Monday, December 10, 2018

tu kitni masoom hai episode 20 by aymen nauman

tu kitni masoom hai episode 20 by aymen nauman
کمرے میں آنے والی کام والی تھی 
جب تین سے چار دفعہ دستک دینے کے باوجود بھی اندر سے دروازہ نہ کھلا اور کوئی آواز نہ آئی تو وہ ناشتے کی ٹیبل پہ حمدان کے ساتھ بیٹھی بھی اماں کے پاس آکر بولی ۔۔۔
بی بی جی ام نے بہت دفعہ بچایا مگر کسی نے دروازہ کھولا تو ہم واپس آگیا ۔۔
ارےکہی بچے کی طبیعت زیادہ تو نہیں خراب ہو گئی ۔
حمدان کا منہ میں رکھآنوالا حلق سے نیچے نہیں اتر رہاتھا اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ کسی طرح اس کا کے پاس پہنچ جائے 
ہے بھی تو بالکل دھان پان سی آج کل کی لڑکیوں کو ایک بتاو زرا ۔۔
نہ جانے کیا ڈائٹنگ کی پڑی رہتی ہے ۔۔
بی اماں اسرہ کے لیے فکرمندی سے بولیںں
اے دا نیترا دیکھ کر آپ بچی کو میں تو سیڑھیاں چڑھ ہی نہیں سکتی ہیں یہ جوڑوں کا درد 
وہ بے بسی سے بولیں
بی اماں جی بہتر 
حمد آن ایک لمحہ ضائع کیے بغیر کرسی گھسیٹ کر کھڑا ہوا ۔۔۔
بغیر دروازے پہ دستک دیے وہ ایک جھٹکے سے دروازہ کھول کر اندر گیا 
اس کی کلائی کی نبض چیک کی ماتھے اور گردن کو چھو کر دیکھنے کے بعد اس کو اپنے بازوؤں میں بھرکرنیچے بھاگا 
ارے دانی کیا ہوا کیوں اتنا بوکھلایا ہوا ہے ۔۔
وہ اپنی ویلفیئر گھسیٹتی ہوئی جلدی جلدی آئی ۔۔
اما اسکی نفس بہت ہلکی چل رہی ہے اور جسم خطرناک حد تک ٹھنڈا ہو چکا ہے 
میں اس کو لے کے فورا ہوسپٹل جا رہا ہوں

جا پتر جلدی جا میری تو بچی کی اس حالت پر جان ہی نکلی جا رہی ہے نہ جانے کیا ہو گیا ہے اس عمر کی لڑکیا تو بالکل گلاب کی طرح کھلی پڑتی ہیں نہ جانے اس بچی کو کیا ہو کر رہ گیا ہے بالکل سرسوں کی طرح پیلی پڑ رہی ہے۔۔
اما ں آپ پریشان نہ ہوں میں بس لے کر جارہا ہوں یہ کہتا ہوا وہ گاڑی کی طرف بڑھا اور آسرا کو فرنٹ سیٹ پر بٹھانے کے بعد وہ ریش قسم کی ڈرائیونگ کرتا ہاسپٹل پہنچا ۔۔
ڈاکٹر صاحب کیا ہوا ہے ان کو 
ڈاکٹر نے ایک نظر ہمدان پہ ڈالی اور گویا ہوا 
آپ ان کے کون ہیں 
حمدان لمحہ پر بعد بولا شوہر ہو ۔
آپ کی وائف انتہائی کسی پریشانی میں مبتلا ہے کوئی بھی ایسی وجوہات جو ان کو پریشان کر رہی ہے اس سے دور رکھیں ان کو اور اگر اسی طرح یہ پریشان رہیں تو ان کا نر وس بریک ڈاؤن بھی ہو سکتا ہے 
جی میں پوری کوشش کروں گا کے کسی بھی بات کو لے کر ڈپریس نہ ہو 
ابھی میں نے ان کو سکون کا انجکشن دیا ہے آپ ان کو گھر لے جائیں اور کوشش کریں دویٰ دینے سے پہلے کچھ کھلا ضرور دیں 
حمدان مصافحہ کرکے اسراکو لیے باہر آ گیا 
گھر پہنچنے کے بعد آسرا کو بی اماں نے زبردستی کھانا کھلایا ۔۔
اماں بی نے کام والی کو بلا کر کہا آسرا کو اس کے کمرے میں لے جاؤ 
اماں بی میں نے نہیں جانا میں آپ کے پاس ہی رہوں گی 
اسراء نے خوفزدہ نظر حمران پہ ڈال کر ا ماں سے کہا ۔۔
حمدان اسکی بچوں جیسی خواہش کے بے ساختہ مسکرا دیا

