھر ناہوگا آج کی رات۔۔"
" اور  یار آج تو ایسی ویسی حرکت کرنے کا مکمل  سرٹیفیکیٹ بھی لے چکا ہوں ۔۔"

"تم تو کیا اب تو  کوئی بھی مجھے تم پہ اپنی محبت کی پھوار برسانے اور اس میں پور پور بھیگا کےسیراب کرنے سے نہی روکسکتا" ۔۔۔

"کوئی ظالم سماج بننا چاہے بھی تو نہیں بن سکتا میں ایسا تم پہ سحر تاری کردوں کا اپنی زات کا! !
۔۔۔
"اور اگر پھر بھی کسی نے ہم دونوں کے درمیان پھاپھا کٹنی بننے کی کوشش کی تو میں صحیح سے نمٹ لونگا کافی لڑاکا طیارے میرے پاس موجود ہیں"  ۔۔۔

"اپنے بارے میں کیا خیال ہے آپ کیا کسی کم ہو کسی لڑاکا طیارے سے بڑے آئے ہونھہ"  ۔۔
سوہا  چڑھ کہ ناک چڑھا کے بولی ۔۔

او یارا۔۔۔۔!!
" اب تو ناراضگی ختم کرو اور ویسے بھی اب ایسی ویسی حرکت کرنے کو دل مچل رہا ہے آج تو پھر ہماری اسپیشل نائٹ ہے"۔

 وہ شوخ ہوا تھا مگر سوھا کے تو جیسے اوسان خطا کر گیا کچھ دیر قبل والی بولڈنس  یکدم ہوا ہوئی تھی چہرہ حیاء کے خوبصورت رنگوں سے گلنار ہو چلا تھا  ۔۔

دل سو کھے پتے کی مانند لرزا تھا۔
  پلکوں کی چلمن گری تھی ۔ماتھے پہ سجی نورتن حیدرآبادی بنیاد مصطفی کو اپنی طرف کھینچ رہی تھی اس کا دل چاہا کہ وہ مزید گستاخ ہو جائے سوہا کے سجے سنورے سراپہ سے وہ نگاہ ہٹا نہیں پا رہا تھا یا شاید وہ ایسا چاہتابھی نہیں تھا۔۔۔

 کتنی منتیں مانی تھیں اسنےسوہا کے حصول کےلئے ہر رات تہجد میں گڑگڑایا تھا ۔۔
خدا کے آگے سجدوں میں بکھرا تھا۔۔
 نماز میں اس کنے رورو کر خدا تعالیٰ سے سوہا کا ساتھ طلب کیا تھا اسکی ہمسفری چاہی تھی ۔۔۔
اپنے رب سے کبھی روٹھاتھا تو کبھی اسکو گڑگڑاکہ منایا تھا۔
 اور آج وہ بہت مسرور تھا بےحدخوش تھا بے شک اللہ رب العزت اپنے بندوں کو خالی ہاتھ نہیں لوٹاتا صرف مانگنے کا طریقہ آنا چاہیے ۔۔

وہ مان گیا تھا کہ واقعی سوہا کاخدا پہ پختہ ایمان اوریقین جیت گیا تھا ۔

اگر خدا نے اسکو کی قسمت میں لکھا تھا تو کوئی چاھ کر بھی اس کو قسمت کی لکیر سےمٹانے کی صلاہیت خود میں نہیں رکھتا تھا ۔۔۔

مصطفی کے حد درجہ محبت سے دیکھنے پر سوہا کے رخصار حیاء کی حدت سےتپ اٹھے ۔

ماضی میں جو بھی ہوا تھا دونوں اپنی اپنی جگہ حق بجانب تھے ۔
ماحول کی خوبصورتی اور نکاح کے خوبصورت بندھن میں بندھنے کے بعد جیسے دونوں ہی اپنے اندر نامعلوم سی سرشاری پھیلتی محسوس کر رہے تھے ۔خوشی اور طمانیت دونوں کے دلوں میں بکھرکہ گھر کر گئی تھی۔

