itni muhabbat kro na
by zeenia sharjeel
episode 1
وہ تیز ہوتی سانسوں اور تیز ھوتی دھڑکن کے ساتھ بہت تیزی سے اس سنسان سڑک پر بھاگ رہی تھی. اسے راستے کا علم نہیں تھا بس اسے یہاں سے کسی بھی صورت نکلنا تھا. اس نے پیچے مڑ کے نہیں دیکھا تھا
اسکی ہمت اب جواب دے گئی تھی پاوں بری طرح دکھ گئے تھے لیکن اسے ہمت نہیں ہارنی تھی وہ نڈھال ھوتے وجود اور ماوف ہوتے زہن کے ساتھ قدم آگے بڑھا رہی تھی.اسکی انکھوں کے کہ اگے بار بار اندھیرا آرہا تھا مگر اسے یہ موقع نہیں گنوانا تھا.
اچانک کوئ اس کے سامنےآتا ھے اور وہ اس چٹان نما چیز سے ٹکرا کر گرتی ھے اور اسکی انکھوں کے آگے اندھیرا سا آجاتا ھے. تاریخی میں جاتے ہوے دماغ کےساتھ جو آخری بات اسکو یاد آتی ھے وہ یہ کہ اسکا بھہوش وجود دو مضبوط بازوں کی گرفت میں ھے
************
تپتی ھوئ دھوپ میں وہ مایوس قدم اوٹھاے چلا جارہا تھا. سنجیدگی ھمیشہ اسکی طبعیت کا خاصاں رہی ہے لیکن آج اس کی انکھوں میں مایوسی بھی ساتھ تھی. اسے نہیں لگتا تھا یہ جاب بھی اس کو ملے گی. ہاتھ میں پکڑی اپنی ڈگریاں کسی ردی کی مانند مہسوس ہو رہی تھیں. سست قدم اٹھاتا ھوا وہ گھر میں داخل ہوا
"اسلام و علیکم اماں"
زین نے نادیہ بیگم کو سلام کیا
"وعلیکم اسلام بیٹا! کیسا رہا انٹرویو"
انہوں نے پرامید لہجے سے پوچھا
"سفارش کے بنا پر سلیکشن ہوگی کسی اور کی"
زین پانی گلاس میں نکالتے ہوے جواب دیا. تھکن کے اثار اس کے چہرے پر نمایاں تھے
"مایوسی کفر ہے بیٹا ہر چیز کا وقت مقرر ہے مل جاے گی جاب بھی
جاو منہ ہاتھ دھو کے آو میں کھانا لاتی ہو"
وہ دماغ میں آئ سب سوچوں کو جھٹک کے کمرے سے چلے گیا
**********
"حور اٹھ جاو کالج نہیں جانا کیا آج"
اسما کمرہ سمیٹتے ہوے کہنے لگی
"جی ماما بس اٹھ گئ"
وہ کسل مندی سے اٹھ گئی ہر روز کی طرح اس کو سب کا ناشتہ بنانا تھا اس کے بعد اپنے کالج کے لئے نکلنا تھا.
یہ بھی شکر تھا کہ اس کے چچا اور تایا اس کو پڑھا رہے تھے ورنہ باپ کے انتقال کے بعد بہت مشکل وقت انہوں نے گزارہ تھا یہی بہت تھا کہ اس کے چچا اور تایا نے اس کو اور اس کی ماما کو گھر جگہ کے ساتھ ساتھ دو وقت کی روٹی بھی میسر کردی تھی۔
اسما کے گھر والوں نے وقار صاحب کی انتقال کے بعد صاف لفظوں میں دونوں ماں بیٹی کی ذمہ داری قبول کرنے سے منع کر دیا تھا.
تھوڑا چچا اور تایا کو خوف خدا تھا اور اپنے بھائی کی اکلوتی نشانی سمجھتے ہوئے گھر میں جگہ دی.
حور اور اسما کے ساتھ تایا اور چچا کا رویہ تھوڑا بہت نرم رویہ تھا. اس کے برعکس تائی اور چچی کو ان دونوں کا وجود بری طرح کھٹکتا تھا
باقی کزنز بھی سب اپنی اپنی پڑھائی اور دنیا کے جھمیلوں میں مصروف تھے. موڈ ہوا تو منہ لگا لیا نہیں تو تو کون اور میں کون والا حساب تھا
صرف ایک خضر ہی تھا جو حور اور اسما کے لیے دل میں نرم گوشاں رکھتا
*********
اسکول کی چھٹی کا وقت تھا شاہ اپنے ڈرائیور کا انتیظار کر رہا تھا. ایسے میں اس کی نظر ایک معصوم سی گڑیا پڑی جو آنکھوں میں ڈھیر سارے آنسو لیے بینچ پر بھیٹی رونے میں مصروف تھی. وہ 1 یا 2 کلاس کی اسٹوڈنڈ ہوگی. بچی نے جب کافی دیر تک اپنا رونے کا مشغلہ جاری رکھا تو شاہ اس کے پاس جا کے بیٹھ گیا
"کیا ہوا گڑیا تمیں. رو کیوں رہی ھو"
بچی نے اپنا مشغلہ ترک کر کے اپنے برابر میں بھیٹے لڑکے کو دیکھا جو اس کی کلاس کا نہیں تھا حیرت سے بولی
"میرا نام گڑیا تو نہیں. کیا میں تمیں گڑیا جیسی لگی"
بچی نے معصومیت سے پوچھا
اسکی بات سن کر شاہ ہنسا
"گڑیا جیسی نہیں پری جیسی لگی ہو. گڑیا تو ویسے ہی بولا میں نے. اچھا تو پری یہ بتاو تم رو کیوں رہی تھیں"
شاہ نے دوبارہ پوچھا
"میں نے ہوم ورک کملیٹ نہیں کیا تو ٹیچر نے مجھے ڈانٹا"
بچی نے دوبارہ انکھوں میں آنسو لیے کہا
"تو تم نے اپنا ہوم ورک کیوں نہیں کیا"
"ماما گھر کے کاموں میں بزی رہتی ہیں ان کے پاس ٹائم نہیں ہوتا"
بچی نے اداسی سے جواب دیا اس ہونٹ کے نیچے بائے طرف تل بھی شاہ کو اداس لگا
"کوئی بات نہیں ہوم ورک تمہں میں کروا کرو گا. فرینڈ بنوگی میری"
شاہ نے پری کے اگے ھاتھ بڑھا کر کہا
جسے پری نے تھام لیا
اور یوں وہ دونوں دوست بن گئے
جاری ہے

0 comments:
Post a Comment