💓💓💓💓💓
بہت بہت مبارک ہو آپ کو نرس نے سمیر کے پاس آکر نازک سی گڑیا تھامآتے ہوئے کہا ۔۔
سمیر کی آنکھوں میں آنسو آگئے ۔۔
میری ننھی پری تم جانتی ہو تمہیں چھو لینے کا احساس میرے لیے دنیا کا سب سے حسین اور اچھوتا احساس ہے آج مجھے لگ رہا ہے جیسے میں مکمل ہو گیا ہوں دنیا کی سب سے قیمتی شہ قدرت کا سب سے انمول تحفہ بنکر مجھے مل گئی ہو ۔۔۔

وہ اپنی بیٹی کے ماتھے پر پیار کرتے ہوئے بولا ۔۔
سمیر کو اللہ نے بیٹی جیسی رحمت سے نوازا تھا ۔۔۔۔۔۔
فرح کا صبح بی پی ہائی ہونے کی وجہ سے ڈاکٹر ز کو پری میچور ڈیلیوری کرنا پڑیں ۔۔۔
ڈاکٹرز کے مطابق بچی کی ہارٹ بیٹ سلو ہونا شروع ہو گئی تھی ۔۔
فرح کا حبیبی انتہائی خطرناک حد تک شروع کرچکا تھا ۔۔
سامنے سے آتی فرح کی موم کو دیکھ کر سمیر ان کی طرف خوشی سے بڑھا گویا آکسی سپنے کی کمی وہ پوری کرنا چاہ رہا ہوں ان کی شکل میں ۔۔۔

اس کو آج حجاب بہت یاد آ رہی تھی وہ بار بار سوچ رہا تھا کہ ابھی اگر یہاں حجاب ہوتی تو وہ اسکو چھونے بھی نہیں دیتی وہ دیوانی تھی بچوں کے لئے اور پھر اپنی بھتیجی کو دیکھ کر تو وہ پھولے نہ سماتی۔ ۔
مگر بس وی سوچ کے رہ گیا ۔۔۔
عدل نہ جانے کیوں اس کا اندر سے افسردہ سا ہو رہا تھا ۔۔
بہت مبارک ہو آپ کو معصوم سی گل گو تھنی ان کو دیتے ہوئے بولا۔۔
سمیر کی اس وقت حیرت کی انتہا نہ رہی جب انہوں نے اس معصوم کو اپنی گود میں لینا تو دور کی بات دیکھنا تک گوارا نہ کیا ۔۔
تمہیں مبارک ہوں میں تو تب خوش ہوتی جو اگر میری بیٹی بھی خوش ہوتی ۔۔۔
وہ سرد مہری سے کہتیں فرح کے روم کی طرف بڑھ گئیں۔۔