 واقعی محبت کو پالینے کی خوشی اور تمانیت و ہی محسوس کر سکتا ہے جس کی قسمت میں محبت اور اسکا حصول لکھا گیا ہو اور پھر جس نے اپنے خدا کے آگے محبت کی فریاد کی ہو ،نمازوں میں تڑپہ ہو ،گڑگڑایاہو  توپھر اس مقام پہ آکہ محبت کا ملنا محبت کی لذّت ہی الگ ہوتی ہے اور اس وقت اللہ کی محبت اس کے بندے کے دل میں بھی قابل دید ہوتی ہے ۔۔۔

مصطفی اس کے چہروں کو آنکھوں میں بسائے نرم گرم جذبات کی حدت لئے تکے چلا جارہا پھر بہت بے ساختہ اپنا  ہاتھ بڑھا کر اس کے چہرے   کے اک اک نقوش کو چھو کہ محسوس کررہا تھا۔ جیسے اسکے خوبصورت ساتھ کا بے یقینی سے یقین کرنا چاہ رہا تھا۔
"تم بہت پیاری لگ رہی ہو اور یہ میں نہیں میرا دل کہ رہا ہے ۔۔۔"
"مم ۔۔۔میں جاؤں تھک گئی ہو بہت۔۔۔"
" نیند بھی ڈھیر ساری آ ْرہی ہے۔۔۔۔"

مزید اس کے سامنے اس کی قربت میں رہنا سوہا کے لیے ناممکن تھا ۔۔۔

"ہاں تو بس اب ہم دونوں سوئیں گے ہی ملکر ظاہر سی بات ہے ۔۔۔"
سوہانےمصطفی کے کہنے پر جھٹ پر سکون سی ہوکہ پلکیں اٹھا کراس کو دیکھا مگر پھر زیادہ دیر اس کی آنکھوں میں نہ دیکھ سکی وجہ اسکے لبوں پہ رقصاں شوخ و شریرمسکراہٹ تھی وہ چہرے پہ بہت پیاری اور معنی خیز سی مسکراہٹ لیے اسی کو تک رہا تھا ۔۔

وہ سٹپٹائ اور گڑبڑاکہ دوبارہ نظریں جھکا لیں۔۔۔

" تمہاری یہ اٹھتی گرتی پلکے میرے ہوا سوں  کو جھنجوڑ  رہی ہیں۔ اس سے پہلے کہ میرا دل پھر سے بے ایمانی پہ اکسائے مجھے اور ایمانداری سے بے ایمانی کا مستحق ہوجاوُں چلو اٹھو شاباش آؤ دو نفل شکرانے کے ادا کرلیں پہلے۔ ۔"

وہ مسکرایا اور سو ہا سےفاصلے پر ہو کے محبت بھری نظر ڈال کے وضو بنانے کی غرض سے واشروم کی طرف ہو لیا ۔

"شکر میرے اللہ تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے تو نے مجھ گناہ گار کو اتنے پیارے انداز میں میری محبت سے نوازا ہے۔ ۔"

"میں نے شدتِ غم میں تیری رضا کا مزہ ڈھونڈا ہے اب میں تاحیات بڑے مزے میں رہوں گی ۔۔"

واقعی میرے رب تجھ سے عشق میں ایک مقام وہ بھی آتا ہے جب دعا تو دور کی بات ہے انسان صرف سوچتا ہے اور تو نواز دیتا ہے بس تیرا بننے کے لیے تیرہ ہونا ضروری ہے ۔۔۔

وہ سوچتے ہوئے مسکرا دی مصطفی کے وضو کرنے کے بعد خود بھی وضو کر کے شکرانے کے نوافل ادا کرنے جائے نماز پے جا کھڑی ہوئی ۔۔۔۔
ختم شد

0 comments:

Post a Comment