💕💕💕💕💕💕
چلو نہ یار اب تو اپنی ناراضگی ختم کرو
بشر روٹھی ہوئی حجاب کے آگے کان پکڑ کر بولا۔۔۔ اس نے ایک نظر بشر کو دیکھا اور واپس اپنے موبائل میں گیم کھیلنے میں مصروف ہوگئک جیسے اس کی بات سنی ہی نہ ہو ۔۔
بشر کو اب تھوڑا غصہ آیا میری میٹنگ ہو چکی ہے پچھلے دو دن سے تم اس کمرے میں بند ہوں میں مزید اب یہا ٹہر کر کیا کروں گا ۔۔
بشر مایوسی سے بولا حجاب نے بشر کی تمام خواہشات اور جذبات کو خاک میں ملا دیا تھا ۔۔۔
اس لئے میں چار دن کے بعد کی سیٹیں کینسل کرکے کل کی کروا رہا ہوں جو بھی پیکنگ کرھنی ہے کر لو ۔۔
ویسے مجھے تم سے امید نہیں تھی کہ تم اتنے پیارے دن اتنا پیارا ٹائم اس طرح کمرے میں بند رہ کر گزار دوں گی ۔۔
بشر کو اس کی خاموشی تکلیف دے رہی تھی کتنے حسین دن وہ دونوں ادھر ادھر گھوم کر تنہائی کے حسین لمحے کشید کر سکتے تھے محبت بھرے کے یاد گار دن بنا سکتے تھے ۔۔
اور آج کے بعد میری ایک بات یاد رکھنا اگر مذاق سہہ نہیں سکتی تو کرنا بھی نہیں میری طرف سے اس دفعہ مذاق کا جواب مذاق میں نہیں ملے گا بلکہ ایسے انداز میں ملے گا کہ تمھاری سوچ بھی وہاں تک نہیں پہنچ سکتی۔۔۔
بشر نے اپنی شہادت کی انگلی دکھا کر کہا اور اپنی سگریٹ اٹھا کر کمرے سے باہر نکل گیا ۔۔
اس کے جانے کے بعد حجاب کی آنکھوں میں سمندر اتر آیا ۔۔

💓💓💓💓💓
بابا سےبشر کی تقریباً روزہی بات ہو رہی تھی بابا کے بتانے پر اس نے حمدان کو بھی فون کیا تھا اور اسراہ کی خیرخیریت لیتا رہتا تھا ۔۔
بابا ماما کے آنے میں ابھی کچھ دن تھے تایا کی طبیعت ہی نہیں سمبھل رہی تھی کچھ بہتر ہوگی مگر پھر دوبارہ بگڑ جاتی تھی۔۔۔
اس کا خیال تھا کہ کر وہ گھر پہنچ کے شام تک اسراء کو بھی لے آیے گا۔ ۔۔

💕💕💕💕
آدھر اریج کی شادی کی تیاریاں زور و شور سے تیار ہو چکی تھی 
زوار اپنی کمینگی دکھا کر اریج کو ہر طرح سے ہراساں کرنے کی کوشش کرتا رہتا تھا ۔۔

اریج خاموشی سے اپنی شادی کے لیے ہونے والی ہلچل کو دیکھ رہی تھی 
وہ جانتی تھی یہ شادی نہیں بلکہ اس کے لئے ایک قبر کھودی جا رہی ہے 
لیکن اس کے پاس فرار کا کوئی بھی راستہ باقی نہیں رہا تھا 
سبحان نے آنے کا کہا تھا مگر وہ بھی نہ آیا اس لئے زوار نےشادی کا شور مچانا شروع کردیا

ان دونوں بہن بھائیوں کو ڈر تھا کہ کہیں سبحان آکر کوئی گڑبڑ نا کردے۔ ۔
زوار باربار نکاح کے لئے زور لگا رہا تھا 
مگر اریج نے باپ کے سامنے بس اتنا کہا جاکر کہ ۔۔

میں شادی کے لیے تیار ھو چاہا بھی آپ لوگ چاہیں گے وہاں میری شادی کر دی مگر میں نکاح ابھی نہیں چاہتی وہ شادی کے وقت ہی کیجیے گا برات والے دن ۔۔
وہ جآنتی تھی کہ اگر ایک دفعہ نکاح ہو گیا تو زوار اس کو کہیں کا بھی نہیں چھوڑے گا ۔۔ 
اس کو اس بات کا پورا پورا یقین تھا کہ زوار اس سے کسی مقصد کے تحت ہی شادی کر رہا ہے ۔۔۔

💕💕💕💕💕💕💕💕
بشرکا جب غصہ ٹھنڈا ہوا تو وہ واپس کمرے میں آیا حجاب بری طرح رونے میں مصروف تھی ۔۔
بشر کو اس پے پیار آیا اور اپنے رویے پر افسوس ہوا۔ ۔۔
وہ اس کے لیے کھانا پیک کر لے کر آیا تھا جانتا تھا کہ وہ بھوکا نہیں رہ سکتی زیادہ دیرتک آج تو پھر اس نے صبح سے کچھ بھی نہیں کھایا تھا بس ناراض ناراض سی منہ پھلائے ادھر سے ادھر گھوم رہی تھی کمرے میں ۔۔
تم نے کھانا کھایا ہے؟؟؟بشر نے شرٹ کے اوپر کے دو بٹن کھولتے ہوئے پوچھا ۔۔

ہنہ صبح سے بھوکی ہوں اب خیال آیا ہے۔۔
وہ بڑبڑائی ۔۔
چلو مجھے تو خیال آہی گیا تمہیں تو بھی اس ناچیز کا کچھ خیال کرنا چاہیے میرے جذبات ہی کی کچھ قدر کر لو لڑکی ۔۔
کے سر پر چپت لگاتے ہوئے بولا ۔۔
حجاب نے ایک ناراضگی بھری نظر بشر پر ڈالی اور سامنے رکھااس کا لایا ہوا کھانا ایک ہاتھ سے سائیڈ پر رکھ کر کروٹ لے کر لیٹ گئی ۔۔۔
گویا اس بات کا اعلان تھا کہ امجد ڈسٹرب نہ کیا جائے ۔۔
بشر نے ایک خاموش نظر اس کی پشت پر ڈالی ۔۔۔

اور ٹھنڈی آہ بھر کے رہ گیا ۔۔
💓💓💓💓💓
نہیں بچے تم اوپر جاؤ اپنے کمرے میں تمہیں آرام کے ساتھ ساتھ سکون کی بھی ضرورت ہے اور تم فکر کیوں کرتی ہوں میں اوپر نہیں آ سکتی تو کیا ہوا حمدان میرا پتر بہت ہوشیار ہے ۔۔۔
اماں بی کی ہوشیار کہنے پے حمدان کی آنکھوں میں شرارت ناچنے لگی ۔۔
اماں بی وہ آپکے پوتے کی ہوشیاری ہی سے تو ڈر رہی ہی۔۔

وہ آہستہ سے بولا لیکن آسرا کے کان میں پھر بھی پڑ گئی ۔۔
وہ مزید خود میں سمٹ سی گئیں ۔۔
بیٹا اسراہ کو دیکھتے رہنا تمہارا کمرہ اوپر ہی ہے اس سے ذرا فاصلے پر بس ہوشیار رہنا بچی کی طرف سے ۔۔
آپ نہیں جانتی ہوشیار تو مجھے رہنا پڑے گا یہ شخص تو کسی بھیڑیے کی طرح مجھے دبوچ کے رکھ دے گا ۔۔۔
اس نے گھبرا کر سوچا ۔۔
بیٹا میں تمہیں اپنے پاس رکھتی مگر میں رات میں لائٹ جلا کر عبادت کرتی ہوں تمہیں ڈاکٹر نے آرام کا کہا ہے او میری وجہ سے تم بے آرام ر ہو گی ۔۔

بی اماں نے رسان سے سمجھایا ۔۔
سمو چل جا تو اس کو اوپر چھوڑآ اور تھوڑا ہولے ہولے لے کے جائیں یہ نہ ہو کہ بچی چڑھتے چڑھتے ہی ہلکان ہوجائیے ۔ ۔
💓💓💓💓💓💓💓
رات میں وہ اسراء کی طبیعت پوچھنے اس کے کمرے کی طرف گیا ۔۔
وہ نماز پڑھ کے فارغ ہوئی تھی جائےنماز طے کر رہی تھی جب وہ بغیر کسی دستک کے اندر چلا گیا ۔۔

سوفہ پہ بیٹھ کر کچھ لمحے اس کے پر نور چہرے کو تکتا رہا اور پھر کہنے لگا ۔۔
کیسی طبیعت ہے اب تمہاری ؟؟
جی میں ٹھیک ہوں ۔۔
یار ڈاکٹر کہہ رہے تھے کہ تم کسی چیز سے بہت خوفزدہ ہو ۔۔
وہ اپنے لہجے کو حطا امکان دوستانہ بنا کر بولا ۔۔۔۔۔
اور پھر اٹھ کے اس کو شانوں سے پکڑ کر بیڈ پہ بٹھایا ۔۔۔
آپ۔۔۔ آپ اتنے خطرناک کام کرتے ہیں کہ میں ۔۔۔۔۔
اسرا کے منہ سے بے ساختہ نکل گیا ۔۔۔
اسراء کی یہ بات سن کر حمدان کو ہنسی آئی مگر وہ پڑی صفائ سے اس سےچھپا گیا ۔۔۔
اور بولا کہ

میں تو سوچ رہا ہوں کہ یہ خطرناک خطرناک کام آج تم پہ پورے طریقے سے آزما ہی لو ں۔ ۔۔
ممممم۔ ۔۔۔ممم میں سمجھی نہیں آپ کیا کہنا چاہتے ہیں۔۔۔
وہ اس کی بدلتے ہوئے محبت بھرے حسین تاثرات دیکھ کر دبک کر بولی ۔۔۔
یہ کہہ کر وہ آسرا کے اوپر تھوڑا جھکا ۔۔
وہ ڈر کر بیٹھ کے سرہانے سے جا لگی ۔۔
کیا ہوا !؟؟؟؟
حمدان نیں تھوڑا اور جھک کر سائیڈ ٹیبل سے اپنی سگریٹ اٹھا کر سلگائی اور ایک کش لے کر دھنواں پورا اس کے منہ پر چھوڑ دیا ۔۔
دور کریں پلیز اس کو مجھ سے ۔۔
وہ زور زور سے کھانستے ہوئے بولی ۔۔۔

اور اگر آج اس کو بھی نہ ہٹائوں اور خود بھی نہ ہٹوں تو ؟؟؟؟؟
یہ کہہ کر اس نے آسرا کا دوپٹہ اتار کر سائیڈ پر رکھ دیا ۔۔اور ہاتھ بڑھا کر سائٹ لیمپ بجھا دیا ۔۔۔
چھ ۔۔۔چھ۔ ۔چھوڑے مجھے ۔۔۔
اسراء کی لرزتی کانپتی آواز نکلی ۔۔۔
ششششششش۔ ۔ بس بہت کرلی تم نے اپنی من مانی ۔۔
اب میں کہوں گا اور تم سنو گی بس اور یہ خاموشیاں گنگنائیں گے ۔۔۔
وہ اس کے بال کیچر سے آزاد کرتے ہوئے بولا ۔۔ 
اور پھر اسراء کی تمام مزاہمتیں اک اک کرکے دم توڑتی گئ اس نے خود کو حمدان کے رحم و کرم پہ چھوڑ دیا۔ ۔۔
اور وہ کسی نازک کلی کی طرح اس کو سینجھ سینجھ کے اپنی محبت کی پھوار برسا چلا گیا۔ ۔۔

💕💕💕💕💕💕
اگلے دن صبح۔ ۔۔۔ ۔
بی اماں حمدان اور اسره نظر نہیں آرہے ۔۔

بیٹا اسرا تو بیمار اسلئے شاید اٹھی نہیں ہے ۔۔
اور حمدان مجھے دکھا ہی نہیں شاید کہیں چلا گیا ہو۔ ۔۔
حجاب کو نہیں ۔لَآ یے۔۔؟؟؟
بی امّا لاونگا ابھی تو بس اسراء کو لینے آیا ہوں۔ ۔۔

💕💕💕💕💕 
جاری ہے۔ ۔۔🌷
۔۔

0 comments:

Post a Comment